سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت پر عدمِ اعتماد کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے اُن کی برطرفی کے بعد محمد شہباز شریف وزیراعظم پاکستان کے منصِب پر فائز ہوئے اور ان کا یہ دور اپریل 2022ء سے اگست 2023تک رہا۔ درمیان میں نگران دور رہا اور پھر مارچ2024ء سے تاحال اُن کی وزارتِ عظمیٰ کا دوسرا دور جاری وساری ہے۔ اُن کے پہلی حکومت سنبھالنے کے وقت تو یہ کہا گیا تھا کہ ملک نادہندگی (Default) کے دہانے پر ہے اور حکومت کی اولین ترجیح ملک کو نادہندگی سے بچانا ہے‘ ورنہ اس کے نتیجے میں جو مشکلات آئیں گی وہ ناقابلِ حل ہوں گی۔ اسی بنا پر آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط کو بھی ماننا اور پورا کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں عوام پر بے انتہا معاشی دبائو پڑا اور حکومت کو عوام کی ناراضی مول لینا پڑی۔ مگر تاحال وہ مشکلات تقریباً برقرار ہیں اور حکومت عوام کو کوئی معتد بہ ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ تاہم اس عرصے میں حکومت نے بلاشبہ تگ ودو بہت کی۔ اس دوران بھارتی حکومت نے ثبوت وشواہد کے بغیر پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالا اور 7تا 10مئی پاکستان پر یکطرفہ طور پر جنگ مسلط کر دی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی غیبی تائید ونصرت سے پاکستان کو فتح وکامرانی سے سرفراز فرمایا۔ عالمی سطح پر پاکستان کی حربی مہارت کی دھاک بھی بیٹھی اور ساکھ بھی بہت بہتر ہوئی۔ خاص طور پر پاک فضائیہ کے شاہینوں کا تو دنیا بھر میں ڈنکا بج گیا۔ آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی عالمی سطح پر بہت وقار واعتبار ملا۔ ایک فاتح سپہ سالار اور کمانڈر کے طور پر اُن کا شخصی تاثر عالمی سطح پر ابھر کر سامنے آیا اور یہ قوم وملک کی حیثیت سے پاکستان کیلئے بھی اعزاز وافتخار کی بات ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں ظہرانے پر خصوصی ملاقات سے نوازا۔ ان کا اور وزیراعظم کا تذکرہ بارہا اچھے انداز سے کیا۔ پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ بھی لیا۔ اسے پاکستان نے کھلے دل سے تسلیم کیا مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسے اپنی توہین سمجھا اور ٹرمپ کو کریڈٹ دینے میں بخل سے کام لیا‘ اس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان دوریاں پیدا ہوئیں۔ اس عرصے میں پاکستان کو تاریخ میں پہلی مرتبہ سفارتی میدان میں بھی نمایاں کامیابی ملی ہے اور امریکہ اور مغربی پریس نے بھی ایک سے زائد مرتبہ اس کا ذکر کیا اور فیلڈ مارشل کی ان کامیابیوں کو نمایاں کیا جو نریندر مودی کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے۔ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار دھیمے لہجے اور ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں‘ بلاشبہ سفارتی میدان میں اُن کی کارکردگی اچھی رہی اور اس میں مئی کی جنگ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تحرُّک کا بھی کافی دخل ہے۔
اپنے اقتدار کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ریکارڈ غیر ملکی دورے کیے۔ اے آئی کے مطابق ان دوروں کی تعداد 57 ہے اور بیشتر دوروں میں پاکستان کے اندر اُن ممالک کی سرمایہ کاری کی بشارتیں دی گئیں اور دسیوں مفاہمت کی یادداشتوں (MOUs) پر دستخط ہوئے۔ خاص طور پر پاکستان اور چین کے اشتراک سے بنائے ہوئے فائٹر جیٹ جے ایف 17 تھنڈرکی دیگر ممالک کو فروخت کی خبریں بھی آتی رہی ہیں لیکن اب تک یہ مفاہمت کی یادداشتیں عملی سانچے میں ڈھلتی ہوئی نظر نہیں آ رہیں اور یہ بھی ہمارے علم میں نہیں ہے کہ فائٹر جیٹ جے ایف 17تھنڈر کی خریداری کے کسی ملک یا ممالک کے ساتھ باقاعدہ معاہدے ہو چکے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے مختلف ممالک کے سربراہان اور سعودی عرب کے ولی عہد اور امارات وقطر کے سربراہانِ مملکت کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں اُن کے مناظر (Optics) تو یقینا دلکش تھے لیکن عملی نتائج کے بارے میں کوئی واضح شواہد وآثار نظر نہیں آ رہے۔ اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور بہتری کی جانب رواں دواں ہے لیکن ابھی تک اس ترقی کی برکات عوام تک منتقل نہیں ہوئیں‘ اس لیے مایوسی پیدا کرنے والے عناصر کو اپنے مؤقف کے حق میں بہت سے شواہد مل جاتے ہیں کیونکہ معیشت کی بہتری کی ظاہری علامات میں سے یہ بھی ہوتا ہے کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہوں‘ عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوتا ہے اور طلب ورسد کے بازار میں سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ہماری تو تمنا اور دعا ہے کہ ہمارے اہلِ اقتدار نے ترقی کا جو خواب دیکھا ہے یا عوام کو دکھایا ہے‘ اس کی تعبیر اُن کو اور پوری قوم کو مل جائے کیونکہ یہی ہمارے ملک وقوم کے حق میں مفید ہے۔ مختلف ممالک کی طرف سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے جو وعدے‘ اعلانات اور مفاہمتی یادداشتیں تسلسل کیساتھ ہوتی رہی ہیں ابھی اُن کی عملی شکل نظر نہیں آ رہی۔ اگرچہ ہماری حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے حالات غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے نہایت سازگار ہیں مگر وہ ممالک بھی سوچتے ہوں گے کہ اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے حالات سازگار ہوتے تو پاکستانی سرمایہ کار اپنا سرمایہ دبئی کیوں منتقل کرتے۔ اسی رجحان کے سبب پاکستان ہمیشہ زرِمبادلہ کے دبائو میں رہتا ہے۔
اس دوران ''ہنڈرڈ انڈیکس‘‘ میں پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ریٹنگ کافی بلند رہی اور تقریباً پونے دو لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمیں یہ اندازہ نہیں کہ آیا یہ ریٹنگ حقیقی ہے یا مصنوعی عوامل کی کارفرمائی ہے‘ کیونکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج سے باہر کی معیشت میں اسکی عکاسی نظر نہیں آتی اور سٹاک ایکسچینج کے بارے وقتاً فوقتاً سٹے کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ حکومت بلاشبہ معیشت کے استحکام اور ترقی کے دعوے کرتی ہے لیکن بجٹ کے اعداد وشمار اور دیگر عوامل ان کی تصدیق کرتے نظر نہیں آتے۔ جب معیشت ترقی کرتی ہے تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں‘ غربت میں کمی آتی ہے‘ متوسّط طبقہ فروغ پاتا ہے‘ ملکی قرضوں کا بوجھ کم ہوتا ہے‘ لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔
سوشل میڈیا کی بہتات نے ہمیں من حیث القوم اخلاقی زوال سے دوچار کیا ہے۔ ہماری معاشرتی اقدار روبہ زوال ہیں‘ بعض سیاسی قائدین نے قوم کو اور کچھ دیا ہو یا نہ دیا ہو‘ لیکن عوام سے اُن کی اخلاقی قدروں کو چھین لیا ہے اور شر کو خیر بنا کر متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس کے منفی اثرات اُن قائدین کے بارے میں بھی مرتب ہو رہے ہیں جنہوں نے اس شعار کو رواج دیا ہے اور یہی شعار کسی سیاسی مفاہمت کی راہ میں سَدِّ سکندری بن گیا ہے۔ سائنسی ترقی کا ایک مظہر سوشل میڈیا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ اس کا شر غالب ہے یا خیر۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی تپش اب مغرب بھی محسوس کر رہا ہے۔ آسٹریلیا کی حکومت 16سال تک عمر کے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر بندش کے بارے میں قانون سازی کرنے کی سوچ رہی ہے اور ایجنسی فرانس پریس نے بتایا: ''فرانس بچوں کو سکرین کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے بچانے کیلئے ایک نئی کوشش کرے گا‘ جس کے تحت اگلے ستمبر تک 15 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سیکنڈری سکولوں میں بھی موبائل فون استعمال پر پابندی کی تجویزشامل ہے‘‘ (یکم جنوری2026ء)۔این ایف سی ایوارڈ کے نتیجے میں صوبوں کے مالی وسائل میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وفاق کافی دبائو میں ہے۔ وفاقی حکومت کو اپنے معاملات چلانے کیلئے مسلسل داخلی اور خارجی قرض لینا پڑ رہا ہے۔ مقتدرہ چاہتی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ردوبدل کر کے وفاق کا حصہ بڑھایا جائے مگر صوبوں بالخصوص صوبۂ سندھ کی جانب سے اس کی کافی مزاحمت ہو رہی ہے اور وفاق بے بس ہے۔
یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مفادات کا ٹکرائو ہے اور پاکستان کیلئے یہ صورتحال نازک ہے کیونکہ پاکستان کی ترجیح دونوں ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنا ہے۔ بظاہر پاکستان کا جھکائو سعودی عرب کی طرف نظر آتا ہے۔ غیر علانیہ طور پر متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنے میں تاخیری حربوں سے کام لیتا ہے۔ پس پاکستان کیلئے سعودی عرب اور امارات کا تنازع ایک پلِ صراط کی مانند ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved