چھیالیس برس بعد‘کیا ایران ایک بار پھر انقلاب کی دہلیز پر کھڑا ہے؟
1979ء میں ایرانی معاشرہ قلبِ ماہیت سے گزرا۔ یہ بیسویں صدی کا آخری انقلاب تھا۔ یہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی‘ انقلاب کا لفظ اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ مشہود ہوا تھا۔ مذہبی فکر‘ نظامِ حکومت‘ سماجی خدوخال‘ ہر شے بدل گئی۔ وہ مذہبی فکر جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے‘ صدیوں سے ایک امام کی منتظر تھی اور یہ ہاتھ اگر اٹھتے بھی تھے تو نزولِ امام کی دعاکے لیے‘ اس نے ایک نائبِ امام کے سیاسی اقتدا کو مان لیا جو غیر معصوم تھا۔ ایران میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ نظمِ حکومت بادشاہت سے 'پاپائیت‘ میں بدل گیا۔ سماج نئی شکل وصورت کے ساتھ نمودار ہوا۔ بالخصوص خواتین کا ظاہری رنگ ڈھنگ بدل گیا۔ لہراتی زلفوں کو ردائے مذہب نے ڈھانپ لیا۔ زمین آسمان بدل گئے۔ اسی کا نام انقلاب ہے۔
انقلاب ایک رومان ہے۔ یہ جن نئے زمین وآسمان کو جنم دیتا ہے‘ ایک وقت کے بعد وہ پرانے اور بوسیدہ ہو جاتے ہیں‘ اگر ان کی مرمت اور تزئین وآرائش نہ کی جائے۔ رومان کو قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ جیسے ہی حقائق کی زمین پر قدم رکھتا ہے اس کے تلوے جلنے لگتے ہیں۔ اسے ہمہ وقت بے خودی چاہیے۔ انقلابی راہنما بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ عوام کو پاؤں جلنے کا احساس نہ ہو۔ وہ انہیں وقت کی آگ پر ماتم کے سیاسی فضائل بتاتے اور دانستہ ہیجان میں مبتلا رکھتے ہیں تاکہ جذبات ہی ان کا اوڑھنا بچھونا بنے رہیں۔ وہ ہر حقیقت کی ایک رومانوی تاویل کرتے ہیں۔ جنگ جیسی تلخ زمینی حقیقت کو بھی وہ ایک رومان میں بدل دیتے ہیں۔
ایران کی انقلابی قیادت نے بھی یہی کیا۔ محض رومان کے سہارے عراق کے ساتھ آٹھ برس تک ایک جنگ لڑی۔ سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا۔ گوربا چوف کو خط لکھا۔ انتقالِ اقتدار کا تصور دیا۔ دنیا بھر کے اہلِ تشیع کو نئے خواب دکھائے۔ آخری معرکہ اسرائیل کے ساتھ لڑا اور یہ تاثر قائم کرنا چاہا کہ ایران ہی امتِ مسلمہ کا حقیقی نمائندہ ہے۔ رومان میں بڑی جان ہوتی ہے مگر زمینی حقائق کا معاملہ یہ ہے کہ اُس وقت تک دامن سے لپٹے رہتے ہیں جب تک خود کو منوا نہ لیں۔ ایرانیوں کا رومان زندہ رہا مگر زمینی حقائق کے ساتھ تصادم نے ذہنوں میں تشکیک کے بیج بو دیے۔ انقلاب کے بارے میں سوال اٹھنے لگے۔ یہ سوالات تشنہ جواب رہے اور ذہنوں میں جڑ پکڑتے گئے‘ یہاں تک کہ انہوں نے خود کو منوا لیا۔
خارج میں بیٹھی مخالف قوتیں اُس لمحے کے انتظار میں تھیں جب 'حقائق‘ یہ معرکہ سر کر لیں اور وہ اپنا کھیل کھیلیں۔ ان 'حقائق‘ کی آبیاری میں بھی انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ معاشی ابتری ایک زمینی حقیقت ہے۔ اسے پیدا کرنے میں امریکہ نے اپنا کردار ادا کیا۔ ایران کے اربوں ڈالر امریکی بینکوں میں منجمد کر دیے۔ تجارتی پابندیاں لگا دیں۔ آیت اللہ خمینی صاحب کی مضبوط شخصیت اور انقلاب کے رومان نے ان حقائق کی سرتوڑ مزاحمت کی مگر ان کو تسلیم نہ کیا۔ یہ مزاحمت مگر کمزور ہوتی گئی۔ امریکہ کو اسی وقت کا انتظار تھا۔ الاؤ روشن تو ہوا داخلی عوامل کے زیراثر مگر اس پر تیل ڈالا امریکہ نے۔ اب شعلے بھڑک اٹھے۔ کیا یہ کسی الاؤ میں بدل جائیں گے؟
شاید ایسا نہ ہو۔ لوگ اہلِ مذہب کی سیاسی حکمتِ عملی سے نالاں ہیں۔ انہیں مذہب کے نام پر ریاست کا جبر قبول نہیں۔ انہیں یہ بھی قبول نہیں کہ ایران دنیا سے کٹ جائے اور ایرانی عوام معاشی بدحالی میں مبتلا ہو جائیں۔ یہ منطق انہیں سمجھ میں نہیں آ رہی کہ دنیا سے لڑائی مول لینا کیوں ضروری ہے؟ اس میں ایران کا کیا فائدہ ہے؟ ان کا ذہن یہ بھی قبول نہ کر سکا کہ انقلاب کے نام پر ملنے والی آزادی کو مذہب کے نام پر سلب کر لیا جائے۔ آخر شہنشاہ کی غلامی سے نکل کر مذہبی پیشوائوں کی غلامی کوکیوں قبول کیا جائے؟ انقلاب کے بعد ان کی زندگی کیوں تبدیل نہیں ہوئی؟ موجود قیادت کے پاس ان سوالات کے جواب نہیں لیکن کیا کسی اور کے پاس ہیں؟ کیا ایران میں کوئی متبادل قیادت موجود ہے؟
اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اسی سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ فی الوقت ایران میں کسی سیاسی تبدیلی کا امکان کم ہے۔ اسے ہم 'عرب بہار‘ کی ایک نئی لہر قرار دے سکتے ہیں۔ یہ حالات کے جبر کا ایک فطری مگر غیر منظم جواب ہے۔ یہ غصے کا اظہار ہے‘ تبدیلی کا کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں۔ غصہ چند دن میں نکل جائے گا اور پرانے شب و روز واپس آ جائیں گے۔ اس دوران میں جو انسانی جانیں ضائع ہوئیں‘ املاک کو جو نقصان پہنچا‘ اس کاکوئی حساب نہیں‘ نہ کوئی اس کی ذمہ داری قبول کرے گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ ایرانی قیادت کیا اس سے کوئی سبق سیکھے گی؟ کیا وہ ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرے گی جنہوں نے اس اضطراب کو انگیخت کیا؟
ایران کی موجودہ قیادت میں ایک طبقہ ایسا ہے جسے اس صورتِ حال کا ادراک ہے۔ وہ دھیمے سُروں میں اس کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے۔ انہیں اصلاح پسند کہا جاتا ہے۔ یہ مذہبی مگر روشن خیال ہیں۔ یہ جان چکے کہ انقلاب کا رومان ختم ہو گیا ہے۔ اگر موجودہ قیادت کو زندہ رہنا ہے تو اسے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔ اب ساری توجہ داخلی مسائل کے حل کی طرف مبذول ہو جانی چاہیے۔ انتقالِ انقلاب اور نظریاتی بحثوں سے نکل کر زمینی حقائق کا سامناکرنے کے ساتھ عام ایرانی کی زندگی کو بہتر بنانے کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ مذہبی جذباتیت سے پیٹ نہیں بھرتا۔ اس کو انقلاب کے لیے استعمال تو کیا جا سکتا ہے‘ اس کے سہارے زندگی کا طویل سفر طے نہیں کیا جا سکتا۔
اس بحران کے بعد اگر اصلاح پسند غالب رہتے ہیں تو یہ ایران کے لیے نیک شگون ہو گا۔ اس سے معاشرہ اعتدال کی طرف لوٹے گا۔ اس کا مذہبی تشخص باقی رہے گا مگر جدید عالمی نظام کے لیے قابلِ قبول ہو جائے گا جیسے پاکستان‘ انڈونیشیا اور ترکیہ ہیں۔ مسئلہ ایران اور افغانستان کا ہے جو عالمی نظم سے مطابقت نہیں پیدا کر سکے اور یہ بات چین‘ روس اور امریکہ سمیت سب کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اگر مذہبی قدامت پسندی غالب رہتی ہے تو ایران کے مسائل بڑھ جائیں گے۔ پھر امریکہ کے لیے ممکن ہو جائے گا کہ وہ شہنشاہ ایران کے بیٹے کو اہلِ ایران کی گردن پر سوار کر دے۔ ایرانیوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی زندگی گزاریں۔ کوئی خارجی یا داخلی قوت انہیں اپنا غلام نہ بنائے۔ اس کے لیے سماج کا اعتدال کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔ قدامت پرستوں کو اس کا ادراک کرنا ہو گا۔
اقتدار کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ایک بحران سے نکل آئے تو اسے اپنی کامیابی سمجھتی اور جبر میں اضافہ کر دیتی ہے۔ یہ ایک بڑی غلطی ہوتی ہے۔ حسینہ واجد کو قدرت نے کئی بار موقع دیا مگر انہوں نے اپنی اصلاح نہیں کی۔ اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ایران کی مذہبی قیادت کو قدرت نے موقع دیا ہے۔ اللہ کرے کہ وہ وقت کی آواز پر کان دھریں اور انقلاب کی نفسیات سے نکل کر نئے دور کے تقاضوں کو سمجھیں۔ ان کی پہلی دینی ذمہ داری بھی اہلِ ایران کے جان ومال کا تحفظ اور ان کے لیے زندگی کو آسودہ بنانا ہے۔ یہ کام اصلاح پسند کر سکتے ہیں۔ ایران کی معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ وہ لبنان‘ شام‘ فلسطین اور دنیا کی عسکری تنظیموں کی پشت پناہی کرے۔ اسے چاہیے کہ حکمت کے ساتھ عالمی منظر نامے میں اپنی جگہ بنائے تاکہ ایران کسی نئے انقلاب کے بجائے ایک ارتقائی مرحلے سے گزرے جو تبدیلی کا فطری طریقہ ہے۔ انقلاب کی ایک قیمت ہے جو قومیں برسوں تک ادا کرتی ہیں۔ چھیالیس برس سے ایرانی یہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ایران اب کسی نئے انقلاب کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved