تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     15-01-2026

ایک پارک سے جڑی یادیں

اوسطاً سال میں 355 دن ملتان کے حالات پر واویلا کرنے اور گھپ مچانے والا یہ مسافر واپس آیا ہے تو ملتان میں کچھ بہتری دکھائی دی ہے‘ بلکہ کچھ سے بھی تھوڑی زیادہ بہتری کہوں تو زیادہ مناسب ہے۔ ملتان میں بھی باقی پاکستان کی طرح ٹریفک کا برا حال ہے۔ اس میں قصور سرکار اور ٹریفک پولیس اور اس سے متعلقہ محکموں کا بھی ہے‘ تاہم عوام کی طرف سے حالات کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ سرکار کی طرف سے کی جانے والی ہر بہتری اور انتظامی اقدامات عوام کی طرف سے عدم تعاون کے باعث کار لاحاصل میں بدل جاتے ہیں۔
میں گھر سے نکل کر بوسن روڈ پر آئوں تو اب دائیں جائوں یا بائیں طرف کا رخ کروں‘ ہر دو اطراف پر ٹریفک بری طرح پھنسی ہوئی ملتی تھی۔ بائیں طرف‘ یعنی شہر کی جانب رخ کریں تو نو نمبر چونگی پر ٹریفک اس بری طرح پھنسی ہوتی تھی کہ منزلِ مقصود تک کا دورانیہ صرف اسی ایک جگہ پر پھنسنے کے باعث دُگنا ہو جاتا تھا۔ دوسری طرف جائیں تو آگے سیداں والے بائی پاس پر بھی ٹریفک ایسی پھنسی ہوتی تھی کہ خدا کی پناہ۔ بعض اوقات تو صرف اسی چوک کو پار کرنے میں آدھ گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ تعلیمی اداروں اور دفتری اوقاتِ کار کے مطابق صبح اور سہ پہر کو حالات مزید دگرگوں ہو جاتے۔ کچھ تو دونوں چوکوں کا نقشہ الّا ماشاء اللہ تھا‘ اوپر سے سڑک پر جلدی مچانے کی عادی اس قوم نے حالات کو آخری حد تک خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ مزید مصیبت یہ تھی کہ ان دونوں جگہوں سے بچنے کی کوئی سبیل بھی نہیں بن پاتی تھی کہ ان کا کوئی متبادل راستہ بھی نہیں ہے۔ اب چوک اور اشارے تو بہتر ہو گئے ہیں مگر عوام کا وہی حال ہے سرخ اشارے کے باوجود بھائی لوگ دائیں بائیں دیکھے بغیر گزر رہے ہیں۔ اب کوئی چالان کرے تو کہرام مچ جاتا ہے کہ غریب مارا گیا۔
ہمارے ہاں کسی بھی شہر میں چلے جائیں چوک‘ سڑکیں‘ اشارے‘ یوٹرن اور سروس روڈز اس بدانتظامی اور نالائقی سے بنائی گئی ہیں کہ بندے کو حیرانی ہوتی ہے کہ ان کو بنانے والے کون سے نابغے ہیں جو ایسے ایسے محیر العقول نمونے بناتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ٹریفک انجینئرنگ سے نابلد شخص بھی ایسی فاش غلطیاں نہیں کر سکتا جو ہمارے ٹریفک انجینئرنگ والے کرتے ہیں۔ اس قسم کے احمقانہ ڈیزائن بنانا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں جو ہمارے ترقیاتی اداروں کے کوالیفائیڈ انجینئر اور ٹریفک ماہرین کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار ملتان ترقیاتی ادارے کے سربراہ سے اس سلسلے میں ملاقات کی تو انہیں کہا کہ اگر ٹریفک سے متعلق سڑکوں پر منصوبہ بندی کی ذمہ داری انجینئروں کے بجائے کسی جفت ساز کو دے دی جائے تو شاید ہمیں بہتر نتائج مل سکیں کہ ماہر جفت ساز بھی جوتے کو ٹانکے کم از کم کسی ترتیب سے اور سیدھے لگاتا ہے۔
عیدگاہ چوک پر لگے اشاروں کے تجربے کی روشنی میں چونگی نمبر 9 اور سیداں والا بائی پاس چوک پر جو اشارے لگائے ہیں وہ کافی حد تک مؤثر ہیں لیکن مؤخر الذکر چوک کے عین اوپر واقع میٹرو سٹیشن نے معاملات کے مزید بہتر ہونے میں جو رکاوٹ ڈالی ہے فی الوقت اس کا کوئی حل دکھائی نہیں دیتا۔ اگر شہباز شریف کا یہ غیر ضروری محبت نامہ اڑچن نہ ڈالتا تو نہ صرف یہ چوک بلکہ پوری سڑک ان خرابیوں سے بچ جاتی جو میٹرو کے طفیل نہ صرف اس علاقے‘ بلکہ پورے شہر کیلئے باعثِ آزار ہیں۔ لیکن اب کا کوئی حل بھی نہیں اور اس سے مفر بھی ممکن نہیں۔
اب ملتان میں باقی معاملات میں بھی بہتری دکھائی دے رہی ہے۔ پارکس کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔ گلگشت کالونی میں رہائش نہ ہونے کے باوجود میرا تعلق اس کالونی سے اتنا پرانا ہے کہ اب شاید اس کالونی کے کسی مکین کا بھی مشکل سے ہی ہوگا کہ اس کالونی کے زیادہ تر مکین تو گھر بیچ باچ کر رخصت ہو چکے اور کسی زمانے کی شاندار رہائشی کالونی جو سفید پوش طبقے سے لے کر امرا تک کی رہائش کیلئے اولین ترجیح ہوا کرتی تھی‘ مکمل طور پر کمرشل ہو چکی ہے۔ اب اس میں گنتی کے چند گھر بچے ہیں۔ میں جب 1968ء میں یعنی آج سے اٹھاون سال قبل گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی میں داخل ہوا تو میرے کئی کلاس فیلو اسی کالونی کے رہائشی تھے۔ سکول کے سامنے والی سڑک پار کریں اور گلگشت کالونی میں داخل ہو جائیں۔ ارشاد‘ معید‘ شفقت‘ خالد محمود اور انور ککی اسی کالونی میں رہتے تھے۔ میرا آنا جانا انور ککی اور معید کے گھر تھا اور ہم دوست چھٹی کے بعد گول باغ آ جاتے۔ تب ہمیں یہ پارک دنیا کا سب سے حسین پارک لگتا تھا۔ ہماری دنیا کے بارے میں معلومات ایسی ہی تھیں کہ راستے میں پڑنے والا لاسال ہائی سکول دنیا کا سب سے مہنگا اور شاندار سکول لگتا تھا۔ گورداسپور بیکری کا کیک دنیا کا سب سے لذیذ کیک‘ لالہ مشتاق کا فالودہ دنیا کا سب سے مزیدار فالودہ اور گول باغ سب سے خوبصورت پارک لگتا تھا۔ ایمانداری کی بات ہے تب گول باغ پارک تھا بھی خوبصورت۔
بعد میں دوسرے سرے پر ایک ٹین کے کمرے پر مشتمل کینٹین بن گئی۔ پھر آہستہ آہستہ پارک برباد ہونا شروع ہو گیا۔ بارہا اس کی تزئین وآرائش کی گئی مگر ہر بار پہلے سے بھی زیادہ خراب منصوبہ بندی نے اس کا سارا حسن گہنا دیا۔ اور صرف اسی پر کیا موقوف‘ میرے سامنے لاہور کا گول باغ‘ جو بعد میں ناصر باغ کہلایا‘ اسی طرح برباد ہوا۔ لارنس گارڈن اور شملہ پہاڑی کے درخت اور سبزہ اڑن چھو ہوا۔ ملتان کا گول باغ بھی برباد ہوا۔ اب اس پارک کو نئی شکل اور خوبصورتی دے دی گئی ہے۔اس پارک میں مستحقین کو مفت کھانا کھلانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مفت کھانے والے دیگر پراجیکٹس کے برعکس یہاں پیشہ ور گداگروں اور مانگنے والوں کے بجائے کم آمدنی والے محنت کشوں کیلئے کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ گو کہ اس میں گداگروں اور فقیروں کو کھانے سے روکا نہیں جاتا مگر یہ ان علاقوں میں ایسے حالات کے تحت چلایا جا رہا کہ اس میں مستفید ہونے والے زیادہ تر افراد محنت کش ہیں۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا منصوبہ ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ میں شروع کیا گیا ہے ۔ مختلف فیکٹریوں‘ ملوں اور اداروں میں کام کرنے والے ایسے مزدور‘ جن کے اداروں میں مفت کھانے کی سہولت میسر نہیں اس دستر خوان کے مفت کھانے سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔
میری اس پارک سے بچپن کی جڑی ہوئی یادوں کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ میں آج بھی اپنے آپ کو اس پارک کی بینچ پر بیٹھا ہوا محسوس کر سکتا ہوں جہاں میرے ساتھ معید‘ ارشاد اور انور ککی بھی موجود ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز اس پارک کے ساتھ سے گزرا تو چشم تصور میں دور دیس بسنے والا ارشاد‘ جہلم جا کر روزگار کے صحرا میں گم ہو جانے والا معید اور اپنے مالک حقیقی کے ہاں حاضر ہو جانے والا انور ککی بھی میرے ہمراہ ایک بینچ پر آن بیٹھے۔ کل جب چشمِ خیال نے یہ منظر دیکھا تو پارک کی خوبصورتی کے باعث یادوں کا چمن پہلے سے کہیں زیادہ روشن لگا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved