تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     02-01-2026

روس یوکرین جنگ بند ہونے والی ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل دعویٰ کیا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ بندی کے امکانات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ برلن میں امریکہ‘ یوکرین بات چیت میں یہ اہم پیش رفت بتائی گئی کہ یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی یوکرین کی نیٹو میں شمولیت سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ اس کے بدلے امریکہ نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کے تحت یوکرین کو رکن ممالک کے برابر سکیورٹی گارنٹی دینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو باقی تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ یوکرین کے ساتھ ایک لمبی مشترکہ سرحد کی بنا پر روس شروع ہی سے اس کی نیٹو میں شمولیت کا سخت مخالف رہا ہے اور فروری 2022ء میں یوکرین پر روسی حملے اور مشرقی علاقوں پر قبضے کی ایک بڑی وجہ یوکرین کی طرف سے نیٹو میں شمولیت پر اصرار تھا۔ اس لیے صدر زیلنسکی کے اس اعلان کے بعد کہ یوکرین نیٹو میں شمولیت کی خواہش ترک کرنے پر تیار ہے‘ یوکرین میں جنگ بند ہونے کے راستے میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ دور ہوتی نظر آ رہی ہے۔ یوکرینی وفد سے برلن میں بات چیت کرنے والے امریکی وفد نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے پر 90 فیصد تک اتفاقِ رائے کر لیا ہے اور امید ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت میں باقی مسائل کو بھی حل کر لیا جائے گا۔ ان مسائل میں سب سے پیچیدہ یوکرین کے مشرقی علاقے ڈومباس سے یوکرینی افواج کے انخلا کا روسی مطالبہ ہے۔ گزشتہ تین برس کی جنگ میں روس ڈومباس کے بیشتر (88 فیصد) حصے پر قبضہ کر چکا ہے۔ صرف 12 فیصد حصے پر یوکرینی افواج کا کنٹرول ہے۔ روس کی خواہش ہے کہ یوکرینی افواج اس حصے کو بھی خالی کر دیں تاکہ وہ یوکرین کے جن جنوب مشرقی علاقوں پر پہلے ہی قبضہ کر چکا ہے‘ ان کے ساتھ براہِ راست اور بلا روک ٹوک رابطہ کر سکے۔ تاہم صدر زیلنسکی متعدد بار اعلان کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے ملک کے کسی حصے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
یورپی ممالک خصوصاً برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی صدر زیلنسکی کے اس مؤقف کے حامی ہیں مگر امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے صدر زیلنسکی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ڈومباس سے اپنی فوجیں پیچھے ہٹا لیں‘ ورنہ روس طاقت کے بل بوتے پر اس پر بھی قبضہ کر لے گا۔ صدر زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادی یوکرین میں روس کو علاقائی رعایات دینے کیلئے بالکل تیار نہیں‘ ان کے خیال میں یہ روس کو یوکرین میں اس کی جارحیت کے عوض انعام دینے کے مترادف ہو گا۔ خاص طور پر ڈومباس کے خطے کو‘ جو معدنیات خصوصاً کوئلے سے مالا مال ہے اور یوکرین کیلئے ایک پاور ہاؤس کی حیثیت رکھتا ہے۔ یوکرین کی بڑی بڑی صنعتیں اور کارخانے اسی علاقے میں ہیں۔ اس سے محرومی کا مطلب یوکرین کی کل سالانہ آمدنی میں 12فیصد سے زیادہ کمی ہو گی۔ مگر یوکرینی صدر زیلنسکی اور ان کے یورپی اتحادی امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے بے بس ہیں کیونکہ وہ امریکہ کی مدد کے بغیر جنگ میں روس کا مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ صدر ٹرمپ یوکرین میں جنگ بند کروا کر نوبیل امن انعام کیلئے اپنے کیس کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ صدر کا حلف اٹھانے سے پہلے ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی کرسیٔ صدارت پر بیٹھنے کے دو دن کے اندر یوکرین میں جنگ بندی کا سمجھوتا ہو جائے گا کیونکہ ان کے خیال میں اس جنگ کا کوئی جواز نہیں تھا‘ اور وہ صدر زیلنسکی اور سابق امریکی صدر جوبائیڈن کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ گزشتہ سال صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے روسی صدر کو فوری جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے انہوں نے صدر پوتن کے ساتھ الاسکا میں اگست 2025ء میں ملاقات بھی کی مگر صدر پوتن نے صدر ٹرمپ کی تجویز کو تسلیم نہ کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یوکرین میں عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مکمل اور مستقل امن سمجھوتا ہونا چاہیے اور اس میں اس جنگ کی بنیادی وجوہات کو دور کرنا چاہیے۔ روسی صدر کے خیال میں یوکرینی صدر اور ان کے یورپی اتحادی عارضی جنگ بندی کی آڑ میں یوکرین کی عسکری طاقت میں اضافہ کرکے روس کے قبضے سے موجودہ یوکرینی علاقے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ ان کی طرف سے عارضی جنگ بندی پر اصرار کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت میدان جنگ میں روس کا پلہ بھاری ہے۔ اس نے مشرق اور جنوب مشرق میں نہ صرف 20 فیصد یوکرینی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے بلکہ مزید علاقوں پر بھی قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بن جانے سے یوکرین امریکہ کی عسکری اور معاشی مدد سے محروم ہو گیا ہے اور یورپی طاقتوں بالخصوص برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی میں اتنی فوجی سکت نہیں کہ وہ یوکرین کیساتھ مل کر روسی فوجوں کو یوکرین کے مشرقی علاقوں سے باہر نکال سکیں۔ یہ درست ہے کہ ان تینوں یورپی ممالک نے اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنے کیلئے اہم منصوبوں کا اعلان کیا ہے مگر انکی تکمیل میں وقت لگے گا جبکہ یوکرین اور اس کے اتحادی یورپی ممالک یوکرین میں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں کیونکہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں روس کو یوکرین کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے اور اس طرح یوکرین میں اپنی شرائط پر امن قائم کرنے کا موقع مل جائے گا مگر روس‘ جسے نپولین بونا پارٹ سے لے کر ہٹلر تک یورپی ممالک کیساتھ ڈیل کا کافی اور تلخ تجربہ ہے‘ یورپی طاقتوں کی عارضی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں صدر پوتن نے کہا کہ روس مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کا حامی ہے مگر اس کیلئے ایک جامع اور مستقل معاہدہ لازمی ہے‘ اور اگر امریکہ سمیت دیگر طاقتوں کی طرف سے یوکرین میں جنگ کی اصل وجوہات کو پیش نظر رکھے بغیر تجاویز پیش کی گئیں تو روس انہیں مسترد کر کے یوکرین میں اپنے اہداف کو بزور طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ یوکرین میں بلاتاخیر امن کے خواہاں ہیں کیونکہ یوکرین میں جنگ جاری رہنے سے نہ صرف امریکہ کی حالیہ اعلان کردہ ''نیشنل سکیورٹی سٹرٹیجی‘‘ پر عملدرآمد میں رکاوٹ آتی ہے بلکہ صدر ٹرمپ کے ''امن کے علمبردار‘‘ ہونے کے امیج کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے خیال میں اگر گزشتہ سال دنیا میں آٹھ جنگوں کو ختم کرانے کے بعد اب روس یوکرین جنگ کو بند کرانے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو 2026ء کے نوبیل امن انعام پر ان کا حق مزید مضبوط ہو جائے گا۔ امریکہ کے نہ صرف یوکرین کی امداد بلکہ یورپی دفاع اور سکیورٹی سے بھی ہاتھ کھینچنے کی اصل وجہ شمالی اور جنوبی امریکہ میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوز (تجارت اور سرمایہ کاری کی شکل میں) کے خلاف بند باندھنا ہے۔ امریکہ اگرچہ شمالی امریکہ کا ملک ہے‘ مگر اس نے وسطی اور جنوبی (لاطینی) امریکہ کو ہمیشہ اپنا حلقہ اثر سمجھا ہے اور اس نے اپنی پوری تاریخ میں کسی بیرونی طاقت کو اس خطے میں قدم جمانے کی اجازت نہیں دی۔ اس مقصد کیلئے 1923ء میں منرو ڈاکٹرائن کا اعلان کیا گیا تھا‘ جس کے تحت امریکہ نے یورپی طاقتوں کو نصف کرۂ ارض (مغربی) کے ممالک میں اثر و رسوخ قائم کرنے سے منع کیا تھا۔دوسری عالمی جنگ کے بعد لاطینی امریکہ میں کمیونزم اور بائیں بازو نظریات کی حامی تحریکوں نے جنم لیا اور انکے زیر اثر گوئٹے مالا‘ چلی‘ کیوبا اور نکاراگوا میں امریکہ مخالف بائیں بازو کی حکومتیں قائم ہو گئیں۔ مگر ان سے دنیا میں امریکہ کی عسکری اور معاشی بالادستی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ البتہ پچھلی چند دہائیوں میں مشرق بعید‘ جنوب مشرقی ایشیا‘ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے بعد چین نے تجارت‘ سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے شعبوں میں جس طرح لاطینی امریکہ میں اپنی موجودگی میں اضافہ کیا ہے وہ امریکہ کیلئے ایک نیا اور تشویشناک چیلنج ہے‘ جس کا مقابلہ کرنے کیلئے صدر ٹرمپ نہ صرف یوکرین جنگ بلکہ یورپ کے دفاع اور سکیورٹی کے میدان میں اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved