تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     13-01-2026

ریکارڈ توڑ ہنڈرڈ انڈیکس اور عام آدمی

میرے بہت پیارے اور دیرینہ دوست ملک رب نواز سٹاک مارکیٹ کے ماہر ہیں اور ملک کے معاشی اشاریوں سے متعلق ہر تازہ ترین معلومات سے نہ صرف خود آگاہ رہتے ہیں بلکہ اپنے دوستوں کو بھی مستفیض فرماتے رہتے ہیں۔ ہر دوسرے دن ان کا مسیج دکھائی دیتا ہے کہ ملکی سٹاک ایکسچینج نے اپنا ہی بنایا ہوا گزشتہ روزکا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ میں اس سلسلے میں نہایت ہی نالائق اور گھامڑ شخص ہوں اور کراچی سٹاک ایکسچینج کے ہنڈرڈ انڈیکس وغیرہ کے میکانزم سے بالکل ہی لاعلم ہوں۔ مجھے اس ہنڈرڈ اور ڈیڑھ ہنڈرڈ وغیرہ جیسی اصطلاحات اور ان کی تفصیل کا کوئی علم نہیں ہے‘ بس پڑھ لیتا ہوں اور اندازہ لگا لیتا ہوں کہ آج کل سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگانے والوں کے ''پو بارہ‘‘ ہیں۔ ان کا سرمایہ روز افزوں بڑھوتری کی سمت رواں دواں ہے اور ان کے پنجے گھی میں اور سر کڑاھی میں ہے۔
لیکن یہ ساری معاشی نمو تو ان کے لیے ہے جنہوں نے سٹاک مارکیٹ میں پیسہ لگایا ہوا ہے‘ یعنی جن لوگوں کے پاس روٹی کھانے‘ گاڑی چلانے‘ بجلی کا بل بھرنے اور بچوں کے سکول کی فیس ادا کرنے کے بعد پیسے بچے ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی پس انداز شدہ رقم سٹاک مارکیٹ میں لگا دی اور اب وہ دن دُگنی‘ رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ روز نیا ریکارڈ بنتا ہے اور اگلے ہی روز ٹوٹ جاتا ہے‘ تاہم فکر کی کوئی بات نہیں۔ یہ ریکارڈ کوئی اور نہیں توڑتا خود ہماری سٹاک ایکسچینج ہی اپنا سابقہ ریکارڈ توڑتی ہے اور پھر نیا بناتی ہے۔
ایک طرف سٹاک مارکیٹ راکٹ کی رفتار سے اوپر جا رہی ہے اور دوسری طرف دیگر معاشی معاملات سنبھلنے میں نہیں آ رہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ہر چند ماہ بعد ہم آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط لینے کے لیے ایک پنجابی لفظ کے عین مطابق ''لِلّیاں‘‘ لیتے ہیں۔ اب اس لفظ ''لِلّیاں‘‘ کا کیا مطلب ہے تو یوں سمجھ لیں یہ ایک لفظ منت‘ ترلے‘ خوشامد‘ التجا‘ بِنتی‘ عاجزی اور آہ و زاری جیسے سالم دبستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کر دیتا ہے۔ آئی ایم ایف حکم نما مطالبہ کرتا ہے کہ آپ اپنے سرکاری افسروں کے اثاثے پبلک کریں۔ سرکار جو اس معاملے کو جوتے کی نوک پر نہیں رکھ رہی تھی اور افسران کے اثاثوں کی تفصیلات پبلک کرنے کو ایٹمی اثاثوں کے برابر خفیہ اور حساس سمجھتے ہوئے اس کے بارے میں سوچنا بھی گناہ سمجھتی تھی‘ اب اگلی قسط کی وصولی کی خاطر آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کر چکی ہے۔ یہ اور بات کہ ابھی وہ اس میں اور کئی تاویلات سے اسے مؤخر کرنے یا ادھوری معلومات دے کر جان چھڑانے کی کوششیں کرے گی مگر بظاہر تو وہ اس بات پر راضی ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے سرکاری افسروں کے اثاثے پبلک کر دے گی۔
کسی بھی ملک کی حقیقی معاشی ترقی کا اندازہ لگانے کیلئے طے شدہ اشاریوں میں سب سے اہم اس ملک کی جی ڈی پی میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر عوامل میں درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق یا توازن‘ فی کس آمدنی میں اضافہ اور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں کمی‘ مڈل کلاس کی تعداد اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہے۔ ان عوامل سے کسی ملک کی اقتصادی اور معاشی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ سال 2024-25ء میں جی ڈی پی میں شرح نمو کا ٹارگٹ 3.6 فیصد تھا جبکہ حقیقی شرح نمو 2.7 فیصد رہی‘ جو ٹارگٹ سے پچیس فیصد کم تھی۔ درآمدات اور برآمدات کے حوالے سے مالی سال 2024ء اور 2025ء کا باہمی موازنہ کریں تو بھی صورتحال کچھ زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتی۔ مالی سال 2024ء میں برآمدات 30.64 ارب ڈالر تھیں جبکہ اسی عرصے میں درآمدات 54.73 ارب ڈالر‘ یعنی تجارتی خسارہ 24.09 تھا۔ مالی سال 2025ء میں برآمدات 4.6 فیصد کی شرح سے بڑھ کر 32.10 ارب ڈالر ہو گئیں۔ تاہم اس سال درآمدات میں اضافہ تقریباً 6.6 فیصد رہا اور درآمدات بڑھ کر 58.38 ارب ڈالر ہو گئیں۔ اس حساب سے تجارتی خسارہ جو سال 2024ء میں 24.09 ارب ڈالر تھا‘ بڑھ کر 26.27 ارب ڈالر ہو گیا۔ تجارتی حوالے سے دیکھیں تو مالی سال 2024ء کے مقابلے میں 2025ء نسبتاً زیادہ مالی خسارے کا سال رہا۔ ٹیکس وصولیاں ہدف سے کہیں کم رہیں اور اس سلسلے میں آئی ایم ایف دبائو بھی ڈالتا رہا اور ان اہداف میں کمی کرنے کے باوجود وصولیوں کا ہدف پورا نہ ہو سکا۔ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوئی اور اس کی وجہ شاید معاشی سے زیادہ سماجی تھی۔ آبادی میں بے تحاشا اضافہ جو وسائل میں اضافے کی نسبت کہیں زیادہ ہے‘ اس کی بنیادی وجہ ہے تاہم بیروزگاری اور مہنگائی نے بھی اونٹ پر آخری تنکے کے مطابق اپنا کردار بھرپور طریقے سے انجام دیا۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق 3.65 ڈالر یومیہ سے کم کمانے والا خطِ غربت میں آتا ہے‘ اس حساب سے پاکستان میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی شرح 44.7 فیصد ہے۔ اندازہ کریں کہ ملک کی نصف کے قریب آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ حکمرانوں کی جائیدادیں تین چار براعظموں میں پھیلی ہوئی ہیں۔
سال 2026ء کے لیے جی ڈی پی میں شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد رکھا گیا ہے‘ ابھی اس بارے میں کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ ہدف پورا ہوگا یا نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر حکومتی ترجیحات درست ہوں اور معاملات سیاسی طور پر مصلحت آمیز نہ ہوں تو یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آخر یہی ملک اس سے کہیں زیادہ شرح نمو کے نتائج حاصل کر چکا ہے۔ 1954ء میں پاکستان نے شرح نمو میں اضافے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اس سال ہماری جی ڈی پی میں نمو کی شرح 10.22 فیصد تھی۔ مالی سال 2016‘ 2018ء اور 2021ء میں شرح نمو چھ فیصد یا اس سے زیادہ رہی۔ ان اعداد وشمار کو سامنے رکھیں تو آئندہ سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح کا ہدف 4.2 فیصد نہ صرف یہ کہ حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے بھی بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں مگر اس کے لیے سب سے پہلے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ یا برآمدات میں اتنا اضافہ کرنا ہوگا کہ وہ درآمدات میں اضافے کو اپنے اندر جذب کر لیں۔ مزید یہ کہ قومی آمدنی کو خسارے والے سرکاری اداروں میں ضائع کرنے کے بجائے ان سے جان چھڑائی جائے اور قومی سلامتی کے حوالے سے سٹرٹیجک اہمیت کے حامل ایسے اداروں کو سرکاری بابوئوں کے بجائے پروفیشنلز کے حوالے کرکے ان کو سودمند بنایا جائے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی رقوم پر نظریں گاڑنے کے بجائے ملکی صنعت کو فروغ دیا جائے۔ لیکن صورتحال زیادہ روشن نہیں۔ بجلی کی قیمت نے ملکی صنعت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ صنعتی پیداوار زیادہ لاگت کی وجہ سے عالمی منڈی میں مسابقت میں پیچھے جا رہی ہے‘ ٹیکسٹائل سیکٹر برباد ہو رہا ہے۔ خسارے والے اداروں سے جان چھڑانا ضروری ہے مگر یہ بات یاد رہے کہ ان کی فروخت مسلسل خسارے سے بچنے کیلئے کی جائے نہ کہ اس رقم کو قومی آمدنی میں اضافہ سمجھ کر خوشی کے شادیانے بجائے جائیں۔ ملک میں بیروزگاری‘ غربت‘ مہنگائی‘ عام آدمی کے معیارِ زندگی میں مسلسل تنزلی اور خود کشیاں دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کے ایس ای 100 انڈیکس میں ریکارڈ توڑ بہتری کا عام آدمی کی زندگی پر کیا مثبت اثر ہو رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved