دنیا کے مغربی کونے پر جو حالات پیدا ہو چکے ہیں اور جو مزید پیدا ہو رہے ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز بس ہوا ہی چاہتا ہے۔ امریکہ نے وینزویلا پر قبضہ کر لیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کا وینزویلا پر قبضہ کئی برس جاری رہے گا اور یہ کہ وینزویلا اپنے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم سے صرف امریکی سامان خرید سکے گا‘ کسی اور ملک سے کوئی سامان نہیں خریدے گا۔ وینزویلا پر امریکی حملے کا لاطینی امریکہ کے متعدد ممالک جیسے کولمبیا‘ چلی‘ برازیل‘ میکسیکو‘ ارجنٹینا اور ایکواڈور کی جانب سے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ کچھ نے اس کی مخالفت کی ہے جبکہ امریکہ کے حامی اور اتحادی ملکوں کی جانب سے اس کی تعریف کی گئی ہے‘ لیکن حیرت انگیز طور پر امریکہ کے مخالف چین اور روس جیسے ممالک کی جانب سے ویسا ردِ عمل مشاہدے میں نہیں آیا جس کی توقع تھی کہ آئے گا۔
اسی حوالے سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کی جانب سے تعاون کے بعد اس ملک پر متوقع دوسری فوجی حملے کی لہر کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مطلب یہ کہ امریکہ وینزویلا پر دوسرا حملہ بھی کرنے والا تھا جو فی الحال روک لیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور وینزویلا کے مابین معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ وینزویلا اور اس کے حامیوں نے لاطینی امریکہ کے خطے میں امریکہ کی بالا دستی قبول کر لی ہے یا اندر ہی اندر کوئی لاوا پک رہا ہے اور کوئی منصوبہ بندی ہو رہی ہے جو کسی روز سارے معاملے کو پلٹ کر رکھ دے گی؟
اسی ایشو سے منسلک ایک خبر یہ ہے کہ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈز نے وینزویلا کی ناکہ بندی سے بچ نکلنے والے روسی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا جس نے روس کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈز طویل عرصے سے اس جہاز کا پیچھا کر رہے تھے اور پہلے بھی اس پر قبضے کی کوشش کر چکے تھے جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی تھی‘ تاہم اب اس روسی جہاز پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا روسی پرچم والے آئل ٹینکر کو قبضے میں لینا بحری قذاقی ہے‘ آئل ٹینکر بین الاقوامی پانیوں میں تھا‘ امریکی اقدام میری ٹائم قوانین کی خلاف ورزی ہے۔روس نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے اقدامات امریکہ روس تعلقات میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور یہ کہ واشنگٹن کو عالمی آئینی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔
خبر آئی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر قبضے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وینزویلا جیسے ملٹری آپریشن کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔ گرین لینڈ کو خریدنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے گرین لینڈ کی 57 ہزار آبادی کو براہ راست 10 ہزار سے ایک لاکھ امریکی ڈالر کی ادائیگی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سامنے آنے والی رپورٹوں میں امریکی صدر کے معاونین اور حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گرین لینڈ کے باشندوں کو رقم کی ادائیگی کا مقصد انہیں ڈنمارک سے علیحدگی پر آمادہ کرنا اور امریکہ میں شامل ہونے پر قائل کرنا ہے۔ کیا امریکہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہو سکے گا؟ اس پر ڈنمارک کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے اور اس کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں گولی پہلے ماریں گے سوال بعد میں پوچھیں گے۔ گرین لینڈ سے متعلق امریکی عزائم پر برطانیہ اور یورپی ممالک نے بھی شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہت ہو چکا‘ ٹرمپ قبضے کے بارے میں تصور کرنا بند کریں۔جب امریکی صدر گرین لینڈ کو وینزویلا سے جوڑ کر فوجی مداخلت کی بات کرتے ہیں تو یہ نہ صرف غلط ہے بلکہ گرین لینڈ کے لوگوں کی بے عزتی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزید دباؤ قبول نہیں‘ قبضے کا کوئی تصور نہیں‘ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن یہ بین الاقوامی قانون کے احترام کے ساتھ ہونا چاہیے‘ گرین لینڈ ہمارا گھر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
دو سال پہلے ایک میڈیا رپورٹ میں جیولوجیکل سروے آف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ گرین لینڈ جزیرے پر 38معدنیات بڑی مقدار میں موجود ہیں جن میں کاپر‘ گریفائٹ‘ نیوبیئم‘ ٹائٹینیم‘ روڈیم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں کی موٹر اور ونڈ ٹربائن بنانے میں کام آنے والی نیوڈیمیم اور پریسیوڈائمیم جیسی نایاب معدنیات بھی گرین لینڈ میں وافر موجود ہیں۔ تو کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ بات من و عن تسلیم کی جا سکتی ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ صرف قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے چاہیے جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ امریکہ سمیت اعلیٰ اور سوفیسٹیکیٹڈ ٹیکنالوجی کے حامل بہت سے ممالک نایاب معدنیات کی تلاش اور حصول کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔
وینزویلا اور گرین لینڈ کے ایشو نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے اور انہی دو حصوں کے مابین تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے جانتے ہوں گے کہ گزشتہ صدی کے دوران پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بھی اسی طرح دنیا کے دو حصوں میں بٹ جانے کے نتیجے میں ہوئی تھیں۔ ماضی کی دو عظیم جنگوں کے بعد دنیا میں امن قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ وضع کیا گیا اور عالمی امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے پورا ایک چارٹر تشکیل دیا گیا‘ لیکن وہ عالمی ادارہ تشکیل دینے اور چارٹر مرتب کرنے کے کم و بیش 80 سال بعد حالات اس نہج کو پہنچ چکے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ کے بادل مغربی دنیا پر براہِ راست اور باقی دنیا پر بالواسطہ طور پر منڈلا رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہی گئی اس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں ہیں‘ امریکہ کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا: میری اپنی اخلاقیات‘ میرا اپنا فیصلہ ہے‘ یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے‘ یعنی اور کوئی قوت نہیں۔ تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اب ڈنڈا راج قائم ہونے والا ہے‘ اور یہ راج قائم کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہ عالمی لیڈر ہے جو دنیا بھر میں آٹھ جنگیں رکوانے کا دعویدار ہے اور اب تک معاملات اور ایشوز کو بات چیت کے ذریعے طے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ (جاری )
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved