خلیج عدن دنیا کی بحری تجارت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ تقریباً بیس ہزار بحری جہاز سالانہ یہاں سے گزرتے تھے اور پھر یہ تعداد کم ہونے لگی اور وجہ تھی غزہ کی جنگ‘ کیونکہ یمن میں موجود حوثی‘ جو ایرانی حمایت یافتہ تھے‘ ہر اُس جہاز کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے تھے جس کا تعلق اسرائیل کے حامی ممالک سے ہوتا یا جو اسرائیلی بندرگاہ سے جا رہا ہوتا۔ تیل کی ترسیل ہو یا عام بحری تجارت‘ خلیج عدن کی اہمیت مسلمہ ہے۔ یہاں باب المندب بھی ہے‘ جہاں یہ سمندری گزرگاہ مزید سکڑ جاتی ہے۔ خلیج عدن دو اہم سمندروں‘ بحیرہ عرب اور بحر احمر کو ملاتی ہے۔ باب المندب کی مشرقی جانب یمن ہے اور مغربی جانب جبوتی اور صومالیہ۔ افریقہ کے اس حصے کو Horn of Africa کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ہیئت جانور کے سینگ جیسی ہے۔
صومالیہ چونکہ طویل عرصے سے افراتفری کا شکار ہے لہٰذا یہاں بحری قزاق ایک عرصے سے موجود ہیں اور آتے جاتے جہازوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ جہازوں پر حملوں کے علاوہ اس راستے سے منشیات کی سمگلنگ بھی ہوتی ہے۔ پاک نیوی پچھلے کئی سالوں سے اُس انٹرنیشنل فورس کا حصہ ہے جس کا ہیڈ کوارٹر بحرین میں ہے اور جس کا مقصد اس علاقے میں بحری قزاقی اور ڈرگ سمگلنگ کا مقابلہ کرنا ہے۔ خلیجی ممالک سے یورپ اور شمالی افریقہ جانے والا تیل ہماری سمندری حدود سے ہوتا ہوا خلیج عدن اور نہر سویز سے گزرتا ہوا اپنی منازل تک پہنچتا ہے‘ لہٰذا پاکستان اپنا فرض سمجھتا ہے اس سمندری علاقے میں امن کی فضا قائم رہے اور جہاز رانی بغیر کسی خوف وخطر ہو سکے۔ ہمارے اس ذمہ دارانہ عمل سے اقوام عالم میں پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اس طویل تمہید کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کہ یمن کی موجودہ صورتحال کیا ہے۔ عرب سپرنگ کی لہر یمن تک بھی پہنچی اور صدر علی عبداللہ صالح کو اپنا ملک چھوڑ کر سعودی عرب میں پناہ لینا پڑی۔ گو کہ وہ کچھ عرصے کے بعد واپس یمن چلے گئے لیکن اقتدار واپس نہ لے سکے۔ یمن کو عرب دنیا کا افغانستان بھی کہا جا سکتا ہے۔ غربت عام ہے اور ذاتی ہتھیار وافر۔ لوگ غیرتمند ہیں۔ قبائلی تقسیم اور شناخت بھی موجود ہے۔ 1988ء میں تین ہفتے کی سرکاری ڈیوٹی پر میں عدن گیا تھا۔ اُس سے کچھ عرصہ پہلے جنوبی یمن حصولِ اقتدار کیلئے لڑی گئی ایک مختصر سول وار سے گزر چکا تھا۔ عدن کی متعدد عمارتوں پر گولیوں کے نشانات تھے۔ جنوبی یمن‘ جس کا دارالحکومت عدن تھا‘ عرب دنیا کا اکلوتا ملک تھا جہاں سوشلزم زور وشور سے آیا تھا‘ یعنی ذاتی مکان اور دکانیں بھی حکومت نے اپنی تحویل میں لے لی تھیں۔ ایک قبائلی معاشرے پر سوشلزم نافذ کرنا تقریباً ناممکن تھا لہٰذا جنوبی یمن میں بھی سوشلزم کا وہی حال ہوا جو افغانستان میں ہوا تھا۔ البتہ اس سے چھٹکارے کا طریقہ مختلف تھا۔ یمن میں مذہبی قوتیں روایتی طور پر کمزور رہی ہیں۔ 1988ء میں سوشلزم کا غلبہ جاری تھا۔ مساجد کھلی تھیں جبکہ شراب ہر اچھے ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے مینو میں شامل ہوتی تھی۔ سوشلزم نے اس کی معیشت پر خاصا منفی اثر ڈالا۔ وہ عدن جہاں ایک زمانے میں بالی وڈ کے فلمی ستارے شاپنگ کیلئے جاتے تھے‘ اس وقت ویرانی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ شمالی یمن کا دارالحکومت صنعا تھا اور پاکستان کا سفارتخانہ دونوں جگہ قائم تھا۔ شمالی اور جنوبی یمن کی علیحدہ علیحدہ شناخت تب بھی قائم تھی اور آج بھی ہے حالانکہ مذہب اور زبان ایک ہی ہے‘ بس قبائل مختلف ہیں۔ شمال کی آبادی کا ایک حصہ زیدیہ مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔
عدن کے علاوہ جبوتی اور بربرا وہ بندر گاہیں ہیں جو خلیج عدن میں واقع ہیں۔ بربرا صومالی لینڈ کی بندرگاہ ہے۔ آپ کے علم میں ہو گا کہ حال ہی میں اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صومالیہ ایک عرصے سے اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ 1991ء میں صومالیہ کے صدر سیاد بری کی فوج کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی اور پھر ملک میں طوائف الملوکی کا لمبا دور شروع ہو گیا۔ جب حکومت کمزور ہو جائے تو دہشت گرد تنظیمیں اور جرائم پیشہ گروہ منظم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ صومالیہ کو بحری قزاقوں نے اپنی آماجگاہ بنا لیا۔ الشباب نامی دہشت گرد تنظیم نے یہاں نشوونما پائی۔ ابھی چند ہفتے پہلے امریکی جنگی طیاروں نے صومالیہ میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ جب مرکز کمزور ہو جائے تو علیحدگی پسند قوتیں سر اٹھانا شروع کر دیتی ہیں۔ پچھلی صدی کے اواخر میں صومالیہ کے ایک حصے میں ایک نئی ریاست کے قیام کا اعلان ہوا جسے صومالی لینڈ کا نام دیا گیا۔ تیس سال ہونے کو ہیں‘ دنیا کے کسی ملک نے صومالی لینڈ کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا اور اب اچانک اسرائیل نے اسے تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سکیورٹی کونسل نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے لیکن اسرائیل نے کب سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پروا کی ہے۔
خلیج عدن عسکری اور تجارتی لحاظ سے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ آپ جبوتی سے لگا سکتے ہیں۔ یہ چھوٹا سا ملک ہے مگر وہاں سات ممالک نے فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور یہ ممالک ہیں؛ امریکہ‘ چین‘ جاپان‘ فرانس‘ اٹلی‘ جرمنی اور سپین۔ میں 1986ء میں جنوبی یمن کی سول وار کے سبب عدن سے آئے ہوئے پاکستانی شہریوں کے انخلا کیلئے جبوتی گیا تھا۔ اُس وقت وہاں صرف فرانس کا فوجی اڈا تھا۔ اب سنا ہے کہ سعودی عرب‘ بھارت اور روس بھی وہاں عسکری وجود رکھنے کے خواہاں ہیں۔ خلیج عدن کی مشرقی جانب حوثی ہیں جو اسرائیل اور اس کے حامی ممالک کے جہازوں کیلئے دردِ سر بنے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یمن میں القاعدہ بھی کئی سال فعال رہی ہے۔ یمن کا جنوبی حصہ پھر سے علیحدگی پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔ 2015ء میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے یمن میں فوجیں اتاری تھیں اور دونوں کا سٹرٹیجک ہدف حوثی باغیوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ دونوں ممالک کے اہداف میں فرق آنے لگا۔ یمن کا شمالی حصہ سعودی عرب کا جنوبی بارڈر ہے‘ اور یہ طویل سرحد ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ یمن میں استحکام ہو‘ حکومت کا مکمل کنٹرول ہو‘ گورننس اچھی ہو تاکہ وہاں دہشت گرد تنظیمیں پنپ نہ سکیں اور خلیج عدن میں جہاز رانی کو بڑے مسائل نہ ہوں۔
اب بھی سعودی عرب اور عرب امارات حوثی باغیوں کے خلاف ہیں لیکن ایک عرصے سے عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ عرب امارات جنوب میں موجود علیحدگی پسندوں کی حمایت کر رہا ہے۔ چونکہ سعودی عرب متحدہ یمن کے حق میں ہے لہٰذا اسے اس نئی پالیسی پر تحفظات تھے۔ پچھلے ماہ یمن کے علیحدگی پسندوں نے کئی کامیابیاں حاصل کیں تو ایک سوال ذہنوں میں اٹھنے لگا کہ علیحدگی پسندوں کو اتنے ہتھیار کہاں سے مل رہے ہیں۔ 30 دسمبر کو سعودی طیاروں نے یمن کی مکلہ بندرگاہ پر ایک بحری جہاز پر حملہ کیا۔ اس جہاز پر شک تھا کہ یہ یو اے ای سے علیحدگی پسندوں کیلئے ہتھیار لایا تھا۔ اس حملے کے جلد بعد یو اے ای نے اعلان کیا کہ تمام اماراتی فوجی یمن سے نکل جائیں گے۔ یہ بہت دانشمندانہ فیصلہ ہے۔ دو اہم خلیجی ممالک کے تعلقات مزید بگاڑ سے بچ گئے ہیں۔ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات‘ دونوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں لیکن سعودی عرب کے ساتھ ہمارا سٹرٹیجک معاہدہ بھی ہے‘ لہٰذا پاکستان نے سعودی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے دونوں دوست ممالک سے کہا کہ وہ احتیاط سے کام لیں اور مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔ ظاہر ہے کہ دو برادر عرب ممالک میں تناؤ ہو تو پاکستان کو یقینا پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ ادھر مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ میں غزہ کے فلسطینیوں کو بسانا چاہتا ہے اور وہاں اپنا عسکری اڈا بھی قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ خلیج عدن سے اسرائیل جانے والے جہازوں کو تحفط مل سکے۔ ان حالات میں عرب اور اسلامی اتحاد اشد ضروری ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved