تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     01-01-2026

نئی صدی کی نئی چوتھائی

آج صرف نئے سال کا پہلا دن نہیں‘ صدی کی دوسری چوتھائی کا بھی پہلا دن ہے۔
نئی صدی کے 25 برس گزر گئے‘ پہلی چوتھائی ختم ہو گئی۔ دوسری چوتھائی شروع ہو رہی ہے۔ یہ ختم ہو گی تو نصف صدی گزر چکی ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم صدی کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں؟ یا جہاں تھے وہیں کھڑے ہیں؟ یا جہاں تھے وہاں سے بھی پیچھے چلے گئے؟
80 سال گزر چکے جب لندن پر ہر رات بمباری ہوتی تھی۔ کوئی رات ایسی نہ تھی جب آگ اور لوہا نہ برسا ہو۔ موسمِ سرما اسی طرح کٹا۔ پھر خزاں آئی اور چلی گئی۔ بمباری جاری رہی۔ ایک روایت کی رُو سے 70 ہزار عمارتوں کی اینٹ سے اینٹ بجی۔ 42 ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہو گئے۔ قیامت سی قیامت تھی۔ آٹھ مہینے جرمن جہاز برطانوی فضاؤں میں دندناتے رہے۔ فرانس پہلے ہی کھیت ہو چکا تھا۔ اس عالم میں جب یاس چادر کی طرح انگریزی آسمان پر تن چکی تھی‘ دل ڈوب رہے تھے اور امید کے دیے تیز ہواؤں کے سامنے لرز رہے تھے‘ وزیراعظم چرچل نے پوچھا ''کیا برطانیہ کی عدالتیں کام کر رہی ہیں؟‘‘ اسے بتایا گیا کہ ہاں! عدالتیں کام کر رہی ہیں! چرچل نے کہا ''خدا کا شکر ہے! اگر عدالتیں انصاف بانٹ رہی ہیں تو کسی چیز کا ڈر نہیں!‘‘۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر عدالتیں انصاف نہیں دے رہیں تو تباہی یقینی ہے۔ گویا کسی قوم کی تباہی اور سلامتی کا انحصار عدالتوں کے انصاف کرنے یا نہ کرنے پر ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلامﷺ نے واضح کیا تھا جب فرما دیا تھا کہ تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں کہ جب ان کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی۔ تعجب ہے کہ جو نکتہ چرچل نے 80 سال پہلے سمجھ لیا تھا‘ ہم آج تک نہیں سمجھ پائے! کیا ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں؟ یہ ارسلان کون تھا؟ اور یہ ابوذر کون ہے؟ یہ مجید اچکزئی کون تھا؟ یہ شاہ رخ جتوئی کون ہے؟ جس بڑے افسر نے پاکستانیوں کے قتل کا بدلہ لینا تھا وہ پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو بچانے کیلئے کورٹ روم میں بیٹھا لمحہ لمحہ کی رپورٹ کہیں اور بھیج رہا تھا۔ بے شمار واقعات ہیں جن کا ذکر کر کر کے لوگ تھک چکے۔ صفحوں کے صفحے کالے ہو چکے! کیا ہماری اعلیٰ عدلیہ ان ناموں سے واقف نہیں؟ قاضی کے بیٹے کو بچانے کیلئے جب دباؤ ڈالا گیا تو دوسرے قاضی حضرات‘ بشمول قاضی القضاۃ‘ خاموش رہے۔ آج تک خاموش ہیں! جب یہ طے ہو گیا کہ عدالتیں انصاف نہیں دے رہیں‘ جب یہ طے ہو گیا کہ بڑے لوگوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور کمزوروں کو سزا دی جاتی ہے تو تباہی یقینی ہے۔
نئی صدی کے 25 برس گزر گئے‘ ہم جھگڑوں‘ تنازعوں اور سیاسی پولرائزیشن سے نہ نکل سکے۔ یوں لگتا ہے جمہوریت ہمیں کل رات ہی ملی ہے اور ہم اس کی الف بے تک سے ناواقف ہیں! لیڈروں کا چلن دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ پہلی دوسری جماعت کے بچے ہیں جو کُٹی کرنے کے علاوہ کسی سماجی قدر سے آگاہ نہیں! ایک صوبے کا حکمران‘ حکمران سے زیادہ پہلوان لگتا ہے جو جسم پر تیل مل کر‘ لنگوٹ کس کر‘ حریفوں کو للکار رہا ہے۔ دوسرے صوبے کی حکمران اتنی ذہنی پختگی بھی نہیں دکھاتی کہ صوبے میں آئے ہوئے مہمان حکمران کو چائے کی پیالی ہی پیش کر دے‘ اسے خوش آمدید ہی کہہ دے۔ میزبانی ایسی میٹھی تلوار ہے جو بڑے بڑے دشمنوں کو گھائل کر دیتی ہے مگر عقل کی بات حکمرانوں کو سمجھائے کون! ان کے ارد گرد تو چاپلوس‘ موقع پرست اور ابن الوقت خوشامدی بیٹھے ہیں! یہ بے استادے حکمران! انہیں کوئی ارسطو میسر ہے نہ کوئی نظام الدین طوسی! ان کے پاس کوئی مان سنگھ ہے نہ ٹوڈر مل! کوئی ابوالفضل نہ فیضی نہ کوئی بیرم خان! عقل‘ جہانبانی سے مکمل بے بہرہ! حکمت اور تدبر سے ناواقف! بس ایک ہی فن کا پتا ہے۔ دے مار تے ساڑھے چار! پَے جاؤ! ٹکر مارو! اگلے کو شاروں شانے چت کرو! دشمنی نسلوں تک چلے! اکڑ! کرختگی! غرور! طاقت کا زعم! عجز و انکسار سے‘ شائستگی سے دور کا بھی واسطہ نہیں! خانہ خرابی ہی خانہ خرابی!!
نئی صدی کی پہلی چوتھائی بھی گزر گئی مگر ہمارے حکمران جمہوریت سے اتنے ہی دور ہیں جتنے دہلی کے سلاطین اور مغل بادشاہ دور تھے! غور کیجیے!! کیا ان بادشاہوں کے مشیر منتخب شدہ تھے؟ نہیں! کیا ہمارے حکمرانوں کے مشیر منتخب شدہ ہیں؟ نہیں! جو انتخابات جیت کر آئے ہیں وہ ان کے سامنے بے بس ہیں جن کا عوام سے دور کا تعلق بھی نہیں! اس لیے کہ حکمرانوں کو ہاں میں ہاں ملانے والے چاہئیں! پارلیمنٹ ربڑ کی مہر کے علاوہ کچھ نہیں! جتنے اہم امور ہیں وہ پارلیمنٹ سے باہر طے ہوتے ہیں۔ بیوی نے کہا تھا جتنے ''چھوٹے چھوٹے‘‘ مسئلے ہیں جیسے بچوں کی شادیاں کہاں کرنی ہیں‘ کس رشتہ دار کو گھر بلانا ہے‘ کس سے قطع تعلق کرنا ہے وہ میں طے کرتی ہوں! میاں صرف ''بڑے بڑے‘‘ قضیوں میں پڑتے ہیں جیسے روس یوکرین کی جنگ‘ عرب اسرائیل تعلقات وغیرہ! تو تمام ''چھوٹے چھوٹے‘‘ ایشو پارلیمنٹ سے باہر طے ہوتے ہیں جیسے خارجہ امور! جیسے ملک کے بین الاقوامی تعلقات! جیسے قومی ایئر لائن کی فروخت! جیسے امریکہ کے دورے! رہے ''بڑے بڑے‘‘ مسئلے جیسے مخالف کی دھجیاں اڑانا‘ دستاویزات پھاڑنا وغیرہ تو یہ سب پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے!
ایک اور صدی! ایک اور صدی کی پہلی چوتھائی! ہم وہیں ہیں جہاں تھے۔ سر سید احمد خان کی تصنیف ''مسافرانِ لندن‘‘ پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ یورپ سے واپسی پر جو حالت انہوں نے محسوس کی‘ آج بھی وہی ہے۔ اس سے بدتر ہے۔ ٹریفک دیکھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم جنگلی ہیں۔ قانون شکنی سے لذت کشید کرتے ہیں۔ موسیقی کے پروگراموں میں خواتین کی نشستوں پر قبضہ کر لیتے ہیں! سیاسی جلسوں میں روٹی نہیں کھلتی‘ روٹی پر عوام کھلتے ہیں۔ شاید دو برس پہلے کی بات ہے۔ فیصل آباد میں انجینئروں کی تقریب تھی۔ کھانا ''کھانے‘‘ کا جو منظر تھا اور وڈیو جس کی وائرل ہوئی‘ دیکھ کر زمین میں گڑ جانے کو دل چاہا۔ یہ پڑھے لکھے جوان‘ یہ ملک کی کریم‘ کھانا ڈالنے کیلئے چمچہ نہیں استعمال کر رہے تھے بلکہ پلیٹ کو ڈش میں غوطہ دے کر اسے پلاؤ سے بھر رہے تھے۔ نئی صدی کی نئی چوتھائی میں کسی نے ہماری تہذیب دیکھنی ہو تو شادیوں پر ہمارے کھانا کھانے کا منظر دیکھے‘ ہمارے باتھ روم دیکھے۔ ہماری ٹریفک دیکھے‘ بسوں اور ٹرینوں کے ڈبوں میں ٹیلی فون پر چیخ چیخ کر ہمارا بولنا دیکھے۔ ہمارے سیاستدانوں کا راتوں رات پارٹیاں بدلنا دیکھے۔ ہم ہائبرڈ نظامِ حکومت کا رونا رو رہے ہیں مگر اس بات پر غور نہیں کرتے کہ سیاستدان خود غیرسیاسی قوتوں کی دہلیز پر ماتھے رگڑتے ہیں۔ ہر آمر کو سیاستدانوں نے سہارا دیا۔ ضیا کی نام نہاد شوریٰ کو ناکام کرنے کے بجائے جوق در جوق اس میں داخل ہوئے۔ پرویز مشرف کو جمہوری چہرے کی ضرورت پڑی تو تعاون کرنے سے انکار کر دیتے نا! مگر نہیں! جمالی صاحب سے لے کر گجرات کے چودھریوں تک سب آمر کے دست و بازو بن گئے اور یہاں تک کہا کہ وردی میں دس بار منتخب کرائیں گے!! خود دعوت دیں گے تو کسی کا دماغ خراب ہے کہ تخت پر بیٹھنے سے انکار کر دے؟
نئی صدی کی نئی چوتھائی ہے۔ ہم وہی ہیں جو تھے۔ ہم وہی رہیں گے جو ہیں! زمین جنبد نہ جنبد گُل محمد!!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved