آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو دسمبر کا آخری دن ہے۔ جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو نیا مہینہ ہی نہیں نیا سال بھی شروع ہو چکا ہو گا۔ ہم نئے سال کی خوشیاں مناتے ہیں حالانکہ جب نیا سال شروع ہوتا ہے تو ہماری زندگی سے ایک سال کم ہو چکا ہوتا ہے۔
دسمبر میں ایک کام اور بھی ہوتا ہے‘ یہ کہ ہم گزشتہ برس طے کیے گئے اپنے منصوبوں اور عزائم کا جائزہ لیتے اور نئے شروع ہونے والے سال کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ گزشتہ برس میں میری کتنی امیدیں پوری ہوئیں اور حالات و واقعات توقعات پر کتنے پورا اترے‘ اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اس گولے یعنی زمین پر کیا کچھ ہوتا رہا اور اس نئے سال میں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔
پاکستان سے شروع کرتے ہیں۔ پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کو بنیاد بنا کر بھارت نے پاکستان کے خلاف جس جارحیت کا ارتکاب کیا‘ ہماری طرف سے اس کا بھارت کے خدشات اور اندیشوں سے کہیں بڑھ کر جواب دیا گیا۔ پاکستان نے آپریشن بنیانٌ مرصوص کے تحت جموں‘ ادھم پور اور پٹھان کوٹ میں واقع بھارتی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور بھارتی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ رافیل سمیت بھارتی فضائیہ کے چھ جنگی طیارے مار گرائے۔ اگرچہ بھارت مسلسل ان طیاروں کی تباہی کی تصدیق سے انکاری رہا لیکن امریکی صدر ٹرمپ متعدد بار اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ بھارت کے جنگی طیارے تباہ ہوئے تھے۔ پاکستان سے جنگ میں بھارت کا کم ازکم تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ ہمارا مالی نقصان برائے نام تھا‘ البتہ کچھ جانی نقصان ضرور ہوا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارت نے پاکستان کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا جبکہ جوابی طور پر پاکستان نے بھارت کی صرف دفاعی اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
غزہ کی بات کریں تو کچھ عالمی لیڈروں کے تئیں جنگ بندی ہو چکی ہے اور وہاں معاملات کو معمول پر لانے کے لیے ایک منصوبے پر عمل درآمد بھی جاری ہے لیکن مشاہدے میں یہ آ رہا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر گولا باری کا سلسلہ تاحال جاری ہے جبکہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے بارے میں بات چیت میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 30 ہزار سے زیادہ خواتین اور بچے شامل ہیں۔ ادھر سوڈان میں دو فوجی گروہوں کے مابین خوفناک خانہ جنگی جاری ہے۔ پچھلے چند برسوں میں وہاں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
یوکرین اور روس کے مابین جاری جنگ بھی پچھلا پورا سال چلتی رہی۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ جنگ بند کرانے کی بارہا کوشش کی لیکن اب تک وہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ یوکرین میں اس جنگ کی وجہ سے اب تک 14 ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2025ء میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ میں بھی جنگ لڑی گئی۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع کی جڑیں ان کی 800 کلومیٹر طویل سرحد پر واقع متنازع علاقوں میں پیوست ہیں‘ جہاں قدیم مندروں کی ملکیت اور نوآبادیاتی دور کی سرحدی حد بندیاں طویل عرصے سے اختلافات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے مابین ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے جبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادھر تائیوان کے معاملے کو لے کر چین‘ امریکہ اور جاپان میں اختلافات بڑھ گئے ہیں۔ چین نے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے والی 20 امریکی دفاعی کمپنیوں اور 10 افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں اور پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کے چین میں موجود تمام اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔
جنگیں نہ صرف عدم تحفظ کا احساس اجاگر کرتی ہیں بلکہ معیشت اور معاشرت پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ اموات کا باعث بنتی ہیں‘ یتیموں کو جنم دیتی ہیں اور یتیمی آگے بہت سے معاشرتی المیوں کو جنم دیتی ہے۔ ایسے جنگوں والے سال کو کیسے ایک اچھا سال قرار دیا جا سکتا ہے جس میں پوری انسانیت ہل کر رہ گئی ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ نیا سال جنگوں‘ اموات اور یتیموں کی تعداد کم کرنے کا سبب بنے اور امن لائے کیونکہ امن خوشحالی لاتا ہے‘ ترقی اور استحکام کا سبب بنتا ہے۔
آخر میں ساحر لدھیانوی کی یہ نظم نئے سال کے امن کے تقاضوں کے نام:
اے شریف انسانو!
خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر
بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لیے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
برتری کے ثبوت کی خاطر
خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے
گھر کی تاریکیاں مٹانے کو
گھر جلانا ہی کیا ضروری ہے
جنگ کے اور بھی تو میداں ہیں
صرف میدانِ کشت و خوں ہی نہیں
حاصلِ زندگی خرد بھی ہے
حاصلِ زندگی جنوں ہی نہیں
آؤ اس تیرہ بخت دنیا میں
فکر کی روشنی کو عام کریں
امن کو جن سے تقویت پہنچے
ایسی جنگوں کا اہتمام کریں
جنگ افلاس اور غلامی سے
امن بہتر نظام کی خاطر
جنگ بھٹکی ہوئی قیادت سے
امن بے بس عوام کی خاطر
جنگ سرمائے کے تسلط سے
امن جمہور کی خوشی کے لیے
جنگ جنگوں کے فلسفے کے خلاف
امن پُرامن زندگی کے لیے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved