تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     01-01-2026

بیرونی سرمایہ کاری اور ملکی معیشت

انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے پاکستان میں 33ارب 60کروڑ روپے کی اپنی پہلی مقامی کرنسی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ آئی ایف سی ورلڈ بینک کا ایک ادارہ ہے جو نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ نان فنڈڈ جزوی کریڈٹ گارنٹی ہے۔ یہ سرمایہ کاری زرعی شعبے میں کی جا رہی ہے‘ جو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ تقریباً 23 فیصد ہے جبکہ تقریباً 40 فیصد سے زائد افرادی قوت کا روزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ دیہی علاقوں میں تقریباً 65 فیصد افراد کی زندگی کا دارو مدار زراعت پر ہے۔ پاکستان میں زرعی سرمایہ کاری عوام‘ حکومت اور سرمایہ کاروں کیلئے سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے عموماً پاکستان میں ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے منافع ڈالر کی شکل میں بیرونِ ملک منتقل ہوتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آتا ہے۔ روپے میں سرمایہ کاری اس روایت سے ہٹ کر ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے‘ کیونکہ اس میں کرنسی رسک خود سرمایہ کار برداشت کرتا ہے۔ روپے میں سرمایہ کاری کی ایک وجہ روپے کی قدر میں استحکام ہو سکتی ہے۔ تقریباً تین برس سے روپے کی قدر میں زیادہ اتار چڑھاؤ نہیں آیا‘ شاید اسی لیے بیرونی سرمایہ کار مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کو مالیاتی نظام تک بہتر رسائی مل سکتی ہے۔ اگر زرعی شعبے میں جدید بیج‘ مشینری اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تو پیداوار میں 10سے 15فیصد تک اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دی جائے تو پاکستان کی زرعی برآمدات‘ جو اس وقت کل برآمدات کا تقریباً 20 فیصد ہیں‘ نمایاں طور پر بڑھ سکتی ہیں۔ زرعی پیداوار میں اضافے کا ایک بڑا فائدہ خوراک کی قیمتوں میں استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے‘ جو حالیہ برسوں میں مہنگائی کا سب سے بڑا سبب رہی ہیں۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت چہرہ ابھرے گا اور یہ سرمایہ کاری ایک اعتماد کا پیغام بھی بن سکتی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ اگر پاکستان درست شعبوں کا انتخاب کرے‘ پالیسیوں میں تسلسل رکھے اور شفافیت کو یقینی بنائے تو عالمی ادارے نہ صرف سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں بلکہ مقامی کرنسی میں طویل مدتی شراکت داری بھی ممکن ہے۔ اصل ذمہ داری حکومت اور نجی شعبے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں یا نہیں۔ اگر زرعی اصلاحات‘ کسان دوست پالیسیاں اور جدید مالیاتی ڈھانچہ ساتھ چل سکے تو یہ ماڈل مستقبل میں توانائی‘ ایس ایم ایز اور ہاؤسنگ جیسے دیگر شعبوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ بھی ایک اور خوشنما اعلان بن کر فائلوں کی نذر ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت جن بڑے مسائل سے دوچار ہے وہ صرف مالی وسائل کی کمی سے وابستہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری کا نہ ہونا بھی ایک بڑا معاشی مسئلہ ہے۔ ایسے ماحول میں آئی ایف سی کا پاکستانی کرنسی میں سرمایہ کاری کا اعلان ایک غیر معمولی اور حوصلہ افزا پیشرفت ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری کے علاوہ مقامی ادارے بھی ملکی اداروں کی نجکاری میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری ہو چکی اور دیگر اداروں کی نجکاری پر بھی کام تیز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ عوامی سطح پر ایک مؤقف یہ ہے کہ پی آئی اے ملکی اثاثہ ہے‘ اسے نہیں بیچنا چاہیے۔ دوسرا مؤقف ہے کہ حکومت کا کام ایئرلائن چلانا یا کاروبار کرنا نہیں۔ کاروباری طبقہ یہ کام بہتر طور پر کر سکتا ہے۔ دوسرا مؤقف زمینی حقائق کے زیادہ قریب ہے۔ البتہ یہ فیصلہ کرنے میں تاخیر کی گئی‘ جس کا نتیجہ 500ارب سے زیادہ کے نقصان کی صورت میں سامنے آیا۔ اس وقت پی آئی اے کے خسارے کی بات تو کی جا رہی ہے لیکن اس معاملے پر کوئی گفتگو کرنے کیلئے تیار نہیں کہ پی آئی اے نقصان میں کیسے گئی اور اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جانی چاہیے؟ بظاہر اس کا خسارہ تین بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتوں میں ہوا۔ اگر انہیں احتساب کے کٹہرے میں لا کر شفاف انکوائری کی جائے تو ممکن ہے کہ عوام یہ جان سکیں کہ اکثر ملکی ادارے نقصان میں کیوں چل رہے ہیں۔لیکن ملک میں عوامی پیسے اور اثاثوں کو نقصان پہنچانے والوں کے احتساب کاکوئی رواج نہیں‘ اس لیے یہ مطالبہ شاید خواب ہی رہے۔ حکومت نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135ارب روپے میں فروخت کیے ہیں جبکہ اکتوبر 2023ء تک پی آئی اے کا خسارہ 713ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ 1989ء سے 2008ء تک پی آئی اے منافع بخش رہی اور خسارہ 2008ء کے بعد شروع ہوا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں نقصان کا آغاز ہوا‘ اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں یہ بڑھ گیا۔ 2015ء سے 2024ء تک ہر سال خسارہ بڑھتا رہا‘ 2022-23ء میں سب سے زیادہ 108 ارب روپے کا نقصان ہوا۔نجکاری معاہدے کے تحت خریدار کنسورشیم کو 191 ارب 20کروڑ روپے کے اثاثے اور 182ارب 10کروڑ روپے کی ذمہ داریاں منتقل کی گئی ہیں۔ البتہ کنسورشیم حکومت سے بڑا ٹیکس ریلیف لینے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ حکومت نے خریدار کو اضافی سہولتیں دی ہیں۔ طیاروں‘ انجن اور پارٹس پر جی ایس ٹی سے استثنا ملا ہے۔ ایندھن پر 15سالہ نئے ٹیکس کی چھوٹ ہے‘ ڈیویڈنڈ پر انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔پی آئی اے کے پاس 78 ممالک میں نامزد ایئرلائن کا درجہ اور 97 ممالک کے ساتھ ایئر سروس کے معاہدے موجود ہیں۔ خریدار کنسورشیم نے یہ بھی گارنٹی لی ہے کہ وفاقی یا صوبائی حکومتیں کوئی ایئر لائن لانچ نہیں کریں گی۔ پچھلے دنوں ایئر پنجاب کے نام سے پنجاب حکومت کی جانب سے ایک ایئر لائن لانچ کرنے کا منصوبہ سامنے آیا تھا۔ اس وقت امید کی جا رہی ہے کہ نجی شعبہ پی آئی اے کو دنیا کی کامیاب ایئرلائن میں تبدیل کر سکتا ہے۔ اگر ان سہولتوں کے ساتھ بھی خریدار کنسورشیم نے کارکردگی نہ دکھائی تو دیگر اداروں کی نجکاری میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اچھی خبریں آ رہی ہیں۔ حکومت نے گوشت کی برآمدات بڑھانے کیلئے نئی حلال میٹ ایکسپورٹ پالیسی کی منظوری دی ہے‘ جس کے تحت آئندہ تین سال کیلئے ایکشن پلان بنایا جائے گا۔ اس پالیسی میں بین الاقوامی معیار کے مذبح خانے‘ جانوروں کے بیماریوں سے تحفظ‘ کولڈ سٹوریج کی سہولتوں اور نجی شعبے کیلئے مراعات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بیرونِ ملک‘ خاص طور پر مسلم ممالک کو پاکستان کا معیاری گوشت بروقت فراہم کیا جا سکے۔ پاکستان کی سالانہ گوشت کی پیداوار تقریباً 60 لاکھ میٹرک ٹن ہے‘ جس میں بیف‘ مٹن اور پولٹری شامل ہیں۔ 2024ء میں گوشت کی برآمدات 51کروڑ 20لاکھ ڈالر رہیں‘ جس میں سب سے زیادہ گوشت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو برآمد کیا گیا۔ ملک میں تقریباً 50 کمپنیاں بیرونِ ملک گوشت کی برآمدات میں سرگرم ہیں۔ حالیہ عرصے میں چین کے ساتھ بھی معاہدے ہوئے ہیں۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا چیلنج خام مال کی بروقت اور معیاری سپلائی ہے۔ اگر فارمنگ اور لائیو سٹاک کا منظم نظام قائم کیا جائے اور بین الاقوامی معیار کے تقاضے پورے کیے جائیں تو پاکستان گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس شعبے میں اصلاحات نہ صرف ملکی معیشت کیلئے فائدہ مند ہوسکتی ہیں بلکہ بیرونِ ملک پاکستان کی ساکھ بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ عرب ممالک میں پاکستانی گوشت معیار کے اعتبار سے بہترین سمجھا جاتا ہے اور اس کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے۔ گوشت کی برآمدات میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ گوشت کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کیلئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اگر اس پالیسی پر مؤثر عملدرآمد ہوا تو یہ شعبہ ملکی برآمدات میں اہم حصہ ڈال سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved