تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     15-01-2026

شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والا فقیر… (2)

میر علی احمد تالپور اس سیاسی اور سماجی پس منظر کے نمائندہ تھے جہاں اقتدار‘ روایت اور عوامی خدمت ایک دوسرے سے گندھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تالپور خاندان حکمرانی‘ تہذیبی وقار اور سماجی اثر و رسوخ کی ایک طویل روایت رکھتا ہے مگر میر صاحب نے اس وراثت کو محض مراعات یا جاہ و جلال تک محدود نہیں رکھا‘ وہ ایک شاہی خانوادے سے تعلق رکھنے کے باوجود فطری طور پر بے نیاز‘ سادہ مزاج اور خلقِ خدا کے قریب تر رہے۔ سیاست ان کے نزدیک پیشہ نہیں بلکہ خدمت اور کردار کی آزمائش تھی‘ اور یہی وجہ تھی کہ ان کی زندگی تضادات سے بھری ہونے کے باوجود ایک واضح اخلاقی تسلسل رکھتی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کی خلیج وسیع ہوئی تو میر علی احمد تالپور نے برطانیہ میں رضاکارانہ جلاوطنی اختیار کر لی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو میری اُن سے کبھی ملاقات نہ ہوتی۔ یہ اختلاف کس نوعیت کا تھا‘ اس پر ہمیشہ پردہ رہا مگر اتنا واضح ہے کہ میر صاحب کے فیصلے وقتی جوش یا ذاتی رنجش کے تحت نہیں تھے۔ ان کے فیصلوں میں ایک خاص وقار‘ خودداری اور اصولی سختی شامل رہی‘ چاہے اس کا انجام سیاسی تنہائی یا جلاوطنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان کی حمایت میں ان کے بھائی میر رسول بخش تالپور نے سندھ کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ واقعہ محض خاندانی وفاداری کا اظہار نہیں تھا بلکہ اس سیاسی اخلاقیات کی علامت بھی تھا جس میں منصب سے زیادہ اصول کی قیمت ہوتی ہے‘ ایک ایسی روایت جو اَب تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔
بھٹو صاحب کا دورِ حکومت (جنرل ضیا الحق کے مارشل لا ء کے نفاذ کے سبب) ختم ہوا تو میر صاحب کو جنرل ضیا کی کابینہ میں بطور وزیر دفاع شامل کر لیا گیا۔ میر صاحب نے اس عہدے پر پانچ سال کام کیا‘ جو یقینا نمائشی تھا۔ اس عرصے میں انہوں نے بہت سے مستحق لوگوں کی مدد بھی کی‘ اپنے پرانے دوستوں (جن میں یہ مضمون نگار بھی شامل ہے) کو یاد رکھا۔ یہ وہ دور تھا جب ریاستی طاقت کا مرکز عوامی نمائندگی سے ہٹ چکا تھا اور کابینہ کی حیثیت زیادہ تر علامتی بن کر رہ گئی تھی۔ اس محدود فریم کے باوجود میر صاحب نے اپنی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ترک نہیں کی۔ ان کے دروازے ضرورت مندوں کیلئے ہمیشہ کھلے رہتے تھے اور وہ اقتدار کو ذاتی مفاد کے بجائے دوسروں کے کام آنے کا وسیلہ سمجھتے تھے۔
میر صاحب نے اگلا الیکشن بطور جنرل ضیا کے حامی لڑا تو اہلِ سندھ نے ان کی حمایت نہیں کی اور وہ شکست سے دوچار ہوئے۔ یہ ایک ذہین‘ عوام دوست اور بے حد ایماندار سیاستدان کی عمر بھر کی سیاست کا افسوسناک انجام تھا۔ سندھ کی اجتماعی یادداشت میں بھٹو صاحب محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک علامت تھے اور میر صاحب کا یہ انتخاب ان کی طویل سیاسی ساکھ پر بھاری پڑ گیا۔ وہ بہت سے اچھے رہنماؤں (مثلاً علامہ مشرقی‘ سید عطا اللہ شاہ بخاری‘ مفتی محمود اور خان عبدالغفار خان) کی طرح دل و دماغ اور کردار کی تمام خوبیوں کے مالک ہونے کے باوجود محض اس لیے ناکام رہے کہ ان میں تاریخ کے جدلیاتی عمل (Dialectical) کی کوئی سوجھ بوجھ نہ تھی۔ یہی وہ نکتہ ہے جو میر صاحب کو ایک المناک مگر قابلِ مطالعہ سیاسی کردار بنا دیتا ہے۔ قائداعظم کی طرح ہر کامیاب سیاستدان کے قدم ہمیشہ اس ٹھوس زمین پر ہونے چاہئیں‘ جسے لاطینی زبان میں Terra Firma کہتے ہیں۔ یہ زمین صرف اخلاقیات کی نہیں بلکہ سیاسی حقیقت پسندی کی بھی متقاضی ہوتی ہے جس سے کٹ جانے والے اکثر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آج تک یہ پتا نہیں چل سکا کہ میر صاحب کے بھٹو صاحب سے اختلافات ذاتی تھے‘ اصولی تھے یا نظریاتی۔ شاید میر صاحب نے خود بھی کبھی اس سوال کا صاف جواب دینا ضروری نہیں سمجھا‘ اور یہی خاموشی ان کی شخصیت کا مستقل حوالہ رہی۔
میں نے میر صاحب کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان کے دل پر (بقول فیض) ہزار داغ ہوں گے مگر 'بجز داغِ ندامت‘۔ یہ وصف انہیں اپنے اکثر ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔ جاگیرداروں کی اکثریت کی طرح نہیں تھے‘ سگریٹ بھی نہیں پیتے تھے۔ یہ محض عادت کا سوال نہیں بلکہ ضبطِ نفس اور باطنی تربیت کی علامت تھا۔ برطانیہ میں گناہوں کے ارتکاب کی ترغیبات بھی بہت ہیں اور سہولتیں بھی‘ مگر میر صاحب کا دامن کسی گناہ سے آلودہ نہ ہوا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اردو‘ فارسی اور سندھی ادب پر اتنا عبور تھا کہ گفتگو میں موقع محل کی مناسبت سے اچھے شعر سناتے رہتے تھے۔ ان کا ادبی ذوق ان کی بات چیت کو محض معلوماتی نہیں بلکہ یادگار بنا دیتا تھا۔ موسیقی سے زیادہ شغف نہ تھا۔ کراچی میں ان کے گھر میں بڑی لائبریری تھی جس میں بلامبالغہ ہزاروں کتابیں تھیں۔ یہ کتابیں محض نمائش نہیں بلکہ فکری رفاقت کا درجہ رکھتی تھیں۔ میر صاحب کے بارعب چہرے پر مسکراہٹ بہت بھلی لگتی تھی۔ ہر صاف دل انسان کی طرح قہقہہ بلند آواز میں لگاتے تھے۔ یہ قہقہہ شاید زندگی کی تلخیوں پر ایک خاموش فتح کا اظہار تھا۔ کبھی ماضی کی راکھ کو نہ کریدتے تھے۔ بقول غالب‘ وہ جانتے تھے کہ جہاں جسم جلا وہاں دل بھی جل گیا ہو گا‘ راکھ وہ کریدے جسے کچھ پا لینے کی جستجو ہو۔ میر صاحب کے دل میں نہ ندامت تھی اور نہ کوئی حسرت۔ مجھے تو ان کی پرلے درجہ کی سہل پسندی پر بھی پیار آتا تھا۔ ایک دفعہ ہمارے گھر ٹھہرے ہوئے تھے‘ میں انہیں شب بخیر کہہ کر جانے لگا تو آواز دے کر مجھے بلایا اور پھر کہا کہ اپنا ہاتھ دو۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو انہوں نے میری انگلی پکڑ کر ٹیبل لیمپ کے سوئچ پر رکھی اور حکم دیا کہ اسے دبا دوں تاکہ لیمپ بجھ جائے۔ یعنی انگلی ہلانے تک کے روادار نہ تھے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب بھی خط لکھتے (بلکہ ہمیشہ کسی سے لکھواتے) تو آخر میں اپنے نام سے پہلے فقیر ضرور لکھتے تھے۔ یہ لفظ محض روایت نہیں بلکہ فکری اعلان تھا۔ وہ بے نیازی کے حوالے سے واقعی فقیر تھے۔ (اقبال کی شاعری میں فقیر کا مقام ہیرو کا ہے)۔ ان کی واحد اولاد اُن کا بیٹا محمد علی تالپور ان کا سیاسی جانشین نہیں بنا‘ جو اس کی دانش مندی کا ثبوت ہے۔ بعض اوقات سیاست سے دانستہ دوری ہی خاندانی وقار اور شخصی سکون کو محفوظ رکھنے کا واحد راستہ بن جاتی ہے۔ کتنا اچھا ہو کہ میر صاحب کا بیٹا‘ ان کے دیگر لواحقین اور مداحین ان کی یاد میں ہر سال ایک یادگاری لیکچر کا اہتمام کریں۔ اب وہ نسل بھی دنیا سے اٹھتی جا رہی ہے جو میر صاحب کو ذاتی طور پر جانتی تھی یا ان کی شریکِ کار رہی۔ سندھیوں کی طرح میر صاحب کے لب و لہجہ میں بڑی مٹھاس تھی۔ مجھے سائیں کہہ کر پکارتے تو میں جھینپ جاتا۔ڈاکٹر ممتاز حسین پٹھان کا بھلا ہو کہ انہوں نے ٹالپرز اِن سندھ (1783-1843) کے نام سے ایک اچھی کتاب لکھی۔ سندھ ورثہ ٹرسٹ کا بھلا ہو کہ انہوں نے اسے دیدہ زیب بنانے میں کمال کر دیا اور بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ موہٹہ پیلس کا بھلا ہو کہ تالپوروں پر اتنی اچھی نمائش کا اہتمام کیا۔ جو لوگ میر صاحب کو نہیں ملے‘ میں انہیں یہی کہوں گا: افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی۔
میر صاحب بیمار ہوئے تو اکتوبر 1982ء سے لے کر اپریل 1987ء تک لندن میں زیر علاج رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا جسدِ خاکی ان کے آبائی گاؤں گانجونگر لے جایا گیا اور وہیں ان کی تدفین ہوئی۔ ان کی نمازِ جنازہ پڑھنے والوں میں ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگ شامل تھے۔ اس اجتماع نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ میر صاحب کی شخصیت وقتی سیاسی صف بندیوں سے بلند ہو کر ایک ایسے احترام کی حامل تھی جو ہر حلقے میں تسلیم کیا جاتا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved