تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     14-01-2026

چھوٹے دل اور ظرف کی کمی

جہاں اور مسائل ہماری دھرتی کے رہے ہیں وہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس قوم کی تقدیر بڑے چھوٹے ہاتھوں میں رہی ہے۔ ایسے ایسے مائی کے لعل یہاں اقتدار میں رہے ہیں جو کہیں اور ہوتے تو درمیانے درجے کی نوکری کو خوش قسمتی سمجھتے۔ اس چھوٹے پن کا مظاہرہ بہت سی چیزوں میں نظر آتا ہے لیکن اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر کوئی زیر ہو گیا تو رویہ اُس کے ساتھ ناروا ہی رکھا گیا۔ مثالوں پر آئیں تو پاکستانی تاریخ کا احاطہ ہو جائے۔
ایوب خان پرانے سیاسی لوگوں کو برداشت نہ کر سکے اور ان میں جو نمایاں تھے اُن پر ایبڈو کی پابندیاں لگا دیں تاکہ سیاسی طور پر پہلے فیلڈ مارشل صاحب کیلئے وہ خطرہ نہ بن سکیں۔ ایبڈو کی پابندیاں تو لگیں لیکن میاں ممتاز دولتانہ اور ان جیسے دیگر لیڈروں کو گرفتاری اور جیل کی صعوبتیں برداشت نہ کرنا پڑیں۔ اُن کی سیاست پر البتہ پابندی رہی جب تک ایبڈو کی میعاد پوری نہ ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ سوشلسٹ اور بائیں بازو کے نظریات سے فیلڈ مارشل کو سخت نفرت تھی۔ اسی لیے بائیں بازو کے رہنما حسن ناصر گرفتار ہوئے تو اُن کی لاش ہی عقوبت خانے سے نکلی۔
یحییٰ خان کو اونچا کرنے والے ایوب خان تھے جو اُن کے گاڈ فادر تھے اور وقت آنے پر یحییٰ خان کو ہی فوج کی کمان سونپی گئی۔ لیکن جب ایوب خان کے پاؤں پھسلنے لگے تو یحییٰ خان اُنہیں جلد رخصت کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ساز باز کرنے لگے۔ جب ایوب خان کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا اُنہیں اور کوئی تکلیف تو نہ پہنچائی گئی لیکن یحییٰ خان نے اُن کے حال میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ بھٹو کے ذکر پر یاد رکھنا پڑتا ہے کہ وہ بھی ایوب خان کے تراشے ہوئے ہیرے تھے۔ لمبا عرصہ کابینہ کے وزیر رہے اور کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی بنے‘ جہاں اُنہوں نے یہ بیش بہا قیمتی مشورہ دیا کہ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو حکمران پارٹی کا ممبر ہونا چاہیے۔ ایوب خان نے اپنے آخری ایام زیادہ تر اپنے اسلام آ باد گھر میں گزارے اور کوئی گواہی نہیں ملتی کہ بھٹو نے اُن کا کبھی حال پوچھا ہو۔ یحییٰ خان اقتدار سے معزول ہوئے تو اپنے ہارلے سٹریٹ راولپنڈی کے گھر میں بند رہے۔ مشروب کے رسیا تھے‘ اُس کے بغیر اُن کی شام نہ گزرتی۔ کہیں گواہی نہیں ملتی کہ دورانِ نظر بندی بھٹو نے اُنہیں کبھی مشروب کا تحفہ بھیجا ہو۔
ان سب کے برعکس برطانیہ کے مشہور پائلٹ ڈَگلس باڈر (Douglas Bader) جن کی ٹانگیں نہیں تھیں اور مصنوعی ٹانگوں سے چلتے تھے‘ اُن کا جہاز جب جرمن لائنوں کے پیچھے گرا اور وہ جرمن تحویل میں چلے گئے‘ جب اُنہیں نئی مصنوعی ٹانگوں کی ضرورت پڑی تو جرمن ایئرفورس نے برطانوی فورسز کو اس بارے پیغام پہنچایا۔ ایک برطانوی فائٹر نے نیچی پرواز کرتے ہوئے بذریعہ پیراشوٹ ٹانگیں پہنچائیں۔ اُس فائٹر پر کوئی فائر نہیں کھولا گیا۔
ایڈولف گیلانڈ (Adolf Galland) تیس سال کی عمر میں جرمن مسلح افواج کے نوجوان ترین جرنیل بنے۔ وہ فلائنگ Ace تھے جنہوں نے 104 برطانوی جہاز مار گرائے تھے۔ جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر برطانیہ کی تحویل میں گئے تو برطانوی پائلٹ نہایت عزت اور احترام سے اُن سے ملے۔ پہلے ایک ایئرفورس میس میں اُنہیں لے گئے جہاں اُن کی خاطر تواضع ہوئی اور باقاعدہ تحویل میں جانے لگے تو اُن کے ہاتھوں میں ایک بوتل اور ایک ڈبہ سگار تھما دیا۔
پہلی جنگِ عظیم میں سب سے نامور فائٹر پائلٹ جرمنی کا ریڈ بیرن (Red Baron) مین فریڈ وون رِکٹوفن (Manfred von Richtofen) تھے۔ ریڈ بیرن کا نام اس لیے لیا کیونکہ اپنے فائٹر جہاز کو سرخ رنگ میں کر دیا تھا۔ برطانیہ اور فرانس کے 80 جہاز رِکٹوفن نے گرائے جو تب کا ریکارڈ تھا۔ جو اُن کا آخری مشن ثابت ہوا‘ طیارہ شکن توپوں کے فائر کی زد میں آ گئے۔ جہاز گرا اور گو جہاز کو اتنا نقصان نہیں پہنچا‘ ریڈ بیرن کی موت واقع ہو گئی۔ یہ بہت بڑا واقعہ تھا جس کا خوب چرچا ہوا۔ قابلِ ذکر بات البتہ یہ ہے کہ جرمنی کے دشمنوں نے اُنہیں مکمل فوجی اعزاز سے دفنایا۔ تابوت کو فوجی افسروں نے اُٹھایا اور اعزازی رائفل فائر کی گونج میں تابوت کو زمین میں اُتارا گیا۔
کیونکہ فائٹر پائلٹوں کا ذکر ہو رہا ہے تو یہ بھی قابلِ ذکر بات ہے کہ معرکۂ حق میں دورانِ پریس کانفرنس جب اے وی ایم اورنگزیب احمد سے ہندوستانی ایئرفورس کے بارے میں ایک سوال ہوا تو اُن کے منہ سے کوئی برا یا تحقیر آمیز لفظ نہ نکلا اور اُنہوں نے یہ کہا کہ ہندوستانی ایئرفورس ایک پروفیشنل فائٹنگ فورس ہے۔ صحیح طریقے سے جو بھی مردِ میدان ہو اُس کا یہی انداز ہوتا ہے۔
بھٹو نے جنرل ضیا الحق کو کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچا دیا۔ مردِ حق ساتویں نمبر پر تھے اور میرٹ کے تصور کو کہیں دور سے بھی ہاتھ لگایا جاتا تو وہ چیف نہ بنتے۔ لیکن قسمت کا کیا کیا جائے بھٹو کی قسمت ہارنے کو چلی تھی اور یہ سمجھتے ہوئے کہ بڑا چاپلوس آدمی ہے اور بندگی اور تابعداری کی مثال قائم کرے گا تو ذہین بھٹو نے بطور آرمی چیف مردِ حق کا ہی انتخاب کیا۔ چلیں غلطی ہو گئی‘ تقدیر کا پانسہ پلٹا اور جو چاپلوس سمجھا گیا تھا وہی مسندِ اقتدار پر پہنچا اور مہربانی کرنے والے کا مقدر جیل کی کال کوٹھڑی بنا۔ پھر بھی کچھ تو وضع داری ہوتی‘ کچھ ماضی کا خیال کیا جاتا۔ بھٹو کی گرفتاری تو آسان بنائی جا سکتی تھی۔ بڑا آدمی تھا اس میں تو کوئی شک نہیں‘ جیل میں قیام کچھ آرام دہ ہو سکتا تھا۔ ایسا نہ کیا گیا۔ ایک مشقتی تھا اور بھٹو اور اُن کی تنہائی۔ کافی اور سِگار پر گزارہ ہوتا اور سارا دن کتابوں میں گزر جاتا۔ راستے سے ہٹانا ہی تھا تو ظرف نام کی چیز اس دھرتی پر ہوتی تو بھٹو کو اُس کی قید کے بعد کہیں بیرونِ ملک روانہ کیا جا سکتا تھا۔ وہاں کیا کرتا؟ تقریریں اور پریس کانفرنسیں‘ ان سے مردِحق کا کیا نقصان ہونا تھا؟ لیکن چھوٹا دل اور چھوٹی باتیں‘ بھٹو کو تختہ دار پر ہی چڑھنا پڑا۔
پرویز مشرف کو بھی دیکھ لیجئے‘ اپنی دنیا میں مگن منگلا کی کورکمانڈری کر رہے تھے ‘ آرمی چیف بننے کا سوچ نہ سکتے تھے۔ لیکن نواز شریف کی قسمت ہاری اور اُنہوں نے شریف النفس جنرل جہانگیر کرامت سے سینگ اڑا ئے اور تقریباً مجبور کیا کہ وہ عہدے سے سبکدوش ہو جائیں۔ مسئلہ بنا کہ نیا چیف کس کو بنانا ہے۔ سینئر ترین اور شاید قابل ترین بھی علی قلی خان تھے لیکن نواز شریف نے سمجھا کہ گوہر ایوب کا رشتہ دار ہے میرے لیے کوئی پرابلم نہ بنے۔ اس لیے کسی نئے نام کی تلاش ہوئی۔ کہتے ہیں چودھری نثار کے بھائی جنرل افتخار‘ جو ڈیفنس سیکرٹری تھے‘ نے پرویز مشرف کا نام لیا۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک قدوائی صاحب تھے جنہوں نے اس معاملے میں بڑا کردار ادا کیا۔ یہ لایعنی بات بھی کی گئی کہ پرویز مشرف مہاجر ہے اور اس لحاظ سے اپنے حلقۂ وفا سے محروم ہوگا۔ لہٰذا منگلا بلاوا گیا اور پرویز مشرف کے کاندھوں پر نیا رینک لگ گیا۔ پھر جو ہوا تاریخ کا حصہ ہے۔ نواز شریف تحویل میں گئے تو پرویز مشرف میں کچھ ظرف ہوتا تو نواز شریف قیدِ تنہائی سے بچ جاتے‘ تحویل کے ایام کچھ اچھے گزرتے۔ شاہ عبداللہ کو اُن کی خاطر مداخلت نہ کرنا پڑتی۔ لیکن جہاں اورنگزیب نے اپنے باپ اور سگے بھائیوں کو نہ بخشا تو وہاں جو ایک دفعہ دشمن تصور ہوا اُس کے ساتھ نرم رویہ کہاں سے آنا تھا؟ پھر بھی پاکستانی سیاست میں تنگ دلی بہت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved