تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     23-10-2013

خارجہ پالیسی اور عملی سوچ

ملک میں بہت سے تباہ کن نعرے مروج ہیں لیکن میرے خیال میں ملکی مفاد کو سب سے زیادہ نقصان وہ نعرے پہنچاتے ہیں جو امریکہ اور مغربی ممالک کے خلاف لگائے جاتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا میں، جہاں حقیقت پسند سیاست دان، دنیاوی فائدے پر نگاہ رکھنے والے کاروباری افراداور باخبر اور صاحب ِ بصیرت دانشور دنیا میں طاقت کے مراکز سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے ملک کے باشندوں کو فائدہ پہنچا سکیں، صرف پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں کچھ طاقتورحلقے ایسی باتیں کرتے اور پھیلاتے ہیں جو ملک کو عالمی سیاسی منظر نامے پر مزید تنہائی سے دوچار کرتے ہوتے ہوئے اس کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔ یا تو یہ عناصر اس بات کی تفہیم سے قاصر ہیں کہ اس تنہائی کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے، یا پھر وہ جان بوجھ کر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اس کے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ دراصل آج کی دنیا میں کوئی ملک بھی، چاہے وہ کتنے ہی وسائل سے کیوں نہ مالا مال ہو، اپنے ہمسایوں اور دنیا کے صنعتی مراکز سے دوری پیدا کرکے ترقی نہیں کرسکتا۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کو،جسے آج کل شورش پسندی اور معاشی مسائل نے گھیرا ہوا ہے، دنیا، خاص طور پر امریکہ اور مغربی طاقتوں کی معاونت کی اُس سے کہیں زیادہ ضرورت ہے جتنی ان ممالک کو اس کی ہے؛ چنانچہ ہمیں یہ بات کہنے میں احتیاط برتنی چاہیے کہ دنیا کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ اس کی بجائے ہمیں عوام کو یہ باور کرانا چاہیے کہ اس وقت پاکستان مسائل کے گرداب میں ہے اور اس سے نکلنے کے لیے طاقتور حلقوں کا ہاتھ تھامنا ہے اور ایسا کرنا ان کی غلامی کرنے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہاں، یہ سوچ بھی درست ہے کہ جس طرح پاکستان کو ترقی کے لیے ان کی مارکیٹوں تک رسائی، ٹیکنالوجی اور علم کی ضرورت ہے، اسی طرح پاکستان کا استحکام بھی ان ممالک کے مفاد میں ہے؛ چنانچہ اس میں دو آراء نہیںہو سکتیں کہ پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے بہتر تعلقات کی ضرورت ہے۔ حقیقت پسندانہ سوچ کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان ان ممالک کے ساتھ مضبوط، گہرے اور وسیع تر تعلقات کی طرف قدم بڑھائے اور ایسا کرتے ہوئے ان حلقوں کو، جو اس عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کررہے ہیں، خاطر میں نہ لائے۔ ہمارے معاشرے میں پھیلے ہوئے کچھ غلط اور بے بنیاد تصورات عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہمارے حکمران ملک کو امریکہ یا مغربی طاقتوںکی غلامی میں دے رہے ہیں۔ عوام کو اس سلسلے میں فہم و ادراک سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ دو دریاستوں کے درمیان تعلقات مشترکہ مفادات کی بنیادوں پر استوار کیے جاتے ہیں اوران تعلقات کی جہت طے کرنا ان ممالک کے حکمرانوں کا استحقاق ہوتا ہے۔ اب تک امریکہ سے استوار کیے گئے تعلقات تین مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تھے۔ ایسا کرتے ہوئے ان دونوں ممالک نے اپنے مفاد کے تحفظ کے لیے جو بہتر اقدام سمجھا ، وہ کیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ دو ملکوں کے مابین تعلقات حاکم و محکوم کے تعلقات جیسے نہیںہوتے کہ ایک ریاست دوسری پر اپنا حکم چلائے ، اور نہ ہی ان کا مقصود کسی ایک ریاست کے مفاد کا تحفظ ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہو گا کہ اگر ہم امریکہ کے ’’کام ‘‘ آئے ہیں تو ہم نے امریکہ سے بہت سا مفاد بھی حاصل کیا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ریاستوں کے تعلقات میں کوئی ایسا پیمانہ نہیںہے جس کی مدد سے یہ طے کیا جاسکے کہ کس نے کم مفاد حاصل کیا ہے اور کس نے زیادہ فائدہ اٹھایا ہے۔ ریاستوں کا مختلف حجم اور ان کی مختلف ضروریات ان کے مفادات کو ترازو کے باٹ کی طرح یکساں نہیں رہنے دیتیں۔ چنانچہ اس کے لیے بہترین پیمانہ یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ کیا ہم ان تعلقات سے اپنے لیے بہتری کا سامان پیدا کررہے ہیں، یا کیا ان سے بہتر کوئی اور بھی امکان موجود ہے۔ یہ بھی یادرہے کہ ریاستوںکے تعلقات جذباتیت سے مبرّا ہوتے ہیں۔ ان میں ہر کسی نے منطقی انداز میں اپنے لیے بہتر امکان کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ سوچ بھی غلطی فہمی پر مبنی ہے کہ امریکہ سے تعلقات استوار کرتے ہوئے پاکستان تاحال اپنے مفاد کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس غلطی کو رفع کرنے کے لیے ہمیں امریکہ سے حاصل کی گئی دفاعی اور معاشی امداد پر غور کرنا ہوگا ۔ یہ بات مت فراموش کریں کہ ہم نے کیسے اور کس طرح ’’بم ‘‘ بنانے کی صلاحیت حاصل کی۔ اس بات کا تعین کرنا دشوار ہے کہ اگر ہمیںان تعلقات کا فائدہ ہوا ہے تو نقصان کا تناسب کیا ہے؟اس میںکوئی شک نہیںہے کہ عالمی سطح پر بہت سے اقدامات کے غیر متوقع نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ریاستوں کے حکمران بھی قومی مفاد کی جگہ اپنے ذاتی مفاد کے تحت کچھ ایسے فیصلے کرتے ہیں جن کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ فوجی حکمرانوںکے دور میں کچھ ایسے فیصلے کیے گئے جن کی وجہ سے ہم افغان جنگ میں ملوث ہوگئے اور اس کے نتیجے میں ملک تشدد کی لپیٹ میں آگیا ۔ اس پیچیدہ دنیا میں کسی بھی دو ممالک کے درمیان تعلقا ت کی نوعیت سیدھی سادھی اور دوٹوک نہیں ہوسکتی۔ ان میں ریاستوں کے اپنے اپنے مفاد اور عزائم غالب دکھائی دیتے ہیں؛ چنانچہ ہمارے خطے میں‘ جو مسائل کی آماجگاہ ہے، اسلام آباد اورواشنگٹن کے درمیان تعلقات میں کھچائو اور مفاد پرستی کا عنصر غالب رہتاہے۔ اس میں بعض اوقات حالات مزیدکشیدگی کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طرفین حالات کا غیر جانبدار ی سے جائزہ لینے کی بجائے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے مفاد میںہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو‘ تاکہ خطے کو استحکام نصیب ہو اور تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آئے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کواپنے مسائل کا ادراک ہو اور وہ پر مغز مذاکرات اوربامعنی سفارت کاری کے ذریعے عالمی برادری کو اپنی مدد پر آمادہ کرسکے۔ ایسا کرتے ہوئے ہم آنے والے دنوں میں پاکستان کو بہتر خطوط پر استوار کرسکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved