تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     13-01-2026

میری طاقت، میری مرضی

وینزویلا کے صدر اور اس کی اہلیہ کو اغوا کر کے امریکہ لانے اور اُن کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے بعد اب ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں جس پر چاہوں گا حملہ کروں گا‘ مجھے روکنے والا کوئی نہیں‘ سوائے میری اپنی اخلاقیات کے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو یہ داد تو ملنی چاہیے کہ جو اُن کے دل میں ہے وہی اُن کی زبان پر ہے۔ انہوں نے عمل پہلے کیا اور اپنا نظریہ بعد میں آشکار کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنی نئی استعماری پالیسی واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہماری پوری دنیا پر برتری ہے‘ میں امریکی افوج کا کمانڈر انچیف ہوں‘ اس لیے مجھے یہ اختیار ہے کہ جب چاہوں کسی بھی ملک پر حملہ کر دوں‘ کوئی قانون‘ کوئی بین الاقوامی معاہدہ اور کوئی عالمی ادارہ مجھے روکنے والا نہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ اعلان سن کر ساری دنیا حیران و ششدر رہ گئی ہے‘ مگر ابھی تک اگر کوئی زور دار آواز بلند ہوئی ہے تو وہ جرمن صدر فرینک والٹر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی صدر عالمی نظام کو تباہ کر رہا ہے‘ اس طرح دنیا لٹیروں کے ٹھکانے میں بدل جائے گی۔ عالمی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ امریکہ روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہو جائے مجھے پروا نہیں‘ میں وہی کچھ کروں گا جو میرا دل چاہے گا۔ ایک طرف ٹرمپ کی اتنی پرکاری تو دوسری طرف اُن کی سادگی ملاحظہ کیجئے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ میرے دورِ اقتدار میں چین تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا۔ جو ڈاکٹرائن مسٹر ٹرمپ وضع کر رہے ہیں اس کے مطابق روس کو یوکرین یا کسی اور ملک پر قبضہ کرنے سے کون روکے گا اور چین کو تائیوان پر حملہ اور قبضہ کرنے سے کون منع کرے گا؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہاں پر ہی بس نہیں کی بلکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
پہلے قارئین سے گرین لینڈ کا تعارف کرا دوں۔ گرین لینڈ جغرافیائی طو رپر شمالی امریکہ میں واقع ہے مگر وہ یورپ کی فلاحی ریاست ڈنمارک کا حصہ ہے۔ 56 ہزار کی آبادی پر مشتمل گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے‘ یہ خوشحال اور پُرسکون خطہ داخلی امور میں مکمل طور پر آزاد و خود مختار ہے۔ یہاں تعلیم اعلیٰ ہے‘ صحت اور روزگار کی سہولتیں وافر ہیں۔ یہاں کی اقتصادیات کا انحصار فشنگ‘ شکار‘ ٹورازم اور معدنیات پر ہے۔ یہاں اعلیٰ درجے کے منرلز موجود ہیں جن میں یورینیم‘ خام لوہا اور تیل و گیس کے ذخائر شامل ہیں۔ امریکہ گرین لینڈ کی تزویراتی‘ اقتصادی‘ ملٹری اور سمندری روٹس کی اہمیت اور معدنیات کے پیش نظر یہاں قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
دنیا کے پُرامن ترین ملک ڈنمارک کے صدر نے مسٹر ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ہم گولی پہلے ماریں گے اور بات بعد میں کریں گے۔ ٹرمپ کے ان غیر متوقع اعلانات پر ڈنمارک اور پورپی یونین امریکہ کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں۔ برسلز میں یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کا یا کالاس (Kaja Kallas) نے کہا ہے کہ ہم اچھی طرح غور و فکر کر رہے ہیں اور کسی کو گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔
جرمنی میں ہونے والے ایک حالیہ سروے کے مطابق 78فیصد افراد نے کہا ہے کہ امریکہ اب ایسا شراکت دار ہے جس پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ رائے اب یورپی حکمرانوں کی بھی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو کی حیثیت امریکہ کے بغیر کچھ نہیں۔ یورپ امریکہ کا قدیم حلیف ہے‘ تاہم جب کوئی حلیف دھمکیاں دینے پر اتر آئے تو دوست بھی خم ٹھونک کر مقابلے پر آ جاتے ہیں۔ پچھلے امریکی صدور بھی اس طرح کی کارروائیاں کرتے رہے مگر وہ کوئی نہ کوئی پردہ رکھتے تھے یا کسی حیلہ سازی سے کام لیتے تھے مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا تکلف اختیار کرنے سے مکمل اجتناب کیا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ دو ہفتے سے ایرانی عوام مہنگائی اور کرنسی کی قدر کم کرنے کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج کر رہے ہیں۔ تازہ خبروں کے مطابق امریکی صدر ایران پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں اور تیاری بھی ہو چکی۔ ایرانی سپیکر نے کہا کہ اگر امریکہ نے ایسا کوئی اقدام کرنے کی غلطی کی تو ہم خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے اور اسرائیل پر بھی حملے کریں گے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ ایرانی مظاہرین کو آمادئہ تشدد کر رہا جبکہ اسرائیلی ایجنٹ ایران میں تخریب کاری کی وارداتیں کر رہے اور عمارتوں کو نذرِ آتش کر رہے ہیں۔ بعض ایرانی اور کچھ پاکستانی مفکرین کے تجزیوں کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایران میں یا تو لوگ مذہبی ہیں یا غیر مذہبی۔ اُن کے ہاں درمیان کی کوئی چیز بہت کم پائی جاتی ہے۔ یہ رجیم ختم ہو گئی تو پھر مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں آئے گا اور مغرب اور اسرائیل کی مدد سے مذہب بیزار کلچر عام ہوگا۔ اس وقت ایران میں مذہبی لوگوں کی اکثریت ہے جبکہ سوشلسٹ اور لبرل خیالات والے مرد و زن کی تعداد زیادہ سے زیادہ بیس فیصد ہو گی۔ مذہبی ایرانیوں میں دو طبقات ہیں۔ ایک قدامت پسند‘ جو محض معاشی ریلیف چاہتے ہیں جبکہ دوسرا طبقہ اصلاح پسند ہے‘ جو حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کا خواہاں ہے۔ یہ لوگ باقی دنیا سے معمول کے تعلقات چاہتے ہیں۔ یہ نیو کلیئر ڈیل میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ ایران میں امن اور خوشحال معیشت چاہتے ہیں۔ اصلاح پسند طبقہ بعض اصلاحات تو چاہتا ہے مگر کسی طرح کی رجیم کی تبدیلی ہرگز نہیں چاہتا۔ ایرانی حکومت کو چاہیے کہ متوازن و معتدل پالیسی اختیار کر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ معاشی ریلیف دے تاکہ انتشار پھیلانے والوں کو مزید کوئی موقع نہ ملے۔
10جنوری کو جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا 22واں غیر معمولی اجلاس ہوا‘ جس میں صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیل اقدام کی شدید مذمت کی گئی‘ نیز غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی حملوں کے فی الفور خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاہم ہمارا اندازہ ہے کہ اس اجلاس میں ٹرمپ کے عالمی اقدامات کا عمومی طور پر اور اپنے خطے میں ایران پر حملے کی دھمکیوں کا بھی خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا ہوگا۔سوال یہ ہے امریکی صدر اس وقت ساری دنیا میں ہیجان کیوں برپا کر رہے ہیں؟ اس کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ مسٹر ٹرمپ ایسی چومکھی کیوں لڑ رہے جس میں اُن کے ساتھ قانون شکن اور امن دشمن اسرائیل کے سوا کوئی نہیں۔ ہمارے خیال میں امریکی صدر نوبیل امن پرائز کا خود کو حقدار جتلاتے جتلاتے اس کرّہ ارض کو چتا بنانے پر اس لیے تل گئے ہیں تاکہ دنیا پر امریکی طاقت اور اپنی شخصیت کا رعب جمایا جا سکے۔ لگتا ہے کہ امریکہ اب علی الاعلان اکیسویں صدی کا استعمارِ جدید بننا چاہتا ہے۔ عالمی حکمرانوں اور چھوٹے بڑے علاقائی اتحادوں کو ٹرمپین امپیریل ازم کا گہرائی سے جائزہ لے کر اپنے ردعمل کا اظہار کرنا چاہیے۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریے کے مطابق ہر ریاست کی اپنی اخلاقیات ہی 21ویں صدی کا سیاسی و عالمی معیار بن جاتی ہیں تو پھر دنیا کی شکل کیا ہوگی؟ اس کا اندازہ لگانے کیلئے کسی بڑی ذہانت و فطانت کی ضرورت نہیں‘ عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر کسی ملک میں تھانہ ہو نہ کچہری‘ حکومت ہو نہ عدالت تو اس ملک کا کیا حال ہوگا۔ اگر مسٹر ٹرمپ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لے کر اب تک کی تہذیبی و تکنیکی ترقی کو پامال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو نہ صرف روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں بلکہ چھوٹے بڑے دیگر ملکوں کو بھی انہیں اس پروگرام سے باز رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے‘ وگرنہ دنیا ایک بار پھر پتھر زمانے میں چلی جائے گی۔
معروف عالمی سائنسدان آئن سٹائن نے کہا تھا کہ ''مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ تیسری عالمی جنگ کن کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی مگر مجھے یہ معلوم ہے کہ چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی‘ وہ بھی اس صورت میں کہ جب کوئی انسان یا پتھر بچے ہوں‘‘۔ کیا دنیا ''میری طاقت میری مرضی‘‘ والے صدر کو اپنی من مانی کرنے دے گی؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved