نئے سال کی آمد کے ساتھ پوری دنیا میں تو شاید نہیں مگر مغربی ممالک میں انفرادی اور اجتماعی طور پر لوگ یہ تجزیہ ضرور کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ آگے کیلئے ہم نے ان مسائل اور مصیبتوں کا کیسے تدارک کرنا ہے‘ اور اس کیلئے ہمیں کیا منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ یہ سوچ ہمیں آگے لے کر جاتی ہے۔ ایسی غور وفکر سے نابلد انسان اور قوم اپنے ہی گھن چکر میں رہتی ہے۔ روشنی کی طرف کوئی سمت تلاش کرنے کی ان کی ہمت جواب دے چکی ہوتی ہے۔
سال کے آخری دنوں میں ایک خبر نے چونکا دیا‘ مگر اس سے قبل ہمیں جو کچھ پتا تھا‘ وہ آثار کہیں اور بھی نمایاں تھے۔ گلف کے اُس پار‘ جہاں ہم کئی دہائیوں سے گوادر پورٹ کو مکمل کرنے اور مؤثر طریقے سے چلانے میں مصروف ہیں‘ کی ایک چھوٹی ریاست‘ جو ہماری زندگی میں دیکھتے ہی دیکھتے مالی لحاظ سے کئی بڑے ممالک سے زیادہ طاقتور بن چکی ہے‘ نے جنوبی یمن میں اسلحے سے لدے دو جہاز بھیجے۔ اس کا مقصد کیا تھا‘ اس پر فریقین کا مؤقف مختلف ہے۔ ظاہر ہے‘ وہ اسلحہ خود تو نہیں بناتے‘ کہیں سے خرید کرتے ہیں‘ اور جو اس عالمی کاروبار سے وابستہ ہیں‘ وہ جنگیں بھی کراتے ہیں اور مختلف گروہوں کو گولہ بارود اور ہر نوع کے وسائل انسانی آبادیوں کو تلف کرنے کیلئے بھی بیچتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے ہمارے ملک کے شہروں اور اب دیہات میں نشئیوں کو ڈرگ فروشوں نے لگایا ہوا ہے۔ یہ کام کسی ملک کے پڑوس میں ہو رہا ہو تو کوئی کمزور بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ سعودی عرب نے اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی اور ساتھ ہی دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے۔ یمن کئی عشروں سے خانہ جنگی کی حالت میں ہے‘ اور کئی قبائلی اور فرقہ وارانہ شناخت کے جتھوں کی حمایت ہمارے ہی علاقے کے سرکردہ ممالک کرتے آئے ہیں‘ اور وہ اس تزویراتی مسابقت میں یمن کے غریب لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں۔
ایک اور مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں‘ صرف ایک کہ افغانستان کے المیے سے لے کر لبنان‘ لیبیا‘ عراق اور شام تک خانہ جنگیوں کی ایک پوری تاریخ ہے۔ کئی نسلیں وہاں تباہ ہو چکی ہیں۔ سوڈان کو دیکھیں‘ جو کسی زمانے میں طاقتور اور خوشحال ملک تھا۔ پہلے خانہ جنگی سے دو ملکوں میں تقسیم ہوا‘ جس کی بنیاد مذہب کے علاوہ کوئی اور نہیں‘ اور پھر نسلی بنیادوں پر اس کے ایک حصے میں نسلی کشی کی کئی کہانیاں اور بھوک وننگ کے قصے عام ہوئے۔ چند سالوں سے وہاں فوج دو حصوں میں تقسیم ہے‘ اور باغی جرنیل کو کئی دیگر ممالک کے علاوہ گلف کے اس پار کا ملک بھی زر ودولت اور اسلحہ کی سپلائی میں پیش پیش ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہمارے فلسطینی بھائیوں میں نظریاتی اور سیاسی تقسیم نہ ہوتی‘ اور اگر فلسطین اتھارٹی میں وہ سب مل کر کام کرتے تو غزہ میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کو نسل کشی کا اس طرح موقع نہ ملتا۔ افغانستان کا ذکر پہلے کر چکا ہوں‘ مگر اس بارے میں آج بھی ہمیں اور افغانوں کو بہت غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میری ذاتی علمی دلچسپی اس ملک کی جنگوں اور خانہ جنگیوں سے گزشتہ 45 برسوں سے رہی ہے اور آج بھی ہمیں ظاہر شاہ کے زمانے کا افغانستان یاد آتا ہے۔ یہ جو کئی مثالیں آپ کے سامنے رکھی ہیں‘ آخر ہر ایک ملک میں‘ اور اس فہرست کو عالمی سطح پر پھیلائیں تو افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک شامل کیے جا سکتے ہیں‘ ان میں اندرونی کشمکش اور خانہ جنگیوں کی بنیادی وجہ کیا رہی ہے۔ ایک وجہ تو نہیں‘ اور نہ ہی تمام ممالک کی کہانی ایک ہو سکتی ہے۔ بحیثیت سیاست کے طالب علم‘ میرے نزدیک ہر فساد کی جڑ سیاسی اختلاف ہے‘ جو ہر معاشرے میں ایک فطری سی بات ہے۔ جہاں کچھ آزادیاں نصیب ہوں یا لوگ آزادی اور انصاف کیلئے کچھ شعور رکھتے ہیں‘ وہ پہلے آوازیں بلند کرتے ہیں۔ اگر انہیں طاقت کے کھیل کے سرخیل نہیں سنتے اور انہیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے‘ تو وہ زیادہ بلند ہوتی رہتی ہیں۔ اور پھر ایسے لوگ بھی دونوں جانب تاریخ میں ہم نے دیکھے ہیں جو اختلاف کا سیاسی حل ڈھونڈنے کے بجائے اختلاف کرنیوالوں کو اور اختلاف رکھنے والوں میں سے کچھ اہلِ اقتدار کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ پھر معاملات ہر ایک کے ہاتھ سے پھسل کر کہیں اور جا گرتے ہیں‘ اور کئی اندرونی اور بیرونی گدھیں نظریں جمائے ہوتی ہیں اور اس کشمکش سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے‘ اختلاف انسان کی فطرت میں ہے‘ جو گھر میں چند افراد کے درمیان‘ خاندانوں میں اور سماجی گروہوں میں تسلسل کے ساتھ پیدا ہوتا رہتا ہے‘ جیسے کبھی سمندر کی موجیں اور ہوا کے جھونکے نہیں رکتے۔ اہلِ فکر انسانوں نے ہر زمانے میں اختلاف رکھنے‘ اس کا احترام کرنے‘ اور پُرامن سماج کے لیے انسانی تہذیب کو اپنی حکمت اور فلسفوں سے زینت بخشی ہے۔ مثال زیادہ آپ کے سامنے مسلم ممالک کی رکھی ہے‘ جہاں کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو ہم نے برباد ہوتے دیکھا ہے۔ کاش ہمارے ہر نوع کے اکابرین صلح حدیبیہ پر ہی غور فرما لیتے۔ یہ ماضی کی روایت بھی ہے۔ سیاست اور اس کے نظام سے جڑے مسائل آج کے زمانے میں کچھ مختلف ہیں‘ مگر فطری احساس ان کے حل کے لیے ہر مذہب‘ فلسفے اور تہذیبی روایت میں موجود ہے۔ ایک عالمگیر اصول جس پر کسی کو اختلاف نہیں‘ وہ یہ ہے کہ سیاست چونکہ طاقت اور قومی وسائل کے استعمال سے متعلق ہے‘ اس کو پُرامن رکھنے کے لیے ہم باہمی اتفاق سے کچھ اصول طے کر لیتے ہیں کہ اقتدار میں آنے اور ایک مدت تک رہنے کا طریقہ کیا ہو گا‘ جب کوئی اقتدار میں ہو گا تو اس کے اختیار کے استعمال کی جوابدہی کیسے ہو گی‘ اور پھر طاقت کو مرکوز ہونے کی پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے اسے تقسیم کیسے کیا جائے گا۔ عام فہم زبان میں ہم کسی ایسے معاہدے یا سمجھوتے کو آئین کہتے ہیں۔
نئے سال کے ساتھ دنیا اکیسویں صدی کی دوسری چوتھائی میں داخل ہو چکی ہے۔ اختلاف نہ یورپ میں اور نہ امریکہ میں تاریخی طور پر مذہبی‘ لسانی اور نظریاتی بنیادوں پر کم تھے۔ جنگیں اقتدار کے حصول اور اسے قائم رکھنے کی غرض اور زمینی توسیع پسندی کے علاوہ انقلاب لانے کی خواہشوں کے تابع سینکڑوں کی تعداد میں ہوئیں‘ اور انہوں نے اپنے معاشروں اور پوری دنیا کے لیے ایک سبق چھوڑا۔ وہ ہے سیاسی اختلاف کا احترام‘ اقتدار کی جائزیت کا طریقہ کار‘ پُرامن اقتدار کی منتقلی اور غیر جانبدار احتساب۔ اسی سال امریکہ اپنی آزادی کا ڈھائی سوواں سال منائے گا۔ یورپی ممالک کی تاریخ اس سے بھی بہت پرانی ہے۔ وہاں ترقی‘ خوشحالی‘ پُرامن معاشرے اور فرد کی آزادی کا بنیادی راز ان کے منظم‘ مربوط اور عوامی رائے پر مبنی سیاسی نظاموں میں ہے۔ جب اور جن ممالک میں اس بنیادی سیاسی معاہدے کو طے کرنے اور اس پر عمل کرنے میں سیاست کے کھیل کے شاہ سوار نے ڈنڈی ماری‘ یا پرانی روایت کے تسلسل کو توڑا‘ وہاں ہم نے تباہی ہی تباہی دیکھی ہے۔ جہاں آئین کی بات کی ہے‘ وہاں ظاہر شاہ کی بادشاہت کی بات ہے‘ کہ وہ ایک روایت تھی‘ جس سے جمہوری اصلاحات کے آثار اس کے اندر سے پیدا ہو رہے تھے‘ اور ان کے مزید نکھرنے کے امکانات موجود تھے۔ مگر ان کے کزن سردار داؤد کو اقتدار کا خبط تھا‘ جس نے سب کو تباہ کر ڈالا۔ ظلم کی بات یہ ہے‘ جسے آپ ان تمام ممالک کی خانہ جنگیوں میں دیکھ سکتے ہیں‘ جن کی شروع میں مثال دی ہے کہ اقتدار کا کھیل بگاڑنے والے چند سرکردہ افراد ہوتے ہیں‘ مگر اس کا خمیازہ پورے ملک کی آبادی‘ معصوم انسان بھگتتے ہیں‘ اور اکثر کئی نسلیں تباہ اور بکھر جاتی ہیں۔ کسی نئے فلسفے کی ضرورت ہے‘ اور نہ ہی کسی مہم جوئی کی۔ اگر ہے تو اس عالمگیر سیاسی اصول پر عمل کرنے کی‘ جس سے معاشرے میں فساد پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ایسی بیماری ہے جب پھیل جائے تو حل آسان نہیں رہتا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved