عادتیں نسلوں کا پتا دیتی ہیں تو فیصلے نیت اور ارادوں کے بھید کھول ڈالتے ہیں۔ وزیر‘ مشیر جن اصلاحات کا ڈھول بجاتے اور کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے‘ ان سبھی کی جمع تفریق کریں تو بگاڑ کے اَنبار نکلتے ہیں۔ نمائشی اقدامات سے لے کر گمراہ کن اعداد و شمار سمیت نجانے کیسی بدعتیں گورننس اور کارکردگی کے نام پر برسوں اور نسلوں سے جاری ہیں۔ گورے حکمرانوں کے دیے ہوئے انفراسٹرکچر سے جہاں ہم مستفید ہو رہے ہیں وہاں ان کے چھوڑے ہوئے غلامانہ قانون اور ضابطے بھی سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر داد رسی کے بجائے معیشت بن جائے تو انصاف کا خدا ہی حافظ ہے۔ چھوٹے گریڈ والوں کو بڑے عہدوں پر بٹھانے کی بدعت کئی دہائیوں پرانی ہے‘ چاپلوس اور خوشامدی افسران کو ان کی اہلیت سے بڑے ٹاسک دے کر گورننس کے ایسے ایسے روپ بہروپ متعارف کرائے گئے کہ جن کے انڈے بچے آج بھی ملک کے طول و عرض میں جابجا اُدھم مچائے ہوئے ہیں۔
پولیس آرڈر کے بعد پولیس کا آرڈر تو قائم ہو گیا لیکن اصل روح تاحال فائلوں اور مسودوں میں کہیں بھٹک رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے سوا کسی ضلع میں واچ اینڈ وارڈ کو علیحدہ نہیں کیا جا سکا۔ سسٹم کی خامیوں کو بحال رکھتے ہوئے لیپاپوتی کو اصلاحات سے منسوب کرنے کی مارکیٹنگ بھی خوب ہو چکی ہے۔ افسران کے دفتروں کی بیش قیمت تزئین و آرائش سے لے کر تھانوں کے بیرونی حصے شیش محل بنانے کے علاوہ آپریشنل وِنگ کے خوب بھاؤ بڑھائے گئے‘ تھانوں کی سجاوٹ کس کو کس بھاؤ پڑی یہ ہوشربا کہانی پھر سہی۔ 2025ء کو 2024ء کے مقابلے میں بہتر اور حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے‘ اس کی تصدیق اعداد و شمار بھی کرتے ہیں۔ معمولی چوری چکاری سے لے کر سنگین جرائم تک رجسٹرڈ کیسز کا گراف کم ہوا ہے۔ پنجاب بھر میں 2025ء میں 11 لاکھ 24 ہزار 663 مقدمات رجسٹرڈ ہوئے‘ جو تعداد میں 2024ء کے مقابلے میں 1.6 فیصد (18002 کیس ) کم ہیں۔
اسی طرح لاہور میں بھی جرائم بالخصوص سنگین جرائم میں کمی یقینا خوش آئند ہے لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ حکمرانوں اور اعلیٰ افسران نے ادارے کے ظاہری چہرے کو ہی اصل چہرہ تصور کر رکھا ہے جبکہ وہ شعبہ یکسر نظر انداز چلا آرہا ہے جس کا کام مقدمہ درج ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اربوں روپیہ دفاتر اور تھانوں کو دیدہ زیب دکھانے کیلئے تو خرچ کر ڈالے لیکن تفتیش کا معیار بدستور اس بوسیدہ نظام کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے‘ ناقص تفتیش سے انصاف کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے۔ بنیادی سہولیات سے لے کر ٹرانسپورٹ اور دیگر وسائل سے محروم تفتیشی عملے کے پاس واحد آپشن کرپشن ہے‘ جہاں سسٹم انصاف فراہم کرنے والوں کو کرپشن پر مجبور رکھے وہاں انصاف اور دادرسی کیسے ممکن ہے؟ خوشنما تھانوں کے عقبی اور بالائی تاریک حصوں میں کام کرنے والا تفتیشی وِنگ جن حالات اور وسائل سے دوچار ہے‘ اس کے نقطے ملائیں تو کرتا دھرتائوں کے مائنڈ سیٹ اور دہرے معیار کا خاکہ واضح ہو جاتا ہے۔
سینٹرل پولیس آفس پنجاب نے تفتیشی اخراجات کا ٹیرف کچھ یوں طے کر رکھا ہے کہ قتل کی تفتیش 30 ہزار روپے‘ اقدامِ قتل 15 ہزار‘ لڑائی جھگڑا 2500‘ ڈکیتی 20 ہزار‘ چوری 2500‘ گاڑی/موٹرسائیکل چھیننا 7500‘ گاڑی/موٹرسائیکل چوری 5000‘ اغوا برائے تاوان 25ہزار‘ دنگا فساد 7500‘ اسلحہ آرڈیننس 2500‘ منشیات 10 ہزار‘ دیگر مخصوص قوانین 2500‘ متفرق کیسز PPC 2500۔ تفتیشی افسر اِن اخراجات کا کلیم تفتیش کی تکمیل اور عدالت میں چالان جمع کرانے کے بعد ہی کر سکتا ہے جبکہ موقع واردات کے نقشے سے لے کر پوسٹ مارٹم‘ فرانزک لیب‘ ٹرانسپورٹ اور عدالتی چکروں کے علاوہ دستاویزات کی تکمیل تک سبھی مراحل پر اُٹھنے والے اخراجات کیسے پورے ہوں گے‘ اس ضمن میں سرکاری مراسلہ بھی خاموش ہے جبکہ دیگر وارداتوں میں ملزم کی گرفتاری اور نشاندہی پر مزید گرفتاریوں کیلئے مقامی اور بین الاضلاعی سفر کیلئے بھی ٹرانسپورٹ کا بھی کوئی انتظام نہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ جیسے تیسے تفتیش مکمل کر لی تو عدالت میں چالان جمع کرانے کے بھی نرخ طے ہیں۔ بصورتِ دیگر پراسیکیوشن کا عملہ چالان تفتیشی کے گلے کا مستقل ہار بنا ڈالتا ہے۔ قتل کا چالان 15 ہزار سے 70 ہزار روپے تک‘ ڈکیتی کا 3000 سے 5000‘ بجلی چوری 1000 سے 5000‘ نارکوٹکس 3000 سے 10ہزار‘ فنانشل کرائم 3000 سے 10ہزار‘ ڈسچارج مقدمہ 500 سے 10ہزار حتیٰ کہ اَن ٹریس کیسز میں بھی 300 سے 500روپے دیے بغیر چالان جمع کرانا ممکن نہیں۔ بالخصوص ہر تین ماہ بعد کریمنل جسٹس کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے افسران کا دباؤ ہوتا ہے کہ زیر التوا چالان ہر صورت جمع کروائیں‘ جس کیلئے اتوار کو بھی سروس فراہم کی جاتی ہے۔ ہر تین ماہ بعد تھوک کے بھاؤ جمع ہونے والے چالان کھڑکی توڑ سیزن سے ہرگز کم نہیں ہوتے۔ پنجاب بھر سے 2024ء کے 11 لاکھ 42 ہزار 665 مقدمات کے چالان جمع کروانے کی اوسط رقم اگر 10 ہزار بھی تصور کریں تو بات اربوں تک جا پہنچتی ہے اور اوسط رقم سے نکل کر اگر باقاعدہ حساب کیا جائے تو اس رقم کا حجم کھربوں روپے کو چھو جائے گا۔ تفتیشی مراحل کے اخراجات ایک طرف‘ پراسیکیوشن کے طے شدہ نرخ دوسری طرف‘ ان سبھی کو پورا کرنے کیلئے بَلی کا بکرا مدعی بنے یا ملزم یا حصہ بقدرِ جثہ دونوں‘ تفتیشی کو کیونکر قصور وار کہا جا سکتا ہے جبکہ تفتیشی کی تبدیلی کی صورت میں نئے تفتیشی کو اخراجات کی مد میں کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ کئی ماہ و سال بعد بھی تفتیشی کو شہادت کیلئے دور دراز شہروں میں بھی طلب کر لیا جائے تو اس کا خرچہ اسی کی جیب پر ہوتا ہے۔ انصاف اور دادرسی کا دارومدار ہی جب تفتیش پر ہے تو محکمہ ناقص تفتیشی نظام کو سینے سے کیوں لگائے ہوئے ہے۔ ذرا سوچیے!
صرف لاہور ہی کو لے لیجئے‘ 2024ء میں 3 لاکھ 3257 مقدمات درج ہوئے جن کے اوسط تفتیشی اخراجات کم از کم 10ہزار روپے بھی ہوں تو تین ارب تین کروڑ 25لاکھ 70ہزار روپے بنتے ہیں۔ یاد رہے! یہ رقم سرکاری ٹیرف کے مطابق اوسط رقم سے کہیں زیادہ بنتی ہے جبکہ اس واجب الادا رقم کا چند فیصد بھی تفتیشی عملے کو نہیں ملا۔ ایسے میں لاء اینڈ آرڈر کو لے کر خوش کن اعداد و شمار‘ دلفریب نمائشی اقدامات اور خوشنما دفاتر اور شیش محل تھانوں سے ذاتی مدح سرائی تو کی جا سکتی ہے لیکن دادرسی اور انصاف ہرگز ممکن نہیں۔ ایسے حالات میں مدعی ہو یا ملزم دونوں تفتیشی کیلئے اسامی ہوتے ہیں اور جو بڑی اسامی ثابت ہو جائے‘ تفتیشی کو وزن اسی کے پلڑے ڈالنا پڑتا ہے۔ جب نظامِ انصاف اربوں‘ کھربوں کی اکانومی میں جکڑا ہوا ہو تو اسے آزاد کون کرائے گا۔ اگر غیرحقیقی لیکن طے شدہ تفتیشی اخراجات بھی فیلڈ سٹاف کو نہ ملیں تو ان خطیر رقوم پر کوئی تو موجیں مار رہا ہو گا۔
چلتے چلتے یہ بھی باور کراتا چلوں کہ بڑے شہروں میں فی تفتیشی 200سے 300کیسز کی تفتیش کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہے۔ تہواروں‘ جلسے جلوسوں سمیت دیگر انتظامی ڈیوٹیوں کے بعد سال بھر کے اوسط کاروباری دن نکالیں تو یومیہ ایک تفتیش سے زائد کیس بنتے ہیں جو اہلیت اور قابلیت کے باوجود انسانی اوقات و بساط سے باہر ہے۔ ایسے میں عوام کا رونا دھونا اور ماتم ان سبھی کی اکانومی ہو تو ایسی اکانومی زندہ باد!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved