تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     08-01-2026

پریشر ککر کے سارے سوراخ بند نہ کریں

پاکستان میں سیاست اب باقاعدہ تہمت بن گئی ہے۔ باہمی تعلقات‘ رواداری‘ گفتگو‘ تحمل‘ برداشت‘ اختلافِ رائے‘ دلیل اور احترام انفرادی حد تک تو خیر سے رخصت ہو ہی گئے تھے‘ اب معاملات بہت اوپر والے لیول پر بھی برداشت‘ جمہوری اقدار‘ اختلافِ رائے اور آزادیٔ اظہار وغیرہ کیلئے شجرِ ممنوعہ بنتے جا رہے ہیں۔ اللہ ہمیں سچ کی توفیق عطا فرمائے! حالات اس نچلی سطح تک پہنچ گئے ہیں کہ بندہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ جمہوری دورِ حکومت میں ( کاغذوں کی حد تک تو یہی معلوم ہوا ہے) اور میثاقِ جمہوریت پر دستخط کرنیوالی دو بڑی پارٹیوں کے زیر سایہ جمہوری اقدار کیساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ ایسا شاندار ہے کہ اس کی مثال مارشل لاء کے ادوار میں بھی نہیں ملتی۔
یہ عاجز اپنی زندگی میں چار مارشل لاء بھگت چکا ہے‘ تاہم عملی طور پر صرف دو مارشل لاء ایسے کہے جا سکتے ہیں جن سے سیاسیات کے اس طالبعلم کا باقاعدہ واسطہ پڑا۔ اس عاجز کی زندگی کا پہلا مارشل لاء گو کہ اس کی پیدائش سے پہلے ہی لگ چکا تھا مگر اس فقیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کی پیدائش ایوب خان کے لگائے گئے مارشل لاء کے دوران ہوئی اور میں نے اپنی زندگی کی پہلی تین بہاریں اسی مارشل لاء کے زیر سایہ دیکھیں۔ بھلا اتنی سی عمر میں اس مارشل لاء کو دیکھنے کا کیا موقع ملا ہو گا مگر جس طرح جنوبی پنجاب والے دورانِ حج پیدا ہونے والے بچے کو ساری عمر حاجی صاحب کہہ کر پکارتے ہیں‘ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والا یہ قلمکار بھی اس لحاظ سے پیدائشی طور پر مارشل لاء کے زیر سایہ تین سال گزارنے کے باعث مارشل لاء کے معاملات پر حقِ استحقاق کا حامل ہے۔
جب اس ملک کے دوسرے مارشل لاء کے بارے میں چھٹی کلاس کے امتحانات میں مصروف دس سالہ بچے سے بھلا کیا امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ مارشل لاء وغیرہ کے بارے میں زیادہ جان سکتا؟ خدا کا شکر ہے تیسرے مارشل لاء نے آنے میں کچھ تاخیر کر دی اور یہ قلمکار یونیورسٹی پہنچ چکا تھا اور اس کا نہ صرف مشاہداتی گواہ ہے بلکہ ضیائی دور میں مارشل لاء کے ضابطہ 1371 کے تحت جیل یاترا بھی کر چکا ہے اور اس ساری صورتحال کا عینی شاہد ہے۔ چوتھا یعنی پرویز مشرف والا مارشل لاء تو ابھی کل ہی کی بات ہے۔
ایمانداری کی بات ہے کہ جن دو مارشل لائوں کو اس فقیر نے بقائمی ہوش وحواس دیکھا اور بھگتا ہے ان میں بھی کئی معاملات کم از کم آج کے جمہوری دور سے کہیں بہتر تھے اور جہاں تک آزادیٔ اظہار کا تعلق ہے وہ کم از کم پرویز مشرف کے دور میں تو ہر لحاظ سے آج سے بہتر تھی۔ میں پرویز مشرف کے مارشل لاء یا اس اقدام کی تعریف نہیں کر رہا‘ محض موازنہ کر رہا ہوں اور موازنہ کرنے کا مقصد کسی بات کی تعریف یا توصیف نہیں بلکہ باہمی تقابل ہوتا ہے اور میں اپنے پورے یقین اور شرحِ صدر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ تب اُس غیر جمہوری سرکار میں قوتِ برداشت‘ حوصلہ‘ تحمل‘ صرفِ نظر اور صبر اس سے کہیں زیادہ تھا جو آج کے نام نہاد جمہوری دور میں ہے۔
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ پرویز مشرف کا دور تھا اور پنجاب میں پرویز الٰہی کی حکومت تھی۔ وہی پرویز الٰہی جو کہا کرتے تھے کہ وہ پرویز مشرف کو دس بار وردی میں اس ملک کا صدر بنائیں گے۔ وہی پرویز الٰہی جن کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ وہ پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے۔ پھر وہی پرویز الٰہی عمران خان کے دورِ حکومت میں پہلے پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور آخری دنوں میں وزیراعلیٰ پنجاب رہے۔ آج کل گو منظر سے غائب ہیں اور جیل یاترا کے غم غلط کر رہے ہیں۔ البتہ میں جس دور کی بات کر رہا ہوں وہ ان کی پہلی وزارتِ اعلیٰ کا دور تھا۔ مرکز میں پرویز مشرف پوری طاقت اور کروفر سے صدارت کے منصب پر قابض تھے۔ پرویز الٰہی حکومت نے پنجاب میں ''واڈھی میلے‘‘ کے نام سے سرکار کے پرچم تلے تقریبات اور میلوں ٹھیلوں کا بازار سجایا۔ اس میلے کے دوران ایک تقریب مشاعرہ بھی تھی۔ یہ مشاعرہ قذافی سٹیڈیم لاہور میں الحمرا اوپن ایئر کلچرل کمپلیکس میں ہوا۔ اس مشاعرے کے دو حصے تھے۔ مجھے اس کے پہلے حصے میں شرکت کی دعوت دی گئی مگر میں اسی تاریخ کیلئے پہلے ہی سے کہیں وعدہ کر چکا تھا۔ میری عادت ہے کہ میں تقریبات میں شرکت کیلئے وعدے کی پابندی پر یقین رکھتا ہوں اور دیگر معاملات کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔ لہٰذا اس تاریخ کیلئے معذرت کر لی۔ منتظمین نے کہا کہ اس کا دوسرا حصہ دو چار دن بعد ہو گا آپ اس کی صدارت قبول کر لیں‘ میں نے ہامی بھر لی۔
مشاعرہ بڑا ز بردست رہا اور سارا اوپن ایئر تھیڑ اس طرح فل تھا کہ محاورے کے مطابق اس میں ''تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی‘‘۔ ایک تو مجمع از خود بھرپور تھا‘ اوپر سے لاہوری بھی تھا۔ آپ اس سے مشاعرے کے زندہ دل سامعین کی جانب سے شاعروں کی پذیرائی اور داد کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بحیثیت صدر میں نے آخر میں اپنا کلام سنانا تھا۔ جب میری باری آئی تو خدا جانے میرے دل میں کیا آئی کہ میں نے شعر سنانے کا آغاز ہی جسں قطعے سے کیا وہ صدر پرویز مشرف اور پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کے بارے میں تھا۔ میں عموماً اپنے کالم میں کسی مشاعرے کا عمومی طور پر اور اپنے اشعار یا پرفارمنس کا خصوصی طور پر کبھی تذکرہ نہیں کرتا مگر اس وقت معاملہ دوسرا آن پڑا ہے‘ اس لیے روایت کو توڑتے ہوئے صرف وہ قطعہ نذرِ قارئین کر رہا ہوں جس سے میں نے مشاعرے میں اپنی باری پرشعر سنانے کا آغاز کیا۔ قطعہ تھا:
بابے کا یہ ملک تھا سالم لیکن اب تو ہاف نئیں لبھدا
نہانے پر تو لعنت بھیجو‘ پِین کو پانی صاف نئیں لبھدا
سوکھا کر کے اس ملک میں جسٹس کو انصاف نئیں لبھدا
جیسے ای صدرکی وردی اتری سو سو میل تے قاف نئیں لبھدا
اب آپ خود سوچیں آج کا دور ہوتا تو میں اندر ہوتا‘ لیکن نہ کوئی پرچہ ہوا، نہ کوئی ایف آئی آر کٹی۔ نہ غداری کی کوئی دفعہ لگی اور نہ ہی سٹیج سے اترتے ہی کسی نے اٹھا کر ڈالے میں ڈالا۔ میں نہ صرف خیریت سے گھر پہنچ گیا بلکہ مجھے اس مشاعرے کا اعزازیہ بھی بڑی عزت واحترام کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہ اس دور کا حال ہے جب اس ملک میں ایک آمر حکمران تھا۔
یہ باتیں مجھے گزشتہ دو تین دن میں پڑھی جانے والی خبروں سے یاد آئیں۔ شالامار باغ میں لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب میں قوال فراز امجد خان نے ''نک دا کوکا‘‘ گایا جس میں قیدی نمبر 804 کا ذکر تھا۔ اطلاع کے مطابق اس گانے پر شرکائے محفل نے نہ صرف بڑی داد دی بلکہ بھنگڑے بھی ڈالے۔ باغ انچارج نے اس وقوعہ کی ایف آئی آر تھانہ باغبانپورہ میں درج کروا دی۔ قوال موصوف پر بغاوت اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ دلچسپ خبر گوجرانوالہ سے آئی جہاں شادی کی تقریب میں شامل (ایف آئی آر کے مطابق) سات افراد نے عمران خان کی تصویر اٹھا کر شادی والے سٹیج پر نعرہ بازی کی۔ ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نے پولیس رپورٹ پر ان سات افراد کی نظر بندی کے احکامات کے جاری کرتے ہوئے انہیں چودہ دن کیلئے جیل بھجوا دیا۔ اب آپ اندازہ کر لیں کہ شادی کی تقریب جو مطلقاً پرائیویٹ تقریب ہے اس میں بھی سیاسی اظہار کی آزادی سرکار کو وارے نہیں کھا رہی۔ حکومت کے روز افزوں بڑھتے ہوئے خوف کے پیش نظر گمان ہے کہ عنقریب گھروں میں ہونے والی گفتگو پر بھی مقدمات کے اندراج کی خبریں پڑھنے کو ملیں گی۔
یاد رہے کہ جب پریشر ککر سے گیس کے اخراج کے سارے سوراخ بند کر دیے جائیں تو ککر پھٹ کر نہ صرف خود بلکہ اور بہت کچھ برباد کر دیتا ہے۔ پریشر ککر کے سارے سوراخ بند نہیں کرنے چاہئیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved