گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر کیلنڈر بدلا اور سالِ رفتہ جاتے ہوئے اکیسویں صدی کی ایک چوتھائی نگل گیا۔ گردشِ ایام اس قدر برق رفتار ہے کہ ماہ و سال پلک جھپکتے میں گزر جاتے ہیں۔ ایک سال ایسے تیزی سے گزر جاتا ہے کہ جیسے ابھی کل ہی تو شروع ہوا تھا۔ 2025ء کا آخری سورج غروب ہوتے ہی سوشل میڈیا پر سالِ نو کی مبارکبادوں‘ دعاؤں اور نیک تمناؤں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک زمانہ تھا کہ جب نئے سال کے پیغامات اور جذبات سے لبریز کارڈز اور خطوط لکھ کر ارسال کیے جاتے تھے جن میں اپنائیت اور اخلاص کا حسیں امتزاج تھا مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں بنے بنائے پوسٹرز اور ان پر درج شدہ تحریریں اندھا دھند شیئر کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ بسا اوقات ایک ہی طرز کا پوسٹر درجنوں افراد کی طرف سے موصول ہوتا ہے جسے شاید ہزاروں افراد نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کر کے رسمی کارروائی انجام دی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے پیغامات میں احساس‘ اخلاص اور جذبات کا سرے سے نام و نشاں تک نہیں ہوتا۔ اکثر دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب بھلے لوگ ہماری ہی طرف سے بھیجے گئے پیغام یا پوسٹر کو ہمیں واپس ارسال کرکے حجت تمام کر دیتے ہیں۔ اب رہی سہی کسر مصنوعی ذہانت کے کثیر استعمال نے نکال دی ہے جس سے انسانی تعلقات میں پائیداری کی جگہ محض دنیا داری نے لے لی ہے۔ اب انسانی رشتوں میں وہ گرمیٔ جذبات ہے اور نہ ہی تعلقات میں وہ کشش باقی ہے‘ بس ایک رسمی کارروائی ہے جسے فارورڈ میسجنگ سے انجام دیا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر گزشتہ سال کئی حوالوں سے شورش زدہ اور ہنگامہ خیز واقعات سے عبارت رہا۔ صدر ٹرمپ کی دوسری ٹرم کا آغاز دھماکہ خیز ثابت ہوا اور نت نئے اعلانات اور ٹیرف ریٹ متعارف کروا کر عالمی معیشت میں غیریقینی صورتحال پیدا کی گئی۔ غزہ کے معصوم بچوں کا قتل عام جاری رہا تو دوسری طرف اسرائیلی بربریت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہروں کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ خود امریکہ کی کئی معروف یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور طلبہ نے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر صدائے احتجاج بلند کی تو صدر ٹرمپ نے ان پر وفاقی گرانٹس کے دروازے بند کرنا شروع کر دیے۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کروا کر دیرپا امن کے امکانات روشن کرنے کی کوشش کی مگر اسرائیل کی جانب سے جارحیت تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ ادھر یوکرین اور روس کے مابین جاری جنگ میں مزید شدت پیدا ہوئی تو اس کے مضمرات کے سبب بڑھتی ہوئی مہنگائی نے برطانیہ اور یورپ کے بیشتر ممالک کے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا ڈالا۔ کورونا وائرس کے تباہ کن اثرات‘ بریگزٹ کے دباؤ اور روس یوکرین جنگ کے مضمرات کا سارا بوجھ امریکہ‘ کینیڈا‘ برطانیہ اور یورپ میں بسنے والے تارکینِ وطن پر آن پڑا ہے جنہیں ان ممالک میں مسلسل گرتے ہوئے معاشی اشاریوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں تارکینِ وطن پر سختیاں بڑھانے کیلئے مختلف قوانین نافذ کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے جن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اور تیزی نمایاں نظر آتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی انہی سخت گیر پالیسیوں کے ردِعمل میں امریکی سیاست میں زہران ممدانی کی کہانی افسانے سے حقیقت کا روپ دھار چکی ہے جو صدر ٹرمپ کی شدید ترین مخالفت کے باوجود نیویارک کا میئر منتخب ہو چکا ہے۔ ایران اسرائیل کشیدگی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے ایران کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ علاوہ ازیں یمن کے معاملے پر خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا کر چڑھ دوڑنے کا آغاز کیا تو پاکستانی مسلح افواج بالخصوص پاکستان ایئر فورس کے شیر دل شاہینوں نے دشمن کو ایسی دھول چٹائی کہ وہ ابھی تک رافیل سمیت اپنے تباہ شدہ قیمتی جنگی طیاروں کی گنتی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف صدر ٹرمپ آئے روز وزیراعظم مودی کو تباہ شدہ طیاروں کی یاد دہانی کروا کے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں۔
داخلی سطح پر گزشتہ برس پاکستان میں شدید ترین بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے باعث آنے والے سیلاب نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کئی اضلاع میں تباہی مچائی جس سے ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے‘ فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا‘ لاکھوں ایکڑ زمین زیر آب آگئی تو لاکھوں افراد بے سروسامانی کی حالت میں خیمہ بستیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ سیاسی عدم استحکام اور معاشی غیریقینی صورتحال سے سماجی اضطراب میں اضافہ دیکھنے کو ملا جس سے لاکھوں افراد ملک چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں نکلے تو سینکڑوں بدنصیب ڈنکی لگاتے ہوئے سمندری راستوں کے بپھرے پانیوں میں بہہ گئے۔ کھیل کے میدان میں ارشد ندیم نے پاکستان کیلئے دنیا بھر میں نیک نامی کمائی تو کرکٹ ٹیم نے چند میچوں میں کامیابی حاصل کی البتہ زیادہ تر ناکامیوں میں گھری رہی جس کے باعث وہ شائقین کی کڑی تنقید کی زد میں رہی۔ مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار ہوئے تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں میں خوارج نے امنِ عامہ خراب کرکے ریاستی رِٹ کو چیلنج کیا جس کے نتیجے میں مسلح افواج نے ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن تیز کر دیا جس میں کئی ماؤں کے سجیل بیٹوں نے وطن عزیز پر جان قربان کر کے جام شہادت نوش کیا۔ بھارت کے خلاف شاندار کامیابی اور واضح برتری کے باعث پاکستان کو بین الاقوامی سفارتی محاذ پر بے پناہ عزت و احترام سے نوازا گیا۔ اپنی تمام تر کوششوں اور لابنگ کے باوجود بھارت کو امریکہ میں گھاس نہیں ڈالی گئی جبکہ پاکستان صدر ٹرمپ کی قربت پانے میں کامیاب رہا۔ اس کے علاوہ چین‘ روس‘ ایران‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور قطر کے ساتھ بھی دوطرفہ تعلقات بڑھانے میں پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے۔ سال کے آخری دنوں کی نمایاں خبر پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری ہے جس کے طیاروں نے دوبارہ برطانیہ اور کینیڈا کی طرف اڑان بھری تو اس تاریخی ایئر لائن کی تعمیر و ترقی کے امکانات روشن دکھائی دیے مگر چند روزہ یہ خوش فہمی چراغِ سحری ثابت ہوئی اور سننے میں آیا ہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے اپنے نام سے محروم ہو کر اب کسی نئے نام سے منسوب ہو چکی۔
عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات ہوں یا پاکستان کے داخلی معاملات‘ ان پر تبصرے اور جائزے پیش کرنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ آئے روز سوشل میڈیا پر خود ساختہ سیاسی دانشوروں‘ سماجی تجزیہ کاروں اور مذہبی زعما نے مختلف رنگ و نسل کے دھڑے‘ فرقے‘ فتوے‘ دعوے‘ نعرے اور وعدے تخلیق کرکے اپنی اپنی دکان سجائی ہوتی ہے۔ ہم دوسروں کے بال کی کھال اتارنے کے ماہر ہیں جبکہ ذاتی زندگی میں جھوٹ‘ فریب‘ منافقت اور ریا کاری کی بدترین مثال ہیں۔ ایک نمایاں طبقہ بے حسی‘ انا پرستی‘ خود غرضی اور ذاتی مفادات کے حصار میں جکڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رائیونڈ میں صرف تیس روپے کے جھگڑے پر دو جوان بھائی مار دیے گئے اور موقع پر موجود لوگ محض تماشائی بنے رہے۔ چند روز قبل لاہور کے ایک فیملی پارک میں ایک امیر زادے نے مہنگا غبارہ بیچنے کا الزام لگا کر غبارہ فروش پر پالتو کتا چھوڑ دیا۔ کتے نے بارہ سالہ معصوم بچے کو جگہ جگہ سے کاٹ کر زخمی کر دیا۔ غبارہ فروش کوکتے سے زخمی کرانے کے بعد وہ سفاک شخص لوگوں کو قتل کی دھمکیاں دیتا ہوا وہاں سے فرار ہو گیا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر نئے سال کی مبارکباد پر مبنی میسجز بھیجنے والے افراد میں وہ امیر زادہ بھی شامل ہو گا جو لوگوں سے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کا ڈھونگ رچا کر ہمدردیاں سمیٹ رہا ہوگا۔ یقین کر لیں کہ اب کی بار بھی صرف سال ہی بدلا ہے۔ نہ مہینے بدلے ہیں‘ نہ ہفتے اور نہ دن کیونکہ ہم نے خود کو تو بدلا نہیں۔ اگرچہ صرف کیلنڈر بدلا ہے مگر پھر بھی آپ سب کو نیا سال مبارک !
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved