تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     11-01-2026

کارگل جنگ پر نیا خوفناک سچ … (2)

میاں نواز شریف کیلئے یہ بات حیران کن تھی کہ جنرل پرویز مشرف اور ان کے ہمنوا انہیں اعتماد میں لیے بغیر اتنی بڑی جنگ چھیڑ چکے تھے اور انہیں اس کی خبر جنرل مشرف کے بجائے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملی تھی۔ ویسے تو میاں نواز شریف کو اپنے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیا الدین بٹ کے انتخاب پر بھی افسوس ہونا چاہیے تھا جنہوں نے میاں صاحب کو کارگل جنگ کے حوالے سے بروقت آگاہ نہیں کیا تھا۔ یہ بات صرف تین چار بڑے جرنیلوں کو معلوم تھی اور کسی کو ہوا تک نہ لگنے دی گئی تھی۔
سوال یہ بھی تھا کہ اتنی بڑی خبر چھ ماہ تک کیسے باہر نہیں نکلی ؟ معاملہ جنگ تک پہنچ گیا اور فوج میں کسی کو علم نہ تھا۔ اگر اب بھی بھارتی وزیراعظم واجپائی میاں نواز شریف کو فون نہ کرتا تو شاید انہیں جوابی بھارتی حملے کی خبر ٹی وی سکرین پر نظر آتی۔ جنرل مشرف کو اندازہ نہ تھا کہ بھارتی وزیراعظم خود میاں نواز شریف کو فون کرکے بتا دے گا اور اُن سے جواب طلبی ہو جائے گی۔ میاں نواز شریف نے جس شخص کو کمزور سمجھ کر آرمی چیف لگایا تھا وہ تو اتنا ہوشیار نکلا کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور دو ملک ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ اس لیے جنرل مشرف نے سمجھداری سے 24گھنٹوں کا وقت لے کر اگلے دن آئی ایس آئی کے دفتر میں بریفنگ رکھ لی۔ جنرل مشرف نے اس بریفنگ میں کہا کہ پاکستانی آرمی نے بھارتی فوج کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر کارگل پر قبضہ کر لیا ہے۔ جنرل محمود کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کو کارگل آپریشن پر بریف کریں۔ جنرل محمود نے جو کارگل کی تصویر پیش کی اس سے لگا کہ پاکستان نے بھارتی فوج کو گلے سے پکڑ لیا تھا اور کسی بھی لمحے وہ سری نگر میں داخل ہو کر پورا کشمیر آزاد کرا لے گی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ اگر بھارتی فوج مشکل میں نہ ہوتی تو وزیراعظم واجپائی کبھی میاں نواز شریف کو فون نہ کرتے‘ یہ کشمیر کو آزاد کرانے کا بہترین موقع ہے۔
لوہا گرم دیکھ کر جنرل محمود نے چوٹ لگائی اور میاں نواز شریف کو کہا کہ کارگل معرکے کے بعد ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ میاں نواز شریف نے جب وہاں موجود جنرل مشرف سے پوچھا کہ کیا واقعی بھارتی فوج کارگل پر ہمارے قابو میں آ چکی ہے تو جنرل مشرف نے بڑھا چڑھا کر کہا کہ جی ایسا ہی ہے۔ ان دونوں جرنیلوں نے میاں نواز شریف کو بڑی چالاکی سے اپنے دام میں کر لیا تھا۔ اس جوش و خروش میں میاں نواز شریف بھول گئے کہ یہ جنگ انہیں بغیر بتائے شروع کی گئی تھی اور اس کی خبر انہیں بھارتی وزیراعظم نے دی تھی‘ جنرل مشرف نے تو ان سے اتنا بڑا رازچھپا رکھا تھا۔ یوں میاں نواز شریف فوراً اس منصوبے میں شامل ہو گئے اور اپنی رضامندگی ظاہر کر دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس کارگل آپریشن کی کامیابی کیلئے دعا بھی کرائی۔ دعا مانگنے کے بعد میاں نواز شریف اور جنرل مشرف ایک الگ کمرے میں چلے گئے۔ کسی کو علم نہ تھا کہ وہاں ان دونوں کے درمیان کیا باتیں ہوئیں۔ جس میاں نواز شریف نے ایک دن پہلے بھارتی وزیراعظم واجپائی کو یقین دہائی کرائی تھی کہ انہیں کارگل جنگ کا کوئی علم نہیں اور یہ کہ وہ اپنے جرنیلوں سے چیک کرکے دوبارہ فون کریں گے‘ وہ اب واجپائی کو فون کرنا تک بھول گئے تھے۔ وہ وزیراعظم جس نے اپنے آرمی چیف کی سرزنش کرنی تھی کہ اس نے کیسے اسے بائی پاس کرکے اتنا بڑا اور خطرناک منصوبہ بنا لیا تھا‘ جس سے واجپائی کے لاہور وزٹ کے بعد دونوں ملکوں میں امن اور مسئلہ کشمیر کے حل کی جو شمع جلی تھی وہ بھی بجھ گئی۔ وہ اب محض خوشامد سن کر اس منصوبے کا حصہ بن گئے تھے اور یہی جنرل مشرف کی کامیابی تھی کہ انہوں نے میاں نواز شریف کو بانس پر چڑھا کر ورغلا لیا تھا۔
دوسری جانب اسی بریفنگ میں موجود ایک سابق جنرل بہت اَپ سیٹ تھا کہ وزیراعظم کو یہ کیا بریف کیا جا رہا ہے بلکہ الٹا ان سے دعا بھی کرا لی گئی تاکہ ثبوت موجود رہے کہ میاں نواز شریف کو اس اقدام کا علم تھا۔ میاں نواز شریف بھی اس ایڈونچر کے نقصانات کا اندازہ لگائے بغیر اس خطرناک کھیل میں شریک ہو گئے تھے۔ جب بریفنگ ختم ہوئی تو سیکرٹری دفاع جنرل افتخار ( چوہدری نثار علی خان کے بھائی) سعید مہدی کو ایک طرف لے گئے اور کہا کہ وزیراعظم کو بریفنگ میں مِس لیڈ کیا گیا ہے۔ ہم زیادہ دیر تک کارگل پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ سن کر سعید مہدی کے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ اب تو وزیراعظم کو چکنی چپڑی باتیں سنا کر دعائے خیر تک کرا دی گئی تھی۔ سعید مہدی نے جنرل افتخار سے پوچھا کہ انہوں نے وہاں بریفنگ میں جنرل مشرف اور جنرل محمود کو کیوں نہیں ٹوکا اور وزیراعظم کو یہ ساری بات کیوں نہیں بتائی‘ تو جنرل افتخار نے کہا کہ ان کا تعلق بھی اسی ادارے سے ہے لہٰذا چپ رہنا ان کی مجبوری تھی‘ ورنہ ان کے قیادت سے تعلقات خراب ہو جاتے۔
جنرل افتخار نے انکشاف کیا کہ جب بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں تو جنرل پرویز مشرف نے انہیں بھی کارگل پر قبضے کی بریفنگ دی تھی لیکن بینظیر بھٹو نے سب کچھ سن کر جنرل مشرف کا منصوبہ مسترد کر دیا تھا۔ پرویز مشرف نے یہ منصوبہ جنرل جہانگیر کرامت کو بھی پیش کیا تھا لیکن انہوں نے بھی اسے مسترد کر دیا۔ تاہم جب جنرل مشرف خود آرمی چیف بنے تو انہوں نے بغیر سیاسی قیادت کو بتائے اس منصوبے پر عمل کر ڈالا۔ جنرل مشرف کو خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے میاں نواز شریف کو اس منصوبے پر پیشگی راضی کرنے کی کوشش کی تو ہو سکتا ہے وہ بھی انہیں منع کر دیں لہٰذا انہوں نے خود ہی دو تین جرنیلوں کے ساتھ ملا کر اس منصوبے پر عملدرآمد کر لیا تھا۔
میاں نواز شریف جب جنرل مشرف کو مل کر باہر نکلے اور وزیراعظم ہاؤس کیلئے روانہ ہوئے تو سعید مہدی نے میاں نواز شریف کو بتایا کہ ڈیفنس سیکرٹری جنرل افتخار احمد کیا کہہ رہے تھے۔ اس پر میاں نواز شریف سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے اگلی صبح ڈیفنس سیکرٹری جنرل افتخار کو بلا لیا کہ وہ انہیں کارگل پر بریف کریں۔ ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیا الدین بٹ کو بھی بلا لیا گیا۔ اس اجلاس میں جنرل افتخار نے میاں نواز شریف کے سامنے یہ خوفناک انکشاف کیا کہ کارگل پر ہماری فوج کو بہت جانی نقصان ہو رہا ہے‘ اور ان سے پورا سچ چھپایا گیا ہے۔ جنرل افتخار کا کہنا تھا کہ جن پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے کارگل پر قبضہ کیا تھا‘ ان میں اکثر فوڈ سپلائی نہ ہونے کے باعث بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ ہماری فوج زیادہ دیر تک کارگل پر اپنا قبضہ قائم نہیں رکھ سکے گی۔ وزیراعظم نواز شریف حیرت سے منہ کھولے اپنے ڈیفنس سیکرٹری کے ہوشربا انکشافات سن رہے تھے۔ 24گھنٹے پہلے جنرل مشرف اور جنرل محمود نے انہیں کارگل آپریشن کی کامیابی کی جو نوید سنائی تھی وہ سب فریب تھا‘ جھوٹ تھا۔ میاں نواز شریف کو احساس ہوا کہ وہ جنرل محمود اور جنرل مشرف کے پھیلائے جال میں پھنس کر کارگل جنگ کی منظوری دے چکے ہیں۔ وہ غور کرنے لگے کہ اب ان کے پاس کیا کارڈز بچ گئے ہیں۔ جنرل مشرف اور جنرل محمود نے انہیں چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ میاں نواز شریف کو پھر اچانک ایک امید نظر آئی کہ وہ جنرل مشرف پر ان کی بازی پلٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے سعید مہدی کی طرف دیکھا اور کہا‘ کل نیول اور ایئرچیف کو بلاؤ۔ نواز شریف کے ذہن میں ایک نیا پلان ابھرا۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved