تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     12-01-2026

سولر اور گندم پالیسی کے معاشی اثرات

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت خاصی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ایک طرف دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت چین ہے اور دوسری طرف تیل کے تیسرے بڑے ذخائر رکھنے والا ملک ایران ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہترین ہیں۔ مضبوط ممالک ہمسایہ ممالک کی معاشی ترقی کے لیے راستے مہیا کر سکتے ہیں اور معاشی عدم استحکام کے شکار ممالک ہمسایہ ممالک میں حالات خراب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔اس وقت ایران میں حالات کشیدہ ہیں۔ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت شدید دباؤ میں ہے‘ ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت تیزی سے گر رہی ہے اور مہنگائی کی شرح تقریباً 50 فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ اگر ایران میں حالات خراب رہے تو پاکستان بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ نئے سال کی شروعات سے پاکستان سٹاک ایکسچینج مسلسل مثبت کارکردگی دکھائی رہی تھی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ چھیاسی ہزار کی سطح عبور کرگیا اور تقریباً دس ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا لیکن ایران میں کشیدہ صورتحال کی خبر پاکستان سٹاک ایکسچینج کے لیے منفی ثابت ہوئی۔ گزشتہ دو کاروباری دنوں سے مارکیٹ مسلسل منفی کارکردگی دکھا رہی اور دو ہزار سے زیادہ پوائنٹس گر چکی ہے۔ ایران دنیا میں تیل کا بڑا سپلائر ہے؛ عدم استحکام تیل کی قیمتیں بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے جس سے دنیا سمیت پاکستان میں بھی مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے مابین تجارتی حجم تقریباً تین ارب 20کروڑ ڈالر ہے۔ پاکستان تقریباً دو ارب 40 کروڑ ڈالرکی آفیشل درآمدات کرتا ہے اور تقریباً 70 کروڑ ڈالرز کی برآمدات کرتا ہے۔ یہاں تک کہ گوادر میں بجلی بھی ایران سے حاصل کی جاتی ہے۔افغانستان کے بارڈر بند ہونے کے بعد افغانستان کا مال بھی ایران کے راستے پاکستان آنے کی خبریں ہیں۔ سرحدی تجارت کا راستہ بند ہونے سے پاکستان میں بھی مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت اس وقت پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے لیکن سرحدوں سے جڑے ممالک میں کشیدگی بیرونی سرمایہ کاری کے راستے میں بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔
وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ ملک میں زیادہ نقصان میں چلنے والے بجلی کے فیڈرز کو سولر پر منتقل کیا جائے۔ ابتدائی طور پر پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصان میں چلنے والے فیڈرز کو سولر پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پاکستان اس وقت مہنگی انرجی کے مسائل سے دو چار ہے۔ صنعتیں بند ہونے کی بڑی وجہ بھی مہنگی بجلی ہے۔ اس وقت پیسکو تقریباً 40فیصد اور کیسکو تقریباً 30فیصد سے زیادہ نقصان کر رہے ہیں۔ ملکی سطح پر ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پر نقصان کئی سالوں سے نیپرا کے اہدف سے زیادہ ہو رہا ہے۔ انرجی سیکٹر کے قرض 36 ارب ڈالرز سے بڑھ گئے ہیں‘ جن پر سود ادا کیا جاتا ہے۔ بجلی کی قیمت میں سود اور قرض کی قسط بھی شامل کی جاتی ہے جو مہنگی بجلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔حکومت نے ورلڈ بینک سے کہا ہے کہ وہ 36 ارب ڈالر قرض کی ادائیگی میں مدد کرے۔ورلڈ بینک اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتا ہے اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ان حالات میں سولر انرجی کا استعمال کئی اعتبار سے بہتر ہو سکتا ہے۔ سولر انرجی سستی اور ماحول دوست ہے۔ تیل کے کم استعمال سے ڈالر ادائیگیوں کا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔ گو کہ سولر انرجی کا سسٹم بھی درآمد کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک مرتبہ کا خرچ ہے جبکہ تیل ہر ماہ درآمد کرنا پڑتا ہے۔ جن علاقوں میں بجلی فراہم کرنا مشکل ہے وہاں سولر سستی بجلی فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پاکستان میں سولر انرجی کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی اور سرکاری سطح پر سولر انرجی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ پچھلے سال تقریباً 25 فیصد سے زیادہ بجلی سولر کے ذریعے حاصل کی گئی۔ یہ شرح کئی ترقی یافتہ ممالک کی نسبت زیادہ ہے‘ لیکن سولر انرجی کا حقیقی فائدہ اس وقت ہو سکتا ہے جب سرکار اس کی تیاری مقامی سطح پر شروع کرے۔
ملک کی ترقی صوبوں کی ترقی سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر تمام صوبے وفاق کے ساتھ مل کر کام کریں تو بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ اگر این ایف سی کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا کو حصہ نہ ملا تو وہ آئی ایم ایف کی کیش سرپلس کی شرط کو پورا نہیں کریں گے۔ موجودہ ماحول میں اس طرح کے بیان مناسب نہیں کیونکہ آئی ایم ایف کی ناراضی سے ایک صوبہ نہیں بلکہ پورا ملک متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے گندم پالیسی 2026ء کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت پہلی بار حکومت نے خود گندم خریدنے کے بجائے یہ کام نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نگرانی اور کنٹرول اپنے پاس رکھے گی۔ گندم نجی شعبہ خریدے گا اور قیمت 3500 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کی گئی ہے۔ گندم کی قیمت مقرر نہ کرنے کی وجہ سے کسان معترض تھے‘یہ خبر اُن کے لیے خوش آئندثابت ہو گی‘ لیکن اس پالیسی کا فائدہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگرکسان کو بروقت پیسے ملیں‘ مارکیٹ میں گندم کی کمی نہ ہو اور حکومت پر مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کیے جانے کا کہا گیا ہے‘ اس سے کسانوں کے لائنوں میں لگنے اور کرپشن کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہو سکتا ہے کیونکہ نہ سبسڈی دینا پڑے گی نہ اربوں روپے کی گندم خرید کر گوداموں میں رکھنے کا خرچ ہوگا۔حکومت صرف نگرانی کرے گی۔ اگر نگرانی کمزور ہوئی تو کسان اور صارف دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔پاکستان میں ذخیرہ اندوزی کی روایت پرانی ہے‘ خدشہ ہے کہ نجی شعبہ اس منصوبے کو بھی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ گندم پالیسی 2026ء ایک نیا تجربہ ہے جو اگر درست طریقے سے نافذ کیا گیا تو کسان کو بہتر قیمت‘ صارف کو مستحکم نرخ اور حکومت کو مالی سکون مل سکتا ہے۔ پالیسی کے اعلان کے بعد اصل امتحان عملی نفاذ میں ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری شروع کر دی ہے اور اسے آئی ایم ایف کے سٹرکچرل بینچ مارک کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مبینہ طور پر ٹیکس نظام میں بہتری اور سپر ٹیکس کی شرح میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں کم آمدنی والے اداروں کے لیے سپر ٹیکس کی حد بڑھانے‘ شرح کم کرنے‘ چار برسوں میں سپر ٹیکس کی شرح پانچ فیصد تک لانے‘ پرائمری بیلنس سرپلس ہونے پر پانچویں سال سپر ٹیکس مکمل ختم کرنے جیسی تجاویز شامل ہیں‘ لیکن تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے حوالے سے اقدامات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ موجودہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے تقریباً 266ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا ہے جو رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے بھی زیادہ ہے۔تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن کا تقریباً 38فیصد تک ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ دکاندار اور جاگیرادار اور ایکسپورٹرز تنخواہ دار طبقے سے کم ٹیکس ادا کر رہے۔اس کی بڑی ذمہ داری ایف بی آر پر عائد ہوتی ہے۔ ابھی تک ایف بی آر آئی ایم ایف سے طے شدہ ٹیکس ہدف حاصل نہیں کر پایا اور خدشہ ہے کہ اس مرتبہ بھی اپنی کمزور کارکردگی کا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر ڈالا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا‘ اُن سے گزارش ہے کہ ابھی سے صنعت کاروں کے مسائل کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کے مسائل بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھیں تا کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے مناسب راستے تلاش کیے جا سکیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved