تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     04-05-2024

مزیدکتے

بھونکنے کا عمل‘ خدا جھوٹ نہ بلوائے‘ ایک گھنٹے سے جاری تھا اور تھمنے کو نہیں آ رہا تھا۔ آدھی رات کے سناٹے میں یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی جمعیتِ کلاب کا اجتماع ہے جس میں ان کے سب قبیلوں کے نمائندگان شریک ہیں۔ جب شور ناقابلِ برداشت ہو گیا تو میں اٹھا اور گلی میں جھانکا‘ یہ سوچتے ہوئے کہ ان کتوں کو چپ کرانے کے لیے اپنی سی انسانی کوشش کروں۔
گلی میں دیکھا کہ ایک کتا‘ ساتھ والے گھر میں چھت پر بندھے ایک پالتو کتے کے ساتھ محوِ مجادلہ ہے۔ اس کی تھوتھنی کا رُخ اوپر کی جانب تھا اور اس کے جوش وخروش سے اندازہ ہو رہا تھاکہ اختلاف شدید نوعیت کا ہے اور اس کے نزدیک اصولی ہے۔ مخالف کو بھی اپنے مؤقف پر اصرار تھا‘ اگرچہ اس کی آواز میں اتنی شدت نہیں تھی۔ غالباً اپنے مؤقف کی صحت پر اس کا اعتماد زیادہ تھا۔ نیچے والا قدرے کم عمر تھا۔ اس کا خیال غالباً یہ تھا کہ آواز کی تندی سے نقطۂ نظر میں وزن پیدا کیا جا سکتا ہے۔ دونوں اپنا اپنا ہنر آزما رہے تھے۔
رات کے اس پہر چھت والے کتے کو بھی کوئی روکنے والا نہیں تھا‘ درآں حالیکہ اس کے گلے میں پٹا موجود تھا۔ اندازہ ہوا کہ پالتو کتوں کو بھی مالک کبھی دانستہ بھونکنے کی آزادی دے دیتے ہیں۔ ایک کتے کے کتھارسس کے لیے شاید یہی بہت ہے کہ اسے بھونکنے کی آزادی میسر رہے۔ اس سے مطلق آزادی کی خواہش مدہم پڑ جاتی ہے۔ رہا گلی والا کتا‘ تو اس کے گلے میں کوئی طوق نہیں تھا۔ اس کو تو کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں تھا۔ خدائی خدمت گار کے طور پر میں نے یہ ذمہ داری اپنے سر لی‘ یہ سوچتے ہوئے کہ اہلِ محلہ کی نیند بھی میری طرح اچاٹ ہو رہی ہو گی۔ میں اسے بھونکنے سے تو نہ روک سکا مگر گلی سے بھگا دیا۔ ایک انسانی کوشش کا یہی حاصل ممکن تھا۔ وہ یہاں سے تو رخصت ہو گیا مگر مسلسل بھونکتا گیا۔ اب اس کی آواز میں زیادہ شدت تھی۔ میرے خلاف غصہ بھی اب اس کے احتجاج میں شامل تھا۔ دوسری گلی میں بھی اس نے اپنا مشغلہ جاری رکھا۔ میں اسے سن سکتا تھا کہ رات کی خاموشی میں آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔ تاہم میری سماعت کے لیے‘ اب اس کی آواز زیادہ گراں نہیں تھی۔
پچھلے کچھ عرصے سے میں محسوس کر رہا ہوں کہ آوارہ کتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ غول کے غول گلیوں میں پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بھونکنے کے لیے انہیں کسی بہانے کی قطعاً حاجت نہیں۔ کوئی معقول وجہ ہو تو الگ بات ہے‘ یہ بلاوجہ ایک دوسرے سے الجھ جاتے اور بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کام کسی جواز کا متقاضی تو نہیں لیکن کتوں کا کلچر بتاتا ہے کہ وہ بلاوجہ نہیں بھونکتے‘ اگر ان کی تہذیب کر دی جائے۔ اگر بولتے ہیں تو بھی بڑی ادا کے ساتھ۔ آوارہ کتوں کا معاملہ البتہ مختلف ہے۔ ایک بغیر کسی سبب کے‘ دوسرے کی ٹانگوں میں جا سر دے گا اور جواباً اپنی تواضع کرائے گا۔ حالی نے قبل از اسلام عرب کا جو منظر کھینچا ہے‘ یہ کتے اس پر پورا اترتے ہیں:
یوں ہی روزہوتی تھی تکرار ان میں
یوں ہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں
میں ان کتوں کو دیکھتا ہوں تو حالی کے ممدوح سر سید کا مضمون ''بحث و تکرار‘‘ یاد آتا ہے۔ بچپن میں پڑھا تھا مگر ذہن پر آج بھی نقش ہے۔ آپ بھی پڑھ لیں۔ آج کے حالات بتاتے ہیں کہ سر سید کی کو شش زیادہ کامیاب نہیں ہوئی۔
یہ آوارہ کتے‘ کیا بلا وجہ بھونکتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہ کسی کے غلام نہیں؟ کیا یہ 'شعوری‘ طور غلامی کی زنجیریں توڑ چکے؟ کیا بھونکنے کی وجہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد ہیں اور انہیں یہ حق حاصل ہے کہ جب چاہیں‘ اور جس پر چاہیں بھونکنے لگیں؟ یورپ کے کتوں کے بارے میں یہ قیاس درست ہو سکتا ہے کہ انسانی نظامِ اقدار سے متاثر ہوں گے۔ وہ تو احتجاج بھی قرینے سے کرتے ہیں۔ مدہم آواز کے ساتھ جیسے موسیقی کے کسی سکول سے تربیت پائی ہو۔ پھر یہ کہ وہاں آوارہ کتے پائے نہیں جاتے یا بہت کم۔ وہاں پالتو کتوں کی تعداد انسانوں کے مساوی ہی گی۔ گھر میں بیوی بچے ہوں نہ ہوں‘ کتا ضرور ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے مقامی کتوں کے حقوق بھی انسانوں کے مساوی ہیں۔ وہاں شام کو مالک چہل قدمی کے لیے نکلتا ہے تو کتا ہم قدم ہوتا ہے مگر خاموشی کے ساتھ۔ کبھی نعرہ لگاتا ہے نہ تقریر کرتا ہے۔ مطلب بھونکتا نہیں۔ حالانکہ وہاں اسے بھونکنے کی مکمل آزادی میسر ہے۔
ہمارے ہاں جمہوریت نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو غالب کی زبان میں 'حنائے پائے خزاں‘ کی طرح۔ لوگ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ بات کہنے کی اجازت نہیں۔ یہاں کے کتے مگر اس سے بے نیاز ہیں کہ انسانوں کے مسائل کیا ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ پابندیاں انسانوں کے لیے ہیں‘ ان کے لیے نہیں۔ اس لیے وہ قانو نی گرفت سے بے خوف ہوتے ہیں اور بے خوف بھونکتے ہیں۔ قانون ان کے سامنے بے بس ہے کہ وہ ان کے لیے بنا ہی نہیں۔ حیوانات کے حقوق کے محافظ ان کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہیں مگر ان کا مخاطب انسان ہیں کہ وہ کتوں کے حقوق پامال نہ کریں۔ اس مطالبے کا کتوں سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔ یوں انہیں حکومت کا کوئی خوف نہیں۔
فیض صاحب کا خیال ہے کہ گلیوں کے آوارہ کتے مظلوم ہو تے ہیں۔ فیض صاحب انسانوں سے نالاں رہے مگر کتوں سے ان کو ہمدردی تھی جن کی دم بھی سوئی ہوئی ہے۔ وہ اگر میری گلی میں رہے ہوتے تو ان کی رائے مختلف ہوتی۔ یہ دم ہلاتے ہیں اور زبان بھی۔ بعید نہیں کہ کاٹنے لگیں۔ اخبار میں کتے کے کاٹنے کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں‘ حالانکہ یہ صحافتی آداب کی خلاف ورزی ہے۔ اہلِ صحافت کا خیال ہے کہ کتا انسان کو کاٹے تو یہ کوئی خبر نہیں‘ خبر یہ ہے کہ انسان نے کتے کو کاٹا۔ کہنا یہ ہے کہ کتے اس ہمدردی کے ہرگز مستحق نہیں جس کا سزاوار‘ فیض صاحب انہیں سمجھتے ہیں۔ معلوم نہیں ان کا پالا کیسے کتوں سے پڑا تھا؟
گلی کا آوارہ کتا رخصت ہوا تو پڑوسی کا پالتو کتا بھی خاموش ہو گیا۔ ممکن ہے وہ اس خیال میں سرشار ہو کہ اس کے استدلال نے اسے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اس کی دلیل نہیں‘ میری ڈانٹ ڈپٹ تھی جس نے اسے نکالا۔ اس کا جوش و خروش تو یہ بتاتا تھا کہ اس کو بھاگتے وقت تک اپنے مؤقف پر اصرار تھا۔ خیر‘ اس کے بھاگنے کی وجہ جو بھی ہو‘ مجھے اس سے کیا‘ کتوں کے باہمی جھگڑے میں مَیں کون ہوتا ہوں فیصلہ سنانے والا! میرے اطمینان کے لیے یہ کافی تھا کہ میری گلی پُرسکون ہو گئی تھی۔ کتوں کا شور قدرے کم ہوا تو میرے اوساں بحال ہوئے اور میں نے معمول کی سرگرمیوں کی طرف لوٹنا چاہا۔
میں نے لیپ ٹاپ کھولا اور حسبِ عادت سوشل میڈیا کا رُخ کیا۔ چند لمحے گزرے تو مجھے لگا کہ یہ شور پھر برپا ہو گیا ہے۔ ایک ساتھ بہت سے کتے بھونک رہے ہیں۔ اس بار یہ آواز قریب سے آ رہی تھی۔ کیا وہ کتا واپس آ گیا ہے؟ کہیں یہ میرے گھر میں تو نہیں گھس آئے؟ میں پریشانی میں کمرے سے باہر نکلا۔ چاروں طرف نظر دوڑائی تو کوئی کتا دکھائی نہ دیا۔ گلی میں جھانکا تو وہاں بھی کوئی کتا نہیں تھا۔ کیا یہ میرا وہم ہے؟ میں نے سوچا۔ اسی سوال کے ساتھ میں اندر کی طرف لوٹا تو شور بڑھ گیا۔ میں نے گھبرا کر پھر باہر کا رُخ کیا۔ شور یہاں بھی میرا پیچھا کر رہا تھا۔ اندر شور باہر شور... آوارہ کتے دکھائی نہیں دے رہے تھے مگر شورتھا جو چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved