تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     27-04-2024

ضمنی انتخابات: کیا ہوا کا رخ تبدیل ہو رہا ہے؟

عام طور پر ضمنی انتخابات میں ووٹرز کی دلچسپی نہیں ہوتی اور نہ ہی عوام میں عام انتخابات کے جیسا جوش و خروش پایا جاتا ہے‘ ضمنی انتخابات کے نتائج عام انتخابات کے نتائج کی روشنی میں تشکیل پانے والی حکومتوں پر اثر انداز بھی نہیں ہوتے‘ لیکن پاکستان میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ 21 اپریل کو ملک کے 21 قومی اور صوبائی حلقوں میں منعقد ہونے والے انتخابات اس لیے خصوصی اہمیت کے حامل تھے کہ ان سے پہلے منعقد ہونے والے قومی انتخابات (آٹھ فروری) میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جو سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے نام سے پارلیمنٹ کی نشستوں پر براجمان ہے‘ کا دعویٰ ہے کہ اُس نے 80 فیصد نشستیں جیت لی تھیں اور پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے ایک بیان میں کہاتھا کہ ان کی پارٹی ضمنی انتخابات کی تمام نشستوں پر مخالف امیدواروں کو شکست سے دوچار کرے گی اور اس سلسلے میں قوم کو ایک اور سرپرائز دے گی۔ بانی پارٹی نے بھی جیل میں ملاقات کرنے والے پارٹی رہنمائوں کے ذریعے پی ٹی آئی ووٹرز کے نام پیغام بھجوایا تھا کہ وہ آٹھ فروری کی طرح 21 اپریل کو بھی پوری تعداد میں پولنگ سٹیشنز پہنچیں اور پارٹی امیدواروں کو ووٹ دیں‘تاہم ضمنی انتخابات کے جو نتائج آئے وہ نہ صرف پی ٹی آئی لیڈرشپ بلکہ پوری قوم کے لیے حیران کن اور توقع کے برعکس تھے۔ پنجاب خصوصاً لاہور‘ جہاں آٹھ فروری کی طرح 21 اپریل کو بھی مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا‘ میں قومی اسمبلی کی دونوں اور صوبائی اسمبلی کی نو سیٹوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ پنجاب میں باقی جن تین سیٹوں پی پی 32 (گجرات)‘ پی پی 149 (لاہور) اور پی پی 266 (رحیم یار خان) میں جن تین پارٹیوں بالترتیب مسلم لیگ (ق)‘ استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے‘ وہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں مخلوط حکومت کی حمایتی ہیں۔ اس طرح پنجاب سے سنی اتحاد کونسل کے پلیٹ فارم سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والی پارٹی (پی ٹی آئی) ایک بھی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت کو استحکام حاصل ہوا ہے بلکہ مرکز میں وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو بھی تقویت ملی ہے۔ اس لیے بانی پی ٹی آئی کی یہ پیشگوئی کہ آٹھ فروری کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی موجودہ حکومت ایک کمزور اور غیر مستحکم حکومت ہے اور پانچ چھ ماہ سے زیادہ عرصہ کے لیے نہیں چل سکے گی‘ پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کی اپنی احتجاجی تحریک کی کامیابی مشکوک نظر آ رہی ہے کیونکہ ان ضمنی انتخابات کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ 21 اپریل کو پی ٹی آئی کے ووٹرز اتنی بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنز نہیں پہنچے جتنی تعداد میں آٹھ فروری کو پہنچے تھے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز 8 فروری کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں پہنچے‘ جس سے مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مستقبل کے بارے میں یہ دعویٰ کہ پنجاب میں اس کا وجود ختم ہو چکا ہے اور آٹھ فروری کے انتخابات اس کے آخری انتخابات ثابت ہوں گے‘ غلط ثابت ہوا ہے۔
کیا 21 اپریل کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کی لہر کمزور ہو رہی ہے؟ پی ٹی آئی کی قیادت اس رائے کو مسترد کرتی ہے۔22 اپریل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان‘ سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب‘ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے ملکی اداروں پر پولنگ میں دھاندلی کا الزام لگایا اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ جیتنے والے امیدواروں کے نوٹیفکیشنز کو منسوخ کیا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے احتجاجی جلسوں اور جلوسوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ اگر پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ہرانے کا الزام تسلیم کر لیا جائے تو خیبر پختونخوامیں‘ جہاں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے‘ این اے 8 (باجوڑ) اور پی کے 23 (باجوڑ) میں سنی اتحاد کونسل (پی ٹی آئی) کے امیدواروں کی شکست کے حق میں کیا دلائل پیش کیے جا ئیں گے؟ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو آٹھ فروری کے موقع پر بھی انہی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا تھا جو انہیں 21 اپریل کو دیکھنا پڑیں‘ مگر اس کے باوجود آٹھ فروری کو پی ٹی آئی کے ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنز پر پہنچے اور اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے میں کامیاب ہوئے مگر 21 اپریل کو پی ٹی آئی کے ووٹرز کا ''سمندر‘‘ کہیں دیکھنے میں نہیں آیا۔ صاف ظاہر ہے کہ پی ٹی آئی کا ووٹر مایوس‘ بددل اور ڈی مورلائزڈ ہو چکا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر اس میں سے خود پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کی لغزشوں اور غلط حکمت عملی کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی نے آٹھ فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بیک وقت چار محاذ کھول رکھے ہیں: عدالتوں میں پٹیشنز کا داخلہ‘ اسمبلیوں میں حکومت کے خلاف ہلڑ بازی‘ ملک گیر جلسوں اور جلوسوں کا اعلان اور سوشل میڈیا پر اپنے بیانیہ کو جارحانہ انداز میں پیش کرنا۔ اس میں 21 اپریل کے ضمنی انتخابات کو کوئی مقام حاصل نہ تھا۔ دراصل پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار تھی۔ اس کا خیال تھا کہ جس طرح آٹھ فروری کو پی ٹی آئی کے ووٹرز خود بخود بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنز پر پہنچے‘ اسی طرح 21 اپریل کو بھی وہ بڑی تعداد میں پولنگ سٹیشنز پر پہنچ کر اپنے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت شاید بھول گئی کہ ضمنی انتخابات میں اپنے ووٹرز کو نکالنے کے لیے ایکسٹرا اور غیر معمولی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
جہاں تک مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں بڑی اور غیر متوقع کامیابی کا تعلق ہے تو اس سے یقینا مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں اعتماد اور اتحاد کی فضا پیدا ہو گی‘ خصوصاً وہ حلقے جو پنجاب میں مریم نواز کی بطور وزیر اعلیٰ تعیناتی کو ناقدانہ نظر سے دیکھتے تھے‘ اپنی رائے پر نظر ثانی پر مجبور ہوں گے کیونکہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو وزیر اعلیٰ مریم نواز کی بہتر کارکردگی کا نتیجہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں کلین سویپ سے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو حوصلہ ملا ہے اور صوبائی حکومت اپنی کارکردگی کو مزید شعبوں تک پھیلانے کی کوشش کرے گی۔ خاص طور پر خواتین‘ جو ہماری آبادی کا آدھا حصہ ہیں‘ کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے سے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آئوٹ پہلے سے زیادہ تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس سے ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صوبے کی خواتین کی طرف سے مریم نواز کی بطور وزیر اعلیٰ تعیناتی کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت خواتین‘ خاص طور پر نوجوان اور پڑھی لکھی خواتین‘ کو درپیش مسائل پر فوکس کرتی ہے تو ان کی ایک بڑی تعداد مسلم لیگ (ن) کی ووٹرز بن سکتی ہے۔ بھارت میں اپوزیشن کے مقابلے میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کی جانب سے خواتین کی فلاح و بہبود پر فوکس کو اس کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت خواتین کو درپیش مسائل کے حل پر فوکس کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کی سیاست میں یہ ایک پیراڈائم شفٹ ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved