زندگی کا اگر کوئی محور ہو سکتا ہے تو وہ توازن ہے‘ اور اس کا دائرہ ہر انفرادی اور اجتماعی گوشے تک پھیلا ہوا ہے۔ ان سب پہلوئوں کی بات کرنا تو ممکن نہیں کہ پھر کیا کہیں اور کیا نہ کہیں۔ ایک عرصہ سے ذہن میں ایک شور سا برپا ہے مگر اب وہ سب باتیں کہنے اور لکھنے کی ہمت نہیں رہی۔ ماحول وہ نہیں جو کسی زمانے میں تھا اور پھر ہمارے خوابوں کے سلسلے یکے بعد دیگرے ٹوٹ کر بکھرتے چلے گئے۔ عمر کا گھوڑا سرپٹ دوڑتا رہا اور اپنے ہی ملک میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہم اجنبی بن کر رہ گئے ہیں ۔ ایک عجب کیفیت ہے کہ انسان رہے تو اپنی زمین پرمگر ایسا لگے کہ وہ ہجرت کر چکا ہے۔ یہ معاملہ جسمانی نہیں شعور ی نوعیت کا ہے۔ اکثر ہمارے تدریسی اور تحقیقی شعبوں کے ناقدین شکایت کرتے آئے ہیں کہ سیاسیات‘ تاریخ اور بشریات سے وابستہ دانشور اپنے ملک کے مسائل کو نہ سمجھ سکے اور نہ ان کا کوئی حل پیش کر سکے۔ جواب اس کا بہت پیچیدہ بھی ہے اور آسان بھی۔ آسانی یہ ہے کہ شاید آپ کی نظر اُن کی نگارشات کی طرف کبھی نہ اٹھیں کہ دیسی علوم کو آپ نے حقیر جانا۔ سب کچھ جو ہمارے بڑے اور اُن کے بعد آنے والے کہہ سکتے تھے‘ چھپ چھپا کر کہہ بھی گئے اور لازوال تحریریں بھی چھوڑ گئے۔ اب ان کی کتابوں کو کہیں کی لائبریریاں سنبھالیں یا اپنے ملک کی دیمک چاٹ جائے۔ آپ کو کسی زمانے کی ایک مشہور فلم کا بنیادی خیال پیش کرتا ہوں جو بعض اوقات اُن دوستوں کو سنا بھی دیتا ہوں جو ہماری خموشی سے یہ نتیجہ برآمد کر لینے میں دیر نہیں کرتے کہ ہمیں تو کچھ پتا ہی نہیں۔ اب تو خموشی‘ جو حالات کے جبر کے پیش نظر اختیار کیے رکھتے تھے‘ ہمارے مزاج کاحصہ بن چکی ہے۔ ہم نے کچھ سیانوں کی باتیں دل کی گہرائی میں اتار رکھی ہیں‘ جو کہتے ہیں کہ جب دیکھیں کہ لوگ آپ کی بات سننے کے لیے تیار نہیں تو زبان بند رکھنے میں ہی دانائی ہے۔
فلم میں ایک امیر زادہ تھا جس کے ساتھ ایک خادم بچپن سے لے کر جوانی تک رہا۔ وہ اُس کے ساتھ ہمیشہ کھیلتا اور گھر میں فرصت کے اوقات اُس آدمی کے ساتھ گزارتا‘ جو اَب بزرگ ہو چکا تھا۔ دولت‘ طاقت اور عیش وعشرت کی کوئی کمی امیر زادے کو نہ تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ زندگی میں کچھ کرنے کیلئے نہ رہ جائے تو عیش کوشی کے سب دروازے کھل جاتے ہیں۔ وہ امیر زادہ نشوں کی جنت کی ہوا ہر شام کھاتا اور زور زور سے ہنس کر اُس بزر گ خادم سے کہتا کہ یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو فٹ بال چھپا دیتا تھا اور آپ کبھی وہ ڈھونڈ کر نہیں لا سکے تھے۔ خادم ہاں میں سر ہلاتا اور مالک کی تائید اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتا حالانکہ جب وہ بال چھپا رہا ہوتا تھا تو خادم سامنے دیکھ رہا ہوتا تھا۔ ہمارا مدعا بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ اس سے زیادہ اور کیا کہیں۔
معاشرے کا توازن اُس وقت بگڑ جاتا ہے جب سیاسی طاقت کا توازن فطری نہ رہے۔ ہم نے جو خواب دیکھے تھے وہ اس توازن کے ساتھ تھے جن میں عام آدمیوں کے مفادات کے ساتھ ایسا نظام مرتب ہو گا کہ سب قانون کے سامنے برابر ہوں گے۔ برابری کی بات سے یاد آیا کہ جو پرویز مشرف صاحب کے زمانے میں قومی ہم آہنگی کا سناتے تھے اب تو خود کئی گنا باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے سب کچھ بدل بیٹھے ہیں۔ جن سایوں میں سب کچھ انجام پایا ہے اس کے بارے میں بائیں بازو کے عالم اور دانشور حمزہ علوی نے ہمارے خوابوں کے زمانے میں بات کہہ دی تھی جس میں کسی نوع کا فاضل کم از کم علمی‘ عقلی اور شواہدی دلائل کی بنیاد پر سطحی حملوں سے زیادہ کوئی دراڑ نہیں ڈال سکا۔ ان کا مرکزی نکتہ ریاست اور معاشرے میں توازن کا بگاڑ تھا اور یہ بات کہ ریاست کی طاقت اور اس کی ترقی میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ معاشرہ فقط اس کے رحم وکرم پر رہ گیا ہے۔ ان کا فلسفہ ان چند فقروں میں بیان کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہو گی‘ بہرحال ان کی سب باتوں کے ساتھ ہمیں بھی اتفاق نہیں مگر ان تمام آئینی ترامیم‘ باہمی ہم آہنگی کے فرمانوں اور گزشتہ انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھیں تو جو بات علوی صاحب نے نصف صدی پہلے کہی تھی اب زیادہ طاقتور تجزیہ نظر آتا ہے۔
لوگ ایک دوسرے کو کہنیاں مار کر اندھیر نگریوں میں‘ جو پاکستان بالکل نہیں‘ آگے نکلنے کیلئے ہر ذریعہ اور وسیلہ استعمال کرتے ہیں‘ جس میں جائزیت یا ناجائزیت کی تمیز نہیں رہتی ‘اور ایسے طبقوں میں ڈھل جاتے ہیں جو طاقت کے گن گاتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ کھیل ملک کی تاریخ کے ساتویں سال ہی شروع ہو گیا تھا مگر اس کے بعد ہر دور پچھلے سے وسائل اور اختیارات کی مرکزیت کے حوالے سے کچھ زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔ یہ صرف اپنے ملک کی بات نہیں جدید تاریخ بلکہ آپ رومی سلطنت سے لے کر عباسی خلفا تک دیکھ لیں‘ جو سب ایک جیسے تو نہیں تھے لیکن جب توازن اور سیاسی طاقت اور عوام یا معاشرے کا رشتہ نہ رہا تو انجام سب کیلئے خوفناک تھا۔ آج کل ایک عرصہ کے بعد انحطاط وزوالِ سلطنت روما‘ جو اُردو میں ترجمہ ہے‘ دیکھتا ہوں اور اصل بھی سامنے پڑا ہے ایڈورڈ گبن کا۔ اور بھی ایسی بے شمار تاریخ کی کتابیں ہیں مگر گبن نے اس عہد اور ایک سلطنت کے حوالے سے جس زاویۂ نگاہ اور وسعتِ موضوع کے لحاظ سے لکھا ہے وہ بے مثال ہے۔ کچھ رومیوں اور کچھ عباسی خلفا کے محلات‘ طرزِ زندگی‘ عیش وعشرت کی کہانیوں کو دیکھتا ہوں تو آج کے زمانے کے کئی ممالک کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم حال کے بارے میں نہیں لکھ سکتے جو کبھی ہمارے بعد لکھیں گے تو ہم نہیں ہوں گے مگر اس امیر زادے کے بزرگ خادم کی طرح ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ فٹ بال کیا ہوتا ہے اور کہاں ہے اور کون اس معاشرے میں اپنی اپنی مخصوص ٹیمیں بنا کر میچ آپس میں باہمی ہم آہنگی کو طاقتور بنانے کیلئے کھیل رہے ہیں ۔ ہم نے خموشی کب سے اختیار کر رکھی ہے۔
یہ کہنا ضروری ہے کہ ایسے نظاموں میں طاقت کا کھیل تاریخ میں کبھی دائمی ثابت نہیں ہوا۔ اور آج کے زمانے میں‘ جہاںخبریں بنتی‘ بگڑتی اور ایسے پھیلتی ہیں جیسے جنگل میں آگ بھڑک اٹھے‘ عدم توازن کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ تاریخ کی دو چار کتابیں پڑھنے کے بعد اور کئی ایسے ادوار کے عینی شاہد ہونے کی بنا پر ہم نے یہ دیکھا ہے کہ جب آواز اٹھانے والوں کے خلاف طاقت کچھ زیادہ بھونڈے طریقوں سے استعمال ہو رہی ہو تو سمجھیں کہ لاٹھی کمزور اور آوازیں طاقتور ہو رہی ہیں ۔ یہ بات اب صرف سیاسی طاقت تک محدود نہیں معاشی طاقت تمام دیہات سے لے کر بڑے شہروں تک ایسے طبقات کے ہاتھوں میں مرکوز ہو رہی ہے جس کی جائزیت بارے میں اب کوئی سوال اٹھانا حماقت ہے۔ موقع ملنے پر ہم شہروں میں گھومتے ہیں‘ خموش تماشائی بنے اپنی ذات اور شناخت کو چھپائے‘ تو اکثر جگہوں پر نودولتیوں کی محفلیں کناروں پر دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ یہ تو عام سا مشاہدہ ہے کہ بڑے منتخب ایوانوں میں اب جن کے ڈیرے ہیں‘ ان کی تاریخ اور جغرافیہ ہمارے محدود علم کے احاطے میں نہیں آتا۔ ایوانِ بالااب اتنا بالا ہو چکا ہے کہ عوامی نمائندے صرف ووٹ ہی ڈالنے کے پابند ہیں‘ فیصلہ کوئی اور کرتا ہے۔
ایک اور پہلو ہمارے سماج کا ہے جس کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ اس مضمون میں نہیں کہہ سکتے کہ اس کیلئے کوئی اور دن مقرر ہے۔ کسی زمانے کے سفید پوش اُس رنگ کو اب قائم نہیں رکھ سکتے تو وہ مطلوب انقلابیوں کی طرح زیر زمین چلے جاتے ہیں۔ ہم چونکہ کسی کھاتے میں نہیں آتے‘ اس لیے ہم خموشی سے اپنے جنگل میں بیٹھے تماشا دیکھیں گے۔ ان بے قرار تماش بینوں کی طرح جو فلموں میں اگلے سین کے منتظر رہتے ہیں ۔ جو بھی ہوتا رہے‘ ہمیں صرف کہانی کے اگلے موڑ کا خیال ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved