تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     16-01-2026

بچنے کا واحد راستہ

قانون و انصاف کی دنیا کا ایک لازمی حصہ ہوتا ہے کسی بھی ریاست کا دستور‘ جسے ریاست کا فاؤنڈنگ ڈاکیومنٹ کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ ساری دنیا میں ریاست اور شہریوں کے درمیان اس عمرانی معاہدے کو سپیریئر لاء کہتے ہیں‘ باقی قوانین ذیلی کہلاتے ہیں۔ دساتیرِ عالم کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس وقت ساری دنیا کی اقوام اور ریاستوں کو تین کیٹیگریز میں شمارکیا جا سکتا ہے‘ جن میں سے پہلی کیٹیگری وہ ہے جہاں پہ آئین تو موجود ہے مگر تحریری شکل میں کسی مسودے کی صورت میں مرتب نہیں ہے۔ اس کے باوجود غیر تحریری دستور کی بنیاد اور اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والے دستوری ادارے‘ ایک صاحبِ افتخار قوم کی روایات پر مبنی ہیں۔ کرۂ ارض پر غیرتحریری قانون رکھنے والے ان ممالک میں برطانیہ سرِ فہرست ہے۔ برطانیہ کو بجا طور پر آج کی انتخابی اور پارلیمانی جمہوریت کی ماں ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ دوسرے نمبر پر وہ ممالک ہیں جہاں کسی نہ کسی شکل میں دستور تو موجود ہے لیکن مغربی جمہوریت کے ماڈل پر یقین رکھنے والے ان ملکوں کو جمہوری ماننے سے انکاری ہیں۔ اس کیٹیگری کے ملکوں میں چین‘ ایران‘ شمالی کوریا سمیت دنیا کے بہت سارے دوسرے ممالک بھی شامل ہیں۔ ویسٹ منسٹر ماڈل جمہوریت کے پرچارک اور اس کی پیروی کرنے والے اس کیٹیگری کے ملکوں کو دو ناموں سے پکارتے ہیں۔ جہاں جہاں شخصی حکومتیں یا بادشاہتیں پائی جاتی ہیں‘ ان ملکوں کو Totalitarian Ruleکے حامل کہا جاتا ہے‘ مگر جہاں جہاں کسی خاص مذہب یا فرقے کے ماننے والوں کی حکمرانی ہے انہیں مذہبی پاپائیت یا Papacyکا نام دیا گیا ہے۔ ہماری جمہوریہ کا شمار تیسری کیٹیگری میں ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسا ملک ہیں جس کے پاس اپنا تحریری دستور موجود ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس دستورکو‘ ماورائے آئین طریقے سے برسرِ اقتدار آنے والے گروہ کاغذ کا چیتھڑا سمجھتے رہے۔ نہ وہ دستور کو مانتے اور نہ ہی اس دستور میں دیے گئے پبلک ویلفیئر کے تصور یا بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کرتے۔ حالانکہ ساری دنیا میں اوپر درج تینوں کیٹیگریز کے ممالک میں جہاں جہاں‘ جس بھی شکل میں‘ جس نوعیت کا بھی عمرانی معاہدہ ریاست اور شہریوں کے درمیان پایا جاتا ہے‘ اس کی سو فیصد پاسداری کی جاتی ہے۔
ڈیڑھ ہزار سال سے زیادہ دنیا کے کئی براعظموں پہ حکمرانی کرنے والی رومن سلطنت سے شروع کر کے 800 سال تک صاحبِ اختیار رہنے والی سلطنتِ عثمانیہ تک‘ سب ریاستوں کے بچنے کا واحد ذریعہ ریاست اور شہریوں کے درمیان عمرانی معاہدے اور بنیادی حقوق کی پاسداری تھا۔ پولیٹکل سائنس کی زبان میں اسے ایک منظم اور فعال ریاست کی اندرونی طاقت سمجھا جاتا ہے کیونکہ بیرونی طاقت خواہ کتنے ہی دوستی کے دعوے کرے‘ اس دوستی کے پیچھے دعویٰ کرنے والے کا مفاد ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ دنیا کے کسی خطے کے کوئی دو ممالک اٹھا کر دیکھ لیں‘ ان کے تعلقات صرف اور صرف مفادات کے گرد گھومتے ملیں گے۔ سفارتکاری کی دنیا میں کوئی ملک یا ریاست کامیاب سفارتکاری کرتی ہے یا سفارتکاری میں ناکام ہو کر ناکام ریاست میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی لیے بین الاقوامی سیاست کا بنیادی اصول یہ مانا گیا کہ ''معاہدے صرف تب تک معاہدے ہیں جب تک کوئی طاقتور نہ ہو جائے۔ معاہدے تگڑے کے توڑنے کے لیے بنے ہوتے ہیں‘‘۔
ابھی تک ہم نے ریاست کے حوالے سے جو کچھ اوپر بیان کیا اس کے عملی ثبوت آج کے پاکستان میں ساری قوم کی نظروں کے سامنے بکھرے پڑے ہیں۔ لیکن آئیے پہلے چینی زبان کی ایک کہاوت کا انگریزی ترجمہ دیکھ لیتے ہیں:
When the wind of change blows, some people build walls, others build windmills, encouraging adaptability and innovation.
اس کا مفہوم تین صورتوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔ پہلا یہ کہ ہوا کا رُخ بدلتا رہتا ہے‘ جیسے ستارہ کے نام سے شاعرِ مشرق حضرتِ علامہ اقبال نے اس قانونِ قدرت کو ان لفظوں میں ہمیں سمجھایا:
غضب ہے پھر تری ننھی سی جان ڈرتی ہے!
تمام رات تری کانپتے گزرتی ہے
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
کچھ لوگوں کے نزدیک قدرت کے زور پر ہوا کا رُخ بدلنا ان کے ساتھ ذاتی قسم کی زیادتی ہے۔ اس لیے وہ تبدیلیٔ آب پر راضی رہتے ہیں اور تبدیلیٔ ہوا پر ناخوش۔ دوسری مثال جنریشن زی سے نالاں سیلف سٹائل دانشور بابے ہیں جن کا خیال ہے کہ ہم 1929ء سے 1949ء کے درمیان جی رہے ہیں‘ جب ابلاغ کی سب سے بڑی سچائی ہاتھ کی کتابت سے لکھے ہوئے جرائد ہوتے تھے۔ وہ نہ اپنے بابا کلچر سے باہر نکلتے ہیں اور نہ ہی اپنے پشت پناہوں سے دور ہٹنے کو تیار ہیں۔ آج پاکستان کی صرف ہوا نہیں بدلی‘ شعور بدلا ہے‘ نسل بدلی ہے اور ایک ایسی جنریشن پہلی بار صرف پاکستان نہیں‘ دنیا بھر میں سامنے آئی جو اپنا اختیار‘ اپنے حقوق اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ جن ریاستوں کے ذمہ داران کو اس جنریشن کی طاقت کا احساس ہوا وہ اس جنریشن کو لیڈ دے رہے ہیں۔ امریکہ کی دو مثالیں دیکھ لیں۔ ایک امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ دوسرے نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کی۔ دوسری جانب سٹیٹس کو کے شاہ و امیر اور مشیر و وزیر 70‘ 80اور 85کے پیٹے میں ہیں۔ آنکھ پر انگلی رکھنے سے سورج غروب نہیں ہوتا۔ جن قوموں نے کھلی آنکھوں سے جنریشن زی کا سورج طلوع ہوتے دیکھ لیا‘ وہ اس منہ زور اور تیز ہوا کے سامنے وِنڈ مِل لگا رہے ہیں۔ اقتدار پر قابض اشرافیہ کے بومرز مگر اس نسیمِ جاں فضا کو روکنے کے لیے خیالی دیواریں تعمیر کر رہے ہیں۔ ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی چکی کو وِنڈ مِل کہتے ہیں۔ ہوا جتنی بھی ہو‘ جس طرف بھی ہو‘ وِنڈ مِل ٹوٹتی ہے نہ گرتی کیونکہ وہ ہوا کو راستہ دیتی ہے۔ اس کی طاقت کو اپنی طاقت میں تبدیل کرتی ہے‘ جس سے نئی ایجادات اور نئے زمانے میں قومیں قدم رکھ رہی ہیں۔
آپ اسے بدبختی کہیے یا تاریخ کا جبر کہ ہمارے ملک کے ذمہ داران نے اپنی نوجوان نسل کو نظامِ سلطنت سے جبری بے دخل کر رکھا ہے‘ جس کا نتیجہ بین الاقوامی گداگری اور ریاستی کشکول کے سائز میں اضافہ ہے۔ بڑھ چڑھ کر صدر ٹرمپ کی خوشامد کی گئی۔ اس کی گھریلو کمپنی کو حکومت نے کرپٹو پارٹنر بنانے کے لیے یادداشتی معاہدہ سائن کر ڈالا۔ جمعرات کے دن کا 'دنیا اخبار‘ دیکھا تو میری حیرانی پریشانی میں بدل گئی کیونکہ ہماری خوشامد امریکی نظام نے ہمارے نظام کے منہ پر دے ماری ہے۔ پاکستان ان 75 ممالک کی صف میں شامل ہے جن کے لیے امریکی امیگریشن ویزا تک بند ہوگیا۔ بھارت کا نہیں ہوا۔ بطور ریاست بچنے کا واحد راستہ تبدیلی اور نئی نسل کو گلے لگانے سے کھلے گا۔ غیر نمائندہ لوگ خوف کے سائے کو سایۂ عاطفت سمجھتے ہیں۔ عملی فلسفے کے شاہکار ستارہ ہی میں حضرتِ اقبال نے یہ بھی ارشاد فرمایا:
قمر کا خوف کہ ہے خطرۂ سحر تجھ کو
مآلِ حسن کی کیا مل گئی خبر تجھ کو؟
چمکنے والے مسافر ! عجب یہ بستی ہے
جو اوج ایک کاہے‘ دوسرے کی پستی ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved