ناریل‘ کیلے‘ چھالیہ اور آم کے پیڑوں کے سائے میں بیٹھ کرکالم لکھنا ایک عجیب اور منفرد تجربہ ہے۔ تجربے سے بھی زیادہ یہ ایک تعبیرِ خواب ہے۔ وہ خواب جو سالہا سال دیکھتا آیا۔ وہ خواب جس میں لذت بھی ہے اور تکلیف بھی۔ جس سرزمین میں پہنچنا اور اس کی ہواؤں میں سانس لینا آپ کیلئے بہترین خوشی بھی ہو اور ایک کانٹا بھی آپ کے دل میں مسلسل پیوست رہے۔ اگر کوئی ایسا خواب ہے‘ کوئی ایسا تصور ہے اور کوئی ایسا سفر ہے تو وہ میرے لیے صرف مشرقی بنگال یعنی بنگلہ دیش کا ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کہنا آج بھی آسان تھوڑی ہے؟ یہاں کا ویزا لیتے ہوئے کلیجہ کٹتا ہے اور ایسے پرائے ملک کیلئے سامانِ سفر باندھتے ہوئے‘ جو پرایا تھا ہی نہیں۔ میرا تعلق اُس نسل سے ہے جس نے مشرقی پاکستان کو اپنے لڑکپن میں الگ ہوتے دیکھا۔ یہ سانحہ ہمیں کبھی بھول نہیں سکتا۔ میں نے اپنے باکمال والد جناب زکی کیفی کو زندگی بھر میں کبھی روتے دیکھا تو سقوطِ مشرقی پاکستان کے وقت۔ اپنی دھوبن یاد آتی ہے جو مشرقی پاکستان میں اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر آنے پر بھی نہیں روئی تھی لیکن سقوطِ مشرقی پاکستان پر جس طرح پچھاڑیں کھاتی تھی‘ اسے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ اس کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا: ہائے میرا بیٹا بھی گیا‘ میرا ملک بھی گیا۔ مدتوں ہمارے گھر میں نہیں‘ پورے ملک کے ہر گھر میں سوگ کی کیفیت تھی۔ سوائے ان اہلِ طمع کے جن کے اقتدار اور مفاد کے لالچ نے پاکستان کو یہ دن دکھایا تھا‘ پورا ملک بے جان تھا اور مدتوں اسی کیفیت سے نہیں نکلا۔
مدتوں مجھے پٹ سن‘ دھان کے کھیتوں کے خواب آتے رہے۔ مدتوں انناس‘ کیلے‘ پان‘ چھالیہ اور ناریل کے درختوں کے جھنڈ آنکھوں میں رات کو جھرمٹ کرتے تھے لیکن کبھی اس سرزمین پر جانے کا شوق نہیں ہوا۔ سالہا سال کشتی کھینے والے مانجھیوں کے گیت سنائی دیتے اور تڑپاتے تھے۔ زخم ہی ایسا تھا کہ عشرے گزرنے کے بعد بھی مندمل نہیں ہوتا تھا‘ لیکن وقت بہت ظالم چیز ہے! اُن لوگوں کے بچھڑنے کے بعد بھی ہم جیتے رہتے ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور نہیں ہوتا۔ سب کچھ وہی رہتا ہے۔ دن رات‘ کھانا پینا‘ اوڑھنا بچھونا‘ خوشیاں غم‘ ہر چیز رواں رہتی ہے لیکن ایک کسک اور ایک چبھن کے ساتھ۔ ایسی چبھن کہ ذرا دھیان دیں تو بڑ ھ کر خنجر بھی بن جاتی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ دو ملک جدا ہوئے تو الگ الگ راہوں پر اس طرح چلے کہ میل ملاقات‘ سلام دعا بھی محال ہونے لگی۔ عوامی لیگ اور حسینہ واجد نے پوری کوشش کی کہ تعلقات نارمل نہ ہو سکیں۔ یہ ان کے مفاد میں بھی تھا اور ان کے بھارتی آقاؤں کے مفاد میں بھی۔ لیکن توڑ دیتا ہے کوئی موسیٰ طلسمِ سامری۔ جب پانچ عشرے گزر گئے اور بنگالی عوام کو صاف نظر آنے لگا کہ 1971ء میں ان کے ساتھ کیا ہوا تھا‘ تو سحر ٹوٹ کر ہر چیز اس طرح دکھائی دینے لگی جیسے وہ تھی۔ 5 اگست 2024ء کو حسینہ واجد کا عجلت میں بھارت کی طرف فرار اس دور کا خاتمہ تھا جس نے متحدہ پاکستان کا خاتمہ کیا تھا۔
میں نے بنگلہ دیش پر ایک سال میں بہت سے کالم لکھے‘ اس کی سیاسی صورتحال اور مستقبل پر تبصرے کیے۔ اہلِ بنگال سے رابطے کیے اور میرے دل میں بھی ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ دھان‘ پٹ سن کے کھیت اور بانس‘ چھالیہ کے درخت مجھے اپنے طرف بلانے لگے۔ دریائے پدما‘ کرنا فلی‘ برہم پترا اور بوڑھی گنگا کے پانیوں نے اپنی کشش کا آغاز کیا۔ راستے اور ویزے کیا کھلے‘ دونوں طرف کے دل کھل گئے۔ محبت کرنے والے بنگلہ دیش سے بلانے لگے۔ کچھ اجنبی اور کچھ جانے پہچانے‘ لیکن سب اپنے! سب شناسا اور سب محبت کرنے والے۔ نومبر 25ء میں ڈھاکہ یونیورسٹی نے اقبال اور نذر الاسلام مشترکہ کانفرنس کا دعوت نامہ بھیجا لیکن اُس وقت میرے لیے سفر ممکن نہ ہو سکا۔ پھر دسمبر میں دوبارہ دعوت نامہ ملا۔ اب جانا ممکن تھا سو اپنے خواب کی طرف رخ کرکے رختِ سفر باندھنے لگا۔ اب براہِ راست پرواز کا انتظار تھا جس کا اعلان بار بار ہوا لیکن تاریخ متعین نہیں تھی۔ تاریخ قریب آتی گئی اور اب یہی ممکن تھا کہ کسی بالواسطہ پرواز سے ڈھاکہ پہنچا جائے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے بیچ ویزے کی سہولتیں بہتر ہو چکی ہیں‘ لیکن ابھی مسائل بھی ہیں۔ لاہور سے قریب ترین بنگلہ دیش ہائی کمیشن اسلام آباد ہے۔ کراچی میں بھی یہ سہولت ہے لیکن آن لائن درخواست جمع کرانے کے بعد ملک کے باقی شہروں سے انہی دو جگہ خود جانا ضروری ہے۔ پاسپورٹ جمع ہونے کے سات‘ آٹھ دن بعد پاسپورٹ وصول کرنے کیلئے ایک بار پھر جانا ضروری ہے۔ یا آپ کسی عزیز کے ذریعے بھی منگوا سکتے ہیں۔ ویزا آن لائن ہو جائے تو بہت بہتر ہوگا۔ بنگلہ دیش میں پاکستان ہائی کمیشن میں مکمل آن لائن سہولت ہے اور میرے علم کے مطابق وہاں خود جانا ضروری نہیں۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔
پانچ جنوری 2026ء کو جب میں لاہور ایئر پورٹ کے ایک لاؤنج میں سری لنکن ایئر لائنز کی پرواز کا انتظار کر رہا تھا تو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اور منیجرز وغیرہ بھی اسی لاؤنج میں پہنچے۔ ٹیم اسی پرواز سے کولمبو جا رہی تھی۔ صائم ایوب اور سلمان آغا وغیرہ جیسے کم عمر لڑکوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی کہ انہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کرکٹ کا نام روشن کیا ہے۔ سری لنکن ایئر لائنز بجٹ ایئر لائن ہے‘ لیکن ایسا بھی کیا کہ جہاز میں سامنے سکرین بھی کام نہ کرے اورعملہ بھی زیادہ تعاون نہ کرتا ہو۔ خیر ایک مہربانی انہوں نے یہ کی کہ کولمبو‘ ڈھاکہ فلائٹ جو 14 گھنٹے بعد تھی‘ اس کے انتظار کیلئے ہوٹل فراہم کر دیا جہاں کچھ دیر آرام کیا جا سکتا تھا۔ کولمبو اترے تو ساحلی ہوا کی مخصوص خوشبو یا بُو نے استقبال کیا۔ اچھی بات یہ کہ لاہور کی جما دینے والی سردی کے بعد یہاں موسم خوشگوار تھا۔ اتنا خوشگوار کہ کئی لوگ آدھی آستینوں والی قمیصوں میں نظر آئے اور سویٹر یا جیکٹ تو کسی نے بھی نہیں پہنے تھے۔ ہوٹل جاتے ہوئے شہر کا یہ حصہ لاہور کے پوش علاقوں جیسا لگا جو مناسب صاف ستھرا تھا لیکن ہوٹل ہر قدم پر تھے۔ میں چونکہ ڈھاکہ سے واپسی پر چند دن سری لنکا رکوں گا اس لیے سری لنکا کا ذکر اُس احوالِ سفر کے ساتھ سہی۔
شاہ جلا ل ایئرپورٹ ڈھاکہ بین الاقوامی ایئر پورٹ ہے۔ اچھا‘ جدید سہولتوں سے مزین ایئر پورٹ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ایئر پورٹ کا نام ضیا انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے بدل کر شاہ جلال رکھا گیا۔ خدا کا بہت کرم ہے کہ دنیا میں ہر جگہ محبت کرنے والے موجود ہوتے ہیں۔ بنگلہ دیش تو ان سے مالا مال ہے۔ میرے خاندان‘ بزرگوں سے محبت کرنے والے اتنے ہیں کہ گنے نہیں جا سکتے۔ میری شاعری اور ادب کے حوالے سے محبت کرنے والے بھی بہت ہیں‘ اور ان سب کو ایئر پورٹ پر استقبال کیلئے جمع دیکھ کر خوشی ہوئی۔ ڈھاکہ میں موسم خوشگوار تھا‘ اگرچہ اہلِ بنگال کہتے تھے کہ اس سال سردی بہت ہے۔ میں ان کو کیا بتاتا کہ میں لاہور کی خون جما دینے والی ٹھنڈ سے نکل کر آ رہا ہوں تو یہاں مجھے گرمی محسوس ہو رہی ہے۔ ایئر پورٹ سے نکلے تو جدید ڈھاکہ کی عمارتیں سامنے تھیں۔ ایئر پورٹ ''اُترا‘‘ کے علاقے کے بالکل ساتھ تھا۔ 'اُتر‘ کا لفظ شمال کیلئے اردو اور ہندی میں رائج ہے۔ یہ ڈھاکہ کا شمالی علاقہ ہے اس لیے اُترا کہلایا۔ میرا انتظام جس ہوٹل میں تھا‘ وہ ایئر پورٹ کے اتنے قریب ہے کہ آپ جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف دیکھ سکتے ہیں۔ دوپہر ایک بجے کے قریب دھند بھی تھی اور دھوپ بھی نکل رہی تھی۔ لیکن ہلکی ٹھنڈی اور خوشگوار ہوا اسے مسلسل معتدل بنا رہی تھی۔ گزشتہ رات کولمبو میں قریب جاگتے ہوئے گزری تھی اس لیے جی چاہ رہا تھا کہ فوری بستر پر دراز ہوا جائے لیکن بھوک الگ اصرار کیے جا رہی تھی‘ سو فیصلہ میرا مرے ہاتھوں میں تھا: دل یا شکم؟ شکم کو برتری حاصل ہوئی اور پہلے ایک ریسٹورنٹ میں شکم سیری کا سامان کیا۔ حضور دل کا کیا‘ ساری زندگی شکم سیری ہی میں تو گزر جاتی ہے۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved