تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     14-01-2026

خاموش طاقت

ریاستوں کی اصل پہچان اس لمحے سامنے آتی ہے جب شور ختم ہو جاتا ہے اور فیصلوں کا وزن باقی رہ جاتا ہے۔ وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کس نے کیا کہا بلکہ یہ پرکھا جاتا ہے کہ دباؤ کے لمحے میں کس کا نظام قائم رہا‘ کس کی فیصلہ سازی بکھری نہیں اور کس کی صلاحیت نے بغیر کسی اعلان کے خود کو منوا لیا۔ پاکستان کے دفاعی نظام کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ معرکہ حق میں پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو محض بیانات‘ پریس ریلیز یا روایتی تاثر کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی صلاحیت کی بنیاد پر دیکھا‘ پرکھا اور جانچا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں دفاعی طاقت کا مفہوم بدلا۔ بات یہ نہیں رہی کہ پاکستان کے پاس کون سا ہتھیار ہے‘ بات یہ ہو گئی کہ پاکستان کا سسٹم کیا ہے۔ دفاعی نظام کا وہ مجموعہ جس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ فضائی نگرانی‘ بروقت فیصلہ سازی‘ ڈیٹا کا تجزیہ‘ ردعمل کی رفتار اور ادارہ جاتی ہم آہنگی شامل ہوتی ہے۔ معرکہ حق کے بعد دنیا نے دیکھا کہ پاکستان کا دفاعی ڈھانچہ دباؤ میں وقتی ردعمل نہیں دیتا بلکہ ایک مربوط‘ منظم اور پیشہ ور نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ یہی وہ پہلو تھا جس نے بیرونی دنیا کی توجہ کھینچی‘ دفاعی دنیا میں اعتماد کسی جذباتی تقریر سے نہیں بنتا۔ اعتماد اس وقت بنتا ہے جب کوئی نظام خود کو میدان میں ثابت کرے۔ معرکہ حق میں پاکستان کے دفاعی نظام نے یہی کیا۔ فضائی صلاحیت ہو‘ نگرانی کا نظام ہو یا فیصلہ سازی کی زنجیر‘ ہر سطح پر ایک تسلسل نظر آیا۔ یہ تسلسل برسوں کی خاموش محنت کا نتیجہ تھا‘ جس کا شور کبھی میڈیا میں نہیں مچایا گیا مگر جس کی بنیادیں مضبوط رکھی گئیں۔ اسی پس منظر میں پاکستان کے دفاعی شعبے بالخصوص فضائی صلاحیت اور طیاروں سے متعلق عالمی دلچسپی کو دیکھنا چاہیے۔ دفاعی پیداوار سے وابستہ ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی فروخت کے لیے متعدد ممالک کے ساتھ بات چیت کے مرحلے میں ہے۔ یہ بات چیت کسی ایک خطے یا کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ مختلف ممالک کی دلچسپی اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان کا دفاعی پلیٹ فارم اب صرف ایک قومی ضرورت نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر قابلِ غور سمجھا جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جے ایف 17 تھنڈر کوئی عام طیارہ نہیں بلکہ ایک مکمل ملٹی رول پلیٹ فارم ہے‘ جسے جدید جنگی تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔ بلاک تھری میں جدید ریڈار سسٹم‘ طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت اور مختلف نوعیت کے مشنز میں حصہ لینے کی اہلیت نے اس طیارے کو دفاعی دنیا میں ایک سنجیدہ آپشن بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ممالک‘ جو محدود بجٹ کے باوجود مؤثر دفاعی صلاحیت چاہتے ہیں اس طیارے کو دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چونکہ جے ایف 17 ایک مشترکہ منصوبہ ہے‘ اس لیے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں شراکت دار کی مشاورت اور منظوری ایک فطری عمل کا حصہ ہوتی ہے۔ دفاعی سودے نہ فوری ہوتے ہیں اور نہ جذباتی بنیادوں پر طے کیے جاتے ہیں۔ ان میں تکنیکی جانچ‘ آپریشنل ضروریات‘ تربیت‘ لاجسٹک سپورٹ اور طویل المدتی تعاون جیسے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی ذرائع بار بار یہ واضح کرتے ہیں کہ جب معاملات مکمل طور پر میچور ہوں گے تبھی انہیں منظرِ عام پر لایا جائے گا۔ اس کے برعکس‘ بین الاقوامی میڈیا میں روزانہ ایک نئی خبر‘ ایک نیا تجزیہ اور ایک نیا دعویٰ سامنے آ رہا ہے۔ کبھی کسی ملک کا نام لیا جاتا ہے‘ کبھی کسی بڑے دفاعی معاہدے کا تاثر دیا جاتا ہے اور کبھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان طیارے دے رہا ہے یا دینے جا رہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع اس صورتحال کو دفاعی بوم کے فطری اثرات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ جب کسی ملک کی دفاعی صنعت توجہ حاصل کرتی ہے تو قیاس آرائیاں بھی جنم لیتی ہیں اور دشمن طاقتیں اس سارے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں مگر ذمہ دار ریاستیں افواہوں پر نہیں‘ فیصلوں پر چلتی ہیں۔ معرکہ حق کے بعد ایک اور اہم تبدیلی یہ آئی کہ پاکستان کے دفاعی نظام کو ایک ذمہ دار اور قابلِ پیشگوئی نظام کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ دفاعی دنیا میں یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ دنیا وہاں تعاون کرتی ہے جہاں نظام مستحکم ہو‘ فیصلے واضح ہوں اور ریاست جذبات کے بجائے ذمہ داری سے کام لے۔ پاکستان نے اس کسوٹی پر خود کو ثابت کیا۔ یہی وجہ ہے کہ دفاعی سطح پر بات چیت محض خرید وفروخت تک محدود نہیں رہی بلکہ نظام‘ تربیت‘ تجربے اور عملی اہلیت کے گرد گھومنے لگی۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دفاعی طاقت کا اصل فائدہ صرف عسکری نہیں ہوتا۔ جب کسی ملک کا دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے تو اس کے اثرات سفارتکاری‘ معیشت اور عالمی وقار تک پھیلتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے۔ دفاعی نظام پر اعتماد بڑھا تو پاکستان کے مؤقف کو بھی زیادہ سنجیدگی سے سنا جانے لگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دفاعی استحکام ریاستی وقار میں تبدیل ہوتا ہے۔ پاکستان کا دفاعی نظام آج تاریخی مضبوطی کی اس سطح پر کھڑا ہے جہاں اس کی افادیت صرف اندرونِ ملک نہیں بلکہ بیرونی دنیا میں بھی محسوس ہو رہی ہے۔ یہ مضبوطی کسی ایک معرکے کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی منصوبہ بندی‘ ادارہ جاتی تسلسل اور پیشہ ورانہ نظم وضبط اور پھر ایک ویژنری لیڈر کی سرپرستی کا حاصل ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آج پاکستان کی دفاعی صنعت کو ایک بوم کے مرحلے میں داخل ہوتا دیکھا جا رہا ہے۔ مگر اس پوری تصویر کا ایک رخ ایسا بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر اپنے دفاعی اور سٹرٹیجک معاملات کو اس قدر مؤثر انداز میں سنبھال سکتا ہے‘ اگر وہاں فیصلے درست‘ بروقت اور تسلسل کے ساتھ ہو سکتے ہیں تو اندرونی معاملات میں یہی سنجیدگی کیوں نظر نہیں آتی؟ یہ سوال اب صرف تجزیہ کار نہیں‘ بلکہ جب بطور رپورٹر فیلڈ میں موجود ہوتے ہیں تو لوگ بھی پوچھتے ہیں‘ سوال اٹھاتے ہیں۔ دفاعی نظام نے ثابت کر دیا کہ جب میرٹ‘ تسلسل اور پیشہ ورانہ سوچ کو ترجیح دی جائے تو نتائج سامنے آتے ہیں۔ اس کے برعکس‘ اندرونی نظم ونسق میں سیاسی نااہلیاں‘ انتظامی ناکامیاں اور ہر بحران کا ملبہ کسی اور پر ڈالنے کی روایت جوں کی توں ہے۔ معیشت ہو‘ تعلیم ہو‘ صحت ہو یا گورننس‘ ہر جگہ ایک ہی شکایت سنائی دیتی ہے؛ فیصلوں کی کمی‘ سمت کا فقدان‘ ذمہ داری سے فرار اور اپنوں کو مبینہ طور پر نوازنے کی روایت بلکہ معاملہ یہاں پر ہی نہیں رکتا‘ غلط کو تسلیم نہ کرنے کی روایت بھی ہے۔ یہ تضاد اب زیادہ نمایاں ہو رہا ہے۔ ایک طرف ریاست کا دفاعی ڈھانچہ ہے جو خاموشی سے کام کرتا ہے‘ نتائج دیتا ہے اور عالمی سطح پر اعتماد حاصل کرتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی نظام ہے جو شور تو بہت مچاتا ہے مگر نتائج کم دکھاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی توازن بگڑنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ سوچ اب عوام میں بھی جڑ پکڑ رہی ہے کہ اگر دفاعی ادارے کانٹ چھانٹ‘ میرٹ اور تسلسل کے اصول پر چل سکتے ہیں تو سیاسی اور انتظامی نظام کیوں نہیں؟ اگر دفاعی فیصلے وقتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ آنے والے وقت کو سامنے رکھ کر کیے جا سکتے ہیں تو اندرونی مسائل کے حل میں یہ ویژن کیوں نظر نہیں آتا؟ ریاستیں تب مکمل ہوتی ہیں جب ان کا دفاع مضبوط ہو اور ان کا اندرونی نظام بھی۔ معرکہ حق نے پاکستان کے دفاعی نظام کی صلاحیت کو دنیا کے سامنے ثابت کر دیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا اسی سنجیدگی‘ اسی پیشہ ورانہ سوچ اور اسی فیصلہ سازی کو اندرونی معاملات میں بھی منتقل کیا جا سکے گا یا نہیں؟ کیونکہ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جو ریاستیں صرف بیرونی محاذ پر مضبوط مگر اندر سے کمزور رہتی ہیں‘ وہ اپنی طاقت کے باوجود دیرپا استحکام حاصل نہیں کر پاتیں۔ پاکستان کے پاس آج ایک مثال موجود ہے‘ اپنا فاعی نظام کہ جس نے پوری دنیا ہلا کر رکھ دی! اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا سیاست اس مثال سے کچھ سیکھنے کو تیار ہے یا نہیں یا یہاں پر بھی وہی فارمولا چلے گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved