بلوچستان سے خیبرپختونخوا تک پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ویسے تو پورے ملک میں سردی کا جشن ہے اور جشن کے دن بنتے بھی یہی ہیں۔ مجید امجد کے الفاظ میں ''برف گرتی ہے ساز بجتے ہیں‘‘۔ مجید امجد نے خواہ یہ شالاط کے دیس اور میونخ کیلئے لکھا ہو لیکن ہمارا رومان اس فاصلے کی وجہ سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم جو گرم ملکوں‘ تمازت بھرے شہروں کے پروردہ ہیں‘ ہماری روز مرہ زندگی سے شاعری تک‘ لفظ سے خواب تک‘ بارش اور برفباری حسین خوابوں کا استعارہ ہیں۔ میدانی علاقوں کے باشندوں کیلئے سرسبز پہاڑ ہی ایک خوشگوار تصور ہے۔ اور اس پہاڑ پر اگر برفباری بھی ہو تو خواب مکمل ہو جاتا ہے۔ ایک زمانے تک مجھے بھی انتظار رہا کہ کب پہلی برفباری میرے آنکھوں کو سیراب کرے گی۔ بہت بار مری‘ سوات‘ کاغان وغیرہ جانا ہوا لیکن یا تو وہ برفباری کے دن نہیں تھے یا موسم تھا لیکن برف کے گالوں کو دھیرے دھیرے آسمان سے اترتے دیکھنا مقدر میں نہیں تھا۔ زیادہ افسوس اس وقت ہوتا تھا جب سفر سے واپسی کے ایک دو دن بعد معلوم ہوتا تھا کہ بادلوں کو جیسے ہماری واپسی کا ہی انتظار تھا۔ بعد میں برف پڑی اور خوب پڑی۔ ایسے میں کراچی سے آئے ہوئے لوگ زیادہ مایوس ہوتے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بادل بھرے آسمان کو پُرامید نظروں سے دیکھ کر جب بھی مقامی لوگوں سے پوچھتے کہ کیا برفباری ہو گی تو وہ کبھی دل شکنی نہ کرتے‘ باہر جھانک کر دیکھتے اور کہتے کہ ہاں موسم تو بنا ہوا ہے۔ لیکن وہ موسم ہماری موجودگی تک بس بنا ہی رہتا تھا۔ اس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا تھا۔
یہ بات بھی سچ ہے کہ پہاڑی علاقوں کے لوگوں کیلئے یہ ایسی کوئی دلکش چیز اور ایسا خواب نہیں ہو سکتا۔ ہم جو میدانی علاقوں کے رہنے والے اور یہیں عمریں اور نسلیں بسر کر دینے والے ہیں‘ اپنی خوابناک دنیا میں جائیں تو جھیل‘ سمندر‘ سبزہ زار کے ساتھ پہاڑ اور برف کا تصور لازمی ہے۔ برف زاروں کے مکین کیسے خواب دیکھتے ہیں؟ کیا گرم اور معتدل بستیوں کے خواب‘ گرم سمندروں‘ ہرے جنگلوں اور نم آلود جھونکوں کے خواب؟ وہ دنیا جو اتنی سرد مہر نہ ہو اور جہاں زمہریری ہواؤں کے تھپیڑے تھپڑ نہ مارتے ہوں؟ سچ ہے کہ سمندر کے ماہی گیروں کیلئے سمندر میں کون سی ایسی کشش باقی رہے گی۔ وہ تو روز اس کی لہروں پر سوار ہوتے ہیں۔ لیکن مثال کے طور پر ایک صحرائی کیلئے پہلی بار سمندر کے نظارے جیسا پُرتحیر‘ پُر ہیبت‘ حسین اور یادگار منظر کون سا ہو گا؟ آنس معین کا شعر ہے:
حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا
میں جانتا ہوں کہ پہاڑی یا سرد علاقوں کے جانوروں کیلئے ہی نہیں لوگوں کیلئے بھی یہ گہری لمبی نیند کا زمانہ ہوتا ہے۔ ہر معمول پر برف قفل ڈال دیتی ہے۔ گھروں سے لے کر کاروبار تک۔ بہت سے گھرانے ان دنوں میدانی علاقوں کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں۔ سب کیلئے ممکن نہ ہو تو بزرگوں کو بھیج دیتے ہیں کہ یہ شدید سردی ان کے بس کی نہیں رہتی۔ آمدنی کے ذرائع معطل‘ آمد رو فت ناممکن‘ کھیتی باڑی محال‘ سیاحت ناکافی۔ کسی جگہ سیاح ایک دو دن کیلئے برفباری کا نظارہ کرنے آجائیں تو گزارا چل جاتا ہے ورنہ پھر وہی سردی اور وہی سفید پوش قید۔
بہرحال ہم میدانی ایک زمانے تک برف اترتے دیکھنے کی حسرت دل میں لیے پھرتے رہے۔ ہر چیز کا ایک وقت ہے اور اس وقت کے بعد خواہش پوری ہوتی ہے اور ایسی ہوتی ہے کہ بس۔ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ پہلی محبت اور پہلی برفباری بھلا کون بھول سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پہلی محبت اور پہلی برفباری زندگی کے ناقابلِ فراموش تجربات میں سے ہوتے ہیں۔ پہلی محبت کا تو نہ پوچھیے کہ وہ کیفیت پھر اس کے بعد کبھی لوٹ کر آتی ہی نہیں‘ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بعد کی ہر محبت پہلی محبت کا اعادہ ہے۔
یہ تو بس اک کوشش سی تھی پہلے پیار میں رہنے کی
سچ پوچھو تو ہم لوگوں میں کس نے عشق دوبارہ کیا
کوئی 35سال پہلے کی بات ہو گی‘ جنوری کے دن تھے جب ہم لاہور سے نکلے اور مری کا رخ کیا۔ مردوں‘ خواتین اور بچوں سمیت ایک قافلہ ہنستا گاتا مری کی چڑھتی سڑک پر روانہ ہوا۔ اس وقت مری ایکسپریس وے کی موجودگی کیا‘ شاید منصوبہ بھی تیار نہیں ہوا تھا۔ یاد کریں کہ اس پرانی سڑک کے ساتھ کیا کیا خوبصورتیاں وابستہ تھیں۔ اب ایکسپریس وے میں سہولتیں بہت ہیں لیکن وہ خوبصورتی کہیں نہیں ملتی۔ وہ درخت اور پودے جو مری اور گلیات کی شناخت ہیں‘ وہ سب پرانی سڑک پر ہی رہ گئے کہ انہیں نقل مکانی منظور نہیں تھی۔ اُس دن بھی یہ پرانی سڑک جھومتی جھامتی پہاڑوں پر چڑھنے لگی اور میدانی علاقوں کے درخت‘ جھاڑیاں اور پودے آہستہ آہستہ نیچے جانے لگے۔ ذرا آگے چیڑ کے پہلے درخت نے استقبال کیا تو سب نے خوشی سے نعرے لگائے کہ ہم میدان سے پہاڑوں پر آچکے ہیں۔ ذرا اور اوپر پہنچے تو پہاڑی کوے کی بیٹھی ہوئی آواز نے خوش آمدید کہا۔ یہ بھی اعلان تھا کہ ہم گلیات میں ہیں۔ لیکن جس براق‘ سفید پوش فرشتے کا انتظار تھا وہ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ درختوں اور سڑک کے کناروں پر کہیں برف کا نشان نہیں تھا اور لگتا تھا کہ ہمارا خواب اس بار بھی تشنۂ تعبیر ہی رہے گا۔ خواہشوں پر برف پڑنا تو پھر لازمی تھا۔
پرانی سڑک پر سفر کرنے والوں کو معلوم ہے کہ اسلام آباد سے مری جاتے ہوئے چھرہ پانی مری سے پہلے وہ پوائنٹ تھا جہاں پہاڑی کی سمت ایک گرتے چشمے کے پاس رک کر ان پرانی گاڑیوں کے انجن ٹھنڈے کیے جاتے تھے جو مسلسل چڑھائی سے آگ بگولا ہورہے ہوتے تھے۔ہم چھرہ پانی پہنچے اور کچھ دیر انجن کو آرام دینے کیلئے رک گئے۔ ٹھنڈ بہت تھی اور چھرہ پانی میں گرتے چشمے میں ہاتھ ڈالے تو جیسے انگلیاں غائب ہو گئیں۔ منہ پر چھپکا مارا تو ناک بھی جسم سے گویا لا تعلق ہو گئی۔ آگے بڑھے اور یہ سوچ کر بڑھے کہ اس بار بھی برف نہیں صرف بلندی ملے گی۔ ذرا اور آگے گئے تو ایک جیپ مری سے واپس آتی دکھائی دی اور اس کے سر پر برف اس طرح لدی ہوئی تھی جیسے کسی کسان نے کپاس کی گٹھڑی اٹھا رکھی ہو۔ مسافروں کی خوشی سے چیخیں نکل گئیں کیونکہ وہ ایسے ہی کسی منظر کی تلاش میں دور سے آئے تھے۔ چھرہ پانی سے اوپر چڑھتے گئے اور سبز منظر سفید رنگ میں بدلتے گئے۔ دیو قامت درختوں کی پھنگیں سفید ہونے لگیں اور ہرا رنگ غائب ہوتا گیا۔ ہر سمت ایک براق سکوت اور سفید سناٹا ہمارا منتظر تھا۔ وہ سناٹا جس کے سکوت پر ہزار کلام قربان ہوں۔ مال روڈ پہنچنے تک منظر بالکل بدل چکا تھا۔ درخت اور عمارتیں تو ایک طرف‘ بجلی اور ٹیلیفون کے تاروں پر بھی برف اس طرح جمی تھی جیسے لمبے لمبے سفید سیخ کباب آویزاں ہوں۔ میرا پسندیدہ ریسٹورنٹ کھلا تھا اور یہی اس سرد خانے میں واحد گرم جگہ دکھائی دے رہی تھی۔ ابھی کافی کا آرڈر سرو نہیں ہوا تھا اور یخ بستہ شیشے کی دیوار کے ساتھ میز سے سگریٹ کے مرغولے اٹھنے شروع ہی ہوئے تھے کہ روئی کے گالے آسمان سے اترنا شروع ہو گئے۔ سفید کبوتروں کے پر ہمارے گالوں‘ بالوں اور کپڑوں پر اترتے گئے اور جمتے گئے۔ اس خنکی اور سردی میں ایک آگ تھی جو جوانی کی آگ کے ساتھ مل کر دو آتشہ ہوتی تھی اور اس کے نارنجی شعلے جسم کی رگ رگ میں بھڑکتے تھے۔ یہ سفید آگ تھی جو آسمان سے برستی اور جسم میں رقص کرتی تھی۔ صبح اٹھے توکنواری برف نے ہر شے کو اپنے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ 35سال پہلے کا یہ سفر‘ یہ منظر اور موسم آج تک دل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ یہ ہماری زندگی کی پہلی برفباری تھی۔ ایک سفید رنگ میں کتنے ہی رنگ تھے جو ہمارے اندر بکھرتے تھے۔ خالص اور بے حد خوبصورت پہلی محبت کی طرح۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved