تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     09-01-2026

روڈ سیفٹی کے لیے اقدامات

صبح سویرے یونیورسٹی جاتے ہوئے میں بی بی سی ریڈیو سنتا ہوں جہاں روزانہ کی بنیاد پر کسی اہم ترین موضوع پر جاندار تجزیہ کیا جاتا ہے جس میں ماہرین کے علاوہ متعلقہ ادارے کے نمائندے کو بھی شامل کیا جاتا ہے اور یوں یہ گفتگو بڑی دلچسپ اور پُرمغز ہو جاتی ہے۔ کل صبح حسبِ معمول میں نے ریڈیو سننا شروع کیا تو اس وقت برطانیہ میں شاہراہوں پر سفر محفوظ بنانے کیلئے اٹھائے جانے والے مزید سخت اقدامات پر روشنی ڈالی جا رہی تھی۔ پروگرام کی میزبان نے پولیس افسر سے استفسار کیا کہ پہلے ہی برطانوی شاہراہوں پر سفر دیگر یورپی ممالک کی نسبت زیادہ محفوظ ہے تو مزید اقدامات کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ اس پر پولیس افسر نے بڑا مدلل جواب دیا کہ حادثات سے متعلق اعداد و شمار پر مسلسل کڑی نظر رکھی جاتی ہے اور فراہم کردہ معلومات کی باقاعدہ چھان بین کر کے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ حادثے میں ملوث ڈرائیور کا یہ پہلا موقع تھا یا کہ وہ عادی مجرم تھا جس کے مطابق اس پر حسبِ ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ کرسمس کے موقع پر پولیس نے متعدد گاڑیوں کو روکا اور ڈرائیونگ کرتے ہوئے افراد کے ڈرَنک ٹیسٹ کیے گئے کیونکہ برطانیہ میں نشہ کی حالت میں گاڑی چلانا سنگین جرم ہے لہٰذا ڈرَنک ٹیسٹ کا مقصد ڈرائیورز اور دیگر افراد کی زندگیوں کو محفوظ بنانا تھا۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے آنے والے تارکینِ وطن اچھی طرح واقف ہیں کہ برطانیہ میں ڈرائیونگ لائسنس کا حصول کس قدر مشکل ہے جس کیلئے سب سے پہلے ایک تھیوری ٹیسٹ پاس کرنا لازم ہے۔ اس کے بعد روڈ ٹیسٹ کا مرحلہ آتا ہے جس کیلئے ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسگ اتھارٹی (DVLA) یو کے سے منظور شدہ ڈرائیونگ انسٹرکٹر سے عملی تربیت درکار ہوتی ہے جو اپنی نگرانی میں زیر تربیت ڈرائیور کو محفوظ اور بااعتماد ڈرائیونگ کے قوانین اور اصول و ضوابط سے روشناس کراتا ہے اور اس کیلئے فی گھنٹہ 35سے 40پاؤنڈ معاوضہ وصول پاتا ہے۔ عام طور پر روڈ ٹیسٹ سے قبل پندرہ سے بیس گھنٹے تربیت لی جاتی ہے۔ روڈ ٹیسٹ کے دوران ایک بھی بڑی غلطی کرنے پر ڈی وی ایل اے کا ممتحن انسٹرکٹر ڈرائیور کو فیل قرار دیتا ہے جس کے بارے میں ڈرائیونگ ٹیسٹ کے اختتام پر متعلقہ ڈرائیونگ انسٹرکٹر اور امیدوار کو باقاعدہ بریفنگ دی جاتی ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں میں حکومتِ پنجاب نے صوبہ بھر میں بڑھتے ہوئے جان لیوا حادثات اور اس میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کے پیشِ نظر ٹریفک پولیس کے ذریعے ہیلمٹ کی پابندی‘ کم عمری کی ڈرائیونگ‘ بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ اور تیز رفتاری سمیت کئی بے ضابطگیوں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے اور ان کے اطلاق کو یقینی بنانے کیلئے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی وضع کی۔ اس مہم کے دوران بہت سے کم عمر طالب علم موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلانے کے جرم میں گرفتار بھی ہوئے جس پر میڈیا میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا گیا اور اسے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر ہیلمٹ کے استعمال کے حوالے سے درجنوں قسم کی دلچسپ میمز بھی دیکھنے کو ملیں مگر عملی طور پر لوگ ہیلمٹ کے استعمال پر پابندی کرتے نظر آئے۔ دوسری طرف ان بھاری بھرکم جرمانوں کے خلاف گڈز ٹرانسپورٹرز کی کئی مرکزی تنظیموں نے ہڑتال کی کال دی اور ملک بھر میں پہیہ جام کرنے کا فیصلہ کیا تو حکومت کو اس ضمن میں کسی حد تک دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی۔ یہ بات درست ہے کہ جرمانے کی مد میں اچانک ہوشربا اضافے اور اس کے بلاتفریق اطلاق سے صوبہ بھر میں حادثات کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی اور اس کے ساتھ ساتھ محض چند ہفتوں میں لاکھوں نئے لائسنسوں کا اجرا بھی ممکن بنایا گیا۔ اس پر سوشل میڈیا کے خود ساختہ دانشوروں نے حکومتِ پنجاب کو داد و تحسین دینے کے بجائے ان تمام اقدامات کا مقصد بھاری جرمانے عائد کر کے اربوں روپے کی وصولیاں قرار دیا اور ان حکومتی اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مگر کیا یہ ناقدین کم عمری اور مستند ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر سڑکوں پر اپنی قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ کئی اور بدقسمت افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے اور اس کے بعد ان بدنصیب گھرانوں میں مچنے والے کہرام کی شدت محسوس کر سکتے ہیں‘ اس سوال کا جواب ان متاثرہ خاندانوں سے لیا جا سکتا ہے جن پر ان خونیں حادثات کے نتیجے میں قیامت گزرتی ہے۔
یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں باقاعدہ تربیت کے مراحل سے گزر کر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کا کبھی بھی رجحان نہیں رہا۔ عمومی طور پر سائیکل چلاتے ہوئے موٹر سائیکل چلانے کا عمل شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد گاڑی چلانے کا آغاز ہو جاتا ہے جس کیلئے کسی مستند ڈرائیونگ انسٹرکٹر سے باقاعدہ تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی جاتی۔ اسی طرح ٹریکٹر خریدنے کے بعد اپنی مدد آپ کے تحت ٹریکٹر چلانا معمولی بات سمجھی جاتی ہے جس طرح سائیکل چلانے کے بعد خود ہی موٹر سائیکل چلانا شروع کر لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی غیرمستند ڈرائیونگ کے باعث آئے روز خونیں حادثے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے میرے آبائی ڈسٹرکٹ چنیوٹ میں ڈمپرز نے جس طرح سرگودھا فیصل آباد روڈ پر سفر کرنے والوں پر قافیۂ حیات تنگ کر رکھا ہے اور ہر دوسرے دن دو چار بدقسمت افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے وہ یقینا قابلِ افسوس امر ہے۔ ان جان لیوا اور خوفناک حادثات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے بے پناہ جانی نقصان کے باعث سرگودھا فیصل آباد روڈ کو عرفِ عام میں خونی روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پل گیارہ سے بجری اور پتھر لاد کر یہ ڈمپرز چنیوٹ سے گزرتے ہیں جنہیں اکثر زیر تربیت 'چھوٹے استاد‘ چلا رہے ہوتے ہیں جو خوفناک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ ان حادثات میں جب قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوتا ہے تو متاثرہ افراد کے گھروں میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ میں نے آج تک ان خونیں حادثات میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گڈز ٹرانسپورٹرز کے کسی نمائندے کا مذمتی بیان نہیں پڑھا اور نہ ہی انہیں متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کرتے دیکھا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے جب ٹریفک قوانین کی پابندی اور خلاف ورزیوں پر بلاتفریق کڑی سزا اور بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا تو مجھے اچھا لگا کیونکہ مجھ سمیت برطانیہ میں مقیم سارے پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہاں پولیس شاہراہوں کو محفوظ بنانے کیلئے اور ٹریفک قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کیلئے کس قدر بھاری جرمانے عائد کرتی ہے۔ ہاں مگر صرف جرمانے عائد کرنا کافی نہیں ہے بلکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ٹریفک پولیس کے ذریعے برطانوی طرز پر ڈرائیونگ لائسنس کا ایک منظم اور مربوط نظام وضع کرے جس میں تھیوری اور روڈ ٹیسٹ شامل کیے جائیں۔ اس ضمن میں ٹریفک پولیس ہر ضلع میں مستند ڈرائیوروں کو بطور ڈرائیونگ انسٹرکٹرز لائسنس جاری کرے جنہیں ڈرائیونگ قوانین اور اصول و ضوابط پر مکمل عبور ہو اور صرف وہی انسٹرکٹرز اپنے زیر نگرانی تربیت پانے والے امیدواروں کو ٹریفک پولیس کے امتحانی مراکز میں روڈ ٹیسٹ کیلئے اپنے ساتھ لائیں۔ اس طرح ایک طرف پنجاب بھر میں سینکڑوں ڈرائیورز کو معقول روزگار میسر ہو جائے گا تو دوسری طرف ڈرائیونگ لائسنس کے حصول سے قبل باقاعدہ تربیت کا ایک منظم نظام ترتیب دیا جائے گا جس سے روڈ سیفٹی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا اور آئے روز خوفناک ٹریفک حادثات کی شرح میں نمایاں کمی کو یقینی بنانا بھی ممکن ہو سکے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved