تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     12-01-2026

وینزویلا ، داخلی اور خارجی مضمرات

امریکہ کی برّی‘ ہوائی اور بحری فوج کے دستوں پر مشتمل ایک آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ پہنچا دیا گیا۔ انہیں نیو یارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں منشیات کی سمگلنگ ا ور تین دیگر جرائم میں اعانت کے الزام میں فردِ جرم عائد کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ وینزویلا پر حملے اور صدر مادورو کی اُن کے بیڈ روم سے گرفتاری کی لائیو وڈیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے ہمراہ ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع اپنے دفتر میں دیکھی اور امریکی چھاپہ مار دستوں کی چابکدستی اور پیشہ ورانہ مہارت کی داد دیتے ہوئے فخریہ یہ اعلان کیا ہے کہ دنیا میں کسی ملک کے پاس اس قسم کا آپریشن کامیابی اور سرعت کے ساتھ مکمل کرنے کی قابلیت نہیں۔ اس قسم کے کلمات صدر ٹرمپ نے اس سال جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر بی 2 بمباروں کے ذریعے بم گرانے کے موقع پر بھی کہے تھے اور اس کا واضح مقصد دنیا بھر میں امریکہ کی دھاک بٹھانا تھا۔ ''میک امریکہ گریٹ اَگین‘‘ کا جو نعرہ لے کر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدارت کی دوسری ٹرم سنبھالی ہے، ان کے خیال میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے واحد مؤثر راستہ یہی ہے کہ تیسری دنیا کے چھوٹے اور کمزور ملکوں پر سپر پاور کی عسکری قوت سے چڑھائی کی جائے‘ لیکن وینزویلا پر حملہ کرنے اور اس کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کرنے سے جن نتائج کی امریکی صدر نے توقع کی تھی وہ پورے ہوتے ہوئی نظر نہیں آتے کیونکہ اس کارروائی پر نہ صرف بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل آیا ہے بلکہ امریکہ کے اندر سے بھی اس کے قانونی اور آئینی جواز پر سوالات کئے جا رہے ہیں۔ ٹرمپ کی مخالف ڈیمو کریٹک پارٹی نے صدر پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے کیونکہ امریکی صدر ملک کا انتظامی سربراہ ہونے کے باوجود کانگرس کی منظوری کے بغیر کسی ملک پر حملہ نہیں کر سکتا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی اس سلسلے میں کانگرس میں ایک قرارداد پیش کرنے پر غور کر رہی ہے جس میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ وینزویلا پر حملے اور اس کے صدر کو اہلیہ سمیت اغوا کرنے کے بارے میں وضاحت پیش کریں۔
وینزویلا پر حملہ‘ صدر مادوروکے اغوا اور اس کے بعد وینزویلا کے معاملات خصوصی طور پر تیل کو اپنے ہاتھ میں لینے سے متعلق ٹرمپ کے عزائم پر تبصرہ کرنے والے ماہرین کی رائے میں وینزویلا پر حملے نے امریکہ میں سیاسی تقسیم کی خلیج کو خطرناک حد تک وسیع کر دیا ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی طرف سے اس اقدام کی مذمت کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کی اپنی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے بھی انہیں وینزویلا کے مسئلے پر مکمل حمایت حاصل نہیں‘اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں اختلاف کرنے والے سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن ارکان‘ ڈیمو کریٹ ارکان کے ساتھ مل کر صدر کے اقدام کے خلاف ووٹ نہ دے دیں۔صدر ٹرمپ کی کابینہ کے ارکان‘ سیکرٹری آف سٹیٹ‘ سیکرٹری ڈیفنس‘ اٹارنی جنرل ‘ ڈائریکٹر سی آئی اے اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف نے وینزویلا پر حملے اور اس کے منتخب سربراہ کو بزور طاقت امریکہ منتقل کرنے کے اقدام کا دفاع کرنے کیلئے 6جنوری کو اراکین کانگرس کو کلاسیفائڈ بریفنگ دی اور صدر کے اقدام کو جائز قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان کانگرس صدر ٹرمپ کی حکومت کی دیدہ دلیری پر حیران اور ششدر رہ گئے اور بے ساختہ کہہ اُٹھے کہ یہ تو دن دیہاڑے ڈاکاہے اور گن پوائنٹ پر ایک ملک کی تیل کی دولت لوٹنے کی واردات ہے۔ برطانیہ کے اخبار گارڈین کے مطابق ایک ڈیمو کریٹ رکن کانگرس نے سوال کیا کہ اگر یہی اقدام جوبائیڈن کے دور میں کیا جاتا تو کیا ٹرمپ اور اس کی پارٹی کا یہی مؤقف ہوتا؟ نیو یا رک سے تعلق رکھنے والے ڈیمو کریٹک پارٹی کے رکن کانگرس نے کہا کہ ٹرمپ حکومت کانگرس کی توہین کر رہی ہے اور اُن ساتھ بقول اُن کے وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو روس کے صدر پوتن اپنی پارلیمنٹ (ڈوما) سے کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے وینزویلا میں مسلح مداخلت امریکہ کی طرف سے لاطینی امریکہ یا دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں‘ انیسویں صدی سے اس قسم کی کارروائیاں امریکہ کی علاقائی اور عالمی پالیسی کا نمایاں حصہ رہی ہیں مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد اس میں تیزی آئی اور امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے سی آئی اے کے ذریعے حکومتوں کا تختہ الٹنے اور امریکہ مخالف حکمرانوں کو قتل کروانے کا تواتر کے ساتھ راستہ اختیار کیا۔ اس سلسلے میں 1950ء کی دہائی میں ہر دلعزیز ایرانی لیڈر ڈاکٹر مصدق‘ 1960ء کی دہائی میں ویتنام میں نگوڈین ڈیم کی حکومت کا خاتمہ اور ان کا قتل اور 1970ء کی دہائی میں چلی میں بائیں بازو کے صدر ایلاندے کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کارروائیوں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اگرچہ دنیا کے حریت پسند طبقوں نے امریکہ کی ان کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کر کے انہیں امریکہ کی نوآبادیاتی اور سامراجی پالیسیوں کا حصہ قرار دیا تھا مگر امریکی عوام میں ان کی وجہ سے سیاسی تقسیم کا عمل شروع نہیں ہوا تھا کیونکہ ان کارروائیوں کے دفاع میں کبھی آزادی‘ خود مختاری اور یورپی نوآبادیاتی نظام کی مخالفت، کبھی چینی اور روسی کمیونزم کا خطرہ اور کبھی جمہوریت اور انسانی حقوق کو بطور جواز پیش کیا جاتا تھا۔ مگر وینزویلا تو کسی بھی لحاظ سے امریکہ کی سلامتی‘ دفاع یا معیشت کیلئے خطرہ نہیں تھا بلکہ حملے سے چند روز قبل صدر مادورو نے امریکہ کو شکایات کے ازالے کیلئے بات چیت کی پیشکش کی تھی۔ اس کا اعتراف ٹرمپ نے خود کیا ‘مگر انہوں نے یہ کہہ کر پیشکش مسترد کر دی کہ بات چیت کا وقت گزر چکا ہے۔
غالباًٹرمپ وینزویلا پر حملہ کرنے کا فیصلہ بہت پہلے کر چکا تھا۔ تاہم وینزویلا پر حملے کے جواز اور اس کے بعد صدر کی کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام کی کانگرس میں بریفنگ کے دوران وینزویلا میں عبوری حکومت اور استحکام لانے اور خاص طور پر 30سے 50ملین بیرل وینزویلا کے خام تیل کو امریکہ لا کر اسے صاف کر کے مارکیٹ میں بیچنے کے ارادے کو ڈیمو کریٹ ارکان کانگرس ایک احمقانہ منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے نزدیک اصل مسئلہ آئین کی واضح شقوں کے باوجود صدر ٹرمپ کا کانگرس کی اجازت کے بغیر وینزویلا پر فوج کشی کا اقدام ہے۔ یہ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اگر اس موقع پر کانگرس کو بائی پاس کر کے یک طرفہ فیصلے کرنے سے صدر کو روکا نہ گیا تو ٹرمپ ‘جن کی دوسری مدت کا ابھی بڑا حصہ باقی ہے‘ امریکہ کی قانون ساز اسمبلی‘ جس کی اجازت کے بغیر صدر کسی ملک میں فوج داخل نہیں کر سکتا‘ کانگرس کو روندتا چلا جائے گا۔ایک ممتاز رکن کانگرس اور کانسٹیٹیوشن پروجیکٹ کے ایکٹنگ ڈائریکٹر کے مطابق وینزویلا پر حملہ صدر کی طرف سے کانگرس کو بائی پاس کرنے کا ایک ٹیسٹ کیس ہے جس میں یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ امریکہ سے باہر امریکی افواج کے استعمال کو کنٹرول کرنے میں کانگرس آئین میں دیے گئے اپنے اختیارات سے کس حد تک دستبردار ہو سکتی ہے کیونکہ آئین کی رُو سے کانگرس واحد ادارہ ہے جسے دوسرے ملکوں کے خلاف ملٹری ایکشن کی اجازت دینے کا اختیار ہے ۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ وینزویلا پر حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ امریکی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اس کے خلاف اقدام امریکی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جہاں تک حملے اور صدر مادورو کو اغوا کرنے کے بعد وینزویلا میں حالات کو معمول پر لانے اور ملک کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے منصوبے کا سوال ہے کانگرسی حلقے اس کی کامیابی کے بارے میں پُرامید نہیں۔ اس کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اس اقدام کی خلاف اور صدر مادوروکو رہا کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا ہے تو امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved