تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     05-01-2026

مثالی حکمران

تاریخِ انسانیت میں بہت سے اچھے اور برے حکمران گزرے ہیں۔ بہت سے حکمرانوں نے اپنی رعایا کے ساتھ بڑا ظالمانہ سلوک کیا۔ ایسے حکمرانوں میں فرعون اور نمرود سرفہرست ہیں‘ جن کو آج بھی بطور عبرت یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے بالمقابل تاریخ میں بہت سے ایسے حکمران بھی گزرے جنہوں نے عوام کے دُکھ درد کو بانٹنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا اور ان کو ہمیشہ اچھے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے جہاں تاریخ بہت سی معلومات فراہم کرتی ہے وہیں کتاب وسنت میں بھی بہت سے مثالی حکمرانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اچھے حکمرانوں کے طور پر حضرت یوسف‘ حضرت ذوالقرنین‘ حضرت طالوت‘ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیہم السلام کا ذکر کیا ہے۔ یہ تمام شخصیات اپنے عہد میں مثالی حکمران کے طور پر نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب اللہ میں اچھے حکمرانوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے اوصاف کا بھی ذکر کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیات: 246 تا 247 میں حضرت طالوت کے اوصاف کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں ''کیا آپ نے موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا جبکہ انہوں نے اپنے پیغمبر (شموئیل) سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔ انہوں نے کہا: بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے‘ سب (اپنے قول سے) پھر گئے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے‘ تو (وہ) کہنے لگے: بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں‘ اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا: سنو! اللہ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے‘ بات یہ ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے‘ اللہ کشادگی والا اور علم والا ہے‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن میں حضرت دائود علیہ السلام کی اچھی صفات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ سورۂ ص کی آیات: 17 تا 20 میں ارشاد ہوا ''اور ہمارے بندے دائود کو یاد کرو‘ جو بڑی قوت والا تھا۔ یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے تابع کر رکھا تھا کہ اس کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں۔ اور پرندوں کو بھی‘ (جو) جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے۔ اور ہم نے اس کی سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت دی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا‘‘۔ ان آیات مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت دائود علیہ السلام کی صفات کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو بڑی طاقت سے نوازا تھا۔ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب رجوع کرنے والے تھے اور ان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تسبیح اور تحمید کے لیے بڑی خوبصورت آواز عطا کی تھی اور ان کو حکمت اور فیصلہ کن بات کرنے کی صلاحیت بھی ودیعت کی تھی۔
جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اچھے حکمرانوں کے اوصافِ حمیدہ کا ذکر کیا وہیں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اچھے حکمرانوں کے اعلیٰ کردار کا بھی ذکر کیا کہ جو ہر اعتبار سے مثالی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت طالوت علیہ السلام کے کردار کا ذکر کیا کہ انہوں نے جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کیا کہ یہ لوگ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بغاوت کے راستے پر چلنے والے تھے۔ اسی طرح حضرت ذوالقرنین کے بہت سے سفروں کا ذکر کیا کہ انہوں نے کس انداز سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی عطا کردہ حکومت وطاقت کو استعمال کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے یاجوج اور ماجوج کے فتنے کے خاتمے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الکہف کی آیات: 93 تا 98 میں حضرت ذوالقرنین کے واقعے کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ''یہاں تک کہ جب دو دیواروں کے درمیان پہنچا تو ان دونوں کے پرے اس نے ایک ایسی قوم پائی جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی۔ انہوں نے کہا: اے ذوالقرنین! یاجوج ماجوج اس ملک میں (بڑے بھاری) فسادی ہیں‘ تو کیا ہم آپ کے لیے کچھ خرچ کا انتظام کر دیں؟ (اس شرط پر کہ) آپ ہمارے اور ان کے مابین ایک دیوار بنا دیں۔ اس نے جواب دیا کہ میرے اختیار میں میرے پروردگار نے جو دے رکھا ہے وہی بہتر ہے‘ تم صرف قوتِ طاقت سے میری مدد کرو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنا دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں دو۔ یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی تو حکم دیا کہ آگ تیز جلائو تاوقتیکہ لوہے کی ان چادروں کو بالکل آگ کر دیا‘ تو فرمایا: میرے پاس لائو اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں۔ پس تو ان میں اس دیوار کے اوپر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ ان میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔ کہا: یہ صرف میرے رب کی مہربانی ہے‘ ہاں! جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اس (دیوار) کو زمین بوس کر دے گا‘ بیشک میرے رب کا وعدہ سچا اور حق ہے‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی کارکردگی کا ذکر کیا کہ انہوں نے غلے کی تدوین کے لیے زبردست حکمت عملی اختیار کی اور سات برس تک اضافی غلے کو ذخیرہ کیا۔ نتیجتاً جب عالمی قحط نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تو حضرت یوسف علیہ السلام کی حکمت عملی کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ مصر کے لوگ قحط سالی سے بچ گئے بلکہ وہ پوری دنیا میں خوراک کی ترسیل کے بھی قابل ہو گئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے جہاں اپنی حکومت کو انسانوں کی بھلائی کیلئے استعمال کیا وہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کے ابلاغ کے لیے بھی اسے بھرپور استعمال کیا اور اُس عہد کی بہت بڑی ملکہ سبا کو توحید کی دعوت دی اور اس کو عقلی دلائل سے دعوتِ توحید کو قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ دربار سلیمانی میں ملکہ سبا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے درمیان ہونے والے مکالمے کا ذکر سورۃ النمل کی آیات: 41 تا 44 میں کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ''(سلیمان نے حکم دیا) کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ راہ پا لیتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے۔ پھر جب وہ آ گئی تو اس سے کہا گیا کہ ایسا ہی تیرا (بھی) تخت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے‘ ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے۔ اسے انہوں (سلیمان) نے روک رکھا تھا (ان سے) جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی‘ یقینا وہ کافر لوگوں میں سے تھی۔ اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو‘ جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ فرمایا: یہ تو شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے۔ کہنے لگی: میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں‘‘۔ ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب ملکہ سبا کو اس بات کا احساس ہوا کہ وہ شیشے اور پانی میں فرق کرنے سے قاصر رہی ہے تو اس کو اپنی بداعتقادی کا بھی ادارک ہوگیا۔
ان عظیم حکمرانوں کے علاوہ جب ہم تاریخ انسانیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم بھی مثالی حکمران کے طور پر نمایاں ترین کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بندگی کے لیے اپنے آپ کو وقف کیے رکھا بلکہ رعایا کی خدمت کے لیے بھی نمایاں اور مثالی کردار ادا کرتے رہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلم حکمرانوں کو مثالی کردار ادا کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved