تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     09-02-2024

واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں

سائفر کیس میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو دس‘ دس سال قید بامشقت سنائے جانے کے بعد توشہ خانہ کیس میں بھی سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو اُسی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے چودہ‘ چودہ سال قید بامشقت کی سزا سنائی جو قبل ازیں نواز شریف کو بھی سزا سنا چکے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حالات کے پلٹے نے نواز شریف کو پھر سے زندان سے ایوان کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ عدت میں نکاح کیس میں بھی پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور اہلیہ کو سزا سنائی جا چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں ان سزاؤں کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے‘ اس کا تعین بہرحال اعلیٰ عدالتوں میں اپیلوں اور دلائل کے علاوہ پی ٹی آئی کے ردِّعمل اور حکمتِ عملی ہی نے کرنا ہے۔ انصاف سرکار میں شریکِ اقتدار سبھی بڑے بینی فشری منحرف اور بانی پی ٹی آئی کے لتے لینے میں پیش پیش ہیں جبکہ ماضی قریب میں یہ سبھی بانی پی ٹی آئی کے سر چڑھے اور Near & Dear میں شمار ہوتے تھے۔ جوں جوں انتخابی نتائج واضح ہوتے جا رہے ہیں‘ کئی مزید بھید بھاؤ اور عقدے بھی کھلتے چلے جا رہے ہیں۔ نام اور کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ راج نیتی کا وہی کھیل جاری ہے جو کئی دہائیوں سے کھیلتے چلے آ رہے ہیں۔ پارٹی اور قائد کی تبدیلی کے ساتھ بیشتر امیدواران دوبارہ میدان میں اترے جبکہ ناموافق حالات نے اکثر کو الیکشن سے باز رکھا۔ ڈٹے رہنے والے کہاں تک بھاگ پائیں گے‘ اس کا اندازہ اب سبھی خاص و عام کو بخوبی ہوتا چلا جا رہا ہے۔
انتخابات کے نتائج آنا شروع ہو چکے ہیں مگر بعد کا منظرنامہ کیا ہو گا‘ اس کا اندازہ لگانے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت ہرگز نہیں ہے۔ سبھی کا ماضی اور طرزِ حکمرانی کے جوہر عوام کے سامنے ہیں‘ کئی بار آزمائے ہوئے کئی دہائیوں سے باریاں لگا رہے ہیں اور آئندہ بھی اقتدار اور وسائل کے بٹوارے کا فارمولا ہی آزمایا جائے گا۔ ان سبھی کی نیت‘ ارادے اور دلوں کے بھید بھاؤ بھی کئی بار کھل چکے ہیں۔ ایسے میں ان نجات دہندوں سے نجات کی کوئی صورت دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔ گویا عوام کو ایک اور مرگِ نو کے لیے خود کو تیار کر لینا چاہیے۔ ماضی کے کئی ادوار کا ایکشن ری پلے دکھائی دینے والے سبھی مناظر کے سبب طبیعت فرار پر آمادہ ہے۔ سماج سیوک نیتاؤں کی قلابازیاں ہوں یا ماورائے آئین من مانی کی حکمرانی‘ تمکنت کے مارے سرچڑھے سرکاری بابو ہوں یا ان کے گرد منڈلاتے ہوئے عرض گزاروں کی بھرمار‘ کس کس کی بات کریں سبھی ایک سے بڑھ کر ایک اور ضرورت مند ہی پائے گئے ہیں۔
تاہم آج ایک ایسے انوکھے اور چشم کشا موضوع کی طرف چلتے ہیں جس کا مرکزی خیال سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ سے مستعار ہے۔ راج نیتی اور انتظامی مشینری کے گورکھ دھندے سے کوسوں دور اور ملکِ عدم سے آزمائشی طور پر اس جہانِ خراب میں دوبارہ واپسی کی ایک کہانی پیش خدمت ہے۔ خود کو ناگزیر اور مستقل سمجھنے والے عبرت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ''موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات ہوئی اور میری زندگی کا سورج غروب ہو گیا۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں۔ پھر جیسے ہوا میں تیرنے لگا اور چھت کے قریب جا پہنچا۔ میں جو ایک اعلیٰ ریٹائر افسر اور سخن طراز تھا‘ اپنے ہی سامنے بے جان پڑا تھا۔ میری بیوی جب سُوپ لے کر آئی تو میں دیکھ رہا تھا۔ اس نے میرا بے جان جسم دیکھا تو ایک لمحے کے لیے اس پر سکتہ طاری ہوا اور پھر وہ دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ میں نے بولنے کی کوشش کی‘ یہ عجیب بات تھی کہ میں سب کچھ دیکھ رہا تھا مگر بول نہیں سکتا تھا۔ چند گھنٹوں میں میری تدفین کر دی گئی۔ پھر ایک عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ شاید فرشتے آن پہنچے تھے۔ اسی کیفیت میں سوال و جواب کا سیشن ہوا۔ یہ کیفیت ختم ہوئی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحے ہی گزرے ہیں مگر فرشتوں نے بتایا کہ پانچ برس ہو چکے ہیں تمہیں فوت ہوئے۔ پھر انہوں نے ایک عجیب پیشکش کی ''ہم تمہیں کچھ عرصہ کے لیے واپس بھیج رہے ہیں۔ تم دنیا میں کسی کو نظر نہیں آؤ گے‘ گھوم پھر کر اپنے پیاروں کو دیکھ لو‘ ممکن ہے کہ تمہیں دوبارہ نارمل زندگی دے دی جائے‘‘۔ میں نے یہ پیشکش غنیمت جانی‘ پھر ایک مدہوشی کے بعد آنکھ کھلی تو میں اپنی گلی میں کھڑا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اپنے گھر کی جانب چلا۔ گھر کے گیٹ پر پہنچ کر ٹھٹھک گیا۔ میرے نام کی تختی اور پورچ سے گاڑی غائب تھی۔ دروازہ کھلا تھا۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنی لائبریری میں گیا تو کتابیں تھیں نہ الماریاں‘ رائٹنگ ٹیبل‘ کرسی، صوفہ، اعلیٰ منصب کے دوران جو شیلڈز اور یادگاریں‘ بے شمار فوٹو البم، کچھ بھی تو نہ تھا۔ داداجان اور والد صاحب کی ذاتی ڈائریاں سب غائب تھیں۔ کمرہ گودام کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ بالائی منزل کا وسیع و عریض لاؤنچ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ بیوی اکیلی کچن میں کچھ کام کر رہی تھی۔ پانچ برسوں میں اتنی تبدیل ہو گئی‘ اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کیسے پوچھوں کہ گھٹنوں اور جوڑوں کے درد کا کیا حال ہے؟ دوائیں باقاعدگی سے میسر آ رہی ہیں یا نہیں؟ نجانے بچے کیا سلوک کر رہے ہوں؟ مگر میں بول سکتا تھا نہ وہ مجھے دیکھ سکتی تھی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی‘ میری بیوی نے فون اٹھایا اور بہت دیر تک باتیں کرتی رہی۔ اس گفتگو سے جو میں سمجھ پایا وہ یہ کہ بچے مکان کو فروخت کرنا چاہتے تھے‘ ماں اس کی مخالفت کر رہی تھی مگر بچے بضد تھے۔ بیوی کو شاید میری یہ نصیحت یاد تھی کہ ڈیرہ اپنا ہی اچھا ہوتا ہے مگر بچوں کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور تھی۔ گاڑی پہلے ہی بیچی جا چکی تھی۔ اتنے میں ایک ملازم کمرے میں داخل ہوا‘ اس نے میری ایک برانڈڈ شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ نیچے وہ پتلون تھی جو میں نے اٹلی سے خریدی تھی۔ اچھا! تو میرے بیش قیمت ملبوسات ملازموں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ میں ایک سال لوگوں کی نگاہوں سے غائب رہ کر تماشا دیکھتا رہا۔ ایک ایک بیٹے‘ بیٹی کے گھر جا کر ان کی باتیں سنیں۔ کبھی کبھار ہی ابا مرحوم یعنی میرا ذکر آتا‘ وہ بھی سرسری سا۔ میں شاعروں‘ ادیبوں کے اجتماعات اور نشستوں میں بھی گیا۔ کہیں اپنا ذکر نہ سنا۔ وہ جو بات بات پر مجھے جدید غزل کا ٹرینڈ سیٹر کہا کرتے تھے‘ جیسے اب یکسر بھول چکے تھے۔ اب ان کے ملازموں نے میری کتابیں بھی الماری سے ہٹا دی تھیں۔ ایک سال کے جائزے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میری موت سے دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ بیوی یاد کر لیتی تھی تاہم بچے‘ پوتے پوتیاں‘ نواسے نواسیاں‘ سب مجھے بھول چکے تھے۔ دنیا مگر رواں دواں تھی۔ کہیں بھی میری ضرورت نہ تھی‘ گھر میں نہ باہر۔ فرض کیجئے! میں التماس کر کے دوبارہ دنیا میں نارمل زندگی گزارنے آ بھی جاتا تو کہیں بھی ویلکم نہ کہا جاتا‘ بچے پریشان ہو جاتے‘ ان کے اپنے منصوبے تھے جن میں میری کوئی گنجائش نہ تھی‘ شاید بیوی بھی کہہ دیتی کہ تم نے واپس آکر مسائل میں اضافہ کر دیا‘ اب مکان بھی بک چکا‘ میں تنہا کسی بھی بچے کے پاس رہ لیتی‘ اب وہ ہم دونوں کو کہاں سنبھالتے پھریں گے۔ دوست تھوڑے بہت باقی بچے تھے‘ وہ بھی اب بیمار اور چل چلاؤ پر تھے۔ میں واپس آتا تو دنیا میں مکمل طور پر اَن فِٹ ہوتا۔ میں نے فرشتوں سے رابطہ کیا اور کہا: میں واپس قبر میں جانا چاہتا ہوں۔ فرشتہ مسکرایا اور بولا: ''ہر انسان یہی سمجھتا ہے کہ اس کے بعد جو خلا پیدا ہو گا‘ وہ کبھی بھرا نہیں جا سکے گا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ خلا تو کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved