تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     23-02-2024

آملیٹ

انڈے پھینٹے جا چکے ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کی سفیدی اور زردی ملا کر یک رنگ ملغوبہ بنا دیا گیا ہے۔ آزاد امیدواروں کے گھی اور ہری مرچیں بھی ڈال دیے گئے ہیں۔ چولہا جلا دیا گیا ہے اور کچھ دیر میں آملیٹ آگ پر رکھ دیا جائے گا۔ یہ آملیٹ کتنا لذیذ یا کتنا بدذائقہ ہوگا‘ یہ تو کھانے پر ہی پتا چلے گا۔ چند دن یا چند مہینے انتظار کیجیے۔
صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔ پنجاب میں (ن) لیگ اور مریم نواز۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور بظاہر مراد علی شاہ۔ کے پی میں پی ٹی آئی اور علی امین گنڈاپور۔ بلوچستان میں پیپلز پارٹی۔ رہ گیا مرکز تو اصل آملیٹ یہیں ہے۔ بلاول بھٹو نے اعلان کیا ہے کہ ان کا اور(ن) لیگ کا معاہدہ طے پا گیا ہے‘ حکومت سازی کیلئے ان کے نمبر پورے ہیں۔ رہا عہدوں کا معاملہ تو آصف زرداری صدر‘ شہباز شریف وزیراعظم۔ سپیکر قومی اسمبلی (ن) لیگ‘ ڈپٹی سپیکر پیپلز پارٹی۔ چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی‘ ڈپٹی چیئرمین (ن) لیگ‘ وعلیٰ ھذا القیاس! نیز یہ کہ وفاقی کابینہ میں پیپلز پارٹی شریک نہیں ہو گی۔ وفاقی کابینہ میں عدم شمولیت کی بات تو سمجھ آتی ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ مشکل حالات میں اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہتی ہے لیکن حیرت کی بات بلاول بھٹو کا بطور وزیر شامل نہ ہونا ہے۔ آصف زرداری‘ جو مسلسل بلاول کو اوپر سے اوپر عہدوں پر دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی اس بار بھی بڑی خواہش انہیں وزیراعظم بنوانے کی تھی‘ خود بلاول نے بھی اپنی تقریروں اور بیانات میں اس عزم کا اظہار کیا تھا۔ یاد کیجیے کہ پی ڈی ایم بنی تھی تو آصف زرداری کی خواہش پر وزارتِ خارجہ بلاول بھٹو کو دی گئی تھی۔ اس بار جب زرداری صاحب لین دین کی بہتر پوزیشن میں ہیں توکم از کم وزارتِ خارجہ کیوں نہیں لی گئی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں‘ مثلاً پارٹی کے اندر کا دبائو کہ وزارتوں کا بارِ گراں نہ اٹھایا جائے اور سیاسی نقصان سے بچا جائے۔ اگر یہ اصولی فیصلہ ہو گیا تب اکیلی وزارتِ خارجہ لینا ممکن نہ تھا۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ (ن) لیگ کا اصرار ہو کہ جب آپ کابینہ کی ذمہ داریاں لینا ہی نہیں چاہتے تو پھر وزارتِ خارجہ بھی نہیں ملے گی کہ خواجہ آصف پہلے بھی اس کرسی پر بیٹھ چکے ہیں اور اب بھی تیار ہوں گے‘ بشرطیکہ ان کی اسمبلی کی نشست باقی رہے۔ تیسری وجہ مقتدرہ کا دبائو ہو سکتی ہے جو باگ ڈور (ن) لیگ کے سپرد کر کے سابقہ معاملات کی تلافی کرنا چاہتی ہے۔ بہرصورت بلاول بھٹو اس صورت میں وزارت میں نہیں ہوں گے؛ تاہم چیئرمین سینیٹ وغیرہ کے عہدے انہیں دیے جا سکتے ہیں۔ زرداری صاحب کے پیشِ نظر یہ بات بھی ہو گی کہ موجودہ مہنگائی اور معاشی مسائل کے ساتھ (ن) لیگ حکومت ایک طاقتور اپوزیشن کے سامنے بہت جلد عوامی ردِعمل کا شکار ہو جائے گی اور اپنا رہا سہا ووٹ بینک بھی کھو بیٹھے گی۔ اس لیے 'انتظار کرو اور دیکھو‘ ہی بہتر پالیسی ہے۔
آملیٹ میں نمک اور مرچ یعنی جے یو آئی اور ایم کیو ایم کیوں شامل نہیں‘ خاص طور پر ایم کیو ایم‘ یہ ذرا پیچیدہ سی بات ہے۔ مولانا فضل الرحمن اس وقت شاکی بلکہ روٹھے بیٹھے ہیں۔پے درپے انہیں جس انتخابی شکست کا سامنا ہوا ہے‘ اسے ہضم کرنا بہت مشکل ہے۔ کے پی کے ایوان میں ان کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پنجاب اور سندھ میں وہ موجود نہیں ہیں۔ صرف بلوچستان میں وہ قریب قریب پیپلز پارٹی کے ہم پلہ ہیں لیکن حکومت بنانا وہاں بھی ممکن نہیں۔ یہ نتائج ان کیلئے غیر متوقع ہیں اور وہ کہہ چکے ہیں کہ یہ قابلِ قبول بھی نہیں ہیں۔کہا جا رہا تھا کہ مولانا اپنی پی ڈی ایم کی حیثیت منوانے کے بعد صدر کے عہدے کے خواہاں ہیں لیکن اب جو منظر سامنے ہے اس میں صدر تو کجا‘ وہ اپنی جماعت کے ساتھ کسی قومی یا صوبائی وزارت میں بھی نظر نہیں آ رہے۔(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے معاہدے میں جے یو آئی کا ذکر ہی نہیں‘ اسے بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ میٹنگز میں بھی اور معاہدوں میں بھی۔ انتخابی نتائج کی تلخی کیا کم تھی کہ نظر اندازکیے جانے کا دکھ بھی شامل ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اسی غم و غصے میں کچھ انٹرویوز بھی دیے اور بیانات بھی۔ تحریک انصاف کے وفد سے ملاقاتیں بھی کیں۔ یہ اچھی بات ہے کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی میں بالآخر رابطہ ہوا اور برف پگھلی لیکن جو ماضی قریب کے زخم ہیں‘ وہ ابھی تک رس رہے ہیں اور گھائو لو دے رہے ہیں‘ اس لیے بظاہر فی الحال ایوانوں میں مفاہمت مشکل بلکہ ناممکن ہو گی۔
حکومتی معاہدے میں ایم کیو ایم کا بھی ذکر نہیں ہے۔ بظاہر اسے بھی باہر رکھا گیا ہے۔ دراصل اگر یہ دونوں جماعتیں مل کر قومی اسمبلی میں اکثریتی عدد حاصل کر لیتی ہیں تو خواہ مخوا ایم کیو ایم کا بوجھ لادنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ پھر اخباری اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم نے جو شرائط پیش کی ہیں‘ ان میں سے کچھ (ن) لیگ اور کچھ پیپلز پارٹی کیلئے ناقابلِ قبول ہوں گی۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں شدید تلخیاں موجود ہیں۔ ایسے میں ایم کیو ایم کے مطالبات‘ مثلاً سندھ کے شہری فنڈز صوبائی حکومت کو نہیں‘ بلدیاتی نمائندوں‘ دوسرے الفاظ میں‘ ایم کیو ایم کو دیے جائیں‘ کیسے قابلِ قبول ہو سکتے ہیں؟ بانی پی ٹی آئی کہہ چکے کہ ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں ہو سکتا‘ اس صورت میں ایم کیو ایم اچھی خاصی سیٹیں لینے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومت سازی سے باہر ہی دکھائی دیتی ہے۔
(ن) لیگ شاید سب سے زیادہ مشکل میں ہے۔ پہاڑ اور کھائی کے بیچ اسے سنبھل کر چلنا مشکل ہو رہا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کو اقتدار میں دیکھنا نہیں چاہتی‘ اس کی وجہ اس کا خوف بھی ہے اور مقتدرہ کی خواہش بھی۔ پی ٹی آئی کے ساتھ کچھ نرمی کا سلوک شروع ہو چکا ہے۔ اگر پی ٹی آئی مرکز میں حکومت بناتی ہے تو عمران خان بہرحال جیل سے باہر آ جائیں گے۔ بہت ممکن ہے وہ ایوان میں نشست بھی سنبھال لیں اور ممکنہ طور پر عدم اعتماد کے ذریعے خود وزیراعظم بھی بن جائیں۔ یہ مگر ذرا دور کا منظر لگتا ہے البتہ ملکی سیاست میں کچھ بھی بعید نہیں۔ کون کہہ سکتا تھاکہ نااہل نواز شریف اہل ہوکر ایوان میں پہنچ جائیں گے۔ وہ ہو سکتا ہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ (ن) لیگ کیلئے ایک خوفناک صورتحال ہو گی۔ انہیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ باہر جائیں گے یا اندر۔ عمران خان کا منتقم مزاج و ہ پہلے دیکھ چکے‘ اگر یہ مزاج نہ بدلا تو (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی‘ دونوں کیلئے برا وقت شروع ہو جائے گا۔ اس لیے (ن) لیگ کے اکثر رہنمائوں کی اس رائے کے باوجود کہ اقتدار نہ لیا جائے‘ ان کے پاس اقتدار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہیں حکومت بنانا ہی پڑے گی کہ یہی بچت کا راستہ ہے۔ لیکن جس تعداد میں الیکشن نتائج چیلنج ہوئے ہیں اور جس اعتماد کے ساتھ بات کی جا رہی ہے‘ اگر (ن) لیگ کے ہاتھ سے پندرہ‘ بیس نشستیں بھی نکل گئیں تو وہ اقتدار میں کیسے رہ پائے گی؟
پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی کی نشستیں دو بڑے ''اگر‘‘ سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ دونوں ''اگر‘‘ بڑے مگرمچھ ہیں۔اگر عدالتوں نے ان کے دعوے کے مطابق مسروقہ سیٹیں واپس دلا دیں اور اگر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے بعد خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں انہیں مل گئیں تو پھر ان کی برتری یقینی ہو جائے گی۔ فی الحال قومی نشستوں کے متعلق پی ٹی آئی کے دعوے مبالغہ آمیز لگتے ہیں۔ 170 یا 180 نشستیں کیسے؟ اس وقت 92 نشستیں ہیں۔ اگر پندرہ‘ بیس نشستیں چیلنج کے نتیجے میں مزید ملتی ہیں تو 112 سمجھ لیجیے۔ اگرچہ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی اتنی ہی سیٹیں کم ہو جائیں گی جو پی ٹی آئی کی جیت ہے؛ تاہم 134کی اکثریت حاصل کر لینا اس وقت بھی بڑا سوال ہو گا۔
آملیٹ بہرحال تیار ہے۔ لذیذ ہے یا بدذائقہ‘ کچھ دن‘ کچھ مہینے انتظار کیجیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved