پی آئی اے کو مزید حکومتِ پاکستان کی ملکیت میں رکھنا ایسا ہی تھا جیسا کسی پھنڈر بھینس کو دروازے پر باندھے رکھنا۔ ایسی بھینس جو نہ صرف دودھ دینے اور بچے پیدا کرنے سے فارغ ہو چکی ہو بلکہ روزانہ دو من چارہ بھی کھاتی ہو۔ آپ نے اس کے چارے کی مد میں مارکیٹ کے ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھی دینے ہوں اور بھینس سے کل آمدنی محض اس کے گوبر کی صورت میں روزانہ چار چھ روپے اور صرف چارے اور نوکر کی مد میں روزانہ کا خرچہ ہزار روپے بن رہا ہو تو بھلا ایسی بھینس کو دروازے پر باندھے رکھنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ دوسری بات یہ کہ اس پھنڈر بھینس کی قیمت منڈی میں فروخت ہونے والی ''پنج کلیان لویری‘‘ بھینس کے برابر تصور کر کے فروخت کرنے کی خواہش سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں دیگر ملکوں اور ایئر لائنز کیلئے مثال بننے والی اور دوسری کامیاب ایئر لائنز کی بنیاد رکھنے والی پی آئی اے کو دوبارہ فعال اور بحال کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اس کا جواب ہے کہ ملکی اداروں کا ڈھانچہ‘ حکومتوں کے اپنے معاملات‘ سیاسی دخل اندازی‘ سفارشی کلچر اور ہر چیز میں سے ذاتی پیدا گیری کا سرکاری افسروں کا چسکا اب ناقابلِ اصلاح ہو چکا ہے اور اسے درست کرنا کم از کم موجودہ حالات میں تو ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ ادارے کا جمع شدہ نقصان‘ فی جہاز عملے کی ناقابلِ تصور تعداد‘ موجودہ ملازمین کا غیر پیشہ ور رویہ اور حکومت کی اپنی سیاسی اور انتظامی مجبوریوں کے درمیان پی آئی اے کی بحالی اور اس کی عظمت رفتہ کی واپسی خواب تو ہو سکتا ہے مگر اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ اوپر سے اسمبلی میں غلام سرور خان کا بیان! میں نے دنیا بھر کی ہوائی کمپنیوں کیساتھ ساتھ پی آئی اے میں بھی لاتعداد بار سفر کیا ہے۔ پی آئی اے کی کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جس کا تقابل موجودہ دور میں چلنے والی دوسری ایئر لائنز بشمول جہازوں ‘ سفری میزبانوں‘ جہاز کے اندر سہولتوں‘ عملے کے رویے اور ٹکٹ کائونٹر سے لے کر بورڈنگ گیٹ تک‘ سامان چڑھانے سے لیکر واپس اتارنے تک‘ کھانے کے معیار سے لے کر لائونج کی حالت تک اور مسافروں سے ڈیلنگ سے لے کر کام کرنے کی استعداد تک کسی ایک بھی معاملے میں کیا جا سکے۔ ہر چیز میں اتنی ابتری‘ اتنا زوال اور اتنی خرابی پیدا ہو چکی ہے کہ اس کو ٹھیک کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا کہ سارے جہاز نئے خریدے جائیں اور سارے کا سارا عملہ نئے سرے سے میرٹ پر بھرتی کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی بات اس لیے پوری نہیں ہو سکتی تھی کہ نئے جہاز تو رہے ایک طرف پرانے جہازوں کی مرمت اور لیز کی ادائیگی کیلئے بھی پیسے نہیں ہیں اور رہ گئی دوسری بات تو مملکت خداداد میں میرٹ پر بھرتی کا امکان نئے جہازوں کی خریداری سے بھی زیادہ ناممکنات میں ہے۔
ایک اطلاع کے مطابق پی آئی اے کا مجموعی خسارہ اکتوبر 2023ء تک 713ارب روپے کے لگ بھگ تھا۔ روزانہ کا نقصان ایک محتاط اندازے کے مطابق 50کروڑ روپے کے لگ بھگ۔ اب ایسے ادارے کو کب تک سر پر بٹھایا جا سکتا ہے۔ روزانہ کا نقصان قابو میں نہ آ رہا ہو اور آئندہ اس میں بہتری کا امکان بھی دور دور تک دکھائی نہ دے رہا ہو تو ایسے بوجھ کو سوائے سر سے اتارنے کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ ہاں! البتہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے فروخت کیسے کیا جاتا۔ اب 135ارب روپے میں جس فروخت کی دھومیں مچائی جا رہی ہیں وہ دراصل محض دس ارب روپے ہے۔ ایک وزیر باتدبیر نے فرمایا کہ لوگ غلط کہہ رہے ہیں‘ پی آئی اے کی فروخت سے حکومت کو دس ارب روپے نہیں بلکہ پچاس ارب روپے بچے ہیں۔ میری کیا مجال کہ کسی معزز وزیر کی بات کو غلط کہوں یا ان کے دعوے کو رد کروں لیکن میں کیا کروں‘ خود پی آئی اے کے نئے خریدار عارف حبیب نے بتایا کہ انہوں نے پی آئی اے کے 75فیصد حصص مبلغ 135 ارب روپے میں خریدے ہیں وہ بولی کا 92 فیصد یعنی 125ارب روپے براہِ راست اس کی بحالی اور بہتری کیلئے اگلے کئی سال میں خرچ کریں گے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں وہ فی الوقت صرف دس ارب روپے دے کر اس کا قبضہ لے لیں گے اور اگلے کئی سالوں میں (یہ ابھی طے نہیں کہ یہ کئی سال کتنے لمبے ہوں گے) پی آئی اے سے منافع کما کر اس پر لگا دیں گے۔ یعنی وہ اپنے نفع کو اپنے ہی ادارے پر خرچ کرکے اپنے ہی کاروبار کو مزید وسعت دینے اور اپنے اثاثے بڑھانے کو پی آئی اے کی ادائیگی کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔
میں نے کہا تھا کہ ہمیں تو اپنے اثاثے اور جائیدادیں بھی فروخت کرنی نہیں آتیں۔ میں ایک خوش گمان آدمی ہوں اس لیے یہ تصور کر رہا ہوں کہ یہ صرف ہماری نالائقی اور نااہلی ہو گی۔ اس میں بے ایمانی کا کوئی دخل نہیں ہوگا لیکن نااہلی اور نالائقی کیا قابلِ قبول ہیں؟ ہم سے تو کابلی پٹھان زیادہ سمجھدار ہیں جو چوری کی گاڑی کو سالم فروخت کرنے کے بجائے اس کو کھول کر سپیئر پارٹس کی صورت میں بھیج دیتے ہیں۔ چوری کی گاڑی اور گھاٹے کے کاروبار کو مناسب قیمت پر بیچنا خاصا مشکل کام ہے اس لیے یار لوگ چوری کی گاڑی کو کھول کر‘ پرزوں اور سپیئر پارٹس میں تبدیل کرکے پرچون میں بیچ کر نئی گاڑی جتنے پیسے نکال لیتے ہیں۔ کیا مناسب نہ تھا کہ ہم اس کے لیز والے جہاز اصل کمپنی کو‘ اپنی ملکیت والے جہاز مارکیٹ میں‘ دفاتر‘ اثاثے‘ ہوٹل اور دیگر ملکیتی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد و اشیا کو بذریعہ اوپن بولی بیچ دیتے اور پی آئی اے کا نام بالکل اسی طرح علیحدہ فروخت کر دیتے جس طرح محکمہ ایکسائز والے گاڑیوں کے گولڈن نمبر بذریعہ نیلامی فروخت کرتے ہیں۔ مجھے قانونی معاملات کا تو علم نہیں لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میرے ایک مرحوم دوست نے‘ جو واپس پاکستان شفٹ ہونا چاہ رہا تھا‘ شکاگو میں ریاست کی طرف سے جاری کردہ پیلی ٹیکسی کی نمبر پلیٹ جسے Medallion کہتے ہیں‘ اٹھارہ ہزار ڈالر میں اور گاڑی علیحدہ قیمت لگا کر فروخت کی۔ گاڑی بمشکل آٹھ ہزار ڈالر میں جبکہ میڈلین اس سے دو گنا سے بھی زائد قیمت میں فروخت ہو گیا۔ پی آئی اے کا نام‘ گڈ وِل‘ لائسنس اور دیگر Qualitative اشیا مع Intellectual Properties علیحدہ فروخت کی جا سکتی تھیں۔ جو پارٹی یہ نام‘ گڈ وِل‘ روٹس‘ لائسنس اور دیگر اشیا خریدتی خود ہی جہاز لیتی اور اپنی ایئر لائن چلاتی۔ پی آئی اے کا نام بھی باقی رہتا اور چار پیسے بھی مل جاتے تاہم ممکن ہے کہ یہ میرا خیال ہو اور ایسا ممکن نہ ہو۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ عاجز حالانکہ کسی مناسب پراپرٹی ڈیلر کا دوست بھی نہیں ہے مگر یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہے کہ صرف ملتان میں ابدالی روڈ پر واقع پی آئی اے کا دفتر ہی ایک ارب روپے سے زیادہ میں فروخت کیا جا سکتا تھا۔
ہاں! البتہ اگر موجودہ خریدار 135ارب روپے میں سے 125ارب روپے اپنی ہی خرید کردہ ایئر لائن میں صرف کرنے کے بجائے پی آئی اے ہولڈنگ نامی بنائی گئی کمپنی کو ٹرانسفر ہونے والے قرضے اور خسارے والے 650ارب روپے کی ادائیگی میں خرچ کرتا تو شاید کچھ بات بن جاتی۔ 135 ارب روپے میں ہونے والی خریداری میں سے 125ارب روپے حکومت کی جیب میں جانے کے بجائے خود عارف حبیب کی اپنی ہی کمپنی (پی آئی اے) میں خرچ کرنے سے ملک ریاض والے 190 ملین پائونڈ والے کیس کی یاد تازہ ہو گئی۔ یہ ڈیل بھی ویسی ہے جیسے برطانوی حکومت نے ناجائز اثاثوں کی مد میں ملک ریاض کے ضبط کردہ 190 ملین پاؤنڈ حکومت پاکستان کو بھیجے اور خان صاحب نے کابینہ سے بند لفافے پر منظوری لے کر یہ رقم بحریہ ٹاؤن پر سپریم کورٹ کے عائد کردہ جرمانے کی مد میں سرکاری خزانے میں جمع کروا دی۔ میرے خیال میں اُس 190ملین پاؤنڈ اور اس 125ارب کو دوبارہ اپنی ہی ملکیت پر خرچ کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ یہ میرا خیال ہے اور خیال کا گھوڑا کسی کے قابو میں تھوڑا ہوتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved