تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     23-12-2023

نیل اور سبز کے بیچ

بلتستان جانے سے پہلے باقی بلتستان دیکھنے کی خواہش ایک طرف اور دیوسائی کا حسن دیکھنے کی آرزو دوسری طرف۔ پلڑا دیوسائی ہی کا بھاری رہتا تھا۔ تصور نے کچھ تصویریں بنا لی تھیں اور انہیں محفوظ بھی کر لیا تھا۔ میں کبھی تصور میں ایک برفاب‘ تند‘ براق پانیوں والی ندی پر بنے رسوں کا جھولتا پُل عبور کرتا رہتا تھا یا دونوں ہاتھوں کے کوزے میں ٹھنڈے چشمے کا پانی لیے اپنا عکس دیکھتا تھا۔دیوسائی نیشنل پارک 14500فٹ کی بلندی پر ایک بڑا‘ لمبا چوڑا میدان ہے۔ کتنا بڑا؟ بس یہ سمجھ لیجئے کہ 3ہزار مربع کلو میٹر لمبا چوڑا ایک بہت بڑا پلیٹو۔ اس اونچائی اور رقبے میں اگر کوئی دوسرا میدان اس کی ہمسری کرتا ہے تو وہ تبت کا ''چینگ ٹینگ‘‘ پلیٹو ہے۔ جولائی کے وسط سے اگست کے شروع تک ایسے رنگ برنگ جنگلی پھول اور بوٹیاں کھل اٹھتے ہیں کہ بس یہاں سے وہاں تک حدِ نظر میدان بھر جاتے ہیں۔ یہاں دیوسائی کے کوہ دمن صرف لالہ نہیں بلکہ اَن گنت رنگوں اور قسموں کے پھول سے جگمگا اٹھتے ہیں۔ دیوسائی کے تین راستے ہیں۔ شمال کی طرف سے سکردو سے‘ جنوب مشرق میں گلتری سیکٹر سے اور مغرب میں استور کی طرف سے دیوسائی پہنچا جا سکتا ہے۔ دیوسائی میں جنگلی حیات بھی بڑی نایاب ہے۔ بھورے ریچھ‘ ہمالین آئی بیکس (پہاڑی بکرا)‘ سرخ لومڑی‘ سنہرا مرموٹ‘ سرمئی بھیڑیا‘ لداخ اڑیال اور برفانی چیتا شامل ہیں۔ اسی طرح سنہرا عقاب‘ باز‘ شکرا وغیرہ بھی یہاں کی خصوصیت ہیں۔
ایک خوبصورت اتوار کی صبح آٹھ بجے ہم روانگی کے لیے تیار تھے۔ گاڑی کا پٹرول ٹینک فل کروا لیا تھا کیوں کہ راستے میں پٹرول کہیں نہیں مل سکتا تھا۔ گھٹاؤں اور بادلوں والا موسم تھا اور دوپہر تین بجے کے بعد بارش کی پیش گوئی تھی۔ دوپہر کیلئے آلو بھرے پراٹھے اچار اور چٹنیوں کیساتھ رکھ لیے گئے تھے یعنی تیاری بھرپور تھی۔ ست پارہ جھیل کے سبز پانیوں سے ایک بار پھر گزر کر آگے بڑھے تو ست پارہ گاؤں آگیا۔ ست پارہ گاؤں تک سڑک دریا اور نالے سے ذرا ہی بلندی پر ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ یہ گاؤں دیوسائی سے پہلے آخری آبادی ہے‘ اس کے بعد سڑک پہاڑ کے ساتھ ساتھ بلند ہوتی جاتی ہے۔ ذرا ہی دیر کے بعد وہ بیرئیر چوکی آجاتی ہے جہاں سے دیوسائی نیشنل پارک شروع ہوتا ہے۔ نیشنل پارک میں کسی بھی قسم کی رہائشی تجارتی تعمیر یا سڑک اور راستے بنانا ممنوع ہے۔ یہاں سے مسلسل چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ اس کچے پکے پتھریلے اور ناہموار راستے کو بہت مبالغے کیساتھ ہی سڑک کہنا ممکن ہے۔ اس تنگ‘ پتھریلی خطرناک چڑھائی پر جیپ یا فور ویلر ہی موزوں ہیں اور ساری چڑھائی نہایت خوبصورت منظر رکھتی ہے۔ کافی نیچے شور مچاتا جھاگ اڑاتا پہاڑی دریا‘ مٹی سے ڈھک چکی گزشتہ برف اور اس کے درمیان سے بہتا پانی‘ پتھریلے لیکن سبز پہاڑ‘ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ اور دیوسائی کی بلندیوں سے لوٹتے بکروال چرواہے‘ پھولوں سے بھری جنگلی جھاڑیاں جن میں سیاچین نامی جھاڑی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے‘ ہم گزرتے جاتے تھے اور یہ نقش ذہن پر ثبت ہوتے جاتے تھے۔ گھنٹہ بھر منہ زور چڑھائی کے بعد آخری موڑ آیا جس کے ساتھ ہی ایک کھلا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ دائیں بائیں دو ٹیلوں کے درمیان سے راستہ جیسے دیوسائی کا بغیر پٹ کے دروازہ تھا۔ ساتھ ایک خیر مقدمی بورڈ لگا ہوا تھا۔ ہم گاڑی سے ٹھنڈی ہوا میں سانس لینے اور کچھ تصویریں بنانے کیلئے اترے اور پھر دوبارہ چل پڑے۔ یہ ایک یادگار اور خوش کن تجربہ تھا جو راستوں اور منظروں کیساتھ دل میں جگمگ کرتا رہے گا۔
دیوسائی میدان حیرت انگیز حد تک خوبصورت ہے۔ ایک بات تو یہ ذہن میں رکھیں کہ چونکہ14500فٹ بلند یہ سطح مرتفع درختوں کی آخری حد (treeline) سے اوپر ہے اس لیے کہیں کوئی درخت تو کیا جھاڑی بھی نہیں۔ اس لیے میدان میں نظر کے سامنے کوئی رکاوٹ بھی نہیں بنتی۔ میدان کے لفظ سے اگر آپ کے ذہن میں ایک مسطح چپٹا ہموار میدان آجائے‘ جس میں کوئی پہاڑیاں نہ ہوں تو یہ غلط تصویر ہو گی۔ یہ اونچی نیچی بہت کھلی غیر ہموار چراگاہیں ہیں جس میں بہت سی پہاڑیاں موجود ہیں۔ یہ الگ بات کہ یہ پہاڑیاں بہت حسین مدوّر پہاڑی ڈھلانیں ہیں۔ جگہ جگہ پہاڑیوں سے چشمے جھرنے پھوٹ رہے ہیں اور پگھلتی برف کا پانی درمیان کی اونچی نیچی بلندیوں اور میدانوں میں کہیں آبشار‘ کہیں آب جو‘ کہیں ندی اور کہیں دریا کی صورت میں بہہ رہا ہے۔ یہ دریا کہیں کہیں دو تین چار شاخوں میں بٹ کر گھاس اور پھولوں بھرے میدانوں کو مزید شاداب کرتا ہے۔ جہاں جہاں اس پگھلتے‘ اُترتے اور بہتے پانی کو نشیب کا ایک بڑا پیالہ مل گیا وہاں اس نے جھیل بنا لی۔ چنانچہ دیو سائی میں کئی چھوٹی بڑی جھیلیں موجود ہیں۔ دائیں بائیں رنگ رنگ کے لاکھوں جنگلی پھول ہیں۔ لمبی گھاس‘ جس پر پاؤں رکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ اس کی جڑوں میں سرسراتا پانی بہہ رہا ہے۔ دور اور نزدیک برف پوش پہاڑ‘ ہر موڑ پر بدلتے منظر اور ڈھلوانوں اور میدانوں کے درمیان وہ کچا رستہ جس پر آپ کی گاڑی چل رہی ہے۔ اور پورے راستے میں نہ کوئی ہوٹل‘ نہ کوئی عمارت اور نہ کوئی چوکی۔ بس حد نظر تک سیراب‘ امنڈتی چراگاہیں۔ کالا پانی‘ شتونگ نالہ‘ چھوٹا پانی اور بڑا پانی۔ ہر جگہ بس اپنے پاس ٹھہرجانے کا تقاضا کرتی ہے۔
بڑا پانی پر رسوں کا وہ متروک پل ابھی موجود ہے جو دیوسائی کے حوالے سے ہمیشہ کیلنڈرز اور نمائندہ البم کی زینت بنتا تھا اور یہیں بڑا پانی پر ایک ٹینٹ ہوٹل بھی موجود ہے جہاں کچھ کھانے پینے کی چیزیں مل جاتی ہیں۔ لیکن ہمیں تو شیوسر جھیل پہنچنا تھا جو یہاں سے لگ بھگ 40منٹ کے فاصلے پر تھی۔ ہم چلتے رہے۔ موسم خوبصورت تھا‘ ہلکی بوندا باندی نے اس جگہ کے حسن میں اضافہ کر دیا تھا۔ ہم سب شیوسر جھیل کی پہلی جھلک دیکھنے کیلئے بے تاب تھے لیکن حسن اتنی آسانی سے رسائی کہاں دیتا ہے۔ بالآخر ایک ٹیلہ چڑھتے ہی نیلے پانی کی ایک جھلک دکھائی دی اور رفتہ رفتہ یہ حسن بے حجاب سامنے آتا گیا۔ یہ بے حجاب حسن اتنا خوبصورت ہے کہ اسے بجا طور پر دیوسائی کا دل کہتے ہیں۔شیوسر جھیل بے حد حسین ہے۔ کتنی حسین؟ یہ لفظوں میں بتانا مشکل ہے۔ دراصل ارد گرد کا منظر جھیل کے اپنے منظر میں شامل ہوکر اسے ایک بے مثال نظارہ بنا دیتا ہے۔ پیالہ نما مکمل جھیل ایک ہی نظارے کی مکمل گرفت میں سمائی‘ جھیل کے ایک طرف لمبائی کے رُخ گزرتا کچا راستہ‘ مختلف سمتوں سے آکر جھیل میں ضم ہوتے چاندی جیسے پانی کے دھارے اور خود اس جگہ کا سکون اور سکوت سب مل کر اس کو لازوال بنا دیتے ہیں۔ہم یہاں اس وقت پہنچے جب بارش تیز ہو چکی تھی اور سردی بھی بہت تھی۔ جھیل سے کچھ دور گاڑی روکی اور پیدل اس کے قرب کو محسوس کرنے روانہ ہوئے۔ جھیل کی طرف ڈھلوان اترائی تھی۔ بارش سے بچنے کی نہ کوئی آڑ تھی نہ کوئی رکاوٹ۔ جو بچنا چاہے اس کیلئے یہی ممکن تھا کہ وہ گاڑی میں بیٹھا رہے۔ اور اتنی دور آکر یہ گوارا نہیں تھا۔ ہم نے جھیل کے ساتھ کافی وقت گزارا‘ تصویریں بنائیں۔ جھیل کو ہر زاویے سے دیکھنے کا شوق ہمیں آگے اس راستے پر لے گیا جو چلم اور منی مرگ کی طرف جاتا ہے۔ واپسی کو دل نہیں چاہتا تھا لیکن بھوک لگنی بھی شروع ہو چکی تھی‘ وقت میں زیادہ گنجائش بھی نہیں تھی اور گھر تو بہرحال واپس جانا تھا۔
تو یاد رکھیں جب آپ کو بھوک لگ چکی ہو‘ گاڑی کے باہر بارش ہو‘ رکنے کی کوئی جگہ نہ ہو‘ بڑا پانی کے ٹینٹ ہوٹل پہنچنے کا انتظار ہو اور بڑا پانی آ ہی نہ رہا ہو تو ایسے میں آلو بھرے پراٹھے اور چٹنی اور اچار نکال کر چلتی گاڑی میں کھا لینے میں کچھ بھی حرج نہیں ہے۔ بڑا پانی کے ٹینٹ ہوٹل میں آپ پراٹھوں کے باقی نصف سے شکم سیر ی کر سکتے ہیں اور قہوے سے بُجھتا بدن روشن کر سکتے ہیں۔ اس دن واپسی پر اک ذرا گردن جھکائی اور دل کے آئینے میں تصویرِ یار دیکھی تو پتہ چلا کہ تصور کی تمام تصویریں غائب ہو چکی تھیں اور ان کی جگہ ان سے زیادہ حسین تصویروں نے لے لی تھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved