تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     20-10-2013

سرخیاں‘ متن اور اشتہار

دہشت گردوں‘ بھتہ خوروں‘ ٹارگٹ کلرز سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے… نوازشریف وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ’’دہشت گردوں‘ بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے‘‘ جس کا آرڈر دے دیا گیا ہے اور جونہی یہ آہنی ہاتھ تیار ہو گیا‘ اس سے نمٹنے کا کام شروع کردیا جائے گا۔ اس دوران اپنے ہاتھ دیگر مفید کاموں میں لگے رہیں گے کیونکہ جو ہاتھ اللہ میاں نے جس کام کے لیے بنائے ہیں‘ ان سے وہی کام لیناچاہیے اور اب تک اس پر عمل بھی کیا جاتا رہا ہے‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ’’عوام کو برسوں نہیں‘ دنوں میں ریلیف دینا چاہتا ہوں‘‘ صرف ریلیف کے دستیاب ہونے کی دیر ہے کیونکہ جو بچا کھچا ریلیف تھا وہ ا تفاق سے اِدھر اُدھر تقسیم ہو گیا ہے؛ چنانچہ اس کے لیے اب ریلیف کیمپ لگا دیا گیا ہے‘ انشاء اللہ جلد کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جرائم پیشہ افراد کو اس وقت پکڑیں گے جب وہ منصوبے بنا رہے ہوں گے‘‘ البتہ جو منصوبے وہ پہلے ہی بنا چکے ہیں ان کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے یا وہ کام جو وہ کوئی منصوبہ بنائے بغیر ہی کر ڈالتے ہیں جو کہ زیادہ نتیجہ خیز نہیں ہوتا۔ آپ اگلے روز جاتی عمرہ میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ غریبوں کا خون پینے والے شیر کا اگلے الیکشن میں شکار کریں گے… بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’’غریبوں کا خون پینے والے شیر کا اگلے الیکشن میں شکار کریں گے‘‘ اول تو غریبوں کا یہ خون ہم نے اپنے پانچ سالہ دور میں خود ہی اتنا چوس لیا تھا کہ اب اس شیر کے پلے کچھ پڑنے والا ہے ہی نہیں اور جس کے بغیر یہ شیر اس وقت تک خود ہی اس قدر لاغر ہو چکا ہوگا کہ اس کے شکار میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’آصف زرداری جیالوں کی کمان ہوں گے اور میں تیر‘‘ اس لیے میرے بارے میں کسی کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آتا اور خالی کمان ہی باقی رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سندھ کو ایک بار پھر پیپلز پارٹی کا قلعہ بنائیں گے‘‘ اگرچہ لاہور کو قلعہ بناتے ہوئے اس بار ہم اس میں خود ہی محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسلام آباد کو یرغمال بنانے والے شخص کو جیالے نے ہی قابو کیا‘‘ اور اسے 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ رخصت کر کے نشان عبرت بنا دیا گیا کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔ آپ اگلے روز کراچی میں سانحہ کار ساز کی یاد میں برسی کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ قدم بڑھائو نوازشریف‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں… زرداری سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’’قدم بڑھائو نوازشریف‘ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ لیکن یہ قدم ایسا نہیں ہونا چاہیے جس سے نقصان ہو اور اگر ایسا ہو بھی تو مفاہمت کے مطابق اپنے منطقی انجام کو جلد از جلد خود ہی پہنچ جائے تاکہ ملک میں پیار‘ محبت اور یگانگت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ انہوں نے کہا کہ ’’سیاسی پارٹیاں بھی آپس میں لڑ پڑیں تو کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھائے گی‘‘ لہٰذا آپس میں ہی مفاہمانہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’طالبان کے ساتھ مذاکرات یا جنگ میں حکومت کا ساتھ دیں گے‘‘ بشرطیکہ حکومت بھی ہمارا ساتھ دے اور گڑے مردے اکھاڑنا شروع نہ کردے۔ آپ اگلے روز کراچی میں عید ملن پارٹی سے خطاب کر رہے تھے۔ شادی کر لیتا تو آج نیب کی گرفت میں ہوتا… شیخ رشید عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ’’شادی کر لیتا تو آج نیب کی گرفت میں ہوتا‘‘ کیونکہ اُفتادِ طبع ہی ایسی ہے کہ میری بیگم نے ہی مجھے اندر کرا دینا تھا۔ خدا ان عورتوں سے بچائے‘ خاص طور پر وہ عورتیں جو شومئی قسمت سے بیویاں بن جائیں اور اسی لیے میں نے ساری عمر شادی کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’آٹھ بار وزارت لینے سے اتنا سکون نہیں ملا جتنا آج اپوزیشن میں مل رہا ہے‘‘ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو مزید درست ہوگا کہ آٹھ بار رکن اسمبلی بننے پر اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی دو بار ہار جانے سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں‘‘ اور ایسا لگتا ہے کہ میرا جوڑا اس وقت تک نہیں بنے گا جب تک میں آسمان پر نہ پہنچ جائوں اور کوئی پھٹی پرانی حُور میرے حصے میں بھی آ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنی اوقات کو نہیں بھولا‘‘ اور عوام کا حافظہ چونکہ بہت کمزور ہوتا ہے اس لیے وہ میری اوقات کو بھول گئے اور متعدد بار مجھے منتخب کر ڈالا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک نجی ٹیلی ویژن چینل میں گفتگو کر رہے تھے۔ اظہارِ تشکر ہرگاہ بذریعہ اشتہار ہٰذا عزیزی سیف الرحمن کا دلی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے مشتہر کو زرداری کے خلاف کرپشن کے ثبوت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں رہی جبکہ ہم دونوں نے مل جل کر ملک کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ لڑائی بھڑائی اور مقدمے بازی میں ہرگز نہیں کی جا سکتی‘ حتیٰ کہ ہر دو فریق اب تک ملک و قوم کی جو خدمت دونوں ہاتھوں سے کر چکے ہیں‘ اس پر بھی مٹی پانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ مٹی جب ملک عزیز میں بہتات سے دستیاب ہے تو اس سے اسی طرح پورا پورا استفادہ کرنا چاہیے جس طرح ملک کی دیگر نعمتوں سے کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے خلوص کا عالم یہ ہے کہ اب تک کی بے پایاں خدمت کے بعد بھی دونوں کا ابھی تک جی نہیں بھرا اور آخری سانس تک (اپنی اپنی آخری سانس تک‘ ملک کی آخری سانس تک نہیں) اسی نیک ارادے پر قائم ہیں‘ اللہ تعالیٰ استقامت بخشے‘ ہیں جی؟ المشتہر: خادمِ اعظم‘ نوازشریف عُفِیَ عَنہُ آج کا مطلع محبت ہے‘ مگر اس کو خبر ہونے سے ڈرتا ہوں کہ اس خوشبوئے دل کے منتشر ہونے سے ڈرتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved