تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     16-01-2026

جنت کا راستہ اور امریکہ

اللہ تعالیٰ اپنی قدرتوں کے ایسے نظارے دکھاتے ہیں کہ سلیم الفطرت انسان بول اٹھتا ہے ''وہی ایک ہی ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے‘‘۔ ایسا ہی ایک نظارہ اس وقت سامنے آیا جب ڈاکٹر ایبن الیگزینڈر (Eben Alexander) نے شعور کے بارے میں کہا کہ یہ دماغی نیورونز کی پیداوار ہے۔ وہ ہارورڈ سے نیورو سرجن تھا‘ 25 سال تک نیورو سرجری کی فیلڈ سے منسلک رہا۔ 200 کے قریب تحقیقی مقالے لکھے۔ یہ مقالے میڈیکل جرنلز میں شائع ہوئے۔ دو سو سے زائد عالمی کانفرنسوں میں ڈاکٹر ایبن الیگزینڈر نے اپنی ریسرچ کے حیران کن نتائج پیش کیے۔ وہ جدید ترین تکنیک کے حامل دماغ کے مایہ ناز عالمی سرجن کا مقام حاصل کر چکے تھے۔ وہ دنیا کے اُن ممتاز سرجنز میں سے ایک تھے‘ جو دماغ کو بہترین طریقے سے جانتے تھے۔ اخلاق کے اچھے تھے۔ ضرورت مندوں کے کام آنے والے تھے مگر وہ کائنات کے خالق کا انکار کرتے تھے۔ دماغی بے ہوشی میں گئے ہوئے مریض جب ہوش میں آتے ان میں سے کوئی قریب المرگ تجربہ بتاتا تو وہ اسے دماغی نیورونز کی کارستانی کہہ کر بعد از موت زندگی کے عقیدے کو مسترد کر دیتے۔ پھر کیا تھا‘ 10 نومبر 2008ء کی صبح کو ڈاکٹر کو کمر میں اچانک شدید ترین تکلیف ہوئی۔ چند گھنٹوں میں انکا جسم مکمل طور پر جواب دے گیا۔ ان کی اہلیہ ہولی نے اپنے شوہر کے ہسپتال میں فون کیا۔ ایمبولینس آئی اور ڈاکٹر صاحب کو انہی کے شعبہ میں لے گئی۔ ان کے ماتحت اور ساتھی ڈاکٹروں نے دیکھا تو حیران رہ گئے کہ یہ تو ڈاکٹر ایبن الیگزینڈر ہیں۔ ان کا دماغ جھٹکے کھا رہا تھا اور وہ ذرا سی بے ہوشی ہٹنے پر چیخنے لگتے تھے۔
ڈاکٹروں نے ریڑھ کی ہڈی سے سیال مادہ لیا تو صاف اور شفاف نہ تھا بلکہ وہ گاڑھا اور قدرے سبز رنگت اختیار کر چکا تھا۔ یہ پیپ تھی اور شدید قسم کے بیکٹیریل انفیکشن کی علامت تھی۔ اس بیکٹیریا کا نام ''ایکولائی‘‘ تھا۔ ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ارے! یہ تو فوڈ پوائزننگ کی صورت میں معدے میں ہوتا ہے‘ یہ یہاں کیسے آ گیا؟ جی ہاں! جس رب نے دماغ بنایا‘ اسی نے معدہ بنایا۔ دماغ میں الحاد کا جو زہر تھا‘ خالق نے یہ بیکٹیریا معدے سے دماغ میں پہنچا دیا۔ یہ اللہ رحمان کی رحمت تھی جس کا اظہار آگے چل کر ہونے والا تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا: نیورو سرجن کا بچنا ناممکن ہے‘ اگر بچ بھی گیا تو حیوانی سطح پر زندگی گزارے گا‘ شعور کی زندگی سے عاری ہو گا۔ اللہ اللہ! جو شعور کو دماغ کی پیداوار کہتا تھا‘ اب اس کا اپنا دماغ شعور سے خالی ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر کہا کرتا تھا کہ ٹی وی کا سوئچ آف ہوا تو شو ختم ہو گیا۔ یہی معاملہ انسان کے دماغ کا ہے کہ اس کا سوئچ آف ہو گیا تو انسان مر گیا... جی ہاں! اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اس نے سوئچ بھی آف کر دیا اور مرنے بھی نہ دیا۔ ڈاکٹر لارا پوٹا‘ جو ڈاکٹر الیگزینڈر کی ساتھی ڈاکٹر ہیں‘ نے بتایا کہ جس طرح مالٹے کا چھلکا مالٹے کو ہر جانب سے گھیرے ہوتا ہے اسی طرح دماغ کو جو غلاف گھیرے ہوتا ہے اسے نیو کورٹیکس کہتے ہیں۔ زبان‘ منطق یعنی فلسفہ اور سائنس وغیرہ‘ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور یادداشت وغیرہ سب کا تعلق اسی غلاف یعنی نیو کورٹیکس سے ہوتا ہے‘ یہ ختم ہو چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے واضح کر دیا تھا کہ ڈاکٹر الیگزینڈر جس قسم کے کومے میں چلے گئے ہیں‘ اس میں خواب دیکھنا بھی ممکن نہیں۔
ہفتہ بھر ڈاکٹر الیگزینڈر اسی حالت میں رہے۔ ان کا خاندان اور باقی لوگ دعائیں کرتے رہے۔ آخرکار ساتویں دن انہوں نے آنکھ اُس وقت کھولی جب ان کا علاج کرنے والی میڈیکل ٹیم نے ڈاکٹر الیگزینڈر کے خاندان کو بتا دیا تھا کہ ہم ڈاکٹر صاحب کو وینٹی لیٹر سے اتارنے والے ہیں کیونکہ اب کوئی معجزہ ہی انہیں زندگی دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے معجزے کا ظہور ہو چکا تھا۔ آنکھ کھولنے کے تھوڑی دیر بعد وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی ہو چکے تھے۔ کہنے لگے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ایک ایسے کینچوے کی طرح دیکھا جو زمین کے نیچے اندھیرے میں موجود کیچڑ میں پھنسا ہوا تھا۔ دور سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے کوئی لوہار لوہے کو کوٹ رہا ہے۔ میں سمجھا کہ نجانے کتنی صدیاں یہیں گزر جائیں گی۔ یہ بھی محسوس ہوا کہ نجانے کتنی صدیوں سے یہاں قید ہوں۔ قارئین کرام! معلوم ہوا جو اللہ کا انکار کرتا ہے‘ بس زمین اور مٹی تک محدود ہو گیا‘ قبر میں اس کا حال ایسا ہی بننے والا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ جب مایوسی حد سے بڑھ گئی تو اوپر کی جانب ایک گھپ اندھیرے سے روشنی نمودار ہوئی۔ یہ نور تھا جو گولائی میں تھا۔ وہ گھومتا ہوا میری طرف بڑھ رہا تھا۔ اس میں سے سنہری اور سفید Waves نکل رہی تھیں۔ یہ نور ایک دروازے کی طرح تھا جو کسی اور جہان میں کھلنے والا تھا۔ میں نے سکھ کا سانس لیا کہ اس مکروہ کیچڑ سے جان چھوٹی جس سے انتہائی مکروہ اور ڈرائونے چہرے نمودار ہوتے اور غائب ہو جاتے تھے۔ کیڑے مکوڑوں کے رینگنے کی آوازیں اور سرسراہٹ الگ سے خوف پیدا کر رہی تھی۔
اب مجھے یوں لگا جیسے مذکورہ نورانی گولا مجھے اپنی طرف اوپر کھینچ رہا ہے اور پھر میں اوپر کو کھنچتا ہی چلا گیا۔ اب میں ایک ایسے جہان میں تھا جو بے حد سرسبز تھا۔ درخت‘ ندیاں اور آبشاریں تھیں۔ ہر جانب زندگی کا حسن اور طرح طرح کے رنگ تھے۔ بچے اور لوگ مسکرا اور گا رہے تھے۔ ہر چیز سے خوشی اور مسرت پھوٹ رہی تھی۔ خالق کی حمد کے نغمے تھے جو گائے جا رہے تھے۔ یہاں کی زندگی ہماری دنیا کی حقیقت سے کہیں بڑھ کر سچی اور ابدی حقیقت تھی۔ مجھے زمینی زندگی ایک خواب لگ رہی تھی‘ جسے میں دیکھ چکا اور یہاں کی اصل زندگی میں آ چکا۔
اگلا منظر یوں تھا کہ ایک گہرا‘ نیلا اور سیاہ آسمان تھا۔ یہ آسمانی رنگ انتہائی پُرسکون تھا۔ اس کے پس منظر میں بڑے بڑے گلابی اور سفید بادل تھے‘ جو پھولے ہوئے تھے۔ تیرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ان بادلوں کے اوپر انتہائی خوبصورت گولے تھے جو آسمان پر خوبصورت دھنک بناتے ہوئے گزر رہے تھے۔ اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ شاید فرشتے ہوں جو اپنے پیچھے خوبصورت نورانی قسم کے نشانات چھوڑے جا رہے تھے۔ ساتھ ساتھ ایسی آواز تھی جیسے ہلکی بارش کی رم جھم ہو مگر وہ گیلا نہیں کر رہی تھی۔ صورتحال یہ تھی کہ میں خوبصورت مخلوق کے حسن کو دیکھ سکتا تھا اور ان کے گائے ہوئے حمد کے ترانوں کو سن سکتا تھا۔ مجھے ایسے لگا کہ یہاں اللہ کی موجودگی تو ہے مگر وہ ہر طرح کی شکل و صورت سے پاک ہے۔ بس اس کا جلوہ ہے اس کی قوت ہر جگہ موجود ہے۔ وہ ہر شے پر قادر ہے۔ غیر مشروط محبت کرنے والا ہے۔ میں خود اس کی محبت کے ساتھ جُڑا ہوا ہوں۔ وہاں سے پیغام یہ ملا کہ 1) کائنات ایک نہیں لاتعداد ہیں۔ ان سب کے مرکز میں جو قوت ہے وہ محبت ہے۔ 2) برائی بھی موجود ہے لیکن کائناتوں میں بھلائی کے مقابل انتہائی معمولی ہے۔ برائی کا وجود اس لیے ضروری ہے تاکہ ہر کوئی آزاد مرضی سے فیصلہ کر لے کہ اس نے کہاں جانا ہے؟ 3) حتمی پیغام یہ ہے کہ آخرکار محبت ہی غالب آئے گی۔ کائناتی سطح پر روح کی جو فطرت ہے وہ محبت پر مبنی ہے اور پاکیزہ ہے۔ زمین پر کیے ہوئے بُرے اعمال فطرت کو بدل نہیں سکتے۔
قارئین کرام! ڈاکٹر ایبن الیگزینڈر کو کہہ دیا گیا کہ اب تم کو واپس جانا ہے۔ ادھر ہسپتال میں اس کی آنکھ کھل گئی۔ اب وہ اللہ تعالیٰ پرایمان لا کر گزشتہ 17 سالوں سے جنت کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ جناب صدر امریکہ ٹرمپ صاحب جب اقتدار میں آئے تو دنیا میں امن اور محبت کا پیغام لے کر آئے مگر آہ! دنیا تو ان کے ہاتھوں سے ایک نئی عالمی جنگ کے بھیانک انجام کی طرف بڑھ رہی ہے‘ جہاں ظلم ہی ظلم نظر آ رہا ہے۔ وہ اپنے مایہ ناز ڈاکٹر ایبن الیگزینڈر سے پوچھ لیں کہ جو دنیا کو جہنم زار بنائے گا‘ انسانیت کو تباہ وبرباد کرے گا‘ غزہ کے مظلوموں کی طرح انسانیت کے چیتھڑے اڑائے گا تو اس کے نفس کو کیچڑ کے کینچوے کی شکل میں ڈرائونے چہروں اور نہ جانے کیا کیا سزا سہنا پڑے گی بلکہ لوہار کے ہتھوڑے کی ضربیں بھی سہنا ہوں گی۔ اے اللہ! ہم سب کو جنتوں کے سفر کا راہ رو بنا۔ یہ راستہ حضور ختم المرسلین رحمت دو عالمﷺ کے نقش پا کو سینے سے لگا کر ہی مل سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved