تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     17-11-2013

فرقہ وارانہ شوکت کا اظہار؟

محرم الحرام کا چاند طلوع ہوتے ہی پوری قوم کے اعصاب پر دبائو بڑھ جاتا ہے۔اسلامی کیلنڈر کا یہ پہلا مہینہ فاروق اعظم عمرؓ بن خطاب کی شہادت کی خبر لے کر آتا ہے کہ اس کی پہلی تاریخ ہی کو انسانی تاریخ کے اس جلیل القدر حکمران پر اس وقت خنجر سے حملہ کیا گیا جب وہ مسجد نبوی میں نماز فجر کی امامت کررہے تھے۔حملہ آور ابولولو کو گھیر لیا گیا، لیکن اس نے وہی خنجر اپنے سینے میں گھونپ کر خودکشی کرلی۔ اس حملے کو ایک بین الاقوامی سازش سمجھا جاتا ہے کہ حملہ آور فارس سے آیا تھا اور وہاں کے شکست خوردہ عناصر نے اس کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔حضرت عمرؓ، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے جانشین تھے، ان کی شہادت کے چند سال بعد ہی خلافتِ راشدہ کا خاتمہ ہوگیا۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ علی الترتیب خلافت کے منصب پر فائز ہوئے، لیکن اصحابِ رسولؓ نے حکمران کے انتخاب کی جو روایت ڈالی تھی، وہ برقرار نہ رہ سکی۔ حضرت علیؓ کو شام کے صوبیدارکی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، ان کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت حسنؓ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی، لیکن شامی فوج کے ساتھ مقابلے سے گریز کرتے ہوئے دستبرداری اختیار کر لی۔ امیر معاویہؓ کی حکومت مستحکم ہوگئی۔ان کے دور میں مملکت کی حدود بہت وسیع ہو گئیں، ان کی فتوحات اور سیاسی مہارت نے ’’اسلامی سلطنت‘‘ کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اسے مستحکم بھی کیا۔ تاریخ کی گتھیوں کو سلجھانے یا مزید الجھانے کی کسی کوشش میں مبتلا ہوئے بغیر یہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ حضرت حسنؓ کی دستبرداری کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ امیر معاویہؓ کے جانشین کا انتخاب مشاورت سے ہوگا، گویا اسلامی حکومت کو اس کا جوہر لوٹا دیا جائے گا…لیکن بعد ازاں ’’مشاورت‘‘ کی تعبیر اس طرح کی گئی کہ یزید کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کا کام سرکاری اہتمام میں شروع ہوگیا۔اس صورتِ حال کو رسولؐ اللہ کے نواسے حضرت حسینؓ نے قبول کیا نہ صدیق اکبرؓ کے نواسے عبداللہ بن زبیرؓ کے لئے اس پر صاد کرنا ممکن ہوا۔حضرت حسنؓ کو زہر دے کر اس دنیا سے رخصت کیا جا چکا تھا، اس لیے حضرت حسینؓ بارِ قیادت اپنے کاندھوں پر محسوس کرتے تھے۔ کربلا میں جو کچھ ہوا، حضرت حسینؓ اور ان کے مختصر قافلے کو،جس میں زیادہ تر خاندان کے افراد تھے، جس طرح نشانہ بنایا گیا اور انہوں نے جس طرح اپنی جان کی قربانی دی، اس نے مسلمانوں کی تاریخ کو ایک نیا رخ دے دیا۔ان کی شہادت کے بعد صدیق اکبرؓ کے نواسے عبداللہ بن زبیرؓ نے مکہ مکرمہ میں اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’لوگو! خدا کی قسم یہ لوگ(خلافت کے دعویدار) بھروسے کے قابل ہی نہیں۔انہوں نے اس عظیم المرتبت شخص کو قتل کیا جو دن کو روزے رکھتا تھا اور رات کو عبادت کرتا تھا۔جو قرآن خواں اور پاک باز تھا۔جو ہر لحاظ سے ان سے بڑھ کر خلافت کا مستحق تھا۔واللہ حسینؓ، روزے کے مقابلے میں شراب نوشی، خوفِ خدا سے رونے کے مقابلے میں رقص و سرود، قرآن کی ہدایت کے مقابلے میں گمراہی اور ذکرِ حق کے مقابلے میں شکاری کتوں کے تذکرے کو سخت ناپسند کرتے تھے، خدا ان کے دھوکے باز قاتلوں کو سخت سزا دے گا‘‘۔ عبداللہؓ ابن زبیر اس سے پہلے مدینہ سے مکہ پہنچ کر یہاں کے لوگوں سے یزید کو تسلیم نہ کرنے کی بیعت لے چکے تھے، اب ہزاروں افراد ان کے گر دجمع ہو گئے اور کہا کہ اللہ کی قسم حسینؓ کے بعد آپ سے بڑھ کر خلافت کا مستحق کوئی نہیں۔حسینؓ کے قاتلوں سے ہم سخت بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔آپ ہاتھ بڑھایئے، ہم آپ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کریں۔اس طرح عبداللہؓ خلیفہ چن لئے گئے اور کم و بیش بارہ سال انہوں نے سیادت کا فریضہ ادا کیا‘ یہاں تک کہ شامی افواج نے انہیں شکست دی اور ان کی لاش چوراہے پر لٹکا دی گئی۔ان کی والدہ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیٹی اسماءؓ نے اسے دیکھ کر یہ تاریخی فقرہ ادا کیا:’’میرا شہسوار ابھی تک گھوڑے سے نہیں اترا‘‘۔ تاریخ کا یہ کیسا منظر ہے کہ رسول اللہؐ کا گھرانہ اور صدیق اکبرؓ کا گھرانہ ،اسلامی خلافت کو موروثیت کی نذر کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔دونوں کے نواسے جان کی قربانی دے کر مثال قائم کر گئے۔ حضرت حسینؓ کی شہادت کا دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔دنیا میں کبھی، کسی جان دینے والے کا ذکر اس طرح نہیں ہوا اور اس کا خون اس طرح جذبۂ حریت کو فروغ دینے کا سبب نہیں بنا۔خون حسینؓ بالآخر بنوامیہ کی خلافت کے خاتمے کا سبب بنا۔بنو عباس کو عروج اس ہی کی وجہ سے نصیب ہوا اور اس ہی کے انتقام کے نعرے نے انہیں ناقابل تسخیر طاقت فراہم کی، یہ اور بات کہ خلافت کی وہ صورت بحال نہ ہو پائی جو مسلمانوں کے خوابوں میں بس رہی تھی اور آج بھی ان کا اجتماعی ضمیر جس کے حق میں شہادت دیتا ہے۔ خون حسینؓ کسی فرقے کی متاع نہیں ہے کہ اس کے حق میں پہلی توانا آواز تو خانوادئہ صدیق اکبرؓ سے بلند ہوئی تھی۔سانحہ کربلا سے پہلے یا فوراً بعد مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے، لیکن بعد میں معاملات تبدیل ہوتے گئے۔اس مقدس خون کو بھی فرقہ وارانہ شوکت کے اظہار کا ذریعہ بنا لیا گیا۔پاکستان میں اس دن دہشت گردی کا خوف پورے ملک پر مسلط رہا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جان پر بنی رہی، ان کی چوکسی نے دہشت گردوں کے حوصلے تو پست کردیے، لیکن فرقہ وارانہ تنازعات نے کہیں نہ کہیں سر اٹھا لیا۔راولپنڈی میں ایک بڑی واردات ہوگئی، ہلاک اور زخمی ہونے والے یہ سوال چھوڑ گئے کہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے والے دوسروں کے جذبات کو مجروح کیوں کر گزرتے ہیں، اپنے مسلکی تہواروں کو فرقہ بازی اور فرقہ بازوں سے محفوظ رکھنا آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ عالم کہلانے والے اپنے آپ کو بری الذمہ کیسے قرار دے سکتے ہیں!!! (یہ کالم روزنامہ ’’دنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved