تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     11-01-2024

سبز باغ

''سبز باغ دکھانا‘‘ کے معنی ہیں: ''جھوٹے وعدے سے بہلانا پھُسلانا، جھوٹی امیدیں دلانا، فریب دینا، دھوکا دینا، حسین خواب دکھانا‘‘ وغیرہ۔ پاکستان میں 8 فروری کو قومی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اسے ''پتھر کی لکیر‘‘ قرار دیا ہے، اگرچہ اس کے بارے میں بعض لوگ اب بھی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ انتخابات منعقد ہو جائیں گے، یہ الگ بات ہے کہ ان انتخابات کی ثقاہت اور وقار و اعتبار قائم رہے گا یا حسبِ معمول انہیں بھی متنازع اور دھاندلی زدہ قرار دیا جائے گا۔ یہ بات درست ہے کہ ملک میں اب تک انتخاب کی فضا بن نہیں پا رہی، غیر یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ قومی انتخابات کے موقع پر سیاسی جماعتیں روایتی طور پر اپنا منشور پیش کرتی ہیں اور اُس میں سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، مستقبل کی بابت حسین اور خوشگوار منظر پیش کیا جاتا ہے، لیکن کسی بھی جماعت کی حکومت قائم ہونے کے بعد یہ سب سَراب ثابت ہوتا ہے اور قوم اس کی عادی ہو چکی ہے۔ یہ بھی وعدۂ محبوب کی طرح ہوتا ہے۔ غالبؔ نے کہا ہے:
ترے وعدے پر جیے ہم، تو یہ جان، جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے، اگر اعتبار ہوتا
مفہومی ترجمہ: ''غالب اپنے محبوب کو مخاطَب کر کے کہتا ہے: ترے وعدۂ وَصل پر ہم جی رہے ہیں، تو جان لو کہ اسے ہم جھوٹ سمجھ رہے ہیں، اگر تمہارے وعدۂ وصل پر ہمیں اعتبار ہوتا تو شادیِ مرگ سے دوچار نہ ہو جاتے‘‘۔
الیکشن کمیشن میں ایک سیل ہونا چاہیے جو مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور کا جائزہ لے اور انہیں پابند کرے کہ مجرّد وعدے کرنے کے بجائے اپنے منشور کی عملی صورت گری پیش کرو کہ ان وعدوں پر کیسے عمل کیا جائے گا اور اس کے لیے وسائل کہاں سے آئیں گے۔ جب ہماری سیاست کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی جائے‘ تو اس سے خیر کیسے برآمد ہوگی۔ ابھی باقی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور آنے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی کے چیئرمین جنابِ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کی برسی کے موقع پر اپنا منشور پیش کرتے ہوئے کہا:
''(1) پانچ سال میں تنخواہیں دگنی کریں گے، (2) غریب طبقے کے لیے تین سو یونٹ سولر انرجی کا انتظام کریں گے، (3) یکساں معیاری تعلیم کے منصوبے پیش کریں گے، (4) پورے پاکستان میں صحت کا مفت نظام قائم کریں گے، (5) سیلاب متاثرین کو مالکانہ بنیاد پر تیس لاکھ گھر بنا کر دیں گے اور کچی آبادیوں کے مکینوں کو مالکانہ حقوق دیں گے، (6) غریب عوام کو بینظیر انکم سپورٹ کے طرز پر مدد فراہم کریں گے، (7) کسان کارڈ کا اجرا کریں گے، (8) ملک بھر کے تمام مزدوروں کے لیے بینظیر انکم سپورٹ کارڈ متعارف کیا جائے گا، (9) نوجوانوں کو یوتھ کارڈ کے ذریعے مدد فراہم کی جائے گی، (10) تمام ڈویژنوں میں یوتھ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا‘‘۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ وعدے حسین خواب کی طرح ہیں، دلکش و دلربا ہیں، لیکن یہ اس سیاسی جماعت کی طرف سے پیش کیے جا رہے ہیں جو پندرہ سال سے صوبۂ سندھ پر مسلسل بلاشرکتِ غیرے حاکم ہے اور وفاق پر بھی ماضی قریب میں پانچ سال حکومت کر چکی ہے، اس لیے ہم یہ فرض نہیں کرسکتے کہ انہیں ملک کے مالی وسائل کا علم نہیں ہے۔ رواں مالی سال کے قومی میزانیے میں بھی مجموعی آمدنی اور اخراجات میں پانچ ہزار ارب روپے کا خلا ہے اور یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ خلا کیسے اور کہاں سے پُر ہو گا، ماسوا اس کے کہ مزید داخلی اور خارجی قرض لیے جائیں گے اور اس طرح قومی قرض کا بوجھ گھٹنے کے بجائے بڑھتا چلا جائے گا۔ اسی طرح اگر تھوڑی دیر کے لیے ہم فرض کر لیں کہ پیپلز پارٹی کے منشور پر لفظاً اور معناً عمل کیا جائے گا، تو انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ یہ وسائل کہاں سے آئیں گے، یہی مسئلہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھر بنا کر دینے کا تھا۔ اس پر کبھی عمل ہوا اور نہ ملکی وسائل کے اندر رہتے ہوئے ایسا ہو سکتا تھا، اسی طرح باہر سے دو سو ارب ڈالر لا کر سب اندرونی و بیرونی قرضے چکا دینے کا وعدہ تھا، جو کبھی وفا ہوا اور نہ ایسا ہو سکتا تھا۔
اسی طرح جماعتِ اسلامی نے اپنے بھی اپنے چودہ نکاتی منشور کا اعلان کیا ہے، اس میں کچھ نکات تو اسلامی امور سے متعلق ہیں، ان کا تعلق ایسے عزمِ صمیم کے ساتھ ہے جو مصلحتوں سے بالاتر ہو، لیکن پرویز مشرف کا عطا کردہ آزاد اور لبرل الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اس میڈیا نے آخرکار خود پرویز مشرف کو بھی دن میں تارے دکھا دیے تھے۔ باقی نکات میں پچاس نئی یونیورسٹیوں کا قیام، تعلیم پر جی ڈی پی کا پانچ فیصد خرچ کرنا، پچاس لاکھ نوجوانوں کو بلاسود کاروباری قرض دینا، پوری قوم کے لیے مہلک امراض کا مفت علاج، صحت کے بجٹ میں پچاس فیصد اضافہ، ہائی ویز اور موٹرویز پر بالترتیب ہر پچاس کلومیٹر اور ہر انٹر چینج پر ٹراما سنٹر اور ایمرجنسی ہیلتھ ہیلی کاپٹر سروس کی فراہمی، بوڑھوں کے لیے نقد ماہانہ وظیفہ، دس لاکھ کسانوں کو سولر ٹیوب ویل فراہم کرنا اور پچاس لاکھ مستحق گھروں کو سولرکٹ سستی اور قسطوں پر فراہم کرنا، ہر مستحق خاندان کو سو یونٹ بجلی مفت دینا، یوٹیلیٹی بلوں پر ٹیکس میں بیس فیصد کمی اور جی ایس ٹی صرف پانچ فیصد تک رکھنے کے وعدے شامل ہیں، یعنی محصولات کم ہوں گی اور مصارف زیادہ ہوں گے، وسائل کہاں سے آئیں گے، ذرائع نامعلوم ہیں۔
ٹی ایل پی کا 25 نکاتی منشور بھی نظر سے گزرا، اس میں بھی اسلامی اور تہذیبی امور سے متعلق باتیں نظریاتی ہیں اور دینی اور مسلکی سیاسی جماعت کے لیے ان سے گریز ممکن نہیں ہے، کیونکہ اس جماعت کا قیام ہی ان امور پر ہوا ہے۔ فوج کو جدید ٹیکنالوجی کے حامل اسلحے سے لیس کرنا، اندرونی اور بیرونی قرضوں کا خاتمہ اور اخراجات کو آمدنی کے مطابق کرنے کا وعدہ بڑا دلکش ہے، لیکن یہ کیسے ہو گا، حکمتِ عملی نامعلوم ہے، کیونکہ ہمارے ہاں سال بہ سال مجموعی قومی آمدنی اور اخراجات کے درمیان خلا بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں، حتیٰ کہ عام طور پر متوقع آمدن ہدف سے کم ہوتی ہے اور متوقع اخراجات مقررہ حد سے بڑھ جاتے ہیں، نیز بجلی، گیس اور پانی یعنی بنیادی ضروریات کو سستا کرنے کا وعدہ بھی شامل ہے، ہم یہی کہہ سکتے ہیں: ''تری آواز مکے اور مدینے‘‘۔ ایم کیو ایم نے اپنے منشور میں ایسی آئینی ترمیم کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت مالی وسائل وفاق سے براہِ راست مقامی حکومتوں کو منتقل ہوں گے، لیکن اس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے، وہ کہاں سے آئے گی۔
اسی لیے رسول اللہﷺ نے صدق، امانت، دیانت اور ایفائے عہد کو مومن کی پہچان قرار دیا ہے اور منافق کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا: ''منافق کی نشانیاں تین ہیں: (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، (2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، (3) جب اُسے امین بنایا جائے تو خیانت کرے‘‘ (صحیح بخاری: 6095)، نیز آپﷺ نے دوسری حدیث میں دو اور باتوں کا اضافہ فرمایا: ''(1) جب معاہدہ کرے تو دھوکا دے، (2) جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے اور حد سے تجاوز کرے‘‘ (بخاری: 34)۔ یہاں کسی خاص سیاسی جماعت کو ہدف بنانا مقصود نہیں ہے، بلکہ مجموعی قومی کردار کی تصویر کشی مقصود ہے کہ ہمیں جھوٹ بولتے ہوئے یا جھوٹا وعدہ کرتے ہوئے یا امانت میں خیانت کرتے ہوئے یا معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حیا نہیں آتی، جبکہ حدیث پاک میں ہے: ''رسول اللہﷺ سے سوال ہوا: (یا رسول اللہﷺ!) کیا مومن بزدل ہو سکتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ہاں! (ایسا ہو سکتا ہے)، پھر سوال ہوا: کیا مومن بخیل ہو سکتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ہاں! (ایسا ہو سکتا ہے)، پھر آپﷺ سے سوال ہوا: کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: نہیں! (ایسا نہیں ہو سکتا)، (موطا امام مالک: 3630)۔
اسی طرح ہم میڈیا پر اقتصادی ماہرین کے تبصرے سنتے ہیں، وہ قومی معیشت کے مسائل کو تو بیان کرتے ہیں، یعنی مرض کی نشاندہی تو کرتے ہیں، لیکن کوئی نسخۂ شفا اُن کے پاس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی اقتصادی مہارت کا دعویدار ہمارے ہاں وزارتِ خزانہ کے منصب پر فائز ہوتا ہے، تو اس کا پہلا ماہرانہ نسخہ آئی ایم ایف کے پاس جانا اور اس کی عائد کردہ شرائط کو بلاچون و چرا تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم عالمی ساہوکاروں کے قرضوں کی گہرائی میں دھنستے چلے جاتے ہیں، حال ہی میں موجودہ نگراں حکومت کے دور میں تقریباً دو کھرب روپے کے ٹریژری بل نیلام کیے گئے ہیں اور ان پر اکیس فیصد سے زیادہ سود ادا کیا گیا ہے۔ اسی طرح تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے کے صکوک منجمد اثاثوں پر جاری کیے گئے ہیں، حالانکہ ہم بار ہا یہ تجویز دے چکے ہیں: صکوک نئے قائم ہونے والے صنعتی منصوبوں کے لیے جاری کیے جائیں، جن سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں اور حکومت کے خزانے میں مختلف ٹیکسوں کی مد میں وسائل بھی آئیں۔
الغرض ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر حقیقت پسند نہیں ہیں، ہوائی محلّات تعمیر کرنے کے عادی ہیں، ایفائے عہد کی اہمیت کا ہمیں احساس نہیں ہے۔ بلند بانگ دعوے کرنا ہماری عادت بن چکی ہے، قول و فعل میں تضاد پر ہمیں کوئی نَدامت نہیں ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''اے ایمان والو! تم ایسی باتیں کہتے کیوں ہو جن پر تم خود عمل نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ بات کہو، جو تم خود نہیں کرتے‘‘ (الصف: 2 تا 3)۔ جو سیاسی جماعتیں ماضی قریب میں حکومت میں رہ چکی ہیں، انہیں حکومت کے مسائل و وسائل کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے، کوئی چیز اُن کی نظروں سے مخفی نہیں ہوتی، داخلی اور خارجی ملکی اور قومی قرضوں کا بھی انہیں علم ہوتا ہے۔ لیکن جو جماعتیں کبھی اقتدار میں نہیں رہیں، حکومت کو چاہیے کہ وزارتِ خزانہ میں اُن کی منشور کمیٹی کے لیے بریفنگ کا انتظام کرے، ملک کی اقتصادی صورتِ حال کے بارے میں انہیں آگاہ کرے، ان کے سامنے حقیقی تصویر پیش کرے تاکہ وہ حقائق کا ادراک کر کے ان کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کریں، قوم کے سامنے سچ بولنے کی عادت ڈالیں اور منشور میں جو وعدے کریں، ان کے ایفا کی حکمتِ عملی بھی ان کے منشور میں شامل ہو اور قوم بھی سچ سننے اور حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہونے کی عادی ہو، ورنہ یہ کچھ خواب اور سَراب ہی ثابت ہوگاکہ خواب میں جنت کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے اور بیدار ہوتے ہی دیکھا: آگے جہنم کا گڑھا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved