تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     18-01-2024

سرخیاں، متن اور اوکاڑا سے مسعود احمد

میری خواہش تھی الیکشن میں ''بلّا‘‘ ہوتا: شہباز شریف
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''میری خواہش تھی کہ الیکشن میں ''بلّا‘‘ ہوتا‘‘ کیونکہ بلے نے چار سال میں معیشت کا جو حال کیا ہے‘ اس دفعہ بھی کامیاب ہو کر ساری کسریں نکال لیتا اور اس کے بعد ہم آ کر معیشت کو اچھی طرح سے ٹھیک کرتے؛ اگرچہ عوام صورتحال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بلے اور ہمارے کسی مقابلے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور کچھ حاسدین کی جانب سے معیشت کی تباہی کا ذمہ دار اتحادی حکومت کو بھی ٹھہرایا جاتا ہے، حالانکہ ملکی معیشت کو بھی ذاتی معیشت کی طرح چلایا اور اس سے معیشت تباہ نہیں ہوئی ورنہ ذاتی معیشت بھی تباہ ہو چکی ہوتی لیکن اس کی ترقی کے ثبوت اندرون و بیرونِ ملک سب کو دکھائی دے رہے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے
نہیں‘ غربت اور مہنگائی سے ہے: بلاول بھٹو
سابق وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ غربت اور مہنگائی سے ہے‘‘ اس لیے کوئی سیاسی جماعت ہرگز یہ نہ سمجھے کہ ہم اس کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو شکست دینا چاہتے ہیں کیونکہ ہمارا مقابلہ براہِ راست غربت اور مہنگائی سے ہے اور ہمیشہ اسی کے خلاف لڑتے رہیں گے کیونکہ غربت اور مہنگائی بھی تاابد جاری رہنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ہم آخری دم تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے، اس لیے دیگر سیاسی جماعتیں ہماری طرف سے مکمل بے فکر ہو کر اپنی الیکشن مہم جاری رکھیں۔ آپ اگلے روز نوڈیرو میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
جس کیلئے کام کیا وہ لیڈر وزیراعظم
بن کر بدل گیا: جہانگیر ترین
استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ ''جس کیلئے کام کیا وہ لیڈر وزیراعظم بنتے ہی بدل گیا‘‘ اور شوگر بحران کے ایک معمولی سے معاملے پر آنکھیں بدل لیں حالانکہ اس سکینڈل میں دوسرے افراد شامل تھے لیکن انہوں نے اپنے پرائے میں کوئی امتیاز نہ کیا اور دونوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا اور اس لیڈر نے جو کچھ وزیراعظم بن کر ہمارے ساتھ کیا ہمیں اس کی ہرگز اُمید نہیں تھی‘ حالانکہ اس حکومت کی تشکیل میں سب سے زیادہ کردار ہمارا تھا اور آج بھی ہمارے جہاز کی خدمات کو حکومت سازی میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے بدلے جس قسم کا رویہ رکھا گیا‘ اس کی ہر گز توقع نہ تھی۔ آپ اگلے روز لودھراں میں سابق تحصیل ناظم سید اصغر شاہ جیلانی سے ملاقات اور ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
کامیاب ہو کر خدمت کیلئے
دن رات ایک کر دیں گے: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ ''کامیاب ہو کر خدمت کیلئے دن رات ایک کر دیں گے‘‘حتیٰ کہ کوئی پتا ہی نہیں چلا سکے گا کہ کون سی خدمت کس وقت کی ہے اور جن کو بعد میں علیحدہ علیحدہ کرکے مختلف کھاتوں میں تقسیم کیا جائے گا اور چونکہ اس خدمت کی ملک سے باہر بھی بے حد ضرورت ہوتی ہے اس لیے اس کا قابلِ ذکر حصہ حسبِ روایت بیرونِ ملک جا کر ملک کا نام روشن کرے گا کیونکہ ملک کے اندر اس خدمت کی ضرورت نہیں کہ اس میں وہ کافی حد تک خودکفیل ہو چکا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں گجومتہ استقبالیہ کیمپ پر استقبال کرنے والوں کا شکریہ ادا کر رہی تھیں۔
بجلی مفت چاہیے تو پیپلز پارٹی
کو ووٹ دیں: آصفہ بھٹو
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''بجلی مفت چاہیے تو پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں‘‘ اور یہ بجلی آئے گی کہاں سے‘ یہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ ملک میں اتنی بجلی تو پیدا بھی نہیں ہوتی کہ سب کو مفت فراہم کی جا سکے؛ تاہم آسمانی بجلی پر تو کسی کا اجارہ نہیں ہے، اس لیے اسے بھی کام میں لایا جا سکتا ہے جو ایک جگہ پر گرائی جائے گی اور مخصوص لوگ اس سے استفادہ کر سکیں گے اور کوئی بل بھی نہیں آئے گا اور جہاں تک زندگی کی باقی ضروریات کا سوال ہے تو عوام ان کے خود ذمہ دار ہوں گے کیونکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو چکے ہیں، اور اگر نہیں ہوئے تو انہیں جلد از جلد اپنے پائوں پر کھڑے ہونا چاہئے اور اگر بجلی انہیں مفت ملنے لگے تو یہ کام ان کیلئے مزید آسان ہو جائے گا۔ آپ اگلے روز کراچی میں پارٹی امیدواروں اور علاقے کے لوگوں سے ملاقات کر رہی تھیں۔
اور‘ اب اوکاڑا سے مسعود احمد کی غزل:
پیڑوں اور پرندوں کی بربادی ہوتی ہے
جانوروں کو مادر پدر آزادی ہوتی ہے
شہر میں یہ قانون نیا ہے تم نہیں سمجھو گے
جنگل کی مخلوق تو اس کی عادی ہوتی ہے
اس بچپن کی یادیں بڑی سنہری ہوتی ہیں
جس بچپن میں شامل نانی‘ دادی ہوتی ہے
شادیٔ مرگ کی کیفیت میں کب یہ سوچا تھا
مرگ کی یہ کیفیت بھی کیا شادی ہوتی ہے
جب تک سر پہ ماں اور باپ کا سایہ ہوتا ہے
تب تک تو گھر جنت جیسی وادی ہوتی ہے
لڑتی ہے جو قوم جہالت سے‘ گمراہی سے
سچ پو چھیں تو ایسی قوم جہادی ہوتی ہے
تمہیں ضرورت کیا ہے اتنے لائو لشکر کی
میری فوج بھی تو تیری امدادی ہوتی ہے
ہم جیسے مجبور کہاں واویلا کرتے ہیں
عدل کی یہ زنجیر جہاں فریادی ہوتی ہے
شام سویرے اٹھتی بیٹھتی دل سنگھاسن پر
باپ کے گھر میں ہر بیٹی شہزادی ہوتی ہے
کون ارادہ کرتا ہے اس آ گ میں کودنے کا
عشق سراسر حرکت غیر ارادی ہوتی ہے
آج کا مقطع
موت کے ساتھ ہوئی ہے مری شادی سو‘ ظفرؔ
عمر کے آخری لمحات میں دُلہا ہوا میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved