تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     16-01-2024

نئے میثاق کے بغیر الیکشن

تحریک انصاف اپنے انتخابی نشان بلّے سے محروم ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار مختلف انتخابی نشانوں کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیں گے۔ بلّے کے نشان سے متعلق کیس کے دو پہلو ہیں۔ ایک قانونی اور دوسرا سیاسی۔ پی ٹی آئی وکلا نے سیاسی و اخلاقی پہلوؤں پر توجہ دی۔ ظاہر ہے کہ معزز جج صاحبان آئین و قانون کے پابند ہیں‘ سو سپریم کورٹ جب اس نتیجے پر پہنچی کہ پی ٹی آئی اپنے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کے انعقاد میں ناکام رہی ہے اور الیکشن کمیشن کی بدنیتی بھی ثابت نہیں ہو سکی تو پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ الیکشن سے محض چند روز قبل یہ فیصلہ پی ٹی آئی کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ دوسرا پہلو سیاسی و اخلاقی ہے۔ کیا سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کیلئے یہ ممکن ہے کہ وہ قانونی پہلوؤں کو نظر انداز کرکے سیاسی و اخلاقی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ دیں؟ مثلاً یہ کہ فلاں شخص یا جماعت عوام میں مقبول ہے لہٰذا اس کے خلاف فیصلے میں نرمی اختیار کر لی جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ بلے کا نشان چھن جانے سے عوامی حلقوں میں پی ٹی آئی کیلئے نرم گوشہ پیدا ہوا ہے‘ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے امیدوار جب آزاد حیثیت سے انتخابی مہم شروع کریں گے تو اس بات کا برملا اظہار کریں گے کہ جب ان کے پاس پارٹی کا نشان ہی نہیں ہے تو لیول پلینگ فیلڈ کیسی؟
پاکستان جیسے ممالک میں نظامِ انصاف سے اپنے حق میں فیصلوں کی توقع رکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن جب یہ توقعات غیرمعمولی حد تک جا پہنچیں اور فیصلہ خلافِ توقع آ جائے تو نظامِ انصاف کو مورد الزام ٹھہرانا ایک ایسا رجحان بن گیا ہے جو عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ عدالتوں کا کام ہر حال میں ان کے حق میں فیصلہ کرنا ہے‘ خواہ قانون اور ثبوت کچھ بھی کہتے ہوں۔ اس طرح وہ نظامِ انصاف سے ایسی ناقابلِ عمل توقعات وابستہ کر لیتی ہیں جن کا پورا کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ جب ان کی یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں تو وہ عدالتوں اور منصفین کے فیصلوں کو جانبدارانہ قرار دے دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قانون کی بالادستی کو بھی کمزور کرتا ہے۔اس سے ناانصافی کا خطرہ بڑھ جائے گا اور قانون سماج میں امن و انصاف قائم کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔
پی ٹی آئی انتخابی نشان سے محروم ہونے کے بعد ردِعمل کا اظہار کر رہی ہے لیکن ایک فیصلہ 2017ء میں بھی آیا تھا جسے قانونی امور کے ماہرین نے کمزور فیصلے سے تعبیر کیا تھا کیونکہ پانامہ سے شروع ہونے والا کیس اقامہ پر ختم ہوا تھا۔ نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بھی دو پہلو تھے‘ ایک قانونی اور دوسرا اخلاقی۔ اقامہ سے متعلق کوئی کیس ہی نہیں تھا لیکن اگر دورانِ تحقیقات یہ سامنے آ گیا تو اسے نظر انداز کرکے ساری توجہ پانامہ کیس پر رکھی جا سکتی تھی‘ اکثر مقدمات میں ایسا ہی ہوتا ہے‘ تاہم جب ایک کمزوری سامنے آ گئی اور قانون کے تحت اس کی سزا بھی دی جا سکتی تھی تو اس کیس کے قانونی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا اور منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ اُس وقت چونکہ پی ٹی آئی ایک پیج پر ہونے کی دعویدار تھی اور ایک دوسری سیاسی جماعت انتقام کے نشانے پر تھی تو اس کمزور فیصلے پر بھی شادیانے بجائے گئے۔
انتخابات میں ٹرن آؤٹ کا نتائج کے ساتھ گہرا تعلق ہے‘ ووٹنگ کی شرح کم یا زیادہ ہونے سے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی پچھلے دونوں انتخابات میں نوجوان اور خواتین ووٹرز کی اچھی خاصی تعداد کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوئی ۔ اب جبکہ پی ٹی آئی بلے کے نشان سے محروم ہے تو کم ٹرن آؤٹ کے امکانات ہیں جس کا نقصان پی ٹی آئی کو ہو سکتا ہے۔ ووٹرز یہ سمجھے گا کہ جس امیدوار کو وہ ووٹ دے رہا ہے‘ اگر منتخب ہونے کے بعد اس نے کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کر لی تو اس کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔ یوں ٹرن آؤٹ کم ہونے کا فائدہ دیگر سیاسی جماعتوں کو ہو گا کیونکہ ان کا ووٹر باہر نکلے گا جس کی بنیاد پر دوسری سیاسی جماعتیں اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔ ٹرن آؤٹ کو کم رکھ کر اسے ماضی میں کئی بار سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ یہ درست ہے کہ بلا چھن جانے کے بعد پی ٹی آئی کو ہمدردی کا ووٹ پڑ سکتا ہے اور قیادت پُرامید ہے‘ تاہم مخصوص نشستوں سے محرومی اور سینیٹ میں پارٹی کا نقصان ہمدردی کے ووٹ سے کہیں زیادہ ہو گا۔ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی کو ریلیف ملتا ہے یا نہیں‘ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا البتہ حالیہ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان میں مایوسی ہے۔ چند روز پہلے تک جو کہہ رہے تھے کہ بلّا نہ ہونے کی صورت میں ان کے پاس متبادل پلان موجود ہے‘ وہ بھی اب پریشان دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ پارٹی نشان کے بغیر الیکشن لڑنے کے نقصانات سے وہ آگاہ ہیں۔
الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلئے تقریباً 25 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن واٹر مارک بیلٹ پیپر چھاپے گا۔ انتخابات کیلئے تین پرنٹنگ مشینوں سے بیلٹ پیپر چھپوائے جائیں گے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن حکام نے سینیٹ سیکرٹریٹ کو ایک خط کے ذریعے ان تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے جو سینیٹ میں منظور کی جانے والی قرار داد میں اٹھائے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ماضی میں موسمِ سرما میں ہونے والے عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے صدرِ مملکت سے مشاورت کے بعد پولنگ کیلئے آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی تھی جس کی سپریم کورٹ میں بھی یقین دہانی کرائی گئی‘ اس لیے اس مرحلے پر الیکشن کمیشن کیلئے عام انتخابات کو ملتوی کرنا مناسب نہیں ہو گا۔ الیکشن کی تیاری کے حوالے سے معاملات جس حد تک آگے جا چکے ہیں ان کا واپس ہونا بہت مشکل ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن آٹھ فروری کو ہوں گے‘ تاہم یہ الیکشن کیسے ہوں گے؟ اس حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) انتخابات میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بلاول بھٹو زرداری اور پی ٹی آئی ابھی سے اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ الیکشن کے بعد بھی اگر استحکام نہیں آتا ہے تو ہم بحران سے نکل نہیں پائیں گے۔ ہم نے گزشہ کالم میں ملکی مسائل کا حل منصفانہ الیکشن بتایا تھا لیکن اس میں ایک بات مزید شامل کرنا چاہیں گے۔ الیکشن سے استحکام کی بات شاید ان معاشروں کے بارے کہی جاتی ہے جہاں جمہوری اقدار مضبوط ہوتی ہیں‘ جنہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اصلاحات کی ہیں۔ ہم نے جمہوری دور کے 75برس تو گزارے مگر جو اصلاحات درکار تھیں وہ نہ کر سکے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ معمولی نوعیت کے مسائل بھی عدالتوں کے ذریعے حل ہو رہے ہیں‘ لہٰذا جب تک سیاسی جماعتیں اور قائدین مل بیٹھ کر میثاقِ جمہوریت طرز کا کوئی نیا معاہدہ نہیں کر لیتے ہیں تب تک جتنے مرضی انتخابات کرا لیے جائیں‘ کوئی فائدہ نہ ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved