سیاسی محاذ پر مذاکرات اور مفاہمت کی ضرورت کا اظہار تو ہر سمت سے کیا جا رہا ہے اور ملک میں انتشار‘ خلفشار‘ ٹکراؤ اور تناؤ کی صورتحال کو ختم کرکے مل بیٹھنے اور آگے چلنے کی بات تو ہر سطح پر کی جا رہی ہے لیکن اس میں عملاً پیشرفت نہیں ہو رہی۔ کوئی بھی اس حوالے سے سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ یہ امر سیاسی حلقوں بالخصوص عوام میں تشویش پھیلانے کا سبب بن رہا ہے۔ جمہوری ملکوں اور معاشروں میں سیاست کو مل جل کر مسائل کے حل کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور وہاں کے عوام اپنی حکومتوں اور پارلیمنٹ پر اعتماد کرتے اور سمجھتے ہیں کہ ان کے احکامات اور اقدامات ملک اور قوم کیلئے ہیں جن کے نتیجے میں عوام کے مسائل حل ہوں گے اور ملک میں استحکام قائم ہو گا۔ لیکن ہمارا بڑا سیاسی المیہ یہ رہا ہے کہ اول تو یہاں انتخابات کی شفافیت مسئلہ بنی رہی اور یہاں جو بھی حکومت بنی اسے اپوزیشن نے تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ اسی طرح حکومت نے بھی اپوزیشن کے تحفظات دور کرنے کے بجائے اسے ٹارگٹ کر لیا اور یہ عمل ملک میں سیاسی تناؤ کا باعث بنا۔ اس کیفیت سے شاید کسی جماعت یا لیڈر کو تو فائدہ پہنچا ہو لیکن سیاست‘ جمہوریت اور ملکی معیشت کو اس کا بڑا نقصان ہوا اور ہو رہا ہے۔
ملک میں مذاکرات کی بات تو ہو رہی ہے لیکن فریقین اس حوالے سے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے‘ جس کی بنیادی وجہ اعتماد کا فقدان ہے۔ ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ حکومت‘ جسے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا اور اس کیلئے سازگار ماحول بنانا چاہیے‘ کی جانب سے ابھی تک کوئی ایسا اعلان یا اقدام نہیں کیا گیا کہ کہا جا سکے کہ حکومت بامقصد مذاکرات کیلئے تیار اور مسائل کے سیاسی حل کیلئے سنجیدہ ہے۔ دوسری جانب اگر اپوزیشن پر نظر دوڑائی جائے تو اپوزیشن کی بڑی جماعت پی ٹی آئی مذاکرات کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی‘ اس کی لیڈر شپ کے سر سے احتجاج اور مزاحمت کا بیانیہ ہی نہیں اُتر رہا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام سے بنایا گیا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد مذاکرات کی بات تو کرتا ہے لیکن پی ٹی آئی اس خیال سے متفق دکھائی نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد بھی اس حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت مفاہمت اور مزاحمت کا عمل ساتھ ساتھ چلانا چاہتی ہے‘ یہی رویہ حکومت کو مذاکرات کے حوالے سے پیشرفت سے روکتا ہے۔ تحریک تحفظ آئین کی لیڈر شپ کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں اس حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ جس جماعت کی طاقت اور قوت کے بل بوتے پر یہ تحریک چلائی جا رہی ہے‘ اس کے ذمہ داران تو واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ ہم حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار نہیں۔ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان صاحبہ کے بیانات بھی ریکارڈ پر ہیں کہ جو مذاکرات کی بات کرتا ہے وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں۔
اس عمل میں ایک اور دلچسپ کردار خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ہے جو ان دنوں سٹریٹ پاور کے استعمال کیلئے سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مشن انہیں بانی پی ٹی آئی نے سونپا ہے‘ اور وہ سمجھتے ہیں کہ سٹریٹ پاور کو بروئے کار لا کر وہ حکومت یا ریاست پر اثر انداز ہو پائیں گے۔ اب تک تو ایسا نہیں لگتا کہ ان کی سرگرمیوں سے حکومت پریشان ہوئی ہو یا ریاست پسپائی کیلئے تیار ہو۔ وہ اپنا صوبہ چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں جا کر وہاں ایک ایسی مشق کرتے نظر آ تے ہیں جس کی پہلے روایت نہیں ملتی۔ اگر ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے سیاسی ایجنڈے کے ساتھ دوسرے صوبے میں جا کر سیاسی اور احتجاجی سرگرمیاں کرنا چاہے گا تو متعلقہ صوبے کو اعتراض تو ہو گا‘ جیسا کہ اس سے پہلے ان کے دورۂ پنجاب کے دوران ہوا۔ دورۂ پنجاب کے دوران جو بدمزگی پیدا ہوئی وہ کسی بھی طرح وفاق‘ سیاست اور سسٹم کیلئے اچھی نہیں۔ بلاشبہ احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی اور قانونی حق ہے‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نو مئی کے واقعات نے انتظامی مشینری کو کسی بھی احتجاجی سرگرمی خصوصاً تحریک انصاف کے احتجاج بارے الرٹ کر رکھا ہے۔ 9مئی کو ہونے والے جلاؤ گھیراؤ کے واقعات‘ خصوصاً فوجی املاک پر حملوں نے صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ پورے ملک کی سیاست کو نقصان پہنچایا ہے۔ سانحہ نو مئی کے بعد سے سیاسی محاذ پر پیدا شدہ تناؤ ختم ہونے میں نہیں آ رہا اور اس کے اثرات صرف سیاست پر ہی نہیں بلکہ معیشت پر بھی نظر آتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ سیاسی شخصیات ملک میں مفاہمتی عمل پر زور دیتی نظر آتی ہیں تاکہ ایک جگہ بیٹھ کر اس صورتحال کا اتدارک کیا جائے اور آگے بڑھا جائے۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاس اور اس میں پاس کیے جانے والے اعلامیے کو اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس یہ کہ مذکورہ اجلاس میں ملکی سیاست کے اصل فریق موجود نہ تھے۔ بڑا اور بنیادی سوال یہی ہے کہ آخر مذاکرات اور مفاہمت کا یہ عمل کیسے آگے بڑھ پائے گا اور یہ کہ اصل رکاوٹ کون ہے۔ ملکی سیاسی تاریخ میں بڑے مشکل اور نازک لمحات میں سیاستدان سیاسی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مل بیٹھتے رہے اور کسی نہ کسی حل پر بھی پہنچے لیکن پچھلی دو دہائیوں سے قومی سیاست میں جو رجحان سامنے آ رہا ہے اس میں سیاسی طرزعمل کا فقدان رہا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف چڑھائی کے رجحان نے سیاست کو کمزور کیا ہے۔ اس میں بنیادی رکاوٹ وہ خاص مائنڈ سیٹ ہے جو ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کرنے کے بجائے چور دروازوں پر توجہ مرکوز رکھتا اور سمجھتا ہے کہ اہلِ سیاست سے مل کر چلنے کے بجائے غیرسیاسی قوتوں پر انحصار کرکے اقتدار کی منزل پر پہنچا جائے اور اپنے سیاسی مفادات پورے کیے جائیں۔ ملک و قوم کو در پیش مسائل سے انہیں کوئی غرض نہیں‘ اسی رجحان نے ملک میں سیاست‘ سیاستدانوں‘ حکمرانوں اور مسائل سے پریشان عوام کے درمیان ایک عدم وابستگی کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ آج تمام اہم جماعتیں مذاکرات کے نام پر اپنے لیے سیاسی راستہ بنانے اور اقتدار کی طرف پیشرفت کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں لیکن ملک کے 25کروڑ عوام کے مسائل سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج نہ تو کسی کا احتجاج کارگر ہو رہا ہے اور نہ ہی عوام سیاسی قوتوں اور سیاستدانوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ یہ ان سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہاں بڑا سوال یہی ہے کہ اگر سیاستدانوں اور سیاسی قوتوں کا کردار عوام کے ساتھ جڑا ہوا نہیں تو پھر وہ کس بل بوتے پر سیاست کر رہی ہیں۔ ملک میں جاری جمہوری عمل کے سارے ثمرات تو وہ مل کر سمیٹ رہے ہیں لیکن 25کروڑ عوام کی جھولی میں کیا پڑا ہے؟ عوام کا کوئی پرسانِ حال کیوں نہیں۔
حالات و واقعات کے پیشِ نظر کہا جا سکتا ہے کہ اہلِ سیاست کے پاس وقت کم اور غلطی کی گنجائش بالکل نہیں ہے۔ اگر وہ واقعتاً ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہیں اور ملک کو آگے چلتا اور بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک ایک قدم پیچھے اٹھانا پڑے گا اور مذاکرات کو اپنے مطالبات اور ریلیف سے مشروط کرنے کے بجائے ملک اور قوم کے مفادات کو ترجیح دینا ہو گی۔ بالآخر مذاکراتی عمل سے ہی مشکلات کا ازالہ ہو گا‘ سیاسی راستہ بنے گا۔ احتجاج اور مزاحمتی بیانیہ ایک خاص وقت تک کارگر ہوتا ہے لیکن اس آپشن سے نہ تو حکومتوں کو گرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ریاست اس کے آگے سرنڈر کرتی ہے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر اہم ایشوز پر مذاکرات کے آپشن کو بروئے کار لائیں اور ایک دوسرے کو سپیس دیں۔ یہ جمہوریت کے تسلسل کیلئے بہت ضروری ہے۔ لیکن اگر اہلِ سیاست نے نوشتہ دیوار نہ پڑھا اور ضد اور ہٹ دھرمی کا سلسلہ جاری رکھا تو نہ صرف اس کا نقصان جمہوریت و سیاست کو ہو گا بلکہ اس کی ذمہ داری سے سیاستدان اپنا دامن بھی نہیں چھڑا سکیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved