پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر کے سیاستدانوں کا نیا نظریہ اب یہ ہے کہ میوچل ٹرسٹ اور اشتراکی تعاون سے معاشی ترقی کی منزل تک پہنچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدان چاہتے ہیں کہ ترقی کے ثمرات کی تمام طبقات میں برابر تقسیم کیلئے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین اور ایسی طاقتیں جو براہِ راست پارلیمنٹ میں سیاسی نمائندگی کی مجاز نہیں‘ کو ساتھ ملایا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی چھوٹے صوبوں کی حامی ہے اور قومی اسمبلی میں اس پر اتفاقِ رائے موجود ہے‘ سب جماعتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے‘ پہلے وہ صوبے بنائے جائیں جن پر اتفاقِ رائے ہے۔ پنجاب اسمبلی میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر قرارداد کے ذریعے اتفاقِ رائے کی مثال موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کی قرارداد کا ذکر کرنا بھول گئے مگر یہ باور کرا دیا کی سندھ اسمبلی میں نہ تو کوئی ایسی قرارداد منظور ہوئی ہے اور نہ ہی سندھ میں کراچی یا صوبے کے کسی اور حصے کو صوبہ بنانے پر اتفاقِ رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اختیارت کی نچلی سطح تک منتقلی کی مکمل حمایت کرتی ہے کیونکہ اس سے گورننس عوام کے قریب تر‘ ترقی تیز تر اور بیوروکریسی کی گرفت ڈھیلی پڑتی ہے۔ بلاول بھٹو نے سندھ میں چھوٹے صوبے کیلئے اتفاقِ رائے کی جو شرط عائد کی ہے وہ صوبے پر پیپلز پارٹی کی سیاسی گرفت کے ہوتے ہوئے پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ دنوں ایک بڑی دلیل یہ سامنے آئی ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت جاری قومی مالیاتی ایوارڈ میں صوبوں کو دیا جا رہا حصہ کسی صورت کم نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ کہ وفاق کا مالیاتی بحران اس کی اپنی نااہلی ہے کیونکہ ایف بی آر اور دیگر وفاقی ادارے ٹیکس وصولی میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہونے والے جنرل سیلز ٹیکس آن سروسز کی وصولی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے خیال میں دو قابلِ غور چیزیں سامنے آئی ہیں‘ ایک یہ کہ اتفاقِ رائے تک سندھ میں نیا صوبہ نہیں بن سکتا‘ دوسری یہ کہ سندھ کی صوبائی حکومت کی کارکردگی کا بیرومیٹر سندھ ریونیو اتھارٹی کی جی ایس ٹی آن سروسز کی وصولی ہے۔ اتفاقِ رائے والی بات کا تجزیہ کریں تو موجودہ سندھ اسمبلی میں کی کل 168نشستوں میں سے پیپلز پارٹی کی 117سیٹوں کے باعث اسے دو تہائی اکثریت سے بھی پانچ نشستیں زیادہ حاصل ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی اور دیگر قائدین کراچی کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن سندھ اسمبلی میں 37نشستوں کے ساتھ وہ کسی قرارداد کی منظوری کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ تاہم بلاول کے دوسرے مؤقف یعنی سندھ ریونیو بورڈ کی کارکردگی کی تہہ میں جائیں تو کراچی صوبے کی ٹھوس راہ نکلتی نظر آتی ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل مردم شماری کے تسلیم شدہ اعداد و شمار 2023ء کے ہیں‘ اس لیے سندھ میں جی ایس ٹی آن سروسز کی مالی سال 2023-24ء کی وصولی کو بنیاد بنا کر کیس سٹڈی کرتے ہیں۔ سندھ حکومت کی سرکاری دستاویز کے مطابق اس سال جی ایس ٹی آن سروسز کی مد میں 237 ارب روپے وصول کیے گئے (رواں مالی سال میں یہ ہدف 380 ارب روپے ہے) اور 2023-24ء کی مجموعی وصولی میں سے 14.2 فیصد پورٹس پر فراہم کی جارہی سروسز یعنی کراچی سے وصول کیا گیا۔ 9.1 فیصدموبائل فون سمیت ٹیلی کمیونیکشن کی 67 سروسز سے وصول کیا گیا۔ کسی شک کے بغیر کہا جا سکتا ہے کہ یہ سروسز استعمال کے لحاظ سے کم از کم 70 فیصد کراچی ڈویژن میں استعمال ہوتی ہیں۔ تیسرے نمبر پر جی ایس ٹی آن سروسز کی وصولی کا ذریعہ بینک ہیں جن کے صدر دفاتر بھی کراچی میں ہیں۔ انشورنس اور فرنچائزڈ سروسز کا حصہ 10.9 فیصد ہے اور یہ معاملہ بھی کراچی کے گرد گھومتا ہے اور آخر میں آئی ٹی کنسلٹنسی سروسز اور کنٹریکٹس سروسز کا شیئر 6.6 فیصد کا 80‘ 90 فیصد بھی کراچی ہی سے وصول ہوتا ہے۔ ان تمام سروسز کو شامل کر لیں تو بلاول بھٹو زرداری جس صوبائی ٹیکس وصولی کو سندھ کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اس میں کراچی کا حصہ 45.5 فیصد ہے۔ موجودہ مالی سال کے ٹیکس وصولی کے ہدف کو مدنظر رکھیں توکراچی سے وصولی 160 سے 179 ارب روپے تک ہے جو کراچی کے الگ صوبہ بننے پر اُسی کو ملے گی۔ کراچی میں صوبائی سطح پر ٹیکس وصولی کے دیگر کئی ذرائع ہیں لیکن اس وقت ٹیکس وصولیوں کا مجموعی تخمینہ پیش نظر نہیں ہے‘ لیکن شاید ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے علاوہ کراچی کی دیگر سیاسی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کیلئے یہ اعداد و شمار مستقبل میں بلاول بھٹو کے ''انکلیوسیو گروتھ‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے کام آسکیں۔
اب آگے چلتے ہیں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے تقسیمی فارمولے کی طرف‘ تو اس وقت لاگو ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابل تقسیم محاصل کا 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوتا ہے جبکہ 18 فیصد پسماندگی‘ ٹیکس وصولیوں (اس مد میں بھی کراچی بڑا شیئر ہولڈر ہے) اور آبادی کے جغرافیائی پھیلاؤ پر بانٹا جاتا ہے۔ رواں مالی سال میں سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت مجموعی طور پر وفاق سے 1927ارب روپے ملنے کا تخمینہ خود سندھ حکومت نے لگایا ہے جس میں صرف کراچی کو فوکس کریں تو 2023ء کی مردم شماری کے مطابق شہری علاقوں پر مشتمل پورے ڈویژن کی آبادی دو کروڑ تین لاکھ 82 ہزار881 نفوس پر مشتمل ہے اور یہ پورے سندھ کی آبادی کا 36.60 فیصد بنتا ہے۔ اگر کراچی صوبہ ہوتا تو اسے لاگو فارمولے کے مطابق وفاق سے براہِ راست کم از کم 730 ارب روپے (بشمول ٹیکس وصولی پیمانہ‘معیار) ملتے۔ اب دیکھتے ہیں کہ اگر کراچی کو اتنی بڑی رقم وفاق سے مل رہی ہوتی تو اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کیلئے قابل تقسیم محاصل کی جزئیات تک جانا ہو گا۔ سندھ کو سال رواں میں مل رہے 1927 ارب روپے میں سے انکم ٹیکس کی مد میں شیئر 932 ارب روپے ہے۔ اس مد کے بڑے حصے کو‘ کراچی میں کارپوریٹ سیکٹر کے مرکز اور سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کی غالب اکثریت کے باعث‘ اسی شہر کی بدولت کہنا غلط نہ ہو گا‘ کیونکہ اندرون سندھ میں بہت کم آبادی اس قابل ہے کہ وہ انکم ٹیکس ادائیگی کی بریکٹ میں آتی ہے۔ دوسری مد سیلز ٹیکس ہے (ماسوائے سروسز جو صوبہ وصول کرتا ہے)‘ کا شیئر 656 ارب روپے ہے اور اس کا بڑا حصہ درآمدی مال پر عائد امپورٹ سٹیج سیلز ٹیکس ہے جو کراچی کی بندرگاہ پر ہی وصول کیا جاتا ہے۔ تیسرا بڑا حصہ 215 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں سندھ کو ملتے ہیں اور یہ ڈیوٹی بھی کراچی پورٹ پر ہی وصول کی جاتی ہے۔
اب چلتے ہیں حیدر آباد ڈویژن سمیت اندرون سندھ کی طرف تو وہاں سے نکل رہی گیس کی مد میں وفاق فیڈرل ایکسائز نیٹ کی مد میں 122 ارب اور گیس پر رائلٹی کی مد میں 66 ارب سندھ کو دے گا۔ اس کے علاوہ گیس ڈویلپمنٹ سرچارج‘ ایکسائز ڈیوٹی اور خام تیل پر رائلٹی کی مدات میں 50 ارب کا حصہ ہے۔ اندرون سندھ کا خالصتاً وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں سٹریٹ ٹرانسفرز کی شکل میں 238 ارب روپے ہیں۔ کراچی کے صوبہ بننے کی صورت میں کم از کم 1200 ارب روپے موجودہ سندھ حکومت کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اور صرف دیہی سندھ میں زرعی انکم ٹیکس وصولی کی راہ ہی باقی بچے گی۔ آخری قابلِ تصدیق اطلاع تک صدرِ مملکت آصف علی زرداری پورے پاکستان میں سب سے زیادہ زرعی انکم ٹیکس دینے والے زمیندار ہیں۔ گو کہ یار محمد رِند زرعی انکم ٹیکس ادائیگی کے ریکارڈ پر نمبر ون نظر آتے ہیں تاہم اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی زمینیں ان کے قبیلے کی مجموعی ملکیت ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved