تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     16-01-2026

تھنڈر بوائے

دور کی کوڑی لانے والے دور دراز نکل چکے ہیں‘ کوئی مستقبل کے ممکنہ منظرنامے کے تانے بانے بُن رہا ہے تو کوئی نقطے ملا کے خاکے بنا رہا ہے۔ سیاسی پنڈت مہورت نکال رہے ہیں تو کہیں مائنس پلس کے فارمولے بنا کر ان کی توجیحات اور جواز گھڑے جا رہے ہیں۔ کہیں اقتدار کی کشتی سے سیاسی بوجھ اتارنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں متبادل کی۔ مقتدر حلقے اپنی ترجیحات دوٹوک انداز میں مسلسل باور کروا رہے ہیں لیکن دانشورانہ رائے زنی کہیں رکنے میں نہیں آرہی۔ کوئی ونڈر بوائے کا خواہاں ہے تو کوئی ونڈر لینڈ میں جی رہا ہے۔ جناب سہیل وڑائچ نے ونڈر بوائے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے ماضی کے واقعات اور حوالوں کے سہارے ایک ایسی تھیوری پیش کی ہے جو سونے کی موجودگی میں ہیرے کی چمک پر انحصار کیے ہوئے ہے۔ لکھتے ہیں: ''موجودہ نظام کے گرینڈ پلان پر افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کہیں نئی شیروانیاں سلوا نے کی چہ میگوئیاں ہیں تو کہیں مارچ اپریل کی سرگوشی ہے۔ میرے خیال میں یہ سب جھوٹ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کامیاب وزیراعظم ہیں‘ مقتدرہ اور ان کا ورکنگ ریلیشن انتہائی شاندار ہے۔ مقتدرہ کے پاس تحریک انصاف سے جاری کشمکش میں شہباز شریف سے اچھی اور بہتر شاید کوئی چوائس نہیں‘ اس لیے تبدیلی کی کوئی بھی منطقی دلیل نہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی حکومت پر ناقدین کے اس اعتراض میں حقیقت ہے کہ یہ کوئی سیاسی بیانیہ بنانے اور اسے مقبول کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس حکومت کے حامی بھی اس کی ''ڈِلیوری‘‘ سے مطمئن نہیں۔ اسی عدم اطمینان سے گرینڈ پلان کی کہانی جنم لیتی ہے‘ جو ظاہر ہے قیاس پر مبنی ہے اور جس کا کوئی مادی ثبوت نہیں‘ مگر اندازہ کہتا ہے کہ گرینڈ پلان میں ایک ''ونڈر بوائے‘‘ کی ضرورت کو محسوس کیا جاتا ہے۔ شہباز شریف سونا ہیں مگر اب سونے نہیں ہیرے کی ضرورت آن پڑی ہے کیونکہ برسوں کے تساہل کو ہیرے جیسا ونڈر بوائے ہی ختم کر سکتا ہے۔ خواہشیں چاہے پوری ہوں یا نہ ہوں ان پر کوئی قید نہیں‘ اس لیے یہ خواہش تو کہیں نہ کہیں موجود ہے کہ وفاقی کابینہ کے ارکان بنگلہ دیش کی طرح پی ایچ ڈی ہوں‘ اپنے اپنے شعبوں پر اتھارٹی رکھتے ہوں اور ان سب کیلئے یہ شرط بھی ہو کہ انہوں نے پی ایچ ڈی دنیا کی کسی مستند یونیورسٹی سے کر رکھی ہو۔
انہوں نے ممکنہ خاکوں میں کمال مہارت سے رنگ بھرتے ہوئے سارے آپشن کھولنے کے بعد اختتامی سطور میں اپنی لاعلمی کا عقدہ بھی کھول ڈالا‘ گویا:
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
تعجب ہے کہ کالم میں بنگلہ دیش کی کابینہ کا حوالہ دے کر اپنی تھیوری کو تقویت دینے کی کوشش تو بخوبی کی گئی لیکن بنگلہ دیش میں مسلسل جبر اور من مانی کی حکمرانی کے خلاف شدید عوامی ردعمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اسباب اور عوامل سے پہلو تہی کی مہارت کو کمال خوبصورتی سے انجام دیا گیاہے۔ انتہائی سادگی اور بھولپن سے کبھی دور کی کوڑی لاتے ہیں تو کبھی کوئی تھیوری‘ اپنے کالموں کا مجموعہ مرتب کیا تو اسے ''یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ کا عنوان دے ڈالا‘ جس نے کالموں سے کہیں زیادہ پذیرائی اور مقبولیت حاصل کی اور ایک ایسی بحث کو بھی جنم دے ڈالا جو بند کمروں سے لے کر گلیوں اور چوراہوں تک جا پہنچی۔ کیا وزیر‘ کیا مشیر سبھی خاص و عام سن گن لیتے نظر آتے تھے‘ حتیٰ کہ کمپنی کے قریبی تصور کیے جانے والے بھی پوچھتے پھرتے تھے ''کیا واقعی کمپنی نہیں چلے گی؟‘‘۔
دو عیدوں کے درمیان ایک اور عید کا چاند چڑھانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے‘ یہ چاند چڑھ گیا تو یقینا سبھی کیلئے عید کا باعث ہرگز نہ ہوگا‘ کہیں شہنائی تو کہیں ماتم کا سماں ہوگا۔ دوسری جانب انصار عباسی صاحب نے ونڈر بوائے کی آمد کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے تعلقات پرفیکٹ ہیں‘ کسی ونڈر بوائے کی ضرورت ہے نہ جواز۔ دونوں دانشوروں کی اپنی اپنی تھیوری اور اپنی اپنی توجیحات ہیں۔ انصاری عباسی نے شہباز شریف کی جگہ کسی ونڈر بوائے کی تلاش کی تردید کو اپنے مصدقہ ذرائع سے منسوب کرتے ہوئے جہاں اپنی خبر کی صحت پر اصرار کیا ہے وہاں سہیل وڑائچ کی ناراضی کے خدشے سے معذرت طلب کرتے ہوئے بلاچون و چرا اپنی خبر کی تردید بھی کر ڈالی اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ اعتراف بھی کیا کہ چوہے بلی کا کھیل دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور شہباز شریف کی جگہ ونڈر بوائے کی تلاش بھی شروع ہو چکی ہے‘ تاہم طاقتور حلقوں سے آنے والی ایک فون کال کا ذکر بھی کیا ہے جس میں کسی بھی ڈیڈلائن سے متعلق چلنے والی خبر کی تردید بھی کی ہے۔ انصار عباسی نے یہ بھی کہا کہ میرے ذرائع حکومت جانے کی مصدقہ خبر دیں گے تو ان شاء اللہ وہ بھی ضرور دوں گا‘ فی الحال ونڈر بوائے کا انتظار کرتے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے اس قدر آزادانہ تبصرہ کیا ہے کہ کہیں نئی شیروانیاں سلوانے کی خبر دے رہے ہیں تو کہیں مارچ اپریل میں گرینڈ پلان کی‘ کہیں سبک رفتاری کو سیاسی بوجھ اتارنے سے مشروط کر رہے ہیں تو کہیں قومی حکومت کے آئیڈیاز‘ سبھی آپشنز اپنی اپنی جگہ مکمل آزاد اور کھلے ہیں‘ یعنی آپشن کوئی بھی کھل جائے تبصرے کو تقویت ضرور دے گا جبکہ انصار عباسی نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ کوئی ونڈر بوائے نہیں آ رہا۔ ایک پوڈکاسٹ میں منصور علی خان نے سہیل وڑائچ سے انٹرویو کے دوران محسن نقوی کو ان کا ونڈر بوائے قرار دیتے ہوئے یہ عقدہ بھی کھول ڈالا ہے جبکہ ایک اور دانشور نے دور کی کوڑی سے سرفراز بگٹی کو ونڈر بوائے بنا ڈالا ہے۔
ان سبھی آزادانہ تبصروں کا اثر شاید مجھ پر بھی اس طرح ہو چلا ہے کہ ونڈر بوائے کی تھیوری کے بعد آوارہ خیالی نے نجانے کیوں ہیروشیما پر قیامت بن کر گرنے والا ''لِٹل بوائے‘‘ یاد دِلا دیا۔ یاد رہے! ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے جانے والے نیوکلیئر بموں کے نام بالترتیب لِٹل بوائے اور فیٹ مین تھے۔ یعنی لِٹل بوائے کی ہولناک تباہ کاریوں کے تین روز بعد فیٹ مین نے بھی قیامت برپا کر دی تھی‘ اللہ بچائے ایسے لِٹل بوائے سے جس کے بعد فیٹ مین آگیا تھا۔
یہ سوال ہر دور میں اہم رہا ہے کہ نظامِ حکومت ڈِلیور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے یا انہیں ڈِلیور نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ آج کل یہ سوال پھر زور پکڑ چکا ہے‘ کہیں وزیراعظم کی تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں طرزِ حکمرانی تبدیل کرنے کی‘ تجربات پر تجربات جاری ہیں‘ آزمائے ہوئے بار بار آزمائے جا رہے ہیں۔ ماضی کے تجربات کے نتائج ہوں یا انڈے بچے سبھی کے اثرات جابجا اور ملک کے کونے کونے میں دیکھے اور محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ پلے بوائے سے لے کر ونڈر بوائے سمیت نجانے کیسے کیسے بوائز آتے جاتے رہے ہیں۔ کئی بوائز تو خاصے پرانے ہو کر بابے بن چکے ہیں اور اب اپنے اپنے بوائز آزما رہے ہیں۔ خدا کرے ان بوائز میں سے کوئی تھنڈر بوائے نہ نکل آئے‘ ایسی صورت میں سارے بابے اور آتے جاتے بوائز کہاں جائیں گے۔ ونڈر بوائز سے لے کر ونڈر فل بوائے تک سبھی آزمائے جا چکے ہیں۔ ان سبھی کی تلاش کے بجائے اس بار کسی تھنڈر بوائے کو ہی آزما لینا چاہیے‘ اگر فوری دستیابی ممکن نہ ہو تو اقتدار کی کشتی سے بابے اور بوائز اتار کر ہنرمندانِ ریاست کو یہ کردار ضرور سنبھال لینا چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved