تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     15-10-2013

کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد

بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ مولانا محمد علی جوہر کہا کرتے : اخبار نویسی میں المیہ یہ ہے کہ بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ گیرد مختصر گیرد اتوار کی شام ایک ممتاز مغربی اخبار نویس نے سوال کیا : کیا پاکستان کو ایک نئے لیڈر کی ضرورت نہیں ؟ عرض کیا: میرا خیال ہے کہ یقینا ، ایک نئی پارٹی اور نئے لیڈر کی ؛تاہم میاں محمد نواز شریف کو حکومت اور عمران خان کو اصلاحِ احوال کا موقعہ دینا ہوگا۔ اس نے کہا: ملالہ یوسف زئی وہ لیڈر ہو سکتی ہے ۔ گزارش کی کہ میری زندگی کا ایک طویل عرصہ اس موضوع پر غور کرتے گزرا ہے ۔ ا س کے باوجود نہ صرف مجھ سے ایک بہت بڑی غلطی سرزد ہوئی بلکہ پروفیسر احمد رفیق اختر جیسے بے مثال مدبّر سے بھی ۔ آپ کے دعوے کی بنیاد کیا ہے ؟ جواب ملا: میں نے تو مغرب کے نقطہ نظر سے بات کی ہے ۔ پھر خاموشی اختیار کر لی کہ یہی زیبا تھی ۔ ملالہ یوسف زئی ایک مظلوم بچی ہے ۔ اگر کسی کو اس پر ہونے والے ظلم کا احساس نہیں تو اس کے سینے میں دل ہے اور نہ سر میں دماغ۔ علم سے اس کا سر خالی ہے لیکن قیادت؟ فقط اس کے اور مغرب کے مطالبے پر ؟ سبحان اللہ ، سبحان اللہ۔ کیا یہ بہت قبل از وقت نہیں ؟ ابھی تو خود اسے سیکھنا ہے کہ وہ خود کیا ہے ، انسان کیا ہے اور زندگی کیا۔ ابھی وہ دن نہیں آیا ، جب یہ رمز اس پر کھلے ، جو تاریخ کے افضل ترین انسان ﷺ نے بیان کی تھی : جو کام اللہ بندے سے لینا چاہتاہے ، وہ اس کے لیے سہل کر دیتاہے ۔ انسانی احساسات کی تجارت کرنے و الے اپنا کام جاری رکھیں ۔ا س قدر نازک معاملات پر فیصلے ٹی وی مذاکروں میں نہیں ہوتے ۔ موضوع دوسرا تھا ۔ کاکول اکیڈمی میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کا خطاب۔ یہ فقط ان کی الوداعی تقریر نہیں ۔ آزاد ہوتے ہوئے ایک آدمی کی ، جو اب زیادہ کھل کر بات کر سکتاہے ۔ تمام تر قوت و حشمت کے باوجود بہرحال وہ ایک سرکاری افسر بھی ہے ۔ یہ پاکستانی آرمی کے سربراہ کا نقطہ نظر ہے ،فوج میں ، جس کی حیثیت اب ایک معتبر استاد کی ہے ۔ اگر اپنے اس کردار کا وہ ادراک کر سکے تو کوئی بھی نئی سرکاری ملازمت وہ قبول نہ کریں گے، خواہ کتنی ہی پرکشش ہو ۔ اگر وہ کرتے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ شرائط کیا ہیں اور کن عوامل کے درمیان وہ بروئے کار آئیں گے ۔ ملک کا حال یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے گورنریاسین انور کے مطابق صرف کراچی‘اسلام آباد‘ کوئٹہ اور لاہور سے روزانہ 25ملین ڈالر بیرون ملک بھیج دئیے جاتے ہیں ۔ایف آئی اے ابھی متحرک نہیں کی جا سکی۔ ٹیکس وصولی کی شرح جی ڈی پی کے9.1فیصد سے گر کے 8.5 ہو گئی ۔ دہشت گردی الگ موضوع ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف کراچی اور بلوچستان بلکہ پختون خوا اور قبائلی علاقوں کی صورتِ حال بھی واضح ہو تی جا رہی ہے ۔ بعض اعتبار سے مرکزی حکومت کا دائرہ کار فقط اسلام آباد اور پنجاب تک محدود ہے ۔ کیا ان علاقوں میں امن و امان ، دوسرے الفاظ میں پولیس کو بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش اب تک ہوئی ہے ؟ چار سو سال پرانے پٹوار کے نظام سے نجات پانے کی ؟ میاں محمد شہبا ز شریف کا نسخہ یہ ہے کہ کام تو اتنا ہی کیا جائے، جتنی مجبوری ہو ، ڈھنڈورامگر اس قدر کہ اکثریت یقین کر لے ۔ ان کے بڑے بھائی 28برس سے ہمیں بتا رہے ہیں کہ وہ ہماری تقدیر بدل دیں گے ۔ادھرو میاں محمد شہباز شریف عملاً یہ کہتے ہیں کہ ان کی جیب میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ وہ ایک ایسے طبیب کی مانند ہیں ،، جو ہر مریض کو شفایاب کرنے کا دعویٰ کرے ۔ دعویٰ باطل ہوتاہے اور ایسے لوگ ہی مستقل طور پر یہ مشق جاری رکھ سکتے ہیں ، جنہوںنے ابرہام لنکن کے قول پر کبھی غور نہ کیا ہو : کچھ لوگوں کو آپ ہمیشہ کے لیے احمق بنا سکتے ہیں، سب کو کچھ دن کے لیے ۔ سبھی کو ہمیشہ کے لیے ہرگز نہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اب مرکز میں نائب وزیر اعظم کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں ، حمزہ شہباز پنجاب میں ڈپٹی چیف منسٹر کا۔ حکمرانی کے اس انداز کا مطلب کیا ہے ؟ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں وزیراعظم کی بدن بولی کیا کہتی ہے ؟’’تم اختلاف نہیں کر سکتے ، پالیسیوں کی تشکیل تمہارا کام نہیں‘‘وزرا شکایت کر تے ہیں کہ اختلاف کی صورت میں سیکرٹریوں کی بات مانی جاتی ہے ، ان کی نہیں ؛حتیٰ کہ انہیں ذاتی سٹاف چننے کا اختیار بھی نہیں ۔ وزیراعظم کے چار مشیروں میں سے تین کا تعلق افسر شاہی سے تھا ، صرف ثنا ء اللہ زہری کا تعلق بلوچستان سے۔ یہ تالیفِ قلب ہے کہ وہ وزارتِ اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تھے مگر بنائے نہ جا سکے ۔ پانچویں کا تقرر آج ہو رہا۔ متاز بھٹوکے فرزند کا وگرنہ وہ پارٹی چھوڑ کر چلے جاتے ۔ عمران خان کا موقف درست ہے کہ ان کی پارٹی کو صوبے کی کارکردگی پر جانچا جائے۔ یہ مگر آدھی بات ہے ۔ باقی آدھی یہ کہ کیا وہ پارٹی کی تنظیمِ نو کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اگلی بار بھی یہی ہوگا کہ ووٹ تو ان کے 2کروڑ ہوں گے مگر حاصل وہ 70لاکھ ہی کر پائیں گے۔ اس سے پہلے شاید ایک نئی سیاسی پارٹی وجو دمیں آجائے ۔ اس لیے کہ خلا باقی نہیں رہتا اگرباقی رہے تو اندیشہ ہوتاہے کہ بھوک، بے روزگاری اور بد امنی کے ستائے ہوئے لوگ فوجی اقتدار قبول کرنے پر آمادہ ہوں گے ۔ عمران خان وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ پارٹی کی تشکیلِ نو کے سوا ان کے لیے کوئی چارہ نہیں ۔ وگرنہ لازماًایک اور سیاسی جماعت وجود میں آئے گی ، سینکڑوں جس کے لیے سرگرم ہیں ۔ مجھ ایسے لوگوں نے انہیں روک رکھا ہے کہ اللہ کے بندو اسے مہلت دو ، اتمامِ حجت لازم ہے ۔ مالی طور پر دیانت دار اور پرعزم آدمی کی قیادت میں پہلے سے موجود پارٹی کی اصلاح نئی جماعت بنانے سے کہیں زیادہ آسان ہے ؛اگرچہ فیصلہ خود اسے کرنا ہے۔ دوسرے لوگ اس باب میں ،اس شخص کی کوئی خاص مدد نہیں کر سکتے جو اس گمان میں مبتلا ہے کہ وہ اللہ کا خاص بند ہ ہے اور ناکام ہو سکتا ہی نہیں ۔ اللہ کے خاص بندے بھی ہوتے ہیں مگر وہ اس گمان میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے ۔ا نہیں ادراک ہوتاہے کہ قدرتِ کاملہ کے قوانین کبھی نہیں بدلتے؛حتیٰ کہ پیغمبرانِ عظامؑ پر بھی اسی قوت کے ساتھ نافذ ہوتے ہیں۔ جنرل کیانی بیچ ہی میں رہ گئے ، جنہوںنے یاد دلایا ہے کہ نظریہ ء پاکستان بھی کوئی چیز ہے اور پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔ جنہوںنے اپنے جانشین سے یہ کہا کہ جمہوریت ہی استحکام کا واحد راستہ ہے ۔ پورے یقین سے جنہوں نے اعلان کیا کہ اگر چہ مذاکرات خلوصِ دل سے کرنا چاہئیں مگر کمزور پوزیشن میں ہرگز نہیں ۔ ماضی پرست کٹھ ملّا اور مغرب نواز بے یقین کو جنہوںنے پیغام دیا ہے کہ قائد اعظم کا اسلوب ہی بہترین اور واحد قابلِ عمل اسلوب ہے ، اعتدال کی راہ ۔ان کے خطاب پر تفصیل سے بات انشاء اللہ کل ہوگی ۔ بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ مولانا محمد علی جوہر کہا کرتے : اخبار نویسی میں المیہ یہ ہے کہ بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ گیرد مختصر گیرد

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved