گُل رُخ کی زندگی صرف ایک سبق سکھاتی ہے! صرف ایک سبق!! یہ کہ مقدر زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے! آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت تو موت ہے! لیکن موت اور مقدر میں فرق ہے۔ موت ایک ہی بار وار کرتی ہے! فیصلہ کن وار!! مگر مقدر کئی جھٹکوں کا مجموعہ ہے! جھٹکے! بلندی پر لے جانے والے جھٹکے! جھٹکے! کھائی میں گرا دینے والے جھٹکے! تھوڑی بہت تشبیہ اگر مقدر کی کسی شے سے دی جا سکتی ہے تو وہ رولر کوسٹر ہے!
گُل رخ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے لاڈلی بھی بہت تھی۔ خاندان میں سب اس کے ناز اٹھاتے تھے۔ شادی ایک متمول گھرانے میں ہوئی۔ لڑکے کا کاروبار دبئی میں تھا! زیورات اور جواہرات کا کاروبار! زیور بنانے والی مشینیں بھی کاروبار میں شامل تھیں! خوشحالی سی خوشحالی تھی! گل رخ اور اس کا میاں ہنی مون کے لیے ہسپانیہ‘ سوئٹزرلینڈ اور اٹلی گئے۔ پھر گُل رخ کی فرمائش پر آبائی قصبے میں میاں نے ایک فراخ اور خوبصورت گھر تعمیر کرایا! قدرت نے بچوں کی نعمت سے نوازا! ایک آئیڈیل زندگی تھی! مثالی زندگی! کبھی پاکستان میں‘ کبھی دبئی میں!
پھر اچانک مقدر نے کریہہ المنظر عفریت کا بھید بدلا اور اس ہنستے بستے خاندان میں آ وارد ہوا! دبئی میں میاں کے کاروبار کا رُخ زوال کی طرف پھرنے لگا! جس مارکیٹ میں گُل رخ کے میاں کا دفتر اور دکان تھی اُس مارلیٹ میں اکثریت ہندو تاجروں کی تھی۔ کچھ چالیں انہوں نے چلیں‘ کچھ غلطیاں اور غلط اندازے میاں سے ہوئے۔ چند ہی برسوں میں کاروبار ٹھپ ہو کے رہ گیا۔ میاں پاکستان واپس آ گیا مگر صدمہ گہرا تھا۔ کہاں بادشاہت اور کہاں تنزل اور انحطاط! وہ بیمار پڑ گیا یوں کہ بیماری جسمانی سے زیادہ ذہنی تھی اور ذہنی سے زیادہ جسمانی! کوئی علاج کارگر نہ ہوا! ایک رات سوتے میں موت کا پرندہ چپکے سے کمرے میں داخل ہوا اور اس کی روح لے کر دبے پاؤں کھڑکی سے باہر نکل گیا۔
تین بچوں‘ ایک بیٹی اور دو بیٹوں کی ذمہ داری گُل رُخ کے ناتواں‘ نازک کندھوں پر آن پڑی۔ میاں کی کوئی پنشن تھی نہ جمع شدہ سرمایہ نہ بینک بیلنس! جو تھا وہ اس کی بیماری پر خرچ ہو چکا تھا۔ گُل رخ کو سامنے دور دور تک اندھیرے کے سوا کچھ نہ دکھائی دے رہا تھا! تعلیم تو اس نے پائی تھی مگر بہت زیادہ نہیں! یوں بھی قصبے میں ملازمت کے امکان‘ خواتین کیلئے‘ نہ ہونے کے برابر تھے۔ گُل رخ کو کسی طرح ایک پرائمری سکول میں پڑھانے کا کام مل گیا۔ اس نے پھر پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا۔ اس ملازمت کے ساتھ جیسے چپک گئی۔ کوئی نعم البدل تھا بھی نہیں۔ پیدل سکول جاتی اور پیدل ہی واپس آتی۔ تنخواہ میں اتنی کشادگی نہ تھی کہ رکشے یا بس میں آتی جاتی۔ ایک ایک پیسہ بچوں کی نشوونما پر اور تعلیم پر خرچ کیا! آہستہ آہستہ بچے بڑے ہوتے گئے! پھر جوان! بیٹی کے لیے رشتہ مل گیا۔ اسے بیاہ دیا۔ دو بیٹوں میں سے بڑا پڑھائی میں دھیما اور ڈھیلا تھا۔ چھوٹا بیٹا لائق تھا۔ وہی گُل رخ کی امیدوں کا مر کز تھا۔ اسے امید کی کرن نظر آنے لگی۔ بیٹے نے ایم بی اے کر لیا۔ معقول ملازمت بھی مل گئی۔ تنخواہ اچھی تھی۔ گُل رخ کو صبر کا اور زندگی بھر کی جدوجہد کا ثمر جیسے ملنے لگا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے مقدر نے ڈرا دینے والا ماسک چہرے سے اتار کر خوش نما‘ مسکراتا ماسک پہن لیا تھا۔ بیٹے نے سکول کی ملازمت چھوڑنے کا کہا مگر گُل رخ نے ملازمت جاری رکھی۔ ایک تو زندگی بھر کی عادت! دوسرے‘ کسی پر انحصار کرنا اسے پسند نہ تھا۔ میاں کی موت کے بعد جب حالات حد درجہ مشکل تھے‘ تب بھی اس نے کسی عزیز‘ رشتہ دار کے آگے دست سوال دراز نہ کیا۔
گُل رخ نے بڑے بیٹے کی شادی کر دی۔ اس کی تعلیم واجبی تھی اس لیے نوکری بھی بس گزارہ ہی تھی۔ پھر چھوٹے بیٹے کی باری آگئی۔ فرض کیجیے چھوٹے بیٹے کا نام ارمغان تھا۔ اس نے تعلیم اعلیٰ پائی تھی اس لیے ملازمت بھی شاندار تھی۔ بہت اچھا رشتہ مل گیا۔ کھاتے پیتے‘ باعزت لوگ! انہیں معلوم تھا کہ لڑکا زیرک ہے اس لیے مستقبل بھی تابناک ہو گا۔ بات پکی ہو گئی۔ تاریخ مقرر کر دی گئی۔ فریقین نے شادی ہال بُک کرا دیے۔ لڑکے نے گھر کو‘ جو اس کے مرحوم والد نے اپنی دلہن کے لیے بنوایا تھا‘ نیا رنگ وروغن کرایا۔ گُل رخ فرطِ مسرت سے رو بھی پڑتی اور مسکراتی بھی! ایک طویل‘ طوفانی‘ گرداب در گرداب سفر کے بعد اسے سامنے ساحل نظر آ رہا تھا۔ کشتی لنگر انداز ہونے کی تیاری کر رہی تھی۔
معمولی سی تکلیف ہوئی۔ ارمغان کو پیٹ میں کوئی چھوٹی موٹی گڑبڑ محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر کے پاس گیا۔ عام پاکستانی ڈاکٹروں کے برعکس یہ ڈاکٹر ڈنگ ٹپاؤ نہ تھا بلکہ گہرائی میں جانے کا عادی تھا۔ اس نے کچھ ٹیسٹ کیے‘ پھر تفصیلی چیک اَپ کیا۔ پھر ارمغان سے کہا کہ جائے اور والد کو لے کر آئے۔ ارمغان نے جواب دیا کہ والد تو اس کے بچپن ہی میں چل بسے تھے۔ اس کے بعد ماں ہی باپ بھی تھی اور ماں بھی! ڈاکٹر نے کہا کہ ٹھیک ہے‘ ماں ہی کو لے آئے۔ اس پر اس نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ اچھا بھلا ہے‘ پیدل چل کر اس کے کلینک میں آیا ہے‘ آخر ایسی بھی کیا بات ہے جو وہ صرف ماں کو بتانا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر نے اصرار کیا۔ گل رخ آئی۔ ڈاکٹر نے حیرت کا اظہار کیا کہ نوجوان کس طرح پیدل چل کر کلینک میں آیا ہے جبکہ دونوں گردے ختم ہونے کو ہیں۔ چند ہفتوں یا چند مہینوں کے بعد ارمغان ڈائلیسس پر ہو گا۔ مقدر نے ایک بار پھر ماسک بدل لیا تھا۔ اب کے جو ماسک پہنا تھا‘ اس کی بدصورتی ناقابل بیان تھی۔ جلد ہی ارمغان ڈائلیسس پر آ گیا۔ خاندان میں ایک دو ڈاکٹر تھے‘ انہوں نے مکمل تعاون کیا۔ گردے کی پیوند کاری کا پوچھا تو بتایا کہ اصل خرابی جگر میں ہے۔ جگر اور گردے کی پیوندکاری بیک وقت ہونی چاہیے۔ بھائی‘ بہن اور ماں نے پیشکش کی مگر ڈاکٹروں نے طبی بنیادوں پر لینے سے انکار کر دیا۔ اعضا کی خرید وفروخت پر پابندی تھی۔ ماں نے ہمت نہ ہاری‘ ہر ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی۔ پیوندکاری کے لیے ہر دروازے پر دستک دی! ہر ممکن کوشش کی۔ اخراجات کا بندوبست بھی ہو گیا۔ مگر مقدر فیصلہ کر چکا تھا۔ ارمغان تین سال بستر پر رہا۔ کبھی گھر میں‘ کبھی ہسپتال میں! ماں نے جان لڑا دی۔ مگر جو لکھا تھا اس نے پورا ہونا تھا۔ پورا ہو کر رہا! ایک ہفتہ قبل‘ ایک بڑے شہر کے ایک بڑے ہسپتال میں ارمغان اُس ماں کو چھوڑ کر چلا گیا جس نے اس کے لیے خواب بُنے تھے اور جس نے تین سال مقدر سے جنگ کی تھی۔ ہسپتال نے میت کے ساتھ لاکھوں کا بل دیا۔ گُل رخ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹے کی لاش لے کر قصبے میں واپس آگئی!
مقدر اچھا ہو تو سمندر کے بیچ‘ بہتے ہوئے تختے پر بھی جان بچ جاتی ہے۔ بُرا ہو تو محفوظ کشتی یا جہاز بھی نہیں بچا سکتا۔ جو نام چاہیں‘ دے دیجیے۔ مقدر کے لیے ہم نے اظہار کے کئی اسلوب بنا رکھے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں قدرت کو یہی منظور تھا۔ کبھی کہتے ہیں یہی لکھا تھا۔ کبھی کہتے ہیں انسان بے بس ہے۔ کبھی کہتے ہیں وقت مقرر تھا۔ مگر اصل طاقت مقدر ہے‘ جس سے لڑا نہیں جا سکتا۔ اصل حقیقت‘ سب سے بڑی حقیقت‘ مقدر ہے جسے بدلا نہیں جا سکتا۔ یگانہ چنگیزی نے دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے:
عالمِ اسباب سے کیا فیضِ ناکامی ملا
راہ پر لا کر مجھے بھٹکا دیا تقدیر نے
پس نوشت: اصل نام تبدیل کر دیے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved