جب وزیراعظم میاں نواز شریف نے پرویز مشرف کو برطرف کرکے جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف لگانے کا خطرناک فیصلہ کیا تو انہیں وہ دوپہر یاد آئی جب انہوں نے سعید مہدی کے مشورے پر جنرل جہانگیر کرامت کو دفتر بلا کر ان سے استعفیٰ لیا تھا اور نئے آرمی چیف کی تلاش شروع ہوگئی تھی۔ میاں نواز شریف اس ملاقات کے حق میں نہ تھے لیکن سعید مہدی نے انہیں مشورہ دیا کہ بہتر ہو گا جنرل جہانگیر کرامت سے خود بات کر لیں نہ کہ انہیں برطرفی کا ٹی وی سے پتا چلے۔ میاں نواز شریف کیلئے مشکل فیصلہ جنرل جہانگیر کرامت کا استعفیٰ نہیں تھا بلکہ مشکل فیصلہ یہ تھا کہ نیا آرمی چیف کون ہو گا۔ میاں نواز شریف آٹھ برسوں میں چار آرمی چیف بھگتا چکے تھے اور جنرل اسلم بیگ‘ جنرل آصف نواز جنجوعہ‘ جنرل عبدالوحید کاکڑ اور جنرل جہانگیر کرامت تک ان کے سب تجربے ناکام ہی رہے تھے۔ لہٰذا وہ اب ایسا جنرل نہیں لانا چاہتے تھے جو ان کیلئے نئے مسائل کھڑے کرے۔ اگرچہ اُس وقت آرمی چیف کی دوڑ میں شامل جنرلز میں علی قلی خان کا نام سرفہرست تھا لیکن جب نواز شریف کو یہ پتا چلا کہ جنرل جہانگیر کرامت بھی اپنے بعد انہیں آرمی چیف دیکھنا چاہتے تھے‘ تو انہوں نے ان کے نام پر غور نہیں کیا۔ اگر جنرل جہانگیر کرامت کا پسندیدہ جنرل ہی ان کی جگہ لے لیتا تو پھر جنرل جہانگیر کو گھر بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ اسی دوران نواز شریف کے کان میں کسی نے یہ پھونک بھی مار دی کہ جنرل علی قلی خان ان کی پارٹی کے اہم لیڈر گوہر ایوب خان کے قریبی عزیز ہیں اور کیا پتا کل کلاں کو دونوں رشتہ داروں کے ذہن میں ایوب خان کا ماڈل انگڑائی لینے لگے اور آپ ایک دفعہ پھر پاور سے باہر ہو جائیں۔ میاں نواز شریف تک یہ بات بھی پہنچی تھی کہ جب جنرل جہانگیر کرامت نے ان کے کہنے پر استعفیٰ بھجوانے کا وعدہ کیا تھا تو جنرل علی قلی خان اس بات پر خاصے ناخوش تھے بلکہ وہ تو ٹیک اوور کے حق میں تھے‘ اس لیے بھی ان کا نام مسترد کر دیا گیا۔
میری جنرل علی قلی خان سے 2003-04ء میں ان کے گھر پر ملاقات ہوئی تھی جس کی ساری روداد میں نے اپنی کتاب ''ایک سیاست کئی کہانیاں‘‘ میں لکھی تھی۔ جنرل علی قلی خان کا کہنا تھا کہ پہلی بات تو یہ کہ انہیں اس وقت وزیراعظم ہاؤس کے ایک اہم افسر نے رابطہ کر کے کہا تھا کہ اگر آپ چیف لگنا چاہتے ہیں تو میاں نواز شریف سے خفیہ ملاقات کر لیں اور یونیفارم کے بجائے سادہ لباس میں ملنے آئیں‘ تاہم علی قلی خان کے بقول انہوں نے آرمی ڈسپلن کے تحت خفیہ اور سادہ لباس میں ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔ سعید مہدی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف نے جنرل جہانگیر کرامت کو بتائے بغیر آرمی چیف بننے کیلئے میاں نواز شریف سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ یہ بات مجھے جنرل علی قلی خان نے بھی بتائی تھی۔ جنرل علی قلی خان نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ نواز شریف کا یہ خدشہ بے بنیاد تھا کہ وہ گوہر ایوب کے رشتہ دار تھے لہٰذا وہ مارشل لاء لگا سکتے تھے یا گوہر ایوب ان کے سفارشی تھے۔ جنرل علی قلی خان کا کہنا تھا کہ آپ یہ بات کیوں بھول رہے ہیں کہ گوہر ایوب خان کے والد جنرل ایوب خان نے میرے والد جنرل حبیب اللہ خان کو چیف نہیں بنایا تھا تو گوہر ایوب کیوں مجھے آرمی چیف بنوانے کیلئے میاں نواز شریف کو میری سفارش کرتے۔ انہوں نے اس بات کو بھی مسترد کیا کہ انہوں نے جنرل جہانگیر کرامت کو استعفے کے بجائے مارشل لاء لگانے کا مشورہ دیا تھا۔ ''ہاں! میں نے جنرل جہانگیر کرامت کو یہ بات ضرور کہی تھی کہ انہیں میاں نواز شریف کو استعفے کی پیشکش نہیں کرنی چاہیے تھی‘‘۔
اس وقت علی قلی خان اور پرویز مشرف کے تعلقات بہت زیادہ خراب تھے کیونکہ جہانگیر کرامت جنرل علی قلی خان کو آگے لانا چاہتے تھے‘ تاہم پرویز مشرف کی خوش قسمتی کہ اس وقت کے سیکرٹری دفاع جنرل افتخار علی خان بھی جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل علی قلی خان سے خوش نہیں تھے۔ لہٰذا جب میاں نواز شریف کو نئے جنرل کی ضرورت محسوس ہوئی تو جنرل افتخار اور چودھری نثار علی خان کو موقع ملا کہ ایک تیر سے دو شکار کیے جائیں اور یوں جنرل پرویز مشرف کا نام پہلی دفعہ سامنے آیا جو اس وقت منگلا کے کور کمانڈر تھے۔ میاں نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کا نام یہ کہہ کر بیچا گیا کہ وہ اردو سپیکنگ ہیں اور ان کی فوج میں کوئی لابی نہیں‘ لہٰذا وہ ایک کمزور جنرل رہیں گے۔ چونکہ فوج میں زیادہ تر پٹھان اور پنجابی جنرلز ہی طاقتور ہیں لہٰذا وہ ایک اردو سپیکنگ جنرل سے فاصلے پر رہیں گے اور میاں نواز شریف کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ میاں نواز شریف پہلے ہی دو پٹھان آرمی چیف عبدالوحید کاکڑ اور جہانگیر کرامت کو آزما چکے تھے لہٰذا انہیں اردو سپکنگ جنرل کا نام زیادہ پسند آیا کہ اسے فوج میں وہ اثر و رسوخ نہیں مل سکے گا جو پنجابی یا پٹھان جرنیلوں کو ملتا ہے اور جس وجہ سے حکمرانوں کو مشکلات ہوتی ہیں۔ یوں یہ سب باتیں ذہن میں رکھ کر پرویز مشرف کو کال کی گئی کہ وزیراعظم ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف نے پوچھا کہ کیا وہ جنرل کرامت کو بتا دیں کہ وزیراعظم ان سے ملنا چاہتے ہیں؟ اس پر انہیں کہا گیا کہ یہ آپ کی اپنی مرضی ہے۔
سعید مہدی لکھتے ہیں کہ مشرف نے آرمی چیف کو بتائے بغیر نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔ جب جنرل پرویز مشرف پی ایم آفس میں داخل ہوئے تو وہاں سعید مہدی‘ ڈیفنس سیکرٹری افتخار علی خان اور ان کے بھائی چودھری نثار علی خان موجود تھے۔ میاں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو مبارکباد دی اور بتایا کہ انہیں نیا آرمی چیف لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ میاں نواز شریف نے ہاتھ بڑھا کر اپنے ملٹری سیکرٹری جاوید اقبال کے کندھے سے ایک سٹار اتارا اور جنرل پرویز مشرف کے کندھے پر لگا دیا تاکہ وہ فل جنرل کے طور پر چیف کا عہدہ سنبھال لیں۔ اس پر ملٹری سیکرٹری نے وزیراعظم کو ہنس کر کہا کہ سر آپ نے میرا ایک سٹار اتار کر مجھے ڈی موٹ کر دیا ہے۔ پرویز مشرف بہت خوش تھے اور بار بار وزیراعظم کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ پانچ اکتوبر 1998ء ملکی تاریخ کا ایک اہم دن تھا۔ اس دن وزیراعظم نے ایک آرمی چیف کو ریٹائر کر دیا تھا اور نیا چیف لگایا تھا جو سنیارٹی میں تیسرے نمبر پر تھا اور جس نے ایک سال بعد اسی وزیراعظم کو اکتوبر ہی کے مہینے میں گرفتار کرا دیا۔
تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی۔ وزیراعظم بھٹو نے ساتویں نمبر والے جنرل ضیا کو آرمی چیف لگایا تھا جس نے انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچایا۔ یہاں تیسرے نمبر والے جنرل کو آرمی چیف لگایا جا رہا تھا‘ جس نے نواز شریف کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں چودہ سال کی سزا سنا ئی۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ شاید نواز شریف کو علم نہ تھا کہ فوج کے اندر اس وقت کیا جذبات پک رہے تھے‘ جب جہانگیر کرامت سے یہ کہہ کر استعفیٰ لیا گیا کہ آپ اور میں اکٹھے نہیں چل سکتے۔ اردو سپیکنگ جنرل کو چیف لگا کر نواز شریف مطمئن ہو گئے کہ خطرہ ٹل گیا ۔ لیکن پھر کچھ عرصے کے بعد شہباز شریف نے یہ کہہ کر نواز شریف کے سر پر بم پھوڑا کہ پرویز مشرف مجھے کہتے ہیں کہ نواز شریف کی جگہ آپ وزیراعظم بن جائیں۔ یہ سن کر میاں نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ مشرف کو برطرف کرنے اور نیا چیف لگانے کا وقت آ گیا ہے۔ نواز شریف ایک اور جنرل کے ساتھ نیا محاذِ جنگ کھول چکے تھے۔ وزیراعظم ہاؤس میں سب سانسیں روک کر بیٹھے تھے کہ جنرل محمود اندر آئے اور کہا: سب کو گرفتار کر لو۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved