دنیا یہ جاننے کیلئے گوش بر آواز تھی کہ وہ باہمت شخصیت کون ہے جسے رواں برس نوبیل امن پرائز کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ نوبیل پرائز کمیٹی کے فیصلے کے مطابق وہ شخصیت وینزویلا کی ماریہ ماشاڈو ہیں۔ آگے چل کر ہم آپ کو اس تفصیل سے آگاہ کریں گے جس کی بنا پر یہ عظیم الشان باوقار تاریخی انعام اس شخصیت کو دیا گیا ہے۔ پہلے آپ کو یہ بتا دیں کہ 58 سالہ ماریہ ماشاڈو 10 دسمبر کو بنفس نفیس اوسلو سٹی ہال میں منعقد ہونے والی نوبیل ایوارڈ کی تاریخی تقریب میں نہیں آ سکیں۔ وینزویلا میں گزشتہ اڑھائی دہائیوں سے اپوزیشن کی جان اور پہچان ماریہ کی جگہ ان کی بیٹی اینے نے یہ انعام اپنی ماں کی نمائندگی کرتے ہوئے وصول کیا۔ اس موقع پر اینے نے اپنی ماں کی برمحل تقریر پیش کی۔آپ کو اس پس منظر سے مختصر آگہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے جس کی بنا پر وینزویلا کی یہ اپوزیشن لیڈر اتنے بڑے اعزاز کی مستحق ٹھہری۔ نوبیل امن پرائز کمیٹی کے صدر نے کہا کہ لاطینی امریکہ میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے حصول کیلئے ایسی جدوجہد کی مثال نہیں ملتی۔ تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے لاطینی امریکہ کے ملکوں میں آمریت اور جمہوریت کے درمیان اکثر آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔ دستور کبھی بنتا اور کبھی ٹوٹتا ہے۔ جمہوریت‘ آزادی اور امن و استقرار کیلئے وینزویلا کے عوام ان دنوں بہت بے قرار ہیں۔
ہم اس ملک کی سیاسی تاریخ سے آپ کے سامنے چند جھلکیاں پیش کریں گے۔ یہاں کی معیشت کا زیادہ تر انحصار تیل کی آمدنی پر ہے۔ فوج سے تعلق رکھنے والے ہوگو شاویز 1999ء سے لے کر 2013ء میں اپنی موت تک وینزویلا کے حاکم رہے۔ انہوں نے آل پاور فل حکمران بننے کیلئے صدارتی نوعیت کا دستور نافذ کر دیا۔ یہ دستوری تبدیلی ہوگو شاویز نے اس لیے کی تاکہ ان کی حاکمیت مضبوط ہو اور وہ اپنی مرضی کے فیصلے کر سکیں۔ تھرڈ ورلڈ کے عمومی کلچر کی مانند وینز ویلا میں بھی حکمران معیشت و سیاست کے استحکام کے بجائے زیادہ زور اپنی مقبولیت بڑھانے پر دیتے ہیں۔ ہوگو شاویز نے 2004ء میں ریگولر الیکشن کرانے کے بجائے ریفرنڈم کروا کے حاکمِ مطلق کا پروانہ حاصل کر لیا۔ 2005ء سے 2013ء تک تیل سے حاصل ہونے والی دولت سے شاویز نے کسی خوشحال معیشت کی بنیاد نہ رکھی۔ شاویز کی طبعی موت کے بعد نکولس ماڈورو نے 2013ء کے الیکشن میں کامیابی حاصل کر لی جبکہ اپوزیشن نے اسے دھاندلی زدہ انتخاب قرار دیا تھا۔ 2014ء میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو سبسڈیز کے سہارے کھڑی معیشت بھی دھڑام سے نیچے آن گری۔ مہنگائی اور بیروزگاری میں بیحد اضافہ ہو گیا۔ ہر طرف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ وینزویلا کے حکمران نے جمہوریت کی روح کے مطابق عوام کی اجتماعی دانش کو اہمیت دینے کے بجائے آمرانہ فیصلوں کو اپنا مرکزی ہدف بنا لیا۔
2017ء کے دوران وینزویلا میں ہونے والے مظاہروں میں بہت شدت آ گئی مگر صدر نکولس نے عوام کے مطالبات پر کان دھرنے کے بجائے ایسے اقدامات کیے کہ جو جمہوریت کی روح کے منافی اور ملکی دستور کے خلاف تھے۔ اپوزیشن لیڈر مسٹر جان نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا مگر اس کے بجائے صدر نکولس ماڈورو نے دستور کو موم کی ناک بنا کر عدلیہ اور انتخابی انتظامات کے ادارے میں ایسی تبدیلیاں کیں کہ جن سے من مانے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ملٹری اور سکیورٹی فورسز پہلے ہی ان کے ساتھ تھیں۔ موصوف آج بھی منصبِ صدارت پر براجمان ہیں۔ وینز ویلا کی تین کروڑ کی آبادی میں سے 70 لاکھ افراد روزگار کی تلاش میں ملک سے ہجرت کر چکے ہیں۔ ثقہ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق کسی ملک کی چوتھائی سے زیادہ آبادی کے اتنے کم عرصے میں ہجرت کر جانے کی ایسی مثال کم ہی ملتی ہے۔وینزویلا میں اشیائے صرف کی قیمتیں اتنی بلند ہیں کہ سفید پوشوں اور ناداروں کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں رہا۔
نوبیل امن پرائز ماریہ ماشاڈو کی شدتِ احساس و جذبات میں ڈوبی تقریر اس کی بیٹی اینے نے 10 دسمبر کو رندھی ہوئی آواز میں پورے جوش میں پیش کی۔ ماریہ ماشاڈو نے لکھا کہ یہ انعام وینزوویلا کے اُن تمام لوگوں کی اذیتوں کے اعتراف کی علامت ہے جو حکمران طبقے کے ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں اور جمہوریت‘ عدل و انصاف کے طالب ہیں اور ان مشکلات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ ماریہ کورینا ماشاڈو گزشتہ بیس‘ بائیس سال سے ایک جرأت مند اپوزیشن لیڈر کی طرح اپنے ہم وطنوں کیلئے بنیادی انسانی حقوق‘ میڈیا اور جلسے جلوسوں کی آزادی‘ انصاف دینے والی عدلیہ اور حقیقی اور سچی جمہوریت کیلئے کوشاں ہے۔ کبھی سول سوسائٹی سے تبادلۂ خیالات کی میٹنگوں کے ذریعے‘ کبھی اپوزیشن کے ساتھ صلاح مشورے کے ذریعے اور کبھی قومی اسمبلی کی اجلاس میں کلمۂ حق بلند کرنے کے توسط سے (وہ 2011ء سے 2014ء تک وینزویلا اسمبلی کی رکن بھی رہیں)۔ 2023ء میں ماریہ ماشاڈو کو اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر انتخابات (2024ء) کیلئے اپنا متفقہ امیدوار نامزد کیا۔ تاہم حکومت نواز الیکٹورل سسٹم نے ماریہ کو نااہل قرار دے دیا اور ان کی جگہ اپوزیشن کے کسی غیرمعروف اور کمزور امیدوار کو اہل قرار دے دیا۔ اس پر اپوزیشن نے سپریم ٹریبونل آف جسٹس‘ جس کے چیف جسٹس کا جھکاؤ صدر نکولس کی طرف تھا‘ کے پاس اپیل کی مگر انہوں نے بھی اسے مسترد کر دیا۔ اس لیے لوگوں کی یہ محبوب امیدوار عملاً الیکشن نہ لڑ سکی۔ ان انتخابات میں وینزویلا کے ووٹروں نے نکولس کو ووٹ نہ دیے مگر وہ بھی پھر بھی جیت گئے۔
اب وینزویلا میں ماریہ ماشاڈو کی جمہوریت کیلئے جدوجہد میں اور بھی تندی و تیزی آتی گئی۔ ادھر نکولس کی حکومت نے اسے جان سے مار دینے تک کی دھمکیاں دیں۔ اس نے ان دھمکیوں کی پروا نہ کی اور وینزویلا کے عوام کو یقین دلایا کہ وہ اپنے لوگوں کو اس عذابِ مسلسل سے نجات دلائے گی۔ ماریہ اپوزیشن رہنماؤں کے مشورے سے عوامی زندگی سے اوجھل ہو کر چھپ چھپا کر زندگی گزارنے لگی۔ اسے حکومت وقت کی طرف سے شدید دھمکیوں کا سامنا تھا۔ وینزویلا کی حکومت کی طرف سے اس کے بیرونِ ملک سفر پر بھی پابندی عائد تھی۔ اگرچہ ان حالات میں نوبیل پرائز کی وصولی کیلئے اس کا وینزویلا سے اوسلو پہنچنا ایک ایسا ناممکن کام تھا جو صرف فلموں میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ بہرحال وہ منگل کو اپنی پناہ گاہ سے باہر آئی۔ پھر انتہائی افسانوی و ڈرامائی انداز میں ایک کشتی کے ذریعے کریبین جزیزے کورا کو پہنچی جہاں سے غالباً کسی پرائیویٹ ہوائی جہاز کے ذریعے بدھ کے روز تو نہیں مگر جمعرات کی صبح کاذب کو وہ اوسلو پہنچ گئی۔ اس دوران ماریہ کی آمد کی خبر اہلِ اوسلو میں پھیل گئی۔ وہاں وینزویلا کی اچھی خاصی کمیونٹی بھی ہے۔ جمعرات کی ٹھٹھرتی ہوئی صبح کو ماریہ نے گرینڈ ہوٹل کی بالکونی میں کھڑے ہو کر بآواز بلند کہا: اوسلو! میں پہنچ گئی ہوں۔
وینزویلا کی ہر دلعزیز لیڈر عوام کیلئے اپنا لکھا ہوا آزادی کا منشور بھی جاری کر چکی ہے۔ اس کے مقدمے میں ماریہ نے لکھا ہے کہ یہ ایک مقدس دستاویز ہے۔ ہم طاقت یا عہدے نہیں‘ صرف اُن حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں جو زمین پر آنے والے ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہم ایک ایسی آزادی کا حق چاہتے ہیں جس کے مطابق عوام اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔
جب نوبیل پرائز وصول کرنے والی اینے ماشاڈو سے پوچھا گیا کہ تمہاری ماں کب وینزویلا واپس جائے گی تو اس نے کہا کہ ماریہ ماشاڈو جلد ہی اپنے عوام کے درمیان ہوں گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved