تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     02-01-2026

1998ء سے 2025ء تک

چند دن پہلے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اکنامک افیئرز میں جس ایشو پر باتیں ہورہی تھیں‘ وہ سن کر مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں دوبارہ 1998ء میں پہنچ گیا ہوں کیونکہ اس وقت بھی یہی کچھ سنا تھا‘ جب ملتان سے اسلام آباد ٹرانسفر ہو کر ڈان کا بیورو آفس جوائن کیا تھا۔ ممبر اسمبلی جاوید حنیف خان اور مرزا اختیار بیگ کو سنتے ہوئے یاد آیا کہ اُن دنوں جو خبریں کی تھیں ان میں ایک پاکستان سے یورپی یونین کو برآمد ہونے والی سی فوڈ پر اعتراضات سے متعلق تھی کیونکہ اسکی صفائی ستھرائی اور دیگر ایشوز پر کام نہیں ہو رہا تھا۔ یورپ میں پاکستانی سی فوڈ کی بہت مانگ تھی لیکن یورپین صحت کے معاملے میں ہم پاکستانیوں کی طرح لکڑ ہضم پتھر ہضم نہیں ہیں۔ انہیں ہر چیز کی تاریخ‘ صفائی اور دیگر چیزوں سے بھی غرض ہوتی ہیں۔ یورپین کہتے رہ گئے کہ اپنے سی فوڈ کے ہائی جین ایشوز کو حل کریں لیکن ہم ٹس سے مس نہ ہوئے اور نتیجہ یہ نکلا یورپی یونین نے پاکستان سے سی فوڈ کی برآمدات پر پابندی لگا دی۔ 27سال بعد اکنامک افیئرز کی میٹنگ میں ایک بار پھر وہی ایشو زیرِغور تھا کہ یورپی یونین کی پابندی کی وجہ سے پاکستان کی سی فوڈ برآمدات چار سو ملین ڈالر سے گرتی گرتی ڈیڑھ سو ملین ڈالر تک آگئی ہیں۔ 1998ء میں بھی پابندی لگی تھی اور اب ستائیس برس بعد دوبارہ پابندی لگی ہوئی ہے۔ نہ ہمیں تب پروا تھی‘ نہ آج ہے۔
صحافت میں تین عشروں سے زائد وقت گزارنے کے بعد اب پاکستان میں کوئی بات حیران کن نہیں لگتی اور نہ ہی کوئی بات انوکھی محسوس ہوتی ہے۔ ان برسوں میں آپ اتنا کچھ دیکھ‘ سن اور رپورٹ کر چکے ہوتے ہیں کہ بڑے سے بڑا سکینڈل رپورٹ کر کے بھی محض مسکرا کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ روٹین کا حصہ لگتا ہے۔ کبھی چند لاکھ کی کرپشن پر رولا پڑ جاتا تھا مگر اب اربوں پر بھی کسی کی پیشانی پر شکن تک نہیں آتی۔ جب 1998ء میں اسلام آباد آیا تھا‘ اس وقت کسی بھی سکینڈل کی خبر پورے شہر اور حکومت کو ہلا کر رکھ دیتی تھی۔کسی وزیر کے سکینڈل کا مطلب تھا اس کی وزارت کا خطرے میں پڑ جانا۔ بیورو کریٹس بھی احتیاط کرتے تھے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ فیڈرل سیکرٹری سطح کا کوئی افسر کرپشن میں ملوث ہوسکتا ہے۔ اکا دکا مثالیں یقینا ہر محکمے اور ہر جگہ موجود ہوتی ہیں لیکن عمومی طور پر اچھے اور ایماندار افسروں کی تعداد زیادہ تھی‘ جو اپنے کردار اور علم سے آپ کو متاثر کرتے تھے۔ اُن دنوں اخبار میں خبر لگنے کا مطلب تھا کہ آپ کا مستقبل خطرے میں پڑگیا۔ فرنٹ پیج پر چھپنے والی خبر کسی کی وزارت تو کسی کی سیکرٹری شپ لے جاتی تھی۔ اب لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے آپ سکینڈلز فائل نہیں کرتے؟ میں جواب دیتا ہوں کہ ہم تو فائل کرتے ہیں لیکن اب کوئی سکینڈل آپ کو سکینڈل نہیں لگتا۔ سیاستدانوں نے بڑی سمجھداری سے سوشل میڈیا کی مدد سے اپنے حامیوں کو ایسا بنا لیا ہے کہ وہ کسی چیز کو کرپشن یا سکینڈل نہیں سمجھتے۔اب سکینڈل اور کرپشن اپنے معنی کھو چکے ہیں۔ اب کوئی لیڈر اپنی کرپشن کا دفاع خود نہیں کرتا بلکہ اس کے فالوورز کرتے ہیں۔ چونکہ اس رنگ میں سب رنگے گئے ہیں لہٰذا کوئی کسی کو طعنہ دینے کے قابل نہیں رہا۔ مرحوم رحمن ملک لندن فلیٹس کا سکینڈل بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں لے کر آئے تھے جو شریف خاندان کی ملکیت ہیں۔ جواباً نواز شریف کیمپ سرے محل کا سکینڈل سامنے لایا۔ ایک ہی پارلیمنٹ میں‘ ایک ہی چھت تلے ایک دن وزیراعظم بینظیر بھٹو کے سرے محل پر اعتراض ہوتا تو اگلے دن شریف خاندان کے لندن فلیٹس پر بات ہوتی۔ نہ نواز شریف مانتے تھے کہ لندن فلیٹس ان کے ہیں اور نہ ہی بینظیر بھٹو اور آصف زرداری نے سرے محل کی ملکیت کو تسلیم کیا ۔ حالانکہ بعد میں وہی سرے محل بیچ کر دبئی میں محل خریدا گیا۔ دوسری جانب نواز شریف آج تک انہی لندن فلیٹس میں قیام کرتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کے حامی آج بھی نہیں مانتے۔ اسی طرح عمران خان نے خود کو ایمانداری کا دیوتا بنا کر پیش کیا کہ ان جیسا ایماندار پیدا نہیں ہوا۔ نواز شریف اور آصف زرداری انکے سامنے بونے ہیں۔ درمیان میں پاناما لیکس آئیں تو پتا چلا کہ ہمارے حکمران خاندان کی تو دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں پھیلی ہیں۔ عمران خان نے پاناما لیکس کو منطقی انجام تک پہنچایا اور پھر جب وزیراعظم بنے تو خود بھی وہی راستہ اختیار کیا اور جو ریاستی تحفہ ہاتھ لگا‘ بکتا چلا گیا۔ اگرچہ انکے حامی نہیں مانتے‘ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا بھی تو خان پچھلوں کے مقابلے میں چھوٹی برائی ہے۔ میرا جواب ہوتا ہے کہ پہلے والے بھی شروع میں چھوٹی برائی ہی سمجھے جاتے تھے۔ انہیں اقتدار میں بار بار آنے کا موقع ملتا گیا لہٰذا وہ چھوٹی سے بڑی برائی بن گئے۔ اگر خان کو بھی موقع ملتا رہا تو وہ انہیں ضرور شکست دیدے گا۔ ایمانداری آپشنل نہیں ہوتی کہ آج دل کیا تو ایماندارہو گئے اور کل دل کیا تو مال پر ہاتھ صاف کر لیا۔ آپ ایماندار ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ اسی طرح برائی چھوٹی یا بڑی نہیں ہوتی‘ یہ کینسر کی طرح ہوتی ہے۔ کینسر کا خلیہ چھوٹا ہو یا بڑا‘ ایک دفعہ یہ جسم میں جڑ پکڑ گیا تو پھر وقت کیساتھ بڑھتا ہی ہے‘ کم نہیں ہوتا۔ یہی برائی کا حال ہے کہ یہ وقت اور مواقع کیساتھ بڑی ہوتی جائے گی۔ 1985ء میں نواز شریف جب پہلی بار وزیراعلیٰ بنے تو ان پر کیا الزامات تھے اور جب 2017ء میں وہ تیسری وزارتِ عظمیٰ سے نااہل ہو کر جیل گئے تو ان پر الزامات کی نوعیت کیا تھی۔ نواز شریف جب دوسری دفعہ وزیراعظم بنے تھے‘ تب تک ان پر مالی بدعنوانیوں کے کتنے الزامات تھے مگر تیسری ٹرم تک سارا کچا چھٹا سامنے آچکا تھا اور پانچ براعظموں میں جائیدادیں نکل آئیں۔ یہی حال زرداری صاحب اور بینظیر بھٹو کا تھا۔ پہلی ٹرم سے دوسری اور پھر بعد کے سفر کو دیکھ لیں۔جنیوا بینکوں میں ساٹھ ملین ڈالر تو اب پرانی بات ہیں۔ وہ بھی کبھی چھوٹی برائی سمجھے جاتے تھے مگر وقت کیساتھ یہ برائی بڑھتی چلی گئی۔ اس لیے جب کوئی مجھے عمران خان کے حوالے سے یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اس لیے خان کا حامی ہے کہ وہ دیگر کے مقابلے میں کم برائی ہے تو میں یہ احمقانہ جواز ماننے سے انکاری ہو جاتا ہوں کیونکہ میں یہ بنیادی سائنس سمجھتا ہوں کہ یہ چھوٹی بمقابلہ بڑی برائی کا مسئلہ نہیں‘ یہ برائی بمقابلہ شرافت اور نیکی کا مسئلہ ہے۔ عمران خان کو کم برائی کہہ کر آپ وہی کام کررہے ہیں جو ان سے پچھلوں کے معاملے میں ہوا۔
بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچ گئی۔ مرزا اختیار بیگ اور جاوید حنیف نے صرف سی فوڈ کا رونا نہیں رویا بلکہ یہ بھی علم ہوا کہ فش مارکیٹ جہاں سے سی فوڈ ایکسپورٹ ہوتی ہیں‘ وہاں کتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے لیاری فریٹ کوریڈور پروجیکٹ کا جو بھیانک نقشہ کھینچا‘ وہ ایک الگ دہشت ناک کہانی ہے۔ چارسال پہلے جو پروجیکٹ 67 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونا تھا‘ تاخیر ہوتے ہوتے اب وہ 98 ارب کے تخمینے تک پہنچ چکا ہے اور مزے کی بات کہ این ایچ اے ابھی تک یہ طے نہیں کرسکا اسے مقامی وسائل سے بنانا ہے یا پھر کورین بینک سے قرضہ لینا ہے۔ کراچی کے اس اہم پروجیکٹ کو چار سال بعد بھی شروع نہیں کیا جاسکا اور لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اجلاس میں اراکین کی بے بسی دیکھنے والی تھی کہ ان کا واسطہ کس قسم کی بیورو کریسی سے پڑا ہے۔ مجھے این ایچ اے پر غصے سے زیادہ کراچی کے ان ایم این ایز پر ترس آرہاتھا جو بار بار پوچھ رہے تھے کہ ہم کدھر جائیں‘ کراچی میں لوگ ہمارا گریبان پکڑتے ہیں کہ یہ کوریڈور چار سال سے کیوں نہیں بن پارہا‘ ان کی زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں۔جو جواز یہاں پیش کیا جا رہا تھا‘ وہ سن کر تو میرا اپنا دل دیوار سے سر ٹکرانے کو کررہا تھا۔ اصل مزہ البتہ اس بات میں ہے کہ 1998ء میں بھی سی فوڈ کی برآمد پر پابندی تھی اور 2025ء میں بھی پابندی تھی۔ ان ستائیس برسوں میں کچھ بھی نہیں بدلا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved