تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     08-01-2026

امریکہ‘ وینزویلا اور مسلمان

انسان نہیں بدلا‘ صرف اس کا طریقۂ واردات بدلا ہے۔ اخلاقیات کے اصول ابدی ہیں۔ خیر و شر کا معرکہ ہمیشہ سے ہے۔ ہمیں یہ جان کر کوئی مؤقف اور حکمتِ عملی اختیار کرنا ہو گی۔
وینزویلا میں جو کچھ ہوا‘ یہ قدیم سلطنتوں میں ہوتا تھا۔ تب طاقت فیصلہ کن تھی۔ انسان نے تہذیبی سطح پر اہم پیشرفت کی اور نظمِ سیاسی کو ایک قانون کے تابع کر دیا۔ واقعات کی شہادت یہ ہے کہ یہ محض دکھاوا تھا۔ پہلے طاقت کو پانچ ریاستوں میں مرتکز کر دیا گیا‘ پھر یہ پانچ سے ایک ہوئی۔ طاقت کے اس کھیل کا انداز بدل گیا مگر کھلاڑی کی نفسیات نہیں بدلی۔ یہ وہی ہابیل و قابیل کا قصہ ہے جو نئے انداز سے دہرایا جا رہا ہے۔ طاقت کا کھیل اسی طرح ہوتا ہے۔ دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے۔
ہمارے لیے دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ جو کچھ ہو رہا ہے‘ اسے سمجھا جائے۔ دوسرا یہ کہ کسی فعل کے غلط یا درست ہو نے کا پیمانہ دریافت کیا جائے اور پھر دنیا کو اس جانب متوجہ کیا جائے۔ جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کے بارے میں ہم نے یہ جان لیا کہ یہ طاقت کا کھیل ہے۔ طاقت فیصلہ کرتی ہے اور دنیا اسے ماننے پر مجبور ہوتی ہے‘ تاہم طاقت کے اس کھیل میں ایک بات ہماری توجہ چاہتی ہے۔ محمد بن قاسم کا ہندوستان پر حملہ اور ٹرمپ کا وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنا ایک جیسے واقعات نہیں ہیں۔ جب محمد بن قاسم نے حملہ کیا تھا تو اُس وقت کوئی بین الاقوامی قانون موجود نہیں تھا۔ خلافتِ بنو امیہ اور ریاستِ ہند کے مابین کوئی معاہدہ موجود نہیں تھا۔ اس وقت طاقت کے حق کو عملاً تسلیم کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے اقدام کر سکتی ہے۔ میں اخلاقی جواز کی بات نہیں کر رہا‘ قانون کا ذکر کر رہا ہوں۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ خلافتِ بنو امیہ نے کسی عالمی قانون کی خلاف ورزی کی۔ اس وقت جو کچھ ہوا‘ عالمی نظام کے تحت ہی ہوا۔
آج ایک بین الاقوامی قانون موجود ہے۔ اس قانون کے تحت اقوامِ متحدہ نے جن ریاستوں کو تسلیم کیا ہے‘ ان کی جغرافیائی خود مختاری کی خلاف ورزی خلافِ قانون ہے۔ اگرکوئی ریاست خودسر ہو جائے اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اس کا ہاتھ روکنا ضروری ہو جائے تو کوئی ریاست تنہا اس کے خلاف طاقت کے استعمال کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اس کیلئے اقوامِ متحدہ کی اجازت لازم ہے۔ وینزویلا کے داخلی معاملات میں امریکہ کو اقوامِ متحدہ نے مداخلت کی اجازت نہیں دی‘ جیسے عراق میں نہیں دی تھی۔ اس لیے اس اقدام کے خلافِ قانون ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس سے وینزویلا کی داخلی خود مختاری مجروح ہوئی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں۔ اس بنیاد پر دنیا کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اقدام کو غلط کہے۔ اسی طرح اگر کسی ملک میں خانہ جنگی ہو جائے تو بھی انسانی جانوں کی سلامتی کیلئے بین الاقوامی مداخلت کی اجازت موجود ہے۔ یہ اجازت بھی اقوامِ متحدہ سے لی جائے گی‘ بلکہ وہ مجاز ہو گا کہ اپنی امن فوج بھیجے جس میں کئی ممالک کے فوجی شامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا امریکہ کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور اسے محمد بن قاسم کے اقدام سے مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اب آئیے دوسرے پہلو کی طرف۔ غلط یا صحیح کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا کسی بڑی طاقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں مداخلت کر سکتی ہے۔ ہماری مذہبی فکر یہ کہتی ہے کہ دنیا میں اگر کہیں ظلم ہے یا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور آپ اس کو ختم کر سکتے ہیں تو آپ کو اقدام کا حق حاصل ہو جاتا ہے‘ تاہم کسی ملک یا قوم کے ساتھ اگر آپ کا کوئی معاہدہ موجود ہے تو پہلے اسے اعلانیہ ختم کرنا ہو گا۔ اس کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر کسی مسلم ملک کے پاس طاقت ہے اور اس کے خیال میں فلسطین میں اسرائیل ظلم کا مرتکب ہوا ہے تو وہ اس ظلم کو روکنے کیلئے اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ اب اگر اس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں اور اس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا تو پھر وہ کسی معاہدے کا پابند نہیں‘ لہٰذا اقدام کر سکتا ہے۔ اس معاملے میں غلط صحیح کا پیمانہ ہمارا اجتہاد ہے۔
اگر ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنی تعریف کے مطابق ظلم کے خلاف اقدام کر سکتے ہیں تو کیا امریکہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی تعریف کے مطابق اس طرح کا کوئی اقدام کرے؟ (یہاں فلسطین کی بات نہیں ہو رہی کہ وہاں ہونے والے ظلم کے بارے میں دو آرا نہیں)۔ یہ سوال ہم مسلمان اپنے داخلی حلقے میں اٹھا سکتے ہیں مگر ان لوگوں کے سامنے نہیں جو اسلام کو نہیں مانتے۔ وہ اس کے بدلے میں بین الاقوامی قانون کو مانتے ہیں۔ مثال کے طور پر امریکہ اگر عراق کے لوگوں کو یا وینزویلا کے عوام کو اپنے اجتہاد کے مطابق ظلم سے نجات دلانا چاہتا ہے تو اپنا یہ حق وہ کس قانون یا ضابطے کے تحت استعمال کرے گا؟ اس کا ایک ہی جواب ہے: بین الاقوامی قانون۔ وہ قانون جس کے بنانے میں اس کا کردار بنیادی ہے۔ یہ قانون تو اسے یہ حق نہیں دیتا تو پھر اس کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ وینزویلا یا عراق پر چڑھ دوڑے؟ اس کا جواب اخلاقیات یا بین الاقوامی قانون کے پاس یہی ہے کہ وہ اس کا حق نہیں رکھتا۔ تاہم طاقت کے قانون کے تحت وہ اس کا حق رکھتا ہے‘ طاقت کسی قانون کی پابند نہیں ہو سکتی۔ وہ اپنا قانون اپنے ہاتھ سے بناتی ہے۔ انسان کی یہی وہ خاصیت ہے اسے جس کے امتحان میں ڈالا گیا ہے۔ اس طاقت کو اگر کوئی شے روک سکتی ہے تو وہ اس جیسی یا اس سے بڑی طاقت ہے یا اخلاقی قوت۔ اس وقت نہ تو دنیا میں کوئی طاقت ہے جو امریکہ کو روک سکے اور نہ ہی اس کی اخلاقی قوت سلامت ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ جس کو چاہے اپنی جارحیت کا ہدف بنا دیتا ہے۔
پاکستان جیسا ملک اس صورتحال میں صرف اخلاقی حس کو مخاطب بنا سکتا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا اور وہ اتنا ہی مکلف ہے جتنا کہ وہ طاقت رکھتا ہے۔ پاکستان سے اس سے زیادہ کا مطالبہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہم مسلمانوں کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ طاقت کو اپنی حدود میں رکھنے کا کون سا پیمانہ ہونا چاہیے‘ جب معاملہ عالمی سطح پر ہو تو ہم بین الاقوامی قانون کے پابند ہوں گے یا اپنے فہمِ دین کے؟ غیرمسلم اقوام کے ساتھ معاملہ کرنے کا معیار کیا ہے؟ شریعت یا بین الاقوامی قانون؟ امریکہ جیسی طاقت جب خود سر ہو جائے تو ہمارا دین ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے؟ فلسطین اور وینزویلا کے بارے میں دینی حکم یکساں ہو گا یا الگ الگ؟
ان سوالات کے جواب اس لیے ضروری ہیں کہ ہم داخلی سطح پر ان کے جواب نہ ملنے کی وجہ سے اکثر مخمصے میں رہتے‘ بالخصوص جب مسلمان ظلم کا شکار ہوں‘ جیسے فلسطین میں ہو رہا ہے۔ یہ سوال الگ ہے کہ ہم امریکہ کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں یا نہیں‘ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری ذمہ داری کیا ہے جب ہم ایک بین الاقوامی نظام کا حصہ ہیں؟ مسلمان معاشروں کا اس باب میں یکسو ہونا بہت ضروری ہے۔ ورنہ لوگ اپنی حکومتوں کو غلط یا صحیح کوستے رہیں گے۔ اس مخمصے سے بچنا ضروری ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved