یہ وینزویلا کی نائب صدر کا بیان ہے‘ جس میں کسی تاوان کا ذکر تو نہیں مگر یہ سب کو معلوم ہے۔ یہ لاطینی امریکہ کا‘ جسے آپ جنوبی امریکہ بھی کہہ سکتے ہیں‘ تیل کے قدرتی ذخائر سے مالا مال ملک ہے۔ ابھی تک دریافت کیے گئے ایسے وسائل میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ زیر زمین موجود تیل کا اندازہ تقریباً تین سو تین بلین بیرل ہے‘ اور اس وقت عالمی منڈی کو 17 فیصد تیل اس ملک کے ذخائر سے سپلائی ہوتا ہے۔ آج کل کے عالمی بندوبست میں عدم توازن اور تقریباً گزشتہ چالیس سالوں سے امریکہ کی جانب سے کئی ممالک کے خلاف لشکر کشی نے پورا نظام ہی بدل ڈالا ہے۔ بین الاقوامی قانون‘ جو پہلے ہی کمزور تھا‘ بین الاقوامی ادارے‘ جن میں اقوام متحدہ سر فہرست ہے‘ پہلے ہی بڑی طاقتوں کی منشا اور مفادات کے تابع تھے‘ مگر اب لگتا ہے کہ یہ بالکل بے جان ہو گئے ہیں۔ تین سال غزہ میں امریکی اعانت سے اسرائیل نسل کشی کرتا رہا ہے‘ نہ کوئی قانون نہ کوئی عالمی ادارہ اور نہ ہی کوئی بڑی طاقت اس کے خلاف حرکت میں آئی۔ پوری دنیا بے بسی سے ظلم وبربریت کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھتی رہی۔ دو دن پہلے صبح بیدار ہوتے ہی جب فون پر نیویارک ٹائمز کھولا تو شہ سرخی دیکھ کر یقین نہیں آ رہا تھا۔ مگر افغانستان میں بیس سالہ جنگ‘ عراق اور لیبیا میں فوجی مداخلت سے حکومتوں کی تبدیلی سے ذہن میں موجودہ عالمی نظام کے بارے میں جو تاثر قائم ہو چکا ہے‘ اس سے ایک نئے واقعے کے رونما ہونے کا تصور پیدا ہوا۔ کھٹکا تو دل کو ضرور لگا کہ آخر یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا‘ اگر کبھی رکا تو۔ کسی مقتدر ریاست میں فوجیں اتار کر ملک کے صدر کو گرفتار کرکے امریکہ لے جانا اور اُسے اپنی عدالتوں سے اپنے قانون کے مطابق سزا دینے کی ایک تاریخ بن چکی ہے۔ اس کا آغاز سرد جنگ کے ختم ہوتے ہی شروع ہو گیا تھا۔
1990ء میں پاناما کے صدر مینوئل نوریگا تھے۔ وہی ملک جہاں پاکستان کی پانچ سو کے قریب اشرافیہ اور سیاسی بڑوں نے اور دیگر ممالک کے ہزاروں لوگوں نے کمپنیوں میں سرمایہ رکھا ہوا ہے۔ امریکہ نے الزام لگایا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔ اُسی سال کے اوائل میں فوجی کارروائی کی گئی‘ صدر نوریگا کو امریکی فوجی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ہتھکڑیاں لگا کر اپنے ملک لے گئے۔ عدالت بیٹھی اور نوریگا کو چالیس سال قید کی سزا سنا دی۔ جب اُس نے سترہ سال قید کاٹ لی تو فرانس کے حوالے کر دیا گیا جہاں اُسے سات سال مزید قید کی سزا ہوئی۔ کئی سال وہاں قید رہنے کے بعد باقی قید اپنے ملک میں کاٹنے کیلئے بھیج دیا گیا اور وہ قید میں ہی انتقال کر گئے۔ طالبان کی حکومت ختم کرنے میں غالباً صدی کی سب سے بڑی جنگ اور تاریخ میں اتحادیوں کی طویل ترین قطار تھی۔ ایک نیا نظام بنانے کیلئے بیس سال جنگ کی‘ جس کا مرکزی نکتہ آزادی‘ نئی ریاست اور نئی قوم تھا۔ آخر میں اقتدار جن سے چھینا تھا‘ اُنہی کے حوالے کرکے عجلت میں گھر کی راہ لینا پڑی۔ ابھی چند سال ہی ہوئے تھے‘ سوچا کہ فوجی قوت اب تو پورے خطے میں موجود ہے کیوں نہ صدام حسین کی حکومت کا بھی خاتمہ کرتے چلیں کہ خلیج کی پہلی جنگ کے بعد فوجی مشن کا یہ حصہ ادھورا رہ گیا تھا۔ لیبیا کے صدر معمر قذافی بھی بعد میں امریکی حملوں کا نشانہ بنے‘ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں نے پکڑ کر کیمروں کے سامنے تشدد کرکے قتل کر دیا۔ جو قدریں ان سب میں مشترک ہیں‘ ان سے پہلے تازہ واقعے کے بارے میں سن لیں۔ ایک عرصہ بلکہ دہائیوں سے امریکی قیادت وینزویلا کی حکومتوں سے ناخوش تھی۔ وہاں اشتراکیت‘ کیوبا کے ساتھ خاص تعلق اور چین اور روس کی جانب خارجہ پالیسی کا رخ انہیں کھٹکتا تھا۔
تیاری تو لگتا ہے کہ پہلے ہی وہ کر چکے تھے اور جس طرح کئی ہفتوں سے وہ چھوٹی کشتیوں اور بحری جہازوں پر وقتاً فوقتاً حملے کر رہے تھے‘ اس سے بھی اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ کمانڈو ایکشن کر کے صدر نکولس مادورو کو سرکاری رہائش سے گرفتار کر کے نیویارک کے بروکلین جیل میں بند کر دیں گے۔ ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان کہ وہ اب وینزویلا کے معاملات خود چلائیں گے اور امریکی کمپنیاں وہاں تیل کے ذخائر میں سرمایہ کاری کر کے انہیں اپنی تحویل میں لیں گی‘ اب کسی کو حیران نہیں کرے گا۔ جو تفصیل ابھی سامنے آئی ہے وہ بھی حیران کن نہیں کہ سی آئی اے کا بندہ صدارتی محل میں موجود تھا جو ہر وقت امریکیوں کو باخبر رکھتا تھا۔ ابھی تک تو وہاں کی نائب صدر ڈٹی ہوئی نظر آتی ہیں مگر دیکھیں وہاں مزاحمت ہوتی ہے‘ جس کے امکانات مجھے تو نظر نہیں آ رہے‘ یا پھر حالات کے جبر کو تسلیم کر کے نئی حقیقتوں کے مطابق اپنا ذہن اور سیاست تبدیل کر لیتے ہیں۔
صرف ایسے واقعات بیان کر دینا کافی نہیں۔ نہ ہی ظالم اور مظلوم کی داستان چھیڑنے اور امریکی استعماریت کے خلاف کھوکھلے نعروں کی ضرورت ہے۔ اصل بات حالات کو سمجھنا اور ان سے سبق حاصل کرنا ہے۔ جن ممالک کی بات کی ہے وہاں آمریت تھی یا ایسی جمہوریت جہاں کوئی خاص فارم چلتا تھا۔ دہائیوں سے ایک شخص‘ ایک خاندان‘ ایک ہی جماعت کی حکومت تھی۔ ایسی حکومتوں پر براجمان شخصیات اور خاندانوں کا واحد مقصد اپنی طاقت کو مضبوط کرنا تھا۔ اقتدار کی مرکزیت اور وسائل کو مخصوص گروہ یا طبقے کے ہاتھ میں رکھنے کی روش ان کی سیاسی ضرورت بن جاتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت اور حکومتی اقلیت میں سوچ‘ رہن سہن‘ دولت کی تقسیم اور دولت کا فرق آخر انہیں اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔ اکثریت باہر کی مداخلت کیلئے اعلانیہ درخواستیں تو دنیا کو نہیں بھیجتی مگر مظلوم ہاتھ اٹھا کر اٹھا کر دعائیں مانگتے ہیں کہ ہم تو کمزور ہیں‘ کوئی باہر سے آ کر ان پر دبائو ڈالے۔
گزشتہ مضمون میں سیاسی اور فکری اختلاف کو معاشروں میں فطری عمل کے طور پر پیش کیا تھا اور گزارش کی تھی کہ اگر اختلاف یا جسے مفادات کا ٹکرائو بھی کہ کہہ سکتے ہیں‘ کے حل کا کوئی متفقہ اور مؤثر نظام نہیں اور کوئی من مانی کرکے سب کو خموش رکھنے کیلئے طاقت کا استعمال کرتا ہے تو وہ فساد کی جڑ بن سکتا ہے۔ جس دن صدام حسین کو اقتدار سے ہٹایا گیا تھا‘ ایران اور پاکستان میں کچھ لوگوں کو بہت خوش دیکھا۔ وجہ اس کی آمریت اور مخالفین پر مظالم تھے۔ طالبان اور شمالی اتحاد کے دھڑوں میں باہمی بربریت کی مثالیں یہاں دہرائی نہیں جا سکتیں۔ لیبیا کے کرنل قذافی سرعام مخالفین کو پھانسیاں دینے اور کئی ممالک میں دہشت گردی کیلئے وسائل اور ٹریننگ فراہم کرنے کیلئے مشہور تھے۔ ڈرگ مافیا اپنی مرضی اور مفادات کے مطابق ریاستی اداروں پر اثر رکھتے ہیں۔ اسی خیال سے یہ تاثر قائم کرنا مقصد نہیں کہ امریکہ کا کوئی حق بنتا ہے کہ وہ منشیات کی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ‘ جو اکثر مغربی ممالک کے خزانوں میں جمع ہوتی ہے‘ کو بہانہ بنا کر کسی ملک میں مداخلت کرگزرے۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ ایسے عالمی حالات سے ہمیں کیا سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اس تازہ واقعے کے بعد ایک دوست کا پیغام آیا کہ ہماری باری بھی آ سکتی ہے۔ کہا کہ کسی بھی امکان کو رد کرنا آج کل کی ریاستوں کیلئے غفلت کے مترادف ہو گا۔ ایران کو ہمارے پڑوس میں زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت ہے کہ وہاں اندر سے ایک عرصہ سے لوگوں میں بے چینی اور حکومتی نظام بارے اختلاف ہے۔ اوپر سے مغربی دنیا کے ساتھ چپقلش‘ معاشی پابندیاں اور آزادی پر قدغنیں‘ بیرونی مداخلت کا جواز تو نہیں‘ کمزوری ضرور پیدا کر رہی ہیں۔ منقسم معاشروں میں ہمیشہ ایک دھڑا مداخلت کاروں کا ساتھ دیتا ہے۔ ہمیں بھی بہت کچھ سیکھنے اور تاریخ کا یہ سبق یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت اپنے علاقے اور عالمی سطح پر معروضی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے اندر سیاسی سمجھوتا کرکے اتحاد پیدا کریں۔ معاشی ترقی کے منصوبے اور اہداف حاصل کریں اور بااعتماد اور مشترکہ سیاسی نظام بنائیں۔ اندرونی تقسیم اور تصادم ہمیں کمزوررکھیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved